Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-04-13 - بوقت: 20:56

اسلام میں حدیث کی اہمیت

Comments : 0
importance-of-hadith
ﷲ کے نزدیک دین کیا ہے ؟
ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :
"بے شک ﷲ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے"۔ (آل عمران:19)

کیا اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر عمل جائز ہے؟
ﷲ تعالیٰ کا حکم ہے:
"لوگو تمہارے رب کی طرف سے جو نازل ہوا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے علاوہ اولیاء کی پیروی نہ کرو"۔ (الاعراف:3)
یہ بھی فرمایا :
"اور جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اوردین کا طلبگار ہوگاتو وہ اس سے ہر گز قبول نہیں کیاجائیگا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانیوالوں میں سے ہوگا"۔ (آل عمران :85)

ﷲ کے نازل کردہ دین میں محمد رسول ﷲ ﷺ کا کیا مقام ہے؟
ﷲ تعالیٰ نے رسول ﷲ ﷺ کو رسالت کے ساتھ مخصوص فرماکر آپ پر اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسکی مکمل تشریح کا حکم دیا :
"اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو(ارشادات) نازل ہوئے ہیں وہ لوگوں سے بیان کر دو"۔ (النحل :44)
آیت کریمہ کے اس حکم میں دوباتیں شامل ہیں :
(1)
الفاظ اور ان کی ترتیب کا بیان یعنی قرآن مجید کا مکمل متن امت تک اس طرح پہنچا دینا جس طرح ﷲ تعالیٰ نے نازل فرمایا
(2)
الفاظ ، جملہ یا مکمل آیت کا مفہوم و معانی بیان کرنا تاکہ امت مسلمہ قرآن حکیم پر عمل کرسکے۔

قرآن مجید کی جو شرح رسول ﷲ ﷺنے فرمائی اسکی کیا حیثیت ہے؟
دینی امو رمیں رسول ﷲ ﷺکے فرامین ﷲ کے حکم کے مطابق ہوتے ہیں:
"اور وہ (ﷺ) اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے جو کہتے ہیں وہ وحی ہوتی ہے"۔ (النجم:3-4)
اسی لئے فرمایا :
"جس نے رسول کی اطاعت کی پس تحقیق اس نے ﷲ کی اطاعت کی " (النساء :80)

یہی وجہ ہے کہ دینی امور مین فیصل کن حیثیت ﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷲ ﷺ کو حاصل ہے ۔
"پس اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر تم ﷲ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو ﷲ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو"۔ (النساء :59)
معلوم ہوا کہ اسلام ﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷲ ﷺ کی پیروی کانام ہے۔

کیا انبیاء کو کتب سماوی کے علاوہ بھی وحی آتی ہے ؟
یقیناً انبیاء کو کتب سماوی کے علاوہ بھی وحی آتی ہے اور اس وحی پر عمل بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ﷲ کے کلام پر۔
کتاب ﷲ کے علاوہ وحی کی اقسام میں سے ایک قسم انبیاء کے خواب ہیں ۔

ابراہیم علیہ السلام کا خواب ملاحظہ فرمائیں :
ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے بیٹے میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تم کو ذبح کر رہا ہوں تم بتاؤ تمہارا کیاخیال ہے ؟ اس نے کہا ابا جان جو آپ کو حکم ہوا وہ کر گزرئیے ﷲ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا تو ہم نے ان پکارا کہ ابراہیم تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیاکرتے ہیں ۔ (الصافات :102۔105)
اس آیت میں خواب میں بیٹے کو ذبح کئے جانے والے عمل کو ﷲ کا حکم کہاگیا ہے ۔

کیارسول ﷲ ﷺ پر بھی خواب میں وحی نازل ہوئی ؟
رسول ﷲ ﷺنے بھی ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ آپ بیت ﷲ میں داخل ہوکر طواف کر رہے ہیں چونکہ یہ خواب بھی وحی کی قسم سے تھا لہٰذا صحابہ کرام رضی ﷲ عنہم بہت خوش ہوئے ۔1400 صحابہ رضی ﷲ عنہم آپ ﷺ کیساتھ عمرہ کی نیت سے مکہ روانہ ہوئے لیکن کفار مکہ نے حدیبیہ کے مقام پر آپ کو روک دیا اور وہاں صلح حدیبیہ ہوئی جس کی رو سے یہ طے پایا کہ آپ اس سال کی بجائے اگلے سال بیت ﷲ کا طواف کرینگے آپ ﷺ کے خواب کے بارے میں صحابہ کرام رضی ﷲ عنہم میں خلجان پیدا ہواتو عمر رضی ﷲ عنہ نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ کیا آپ نے ہمیں خبر نہیں دی تھی ۔ کہ ہم مکہ میں داخل ہونگے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے تمہیں بتایا تھا مگر میں نے یہ نہیں کہاتھا کہ ایسا اسی سفر میں ہوگا واپسی پر ﷲ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں :
" بلاشبہ ﷲ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا تم ضرور مسجد حرام میں امن و امان سے داخل ہوگے۔ اگر ﷲ نے چاہا"۔ (الفتح:27)
معلوم ہوا کہ رسول ﷲ ﷺ کو بھی خواب میں وحی ہوئی ۔

کیا قرآن حکیم کے علاوہ وحی کے ذریعے احکامات بھی نازل ہوئے؟
بلاشبہ قرآن مجید کے علاوہ بھی احکامات نازل ہوئے مثلاً مسلمانوں کا پہلاقبلہ بیت المقدس تھا جس کی طرف 14سال تک منہ کرکے مسلمان نماز ادا کرتے رہے ، بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرنے کا حکم قرآن حکیم میں نہیں ہے لیکن ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور ہم نے وہ قبلہ جس پر آپ اب تک تھے اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول ﷲ ﷺ کی پیروی کرتا ہے اورکون الٹے پاؤں پھرتا ہے"۔ (البقرۃ:143)
معلوم ہوا کہ بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرنے کا حکم ﷲ نے بذریعہ وحی خفی دیا قرآن حکیم کے علاوہ دوسری وحی کو وحی خفی (سنت) بھی کہتے ہیں ۔

کیا سنت کے بغیر قرآن حکیم کو سمجھا جا سکتا ہے ؟
سنت کے بغیر قرآن حکیم کو سمجھنا ممکن نہیں ہے ﷲ تعالیٰ نے ایمان لانے کے بعد سب سے زیادہ تاکید "اقامت الصلوۃ" کی فرمائی مگر سنت کے بغیر اس حکم پر عمل بھی ممکن نہیں چند آیات ملاحظہ فرمائیں :
(البقرۃ:238)
(مسلمانو ) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز (یعنی نماز عصر ) پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو )
"وسطی نماز سے کیا مراد ہے جب تک نمازوں کی کل تعداد معلوم نہ ہو وسطی نماز کیسے معلوم ہوسکتی ہے نمازوں کی تعداد کا ذکر قرآن حکیم میں نہیں معلوم ہوا کہ وحی خفی کے ذریعے سے مسلمانوں کو اطلاع دی ہوئی تھی اسی طرح فرمایا :
"جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو"۔ (النساء :101)
اس آیت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نماز کو سفر میں کتنا کم کیاجائے پھر نماز کے کم کرنے کا تصور اسی صورت ممکن ہے جب یہ معلوم ہوسکے کہ پوری نماز کتنی ہے یہ بھی فرمایا :
"اگر تم کو خوف ہو تو نما زپیدل یا سواری پر پڑھ لو لیکن جب امن ہوجائے تو اسی طریقہ سے ﷲ کا ذکر کرو جس طرح اس نے تمہیں سکھایا اور جس کو تم پہلے نہیں جانتے تھے"۔ (البقرۃ:239)
اس آیت میں واضح ہے کہ نماز پڑھنے کا کوئی خاص طریقہ مقرر ہے جو بحالت جنگ معاف ہے اس طریقہ تعلیم کو ﷲ نے اپنی طرف منسوب کیانماز کا طریقہ اور اس کے اوقات وغیرہ قرآن مجید میں کہیں مذکور نہیں پھر ﷲ نے کیسے سکھایا ، معلوم ہوا کہ قرآن مجید کے علاوہ بھی وحی آئی ہے یہ آیت قابل غور ہے:
" اے ایمان والو!جب تم کو جمعہ کے دن نماز کے لئے بلایا جائے تو ﷲ کے ذکر کی طرف جلدی آیا کرو اور خریدو فروخت چھوڑ دو"۔ (الجمعۃ:9)
معلوم ہوا کہ جمعہ کی نماز کا اہتمام باقی دنوں کے علاوہ خاص درجہ رکھتا ہے اس نماز کا وقت کونسا ہے ؟بلانے کا طریقہ کیا ہے؟اس کی رکعات کتنی ہیں ؟قرآن مجید اس سلسلہ میں خاموش ہے او رکوئی شخص آیات قرآنی کے ذریعے نماز کی تفصیل نہیں جان سکتاجب تک وہ حدیث کی طرف رجوع نہ کرے ۔

کیا صحابہ کرام رضی ﷲ عنہم بھی قرآن مجید کا مفہوم حدیث کے بغیر سمجھنے میں غلطی کھا سکتے ہیں ؟
یقیناًصحابہ کرام رضی ﷲ عنہم بھی قرآن مجید کا مفہوم سمجھنے کے لئے حدیث رسو ل کے محتاج ہیں قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی ؟
"اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے اندر ظلم کی ملاوٹ نہیں کی ، وہی امن والے ہیں اور وہی ہدایت یافتہ ہیں"۔ (الانعام :82)
مذکورہ بالا آیت کریمہ سے بعض صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہم اجمعین نے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو ظلم سمجھا ا س لئے یہ آیت ان لوگوں پر گراں گزری لہٰذا عرض کیا، اے ﷲ کے رسول ﷺ ہم میں ایسا کون ہے کہ جس نے ایمان کے ساتھ کوئی گناہ نہ کیا ہو تو آپ ﷺ نے فرمایا اس ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے کیاتم نے قرآن حکیم میں لقمان کا یہ قول نہیں پڑھا:
"شرک ظلم عظیم ہے"۔(بخاری و مسلم )

کیا سنت قرآن مجید کی آیت میں موجود کسی شرط کو ختم کرسکتی ہے؟
جی ہاں اور اس کی مثال سفر کی نماز قصر ہے ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :
" اور جب تم سفر پر جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کچھ کم کرکے پڑھو ، بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر تم کو ایذا دیں گے" (النساء:101)
آیت بالا میں نماز قصر ایسے سفر کے ساتھ مشروط ہے جس مین خوف بھی ہو اس لئے بعض صحابہ رضی ﷲ عنہم نے رسول ﷲ ﷺ سے سوال کیا کہ اب تو امن کازمانہ ہے اور ہم پھر بھی قصر کرتے ہیں تو رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ ہم حالت امن کے سفر میں قصر کریں یہ تمہارے لئے ﷲ تعالیٰ کی رعایت ہے پس اس رعایت کو قبول کرو۔ (مسلم ) ۔

کیاحدیث قرآن مجید کی کسی آیت کے عام حکم کو مقید کرسکتی ہے؟
جی ہاں اور اس کی مثال قرآن حکیم کی یہ آیت ہے:
" اور چوری کرنیوالے مرد اور چوری کرنیوالی عورت کا ہاتھ کاٹ دیا جائے"۔ (المائدۃ:38)
اس آیت میں چوری کا مطلقاً ذکر ہے جبکہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا "چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری پر کاٹا جائے"۔ (بخاری و مسلم )

کیا سنت قرآن حکیم کے حکم سے کسی چیز کو مستثنیٰ کرسکتی ہے؟
جی ہاں اور اس کی مثال ﷲ تعالیٰ کا یہ حکم ہے :
" تم پر مرا ہوا جانور، خون ،سور کا گوشت اور جس چیز پر ﷲ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام ہے"۔ (المائدۃ:3)
رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے واسطے دو مردار ٹڈی اور مچھلی اور دوخون کلیجی اور تلی حلال ہیں ۔(بیہقی)
معلوم ہوا کہ حدیث نے مچھلی اور ٹڈی کو مردار اور کلیجی اور تلی کو خون سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
ایک اور مثال پر غور فرمائیں ۔ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :
" پوچھو کہ جو زینت (و آرائش) اورکھانے(پینے) کی پاکیزہ چیزیں ﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیں ان کو کس نے حرام کیا ہے کہہ دو یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لئے بھی ہیں اور قیامت کے دن خاص انہی کیلئے ہوں گی"۔ (الاعراف:32)
رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا کہ ریشم اور سونا میری امت کے مردوں کیلئے حرام اور عورتوں کیلئے حلال ہے"۔(مستدرک حاکم )
اگر حدیث سے رہنمائی نہ لی جائے تو اس آیت سے ریشم اور سونے جیسی حرام چیزوں کو حلال سمجھ لیا جاتا۔

کیا کوئی سنت صحیحہ قرآن مجید کے خلاف ہو سکتی ہے؟
محدثین کا اصول ہے کہ جو روایت قرآن حکیم اور سنت مطہرہ کے الٹ ہو وہ قول رسول ﷺ نہیں ہو سکتی ۔ امام بخاری رحمہ ﷲ ، مسلم رحمہ ﷲ اور دیگر ائمہ حدیث نے اصول حدیث کی رو سے جن احادیث مبارکہ کو صحیح کہا ہے یقیناًوہ قرآن و سنت کے مطابق ہیں صحیح بخاری ومسلم میں صرف صحیح احادیث درج کی گئی ہیں ۔ اسلئے ان میں کوئی ایسی روایت نہیں جو کتاب و سنت کے خلاف ہو جن لوگوں کو (1) عیسی ابن مریم علیہ السلام کا دوبارہ دنیامیں آنا (2) رسول ﷲ ﷺ پر ذاتی حیثیت سے جادو کے چند اثرات ہوجانا(3)دجال سے متعلق(4)عذاب قبر سے متعلق ، احادیث اور ان جیسی باتیں قرآن حکیم کے خلاف نظر آتی ہیں تو یہ دراصل ان کی کم علمی اور جہالت ہے یہ وہ روایات ہیں جنہیں تحقیق کے بعد محدثین نے صحیح کہا یہ قرآن حکیم کے خلاف نہیں بلکہ ان کے خود ساختہ مفہوم کے الٹ ہے مندرجہ ذیل آیت پر غور کیجئے :
" کہو جو احکام مجھ پر نازل ہوئے میں ان میں سے کسی چیز کو کھانے والے پر حرام نہیں پاتا سوائے مردا، بہتا خون جو ناپاک ہو یا گناہ کی چیز جس پر ﷲ کے سوا کسی کا نام لیاگیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہوجائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکلے تو تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہے"۔ (الانعام :145)

سوچئے کیاکتے اور دیگر درندوں کو کوا اور دیگر نوچنے والے پرندوں کو حرام قرار دینے والی احادیث مبارکہ اس آیت کے خلاف ہیں اگرچہ ظاہر ایسا ہی محسوس ہوتا ہے مگر حقیقتاً سنت اور قرآن میں کوئی تضاد نہیں دونوں کا جمع کرنا لازم ہے یاد رکھیئے جو دین صحابہ رضی ﷲ عنہ کے ذریعے امت کو تواتر کیساتھ ملا ، وہی صراط مستقیم ہے جو لوگ اپنی خواہشات اور اھواء کے ساتھ قرآن حکیم کی تفسیر بیان کرتے ہیں ان کے ہاں سنت کا مفہوم یہ ہے کہ جو چیز ان کی خواہش نفس کے موافق ہو اس کی پیروی کیجائے اور جو ان اھواء کے خلاف ہو اسے ترک کیاجائے ایک حدیث صحیحہ میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے جسکا مفہوم درج ذیل ہے :
مقدام رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اسی کی مثل ایک اور چیز بھی دی گئی ہے خبردار عنقریب ایک پیٹ بھرا ہو ا شخص تختہ پر بیٹھ کر کہے گا کہ پس قرآن کو لازم سمجھو جو اسمیں حلال ہے اس کو حلال مانو اور جو ا سمیں حرام ہے اسکو حرام مانو حالانکہ جو رسول ﷲ ﷺ نے حرام کیا وہ ایسا ہی ہے جیسے ﷲ نے حرام کیا خبردار تمہارے لئے شہری گدھا حلال نہیں۔
(ابو داؤد ، مسند احمد، دارمی، ابن ماجہ، صحیح مرعاۃ جلد اوّل صفحہ 156)

معلوم ہوا کہ شریعت اسلامیہ سے مراد قرآن و سنت ہے جس نے ان میں سے صرف ایک کو اختیار کیا اوردوسری کو ترک کیا اس نے کسی ایک کو بھی اختیار نہیں کیا کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے تمسک کا حکم دیتی ہیں ۔ فرمایا ۔
"جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے ﷲ کی اطاعت کی "۔
(النساء :80)

ماخوذ از کتاب: اسلام میں حدیث کی اہمیت
مصنف: حماد اقبال

The importance of hadith in Islam.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں