Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-04-04 - بوقت: 16:15

تجربہ جہد سے ملتا ہے کتابوں سے نہیں

Comments : 0
strength-through-struggle
رُڑکی میں ایک بڑے میاں کو آلو کی ٹِکیاں تل کر بیچتے دیکھا ہے (کھائی بھی ہیں) وہ شام پانچ بجے اپنا ٹھیلہ لے کر آتے تھے اور رات آٹھ بجے کے آس پاس گھرلوٹ جاتے تھے۔ ایسا نہیں کہ وہاں آلو کی ٹکیاں دوسرے لوگ نہ بیچتے ہوں مگر ان کے ہاتھ کی بنائی ہوئی یہ ٹکیاں لوگوں کی زبان پر چڑھی ہوئی تھیں۔ آلو وہی جو سب خریدتے ہیں، مسالے بھی وہی جو بازار میں عام طور پر دستیاب ہوتے ہیں مگر بنانے والا صرف ایک تھا اور ا سکا یہ نسخہ کہ نمک کتنا، مرچ کتنی اور دیگر مسالے کی مقدار کتنی ہونی چائیے اسی میں اُن ٹِکیوں کی مقبولیت کا راز چھپا ہوا تھا۔
کانپور میں ایک صاحب نے " ظالم پیڑے" کے نام سے بازار میں ایک مٹھائی پیش کی اور دیکھتے ہی دیکھتے '' ظالم پیڑا" مقبولیت کی بلندی پر پہنچ گیا جبکہ اسی شہر میں ایک سے ایک حلوائی اپنے اپنے طور پر پیڑے بناتے تھے مگر ظالم پیڑے کی بات ہی الگ تھی۔
ابھی چند ہفتے قبل ہم نے ممبئی کے چند پرانے ہوٹلوں کا ذکر کیا تھا جس میں حاجی ہوٹل بھی شامل تھا اس مضمون کو پڑھنے کے بعد بھساول کے معروف ادیب رشید عباس صاحب کا فون آیا کہ آپ نے حاجی ہوٹل کا ذکر کرکے کیا کیا یاد دِلا دِیا۔ حاجی ہوٹل کی سفید ماش (اُرَد ) کی دال (خشک) اور اس پر باریک کٹی ہوئی پیاز جو اصلی گھی میں براؤن کر کے اُس کے اوپر ڈالی جاتی تھی، ایک عجب ذائقہ تھا اُس ماش کی دال کا، اُن دنوں موسیقارِ اعظم مرحوم نوشاد کےہاں میرا آنا جانا تھا، اتوار کے عشائیے میں یہ دال نوشاد صاحب کے دسترخوان کی لازمہ تھی اور مَیں ممبئی نمبر تین سے نوشاد صاحب کے گھر ( واقع کارٹر روڈ۔ باندرہ) وہ دال پہنچاتا تھا۔

مشہور شاعر ندا فاضلی اپنی سوانحی کتاب ( غالباً دیواروں کے باہر) میں جناب کمال امروہوی کے حوالے سے ماش کی دال بنانے کا نسخہ لکھتے ہیں کہ ایک رات قبل یہ دال پانی میں بھگو دِی جاتی تھی اور پھر صبح اِسے ایک کپڑے میں رکھ کر قدرے اونچی جگہ پر ٹانگ دِیا جاتا تھا کہ اس کا پانی نِچُڑ جائے اور پھر جب وہ دال پکتی تھی تو اس کا جواب نہیں ہوتا تھا ۔۔۔ وہ جو کہتے ہیں کہ' کھانے والااُنگلیاں چاٹتا رہ جائے '۔۔۔

بھنڈی بازار (ممبئی) میں نظام اسٹریٹ کے ایچ ایم رفیق ہوٹل کےکھانے بھی اپنے ذائقے اور اقسام کے سبب بہت مشہور تھے جن میں یہ ماش کی دال بھی شامل تھی، جہاں تک ہمیں یاد آتا ہے رفیق ہوٹل والوں کا تعلق بھی امروہے ہی سے تھا ۔ ماش کی یہ خشک دال ہم نے اور مقامات پر بھی کھائی ہے مگر سچ یہ ہے کہ رفیق ہوٹل کی ماش کی دال کا جواب ہی نہیں تھا۔
رائچور( کرناٹک)کے ایک سفر میں مشہورِ زمانہ شخصیت جعفر شریف کے داماد کے گھر، کچّے گوشت کی بریانی بھی یاد آتی ہے کہ ویسی بریانی ہم نے نہیں کھائی، صاحبِ خانہ سے سوال کیا کہ ۔۔۔ کچّے گوشت کی بریانی۔۔۔ کا مطلب ؟
صاحبِ خانہ بھی باذوق آدمی تھے، انہوں نے قہقہہ لگایا اور بتایا کہ
جناب! اس کا گوشت پکانے سے قبل خاصی دیر مسالے میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے اور اس مسالے کا جزوِ اعظم پپیتا ہوتا ہے جس سےگوشت کی بوٹیاں بظاہر سالم نظر آتی ہیں مگر ہاتھ لگائیے تو وہ مکھن کی طرح پھیل جاتی ہیں۔

لیور(جگر) کے عارضے کی ایک دوا بازار میں عام ہے جس کو لیو-52 (Liv 52) کے نام سے سب جانتے ہیں۔ در اصل ممبئی کے ایک یونانی طبیب حکیم نذیری کا یہ نسخہ ہے جو ٹِکیوں کی شکل میں ( بلکہ اب تو اس کا سیال بھی ) دستیاب ہے۔ یہ دوا مشہور دواساز کمپنی ہمالیہ ڈرگس بناتی ہے ، لوگ اسے ایلو پیتھک دوا سمجھتے ہیں، معاملہ صرف اتنا ہے کہ اس کی شکل سےلگتا ہے کہ یہ ایلوپیتھک دوا ہوگی، مگر دوا کی اصل یونانی ہی ہے۔۔۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک کلپ ہم نے دیکھی کہ کسی ہوائی جہاز میں کوئی خرابی ہوگئی تھی۔ جہاز کے مالک نے کئی انجینئروں کی مدد لی مگر کوئی بھی انجینئر اس کی خرابی نہ جان سکا، آخر ایک شخص نے جہاز کے مالک سے کہا کہ فلاں جگہ ایک بوڑھا انجینئر ہے اس کو بلا کر دِکھائیے۔ جہاز کے مالک نے اس مشورے پر بھی عمل کیا اور اس بوڑھے انجینئر کو بلایا اور جہاز میں خرابی کا سراغ لگانے کی درخواست کی۔ بوڑھے انجینئر نے جہازکے انجنوں کا گہرا ئی سےمعائنہ کرنا شروع کیا ، جہاز کا مالک قریب ہی اس کے ہر عمل کا مشاہدہ کر رہا تھا، بوڑھے انجینئر نے ایک انجن کو غور سے دیکھنے کے بعد اپنے اوزاروں کا بیگ کھولا اور اس میں نٹ (NUT) کسنےوالا ایک پانا نکالا اور جہاز کے بعض نٹ کسنے لگا، اس نےجب نٹ کس لیے تو بوڑھے انجینئر نے پائیلٹ سے انجن اسٹارٹ کرنے کو کہا، مختصر یہ کہ انجن اسٹارٹ ہوگیا۔
بوڑھے انجینئر نے اپنے بیگ میں احتیاط سے پانا رکھا اور چل دِیا۔ دوسرے دِن اس بوڑھے انجینئر نے جہاز کے مالک کو اپنا بل (BILL) بھیجا تو اس میں اُجرت کی رقم ڈھائی لاکھ درج تھی۔ بِل دیکھ کر جہاز کے مالک کا سر چکرا گیا کہ ایک پانے سے چند نٹ (NUT) کسنے کے کا اتنا کثیر معاوضہ ۔۔۔؟؟!!
جہاز کے مالک نے بوڑھے انجینئر کو لکھ بھیجا کہ اپنے کام کے الگ الگ بل بنا کر بھیجیے۔ انجینئر نے الگ الگ بل بنا کے بھیجے تو اس کی اِجمالی تفصیل یوں تھی:
"جہاز کے دس نٹ کسنے کے دَس ہزار ، اور کون سے نٹ کسنے ہیں اس وسیع تجربے کے دو لاکھ چالیس ہزار ۔"
جہاز کا مالک اس جواب پر لاجواب ہو گیا۔

ایک پرانا واقعہ بھی آموختہ ہوجائے:
ہمارے ایک ماہرِ لسانیات سینئر دوست نے ایک زبان داں کو پکڑ لیا کہ ذرا لفظ "گوشت" یا " دوست" کی ہجے لگا دِیجیے تو ایک کلو مٹھائی پیش کروں گا۔
زبان داں نےزیرِ لب کہا: گاف واؤ پیش۔۔ گو۔۔ اور پھر شین تے زبر۔۔ شَت۔۔ اب زبان داں چٖپ کہ شَ ت زبر شَت کہتا ہوں تو گوشَتْ (Goshat) ہو جائے گا اور
"ش" کو ساکن کہوں تو پھر "ت" کو کیا کہوں، کیوں کہ ساکن کے بعد ساکن نہیں ہوتا؟؟ ۔۔۔۔
ماہر لسانیات کی طرف زبان داں سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا توماہر لسانیات نے ہونہہ کے ساتھ تیکھا تبسم کیا۔
ہم نےماہر ِلسانیات سے سوال کیا :
حضرت! ذرا اِس نقطے کی وضاحت فرمائیں کہ ساکن کے بعد کیا کہا جائے گا؟
موصوف نے ہمیں گھور کر دیکھا اور جواباً تیکھے لہجے میں کہا کہ :
" میاں! ہم نے زبان و بیان کے یہ گُر اتنی آسانی سے نہیں سیکھے، اساتذہ کی جوتیاں برسوں سیدھی کی ہیں ،تب اس کی شد بد ہوئی ہے اور آپ ہیں کہ ایک سِکنڈ میں یہ نسخہ حاصل کرلینا چاہتے ہیں۔"

ہم سوچ رہے ہیں کہ اگر وہ بزرگ آج ہوتے تو 'حضرتِ گوگل' کے سامنے اُن کی کیا حیثیت ہوتی !
موصوف کے سارے تجربے اور سارا علم گو گل سَر (Google Sir) کے سامنے ہیچ ہوتا۔ مگر سچ یہی ہے کہ تجربے کی اہمیت سے انکار ممکن ہی نہیں اور تجربہ حاصل ہوتا ہے ریاضت اور مشق سے۔
یہ جو ہماری نئی نسل ہے، اسکے پاس ریاضت اور مشق کیلئے وقت ہی نہیں چوزہ انڈے سے نکلتے ہی اذان دینا چاہتا ہے، نتیجہ معلوم ۔۔۔!!

مرحوم اثرؔ فیض آبادی کا یہ مصرع یاد آتا ہے آپ بھی حظ اٹھائیے :
تجربہ جہد سے ملتا ہے کتابوں سے نہیں !!

***
Nadeem Siddiqui
ای-میل : nadeemd57[@]gmail.com
ندیم صدیقی

Experience gained by struggle and not by books. Article: Nadeem Siddiqui

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں