Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-04-10 - بوقت: 17:07

سلیمان اریب اور ان کے چار درویش

Comments : 0
اوپر سلیمان اریب اور نیچے دائیں سے بائیں: حسن فرخ، رؤف خلش، مسعود عابد اور غیاث متین
شہر حیدرآباد دکن سے وابستہ جدید لب و لہجے کے حامل نمائندہ شعرا کے تعارف کا ایک ادبی سلسلہ راقم الحروف نے شروع کیا ہے۔ فہرست میں 40 کے قریب معتبر نام موجود ہیں۔ یہ مضمون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
یہ مضمون ماہنامہ "اردو دنیا" کے شمارہ اپریل-2018 میں شائع ہوا ہے۔
از قلم: معظم راز
وہ ہوا کا جھونکا تھا ، یا کسی نے ٹوکا تھا
مدتوں سے چپ چپ تھی ، بولنے لگی کھڑکی

حیاتِ عزیز کے زائد از چار دہوں تک، گذرے زمانے کے عروج و زوال، سرد و گرم، خوشی و غم کے لمحات کا سامنا کرتے ہوئے منزل حقیقی کی تلاش میں اک سفرِ مسلسل کے دوران مختصر وقفوں کے لئے سہی، کبھی کبھار ذات کے نہاں خانوں کو ٹٹولنے کا موقع نصیب ہوا ہے ۔ درون ذات کی ان ادھ کھلی کھڑکیوں سے جھانکنے پر گذشتہ صدی کی آخری تین چار دہائیوں پر محیط شہرِ دکن حیدرآباد کے ادبی افق کا ایک روشن و چمکدار نظارہ ہمیشہ ہی آنکھوں کو خیرہ کرتا رہا ہے ۔
کم سنی ہی میں سماعت کے بیش قیمت اثاثے سے مکمل محرومی کے باوجود راقم کو اپنے بھائی بہن، دوست احباب و قریبی اعزہ سے ، تعلیم و روزگار کے بشمول زندگی کے تقریباً ہر میدان میں ملنے والی صحت مند مقابلہ آرائی کے سبب جہاں عمومی و کامیاب زندگی کی جانب مراجعت نے ہمہ تن مصروف بہ کار رکھا، وہیں شہر دکن کے اس زریں عہد نے بھی شعوری/ لاشعوری طور پر مثبت اثرات و انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
اس دور کے تقریباً تمام ادیب و شعراء کی جو کتابیں بطور تحفہ یا تبصرہ والد ماجد (رؤف خلش) کو وصول ہوئیں ان میں سے اکثر و بیشتر راقم کے مطالعہ میں رہیں۔ ان کے علاوہ عصری ادب کے نمائندہ رسالے پیکر، شب خون، شاعر، سوغات، تسطیر اور ذہن جدید وغیرہ (جن کے سالانہ خریدار زیادہ تر برادر کلاں مکرم نیاز رہے ہیں) بھی ہمارے ہاں بہ پابندی آتے رہے ہیں۔
اچھی کتابیں بھلے ہی کسی موضوع کا احاطہ کئے ہوئے ہوں، بہرحال روح کی غذا کا کام انجام دیا کرتی ہیں، 1995-96 کے چھ ماہی سروے فیلڈ سیزن کے دوران جو کتابیں راقم کے سامان میں موجود رہیں حسن اتفاق سے ان میں سے دو کتابوں کے مصنفوں کے نام یکساں یعنی "سلیمان" تھے ۔ ایک کتاب "کڑوی خوشبو" تھی جس کے مصنف، ابتداً ترقی پسند اور بعد ازاں جدیدیت کے ترجمان ماہنامہ "صبا" کے مدیرسلیمان اریب تھے تو دوسری کتاب تھی "کیوڑے کا بن" جس کے مصنف دکنی زبان کے امام ، سلیمان خطیب ہیں۔
دکنی شاعری میں بطور عوامی شاعر سرور ڈنڈا کے کلام سے راقم پہلے سے فیضیاب تھا، اور اس کے بعد سلیمان خطیب کا متذکرہ مجموعہ جو ہاتھ لگا تو اس سے بھی استفادہ اولین فرض ٹھہرا۔ سلیمان خطیب نے بطور خاص جدید شاعری کے لوازمہ یعنی تخلیق میں الفاظ کو ذومعنی انداز میں برتنے سے متعلق اس مجموعہ ہائے کلام کے "پیش لفظ "میں لکھا ہے :
مجموعے کا نام "کیوڑے کا بن" اس لئے رکھا گیا ہے کہ اس کے ساتھ کئی یادیں وابستہ ہیں، مجھے کیوڑہ مرغوب ہے :
یاد بولے تو تکیہ میں گجرے کی باس
جیسے کیوڑے کا کانٹا کلیجے کے پاس
یوں بھی دنیا ایک خوبصورت مہکتا ہوا کیوڑے کا بن (جنگل) ہے ، جس میں بے پناہ خوشبو بھی ہے ، نکیلے کانٹے بھی ہیں اور زہریلے سانپ بھی!
دنیا دیکھے تو بن ہے کیوڑے کا
بَن میں کیوڑے کے سانپ ہوتے ہیں

بہرحال چونکہ دکنی شاعری ایک علحدہ موضوع ہے ، اسے کسی علیحدہ مضمون کے لیے محفوظ رکھنا بہتر ہوگا۔
آندھرا پردیش ساہتیہ اکیڈمی کے تحت ستمبر 1973ء میں شائع شدہ سلیمان اریب کے مجموعہ کلام "کڑوی خوشبو" میں پیش لفظ کے بطور "شاعر کے بارے میں" عنوان کے تحت عابد علی خان، رکن کمیٹی، ساہتیہ اکیڈمی نے لکھا تھا:
"سلیمان اریب کا پہلا مجموعہ کلام 'پاسِ گریباں' 1961ء میں انجمن ترقی اردو، آندھرا پردیش کے زیر اہتمام شائع ہوا تھا۔ زیر نظر مجموعہ 'کڑوی خوشبو' میں اریب کا تمام کلام شریک ہے ۔ 'پاسِ گریباں' کی تمام تخلیقات اس میں شامل ہیں۔"
آخر میں مزید لکھا ۔۔۔
"اس مجموعہ کلام کوکسی مقدمے کے بغیر پیش کیا جارہا ہے ۔اریب کا یہ بعد از مرگ شائع ہونے والا مجموعہ، شاعر کے ذہن، پیام اور کلام کو سمجھنے میں بڑی مدد دیتا ہے ۔ امید ہے کہ قارئین مقدمہ کی روایت کی کمی کو اس جواں مرگ شاعر کے کلام اور اس کے ذہن اور اس عہد کی تحریکات کے پس منظر میں کلام کے جائزے سے پورا کریں گے۔"
عابد علی خان کے اس فقرے نے راقم کو فرصت کے لمحات میں اس مجموعے کے سیر حاصل مطالعہ کی جانب ترغیب اس لیے بھی دلائی کہ ایک ہی کتاب میں اریب کا مکمل کلام دستیاب رہا تھا۔

سلیمان اریب نے 1955ء میں ماہنامہ "صبا" کا اجراء کیا تھا۔ میری معلومات کے مطابق غالباً اسی زمانے میں بتدریج ترقی پسندی سے جدیدیت کے کارواں میں شمولیت دراصل ان کی زمانہ شناسی کے لازوال ہنر کی بدولت ممکن رہی ہے ۔ اپنے رسالے "صبا" کے ذریعہ ادب کو بدلتے وقت کے ساتھ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی اک نئی جہت کا زور شور سے آغاز کے بطور ابتداء ہی سے انھوں نے وحید اختر، عزیز قیسی، گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی جیسے جید شعراء و نقادوں کے ساتھ نئے لکھنے والوں کی خوب پذیرائی کی، گویا "جدید ادب" کو فروغ دینے کے ساتھ اس رجحان کے زیر اثرنئے لکھنے اور سوچنے والوں کو ایک مضبوط اور مستحکم پلیٹ فارم مہیا /عطا کرنے میں کامیاب رہے ۔
ان کے مجموعہ کلام "کڑوی خوشبو" کے مطالعے کے دوران ان کی شاعری میں رجعت پسندی اور ترقی پسند تحریک کے خیالات سے مبرا جدیدرجحان کا حامل کلام جو محسوس کیا جاتا ہے ، ان میں اولیت "کڑوی خوشبو" کے عنوان سے ایک نظم مسلسل کوحاصل ہے جو سات علحدہ بندوں میں کہی گئی ہے ۔ نظم کے درمیانی یعنی چوتھے بند میں وہ یوں رقمطراز ہیں:
رات چپکے سے مرے کمرے میں
چاند کی اک کرن در آئی
اس نے سرگوشی میں مجھ سے یہ کہا
آؤ ہم چاند تک ہو آئیں ذرا
چاند کی سیر سے جب میں لوٹا
گھر کی دہلیز پہ سورج تھا کھڑا !!

ایک اور مختصر سی نظم "تمنائے ہم کلامی"میں وہ یوں گویا ہیں:
تمام عمر مری کٹ گئی ہے باتوں میں
مذاکرات و مباحث میں یا مجالس میں
زباں ہو منہ میں تو خاموش رہنا مشکل ہے
تمام عمر گنوا دی تو پتہ یہ چلا
ترس گیا ہوں میں خود سے کلام کرنے کو

سلیمان اریب بنیادی طور پر نظم کے شاعر رہے ہیں، ویسے "کڑوی خوشبو" میں بڑی تعداد میں غزلیں بھی شامل ہیں۔ اس مجموعہ کلام کے بالکل اخیر میں شامل غالب کی نذر کی گئی دو غزلیات کے مطلع و مقطع واقعی خوب ہیں ، پہلی غزل کا مطلع و مقطع ملاحظہ ہو:
اک سایہ دوسرے کے مقابل نہیں رہا
یا درد اب رہا نہیں ، یا دل نہیں رہا
کہنی پڑی زمینِ اسدؔ میں غزل اریبؔ
گو میں فلک پہ کہنے کا قائل نہیں رہا

دوسری غزل کا مطلع و مقطع یوں ہے :
پل بھر تری نگاہ جو ہم پر ٹھہر گئی
آیت ہمارے سینے میں جیسے اتر گئی
پوچھیں اریبؔ ہی سے کہ ویرانی ئ جہاں
نکلی ہمارے گھر سے تو پھر کس کے گھر گئی

اریب کے ہاں خودداری یعنی ''انَا'' کو اک الگ ہی معنوں میں برتا گیا ہے جسے ان کی نظم بعنوان "تسکینِ اَنا " کی متاثر کن آخری تین سطریں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے:
میں اسے دیکھ کے چپکے سے گذر جاتا ہوں
یہ تو میں خود ہوں وہ احمق جس کی
اپنی رسوائی میں تسکینِ اَنا ہوتی ہے !!

آئیے نفسِ مضمون کے عنوان کے دوسرے حصے کی جانب بڑھیں۔ کہتے ہیں کہ جدیدیت اور جدت پسندی کی اصطلاحیں عموماً ترقی پسند ادب کے مقابل نئے لب و لہجے و نئے موضوعات کے طور پر رائج رہی ہیں۔ جہاں ترقی پسند ادب کا غالب رجحان عوام کے مسائل کو ادب میں جگہ دینا رہا ہے وہیں جدیدیت کے رجحان نے اس کے مقابل شخصی و نجی مسائل کو جگہ دی اور محبت و عاشقی کے فرسودہ موضوعات کو بدلتے ہوئے ایسے احساسات اور رجحانات کوجو جدید معاشرے میں پیدا ہورہے تھے ، ادب کا موضوع بنایا۔ سلیمان اریب کے رسالے "صبا "کے علاوہ حیدرآباد دکن سے باصلاحیت تخلیق کاروں اور تازہ کاروں فعال نوجوان نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ممتاز صحافی، افسانہ نگار و شاعر اعظم راہی نے 1958ء میں ماہنامہ "پیکر" کا اجرأکیا تھا۔ "ادارہ پیکر" سے وابستہ ادیبوں و شاعروں پر مشتمل گروپ ہی آگے چل کر 1975ء میں حیدرآباد لٹریری فورم "حلف"کی شکل میں تبدیل ہوا۔
سلیمان اریب کا یوں تو 1970ء میں انتقال ہوا لیکن اپنے خاندان کے بڑے بزرگوں سے میں سنا ہے کہ وہ چند ایک مرتبہ ہمارے بنگلے "داؤد منزل" واقع جدید ملک پیٹ، حیدرآباد بھی تشریف لائے ۔ "داؤد منزل" کی میرے نزدیک تاریخی حیثیت اس سبب بھی ہے کہ میرے دادا سید داؤد صاحب مرحوم ، گتہ دار تعمیرات، سابق ریاست حیدرآباد دکن نے اس بنگلے کو نواب میر بہبود علی سے جنوری 1951ء میں خریدا تھا۔ اس دور میں جدید ملک پیٹ کا یہ علاقہ نواب اشرف نواز جنگ کے باغات کے نام سے مشہور تھا۔ اس بنگلے کا نام "داؤد منزل" راقم کے تیسرے چچا سید منیر نے جو خاصی ادب نواز شخصیت رہے ہیں، نے رکھا تھا۔ اس بنگلے کے در ود یوار ، گذشتہ صدی کے آخری تین دہوں کے دوران جدید لب و لہجے کی مشہورو معروف ادبی شخصیات کی آمد رفت کے گواہ رہے ہیں جن میں مخدوم محی الدین، سلیمان اریب، خورشید احمد جامی،عالم خوندمیری، محترمہ خدیجہ عالم خوندمیری، مجتبیٰ حسین، انور معظم ، محترمہ جیلانی بانو، عاتق شاہ، غیاث صدیقی، وحید اختر، مغنی تبسم، محترمہ شفیق فاطمہ شعریٰ، تاج مہجور، احمد جلیس، مصطفٰی علی بیگ، راشدآزر، قدیرزماں، مضطر مجاز، محمود انصاری، صفدر حسین، مصحف اقبال توصیفی، مصطفٰی کمال، یوسف کمال، ساجد اعظم، اعظم راہی، رؤف خلش، حسن فرخ، غیاث متین، مسعود عابد، صلاح الدین نیر، علی الدین نوید، علی ظہیر، مظہر مہدی، طالب خوندمیری، یوسف اعظمی، ناصر کرنولی، بیگ احساس، مظہر الزماں خان، محسن جلگانوی، رؤف خیر، اعتماد صدیقی، حکیم یوسف حسین خاں، رضا وصفی، رفعت صدیقی ، نصرت محی الدین وغیرہ شامل ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے اپنی کم سنی، لڑکپن، نوعمری میں ان نامور ادبی شخصیات کو "داؤد منزل " ہی میں قریب سے دیکھا۔

1960ء کے اوائل میں رؤف خلش، حسن فرخ، غیاث متین اور مسعود عابد پر مشتمل چار شعراء کا ایک گروپ ہوا کرتا تھا۔ سلیمان اریب نے ایک محفل میں ان چار شعراء کا کلام سنا تو منتخب کلام اپنی تصویر کے ساتھ لانے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں "صبا " کے شماروں میں ان چار شعراء کا کلام شائع ہونے لگا اور ادبی دنیا میں ان چاروں کی جدید لب و لہجے کے حوالے سے پہچان بنی۔ سلیمان اریب، ان چار شعراء کو ازراہ تفنن طبع "چار درویش" کہا کرتے تھے ۔ راقم کی عمر کا مکمل دور، ان چار شعراء کے نہ صرف قریب بسر ہوا بلکہ ان کی سبھی تخلیقات کے علاوہ تمام مجموعہ کلام سے استفادے کا موقع بھی بہرحال نصیب رہا۔ راقم کی یادداشت کے مطابق غالباً 1988ء میں حسن فرخ نے حیدرآباد لٹریری فورم ''حلف ''کے زیر اہتمام رؤف خلش کے تیسرے مجموعہ کلام "صحرا صحرا اجنبی" کی رونمائی کے موقع پر ان چار شعراء پراپنا تفصیلی مضمون بعنوان "جدید قصہ چار درویش " پیش کیا تھا۔
متذکرہ چاروں شعراء کے تفصیلی تعارف اور ان کے کلام کے سیر حاصل مطالعے پر مبنی تاثرات کو کسی اور علحدہ موقع پر اٹھائے رکھتے ہوئے اختصار کے ساتھ ان کی تخلیقات میں مستعمل چند ایک شاعرانہ رویوں اور برتی گئی علامتوں و استعاروں کو مثالوں سے پیش کرنا بہتر سمجھوں گا۔ چاروں شعراء کو نظم و غزل دونوں میں عبور حاصل ہے ۔ نظموں میں برتا گیا " صوتی آہنگ" ان سبھی کے ہاں متاثر کن رہا ہے۔ رؤف خلش کے ہاں اسے ان کی نظم "شہر جدّہ کے لئے " میں بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے :
لکیریں جدولوں کی پہلے بیضوی بنیں
بلندیوں سے دھیرے دھیرے نیچے کو اتر گئیں
پانیوں نے خشکیوں کے بال،
مٹھیوں میں پھر جکڑ لئے
مرکزوں سے نقطے ہٹ گئے
مدّوری خطوط ۔ ۔ ۔ چھوٹے چھوٹے محوروں میں بٹ گئے
حساب داں عرق عرق ۔ ۔ ۔ مہندسوں کے چہرے فق
رمق رمق پہ چل گیا ہے سامری کا سحر
شفق شفق ۔ ۔ ۔ انڈیلتی ہے شام روشنی کا زہر !
طبق طبق ۔ ۔ ۔ زمیں میں دھنس رہا ہے شہر !!
خبر نہیں یہ جبر ہے یا قدر ہے یاقہر !!!

حسن فرخ کے ہاں "صوتی آہنگ" ان کی ایک نظم "فنا ہی بقا ہے " میں در آیا ہے :
فنا ہی فنا ہے ، بقا ہی بقا ہے ، بقاء ہی بقاء ہے
میں مظہر ہو اس کا کہ اس جسم خاکی میں اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے
بس اک ارتباط رہِ ضبط ترسیل سے منعکس بس وہی ہے ، وہی ہے
مری انتہا، ابتداء بس یہی ہے ، یہی ہے شہادت، یہی ہے شہادت!
یہی ہے فنا بھی، یہی ہے بقاء بھی، فناء ہی بقاء ہے ، بقاء ہی بقاء ہے !!

غیاث متین کے ہاں یہی" صوتی آہنگ" پاکستانی ادیبوں و دوستوں کی نذر کی گئی نظم "سفر ہے شرط" کے آخری دو بند میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے :
میں جب ملوں ، تو یوں مِلوں / وہ جب ملیں تو یوں ملیں
کہ جیسے صبح ، شام سے / کوئی خود اپنے نام سے
کہ جیسے دھوپ ، چھاؤں سے / غریب شہر گاؤں سے
کہ جیسے لب، دعاؤں سے
وہ یوں ملیں / میں یوں مِلوں
میرے خدا ! / ہے یہ دعا
یہی دعا !!

مسعود عابد کے ہاں " صوتی آہنگ "ان کی نظم " نئے سال کی سچی نظم " کے آخری بند میں اتر آیا ہے :
پھر نئے سال پر دہراتا ہوں اپنا وہ عمل
ہے دعا میرے خدا اب کے برس !
امن کے خواب کی تعبیر بھیانک نہ بنا
میرے گیتوں کو فقط گیت ہی رکھ
ان کو نوحہ نہ بنا !
ہے دعا میرے خدا اب کے برس !
مجھ کو جھوٹا نہ بنا !!

جدید شاعری میں برتی گئی کئی ایک علامتوں جیسے "تتلی ، سمندر، چاند، سورج، دروازے ، کھڑکی، دھوپ ، آئینہ" وغیرہ کوان چاروں ہی شعراء کے ہاں منفرد انداز میں استعمال کیا گیا بلکہ بہترین و جداگانہ طرز اظہار میں ان سے پیکر تراشی کی گئی ہے، رؤف خلش کے ہاں ذیل اشعار میں انھیں بخوبی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے :

ان رتوں میں گھل جائیں ، تتلی بن کے اڑ جائیں
ہے دھلا دھلا منظر ، ہے کھلی کھلی کھڑکی

جذب کر کے رکھ لینا ، دستکیں ہتھیلی میں !
جب سے میں سفر میں ہوں ، ہم سفر ہیں دروازے

نہ آئے شہر میں سورج کے ، منہ چھپائے چاند
ہمیشہ مملکتِ شب میں سر اٹھائے چاند

وہاں سنا تھا سمندر کی پیاس بجھتی ہے
جو لوٹ آیا تو ہوں پیاس کا سمندر مَیں

چْھپنے کو شہرِ ذات بچا تھا مرے لئے
اْس شہر میں بھی چاروں طرف آئینے لگے

"تتلی" کی علامت کو حسن فرخ نے اپنی نظم "دل و ذہن کا رشتہ " کی ابتدائی سطروں میں یوں برتا ہے :

یادیں : بچپن سے اب تک کی
جو تتلیوں کی طرح انگلیوں میں
مسک کے گلے شکوے کرتی ہیں

یادوں کے چاند دل میں اترنے لگے ہیں اب
آنکھوں میں جگمگانے لگا سرمئی گلاب

ہمارے ذہن کی کھڑکی سے اڑ چکی وفا
ترے خلوص کی دوشیزگی بھی کم کم ہے

ڈوبتی شام کا منظر ، کبھی ایسا تو نہ تھا
جتنا پیاسا ہے سمندر ، کبھی ایسا تو نہ تھا

آئینہ ٹوٹ کے سو شکلیں دکھاتا کب ہے
بات کہہ کہہ کے بدلنا نہیں آتا ہم کو

غیاث متین کے ہاں جدید علامتوں اور پیکر تراشی کے عمل کو ان اشعار میں محسوس کیا جاسکتا ہے :

تتلیوں کے پر جیسے ، خواب ہیں متینؔ اپنے
ہاتھ بھی نہیں آتے ، سلسلہ بناتے ہیں

اپنے لہجے کی یہی پہچان ہے
دھوپ ، دیواریں ، سمندر ، آئینہ

بجھے ماضی کا کھلتے حال سے رشتہ عجب دیکھا
کھنڈر خاموش ہیں لیکن صدا دیتی ہیں دیواریں

جب پہاڑوں سے ملی داد ہْنر کی اپنے
داستاں ہم بھی سمندر کو سنانے نکلے

عکس جس کو تم سمجھتے ہو متینؔ
آئینے کے بھی ہے اندر آئینہ

مسعود عابد کے ہاں یہی جدید علامتیں اور پیکر سازی یوں مستعمل ہے :

راستے ہیں کہ رنگوں میں لپٹے ہوئے
ہم قدم ، ہم نفس ، ہم سفر تتلیاں

ہزاروں سوئے جذبوں کو ہوا دیتی ہیں دیواریں
نیا اک زندگی کا فلسفہ دیتی ہیں دیواریں

ڈوبتا ہوا سورج سینہء سمندر پر
لکھ رہا ہے لہروں سے ، بلبلوں کی تحریریں

میری پلکوں پہ یہ دئیے عابدؔ
جیسے تارے پرو گیا ہے چاند

ڈوبتے سورج میں میرا آج گم ہونے لگا
آنکھ کی پتلی میں آنے والا کل محفوظ ہے

"اَنا" کسی بھی خوددارشخص کے لئے اس کا اپنا نجی سرمایہ ہوتا ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر اسے لٹانے کو امادہ نہیں ہوگا۔ رؤف خلش نے "اَنا "کے اس مخصوص فلسفے کی یوں ترجمانی کی ہے :
اتنے اْڑے کہ دور اْڑا لے گئی ہَوا
اتنے جھکے کہ سانس اَنا کی اْکھڑ گئی

جبکہ حسن فرخ نے روح کے لئے " اَنا" کی موجودگی کو سب سے اہم قرار دیا ہے ۔ ملاحظہ ہو:
کاسہء روح کھنک جائے تو حیران ہو کیوں
اس میں کچھ بھی نہ سہی ایک اَنا ہے تو سہی

مسعود عابد کے ہاں خودداری یعنی "اَنا" کی موجودگی کے باوجود محض مصلحت کی بناء پر کسی کو بھی نظرسے گرا دینے کی منظر کشی کی گئی ہے :
اک مصلحت نے ان کی نظر سے گرا دیا
ورنہ اَنا کی ایک علامت رہے ہیں ہم

***
سید معظم راز
16-8-544, New Malakpet, Hyderabad-500024.
mzm544[@]gmail.com
سید معظم راز

Sulaiman Areeb and his four companions. Article: Syed Moazzam Raaz

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں