Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-04-01 - بوقت: 18:08

بچے باہر ہیں

Comments : 0
parents-children-apart
آج کی تاریخ میں حیدرآباد میں جو بھی لوگ ساٹھ سال کے آس پاس ہیں، ان کے پاس جوانی کے دنوں میں بات کرنے کے لئے اتنے قصے کہانیاں رہا کرتے تھے کہ کبھی دوستوں کے ساتھ وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا ۔ ہر دن ایک نیا قصہ ایک نیا فسانہ ہوتا تھا لیکن اب وہ عمر کے اس حصے میں پہنچ گئے ہیں تو ان کے پاس پوچھنے کے لئے سوا ئے چند الفاظ کے اور کچھ باقی نہیں رہ گیا ۔ جو پریشان حال ہیں وہ تو اپنے ماضی کے کسی بھی دوست سے ملنا بھی پسند نہیں کر رہے ہیں ۔ البتہ جو کچھ آسودہ حال ہوگئے ہیں وہ جب اپنے پرانے دوست احباب سے ملتے ہیں تو سب سے پہلے خیر خیریت پوچھتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ماشاء اللہ آپ ابھی تک زندہ ہیں!
جب کہ وہ جوانی میں ایک دوسرے سے ملتے تو کبھی کوئی کسی کی خیر خیریت پوچھتا ہی نہ تھا ، بس ملتے ہی کوئی مذاق، کوئی قصہ یا پھر کوئی نیا پروگرام بات کا موضوع ہوتا تھا، لیکن اس عمر میں خیریت کے فوری بعد: شوگر کتنی ہے؟ بی پی کنٹرول میں ہے یا نہیں؟ گھٹنوں کا درد کیسا ہے ؟ کس سے علاج کرا رہے ہیں؟ کون سی دوا لے رہے ہیں؟
اور اس کے بعد کچھ ناقابل قبول مشورے دیتے ہیں جنہیں سامنے والا صرف سنتا ہے مگر عمل نہیں کرتا ۔ بچپن کا اگر کوئی دوست ماضی کے جھروکے سے جھانک کر جوانی کے کسی چٹ پٹے قصوں کو یاد دلانے کی کوشش بھی کرے تو زباں پر بے اختیار یہ شعر آ جاتا ہے:
جانے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں یہ آنکھیں مجھ میں
راکھ کے ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری

جب صحت کی باتیں ختم ہوگئیں تو اگلا سوال ایک دوسرے سے یہی رہتا ہے کتنے بچے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کو سن کر کوئی ہنس دیتا ہے تو کسی کی آنکھ میں آنسو آ جاتے ہیں ۔ ایسے ہی دو دوست کافی عرصہ بعد ملے تو ایک دوست دوسرے دوست کا شاندار بنگلہ ، کار اور ظاہری حالت سے متاثر ہو کر پوچھ بیٹھا: کتنے بچے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟
تو ان صاحب نے کہا: تین لڑکے ہیں، پہلا ڈاکٹر ہے اور اس کی بیوی بھی ڈاکٹر ہے اور دونوں امریکہ میں ہیں ۔
یہ سن کر دوست نے کہا: ماشاء اللہ! آپ قسمت والے ہیں، اسی لئے تو آپ کی یہ شان و شوکت ہے۔
تو وہ صاحب بولے: ایسا کچھ نہیں۔
دوسرا لڑکا کیا کر رہا ہے؟
تو انہوں نے جواب دیا: انجینئر ہے، دبئی میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہے اور اس کی بیوی بھی وہیں ملازم ہے۔
تو دوست نے پھر کہا: ماشاء اللہ! شاید اسی وجہ سے آپ کے یہ ٹھاٹ باٹ ہیں، آپ کے دونوں بچوں نے تو آپ کا نام روشن کر دیا ہے اور آپ کو اعلیٰ مقام میسر کرایا ہے۔۔۔
پھر انہوں نے قدرے توقف سے پوچھا: آپ کا تیسرا لڑکا کیا کر رہا ہے؟
تو وہ صاحب بولے: وہ پڑھا لکھا بالکل نہیں ہے ، گاڑیوں کا میکانک ہے اوراس کی بیوی بھی جاہل ہے۔۔۔
دوست نے افسوس کے ساتھ کہا: آپ کے تیسرے بیٹے نے تو آپ کی عزت مٹی میں ملا دی ہے گویا۔۔
ان صاحب نے سرد آہ بھر کر کہا: یہ ساری شان و شوکت اسی تیسرے بیٹے اور بہو کی محنت اور محبت کا نتیجہ ہے ۔ باقی دو تو ہمیں پلٹ کر بھی نہیں پوچھتے کہ ہم زندہ بھی ہیں یا نہیں؟ وہ تو بس اپنی بیوی بچوں کی دنیا میں مست ہیں۔

آج کے ماں باپ اپنا خون پسینہ ایک کر کے اپنے بچوں کے مستقبل کو روشن کرنے کے لئے تعلیم ضرور دلا رہے ہیں لیکن شاید آج کے ماحول کی وجہ سے ان کی تربیت میں کوئی کمی رہ جا رہی ہے کیوں کہ جب وہ اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر اچھی ملازمت دلا کر یا باہر بھیج کر ایک ترنوالا بنا کر ان کی شادی خوشی خوشی کرتے ہیں تو وہی ترنوالا دوسرے کے حلق میں تو فوری اتر جاتا ہے اور بیچارے ماں باپ کے حلق میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پھنس جاتا ہے ۔ جس عمر میں انہیں پیار اور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت اپنی محنت کی پکی پکائی ہنڈی کسی اور کو سونپ کر بے نور آنکھوں سے صرف خلا میں گھورتے رہ جاتے ہیں۔

ایک نوجوان ماں باپ کے بے حد اصرار پر پردیس سے ان سے ملنے آیا اور باپ سے گفتگو کرتا بیٹھا تھا کہ ایک کبوتر کھڑکی پر آ کر بیٹھا ۔ باپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟
تو بیٹے نے کہا: کبوتر ہے ۔ تھوڑی دیر بعد کسی آواز پر باپ نے دوبارہ پوچھا کہ کاہے کی آواز ہے؟ تو بیٹا پھر بولا: کبوتر ہے۔ جب ضعیف باپ نے تھوڑی دیر بعد تیسری بار وہی سوال دہرایا تو لڑکے نے جھنجھلاکر کہا: ہم لوگ اسی لئے آپ سے ملنے نہیں آنا چاہتے تھے کیوں کہ آپ ایک ہی بات بار بار پوچھ کر دماغ خراب کر دیتے ہیں ۔
یہ سن کر ضعیف باپ کچھ دیر چپ رہا پھر اپنے بیٹے سے کہا: میرے بیڈ روم میں آج سے پچیس سال قبل کی میری لکھی ہوئی ڈائری رکھی ہے اسے لے آؤ اور اس کے چوتھے صفحے پر کیا لکھا ہے پڑھ کر مجھے سناؤ۔ لڑکا نہایت بیزارگی سے ڈائری اٹھا لایا اور چوتھا صفحہ کھول کر پڑھنے لگا، اس میں لکھا تھا:
"آج میرا لڑکا تین سال کا ہو گیا ہے اور میں اسے اپنی گود میں لے کر آنگن میں بیٹھا تھا تو ایک کبوتر آکر کھڑکی پر بیٹھ گیا ، میرے بچے نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا کبوتر ہے ۔ میرے بچے نے یہی سوال مجھ سے پچیس بار پوچھا اور میں ہر بار مسکرا کر اس کا جواب دیتا رہا کہ بیٹا وہ کبوتر ہے ۔ آج میں اتنا خوش ہوں کہ بیان نہیں کرسکتا کیوں کہ میرا بیٹا بات کرنا سیکھ چکا ہے، آج کا دن میری زندگی کا سب سے اہم دن ہے۔"

بیٹا اس تحریر کو پڑھ کر رونے لگا اور باپ سے معافی مانگنے لگا تو باپ نے کہا:
"بیٹا! کسی غلطی سے آدمی گر نہیں جاتا لیکن وہی غلطی بار بار دہرائے تو پھر وہ گر جاتا ہے۔ زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے کبھی صبر کا دامن مت چھوڑو ، ہمیشہ سب سے اچھے رہو، تم زندگی میں جب ترقی کرو تو سب کو ساتھ لے کر چلو کیوں کہ اگر کبھی تم پر برا وقت آیا تو وہ لوگ وہیں کھڑے تمہاری مدد کو تیار ملیں گے جہاں تم نے انہیں چھوڑا تھا۔"

آج جب ہم اپنے پرانے ساتھیوں سے ملتے ہیں اور جب کوئی پوچھتا ہے کہ بچے کیا کر رہے ہیں ؟ تو ہم ظاہری طور پر بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ بچے باہر ہیں۔۔۔
لیکن ہمارے دل سے درد کی ایک ٹیس اٹھتی ہے کیوں کہ ہمیں یاد آتا ہے کہ ایک وقت وہ تھا جب ہمارا گھر ہمیشہ خوشیوں ، بچوں کی چیخ و پکار اور مختلف آوازوں سے بھرا ہوتا تھا۔ ہر طرف بے ترتیبی نظر آتی تھی لیکن اس کے باوجود ہم پرسکون رہا کرتے تھے ، بچوں کو مختلف چیزیں لاکر سلیقے سے رکھنے کو کہیں، وہ کبھی کوئی چیز وقت پر اور جگہ پر نہیں رکھتے ۔۔۔
اب سارے بچے بڑے ہوگئے ہیں ، ان کی شادیاں ہو گئی ہیں اور ان کے بھی بچے ہو گئے ہیں اور وہ سب کے سب اپنے اپنے بچوں کے ساتھ جاکر باہر بس گئے اور گھر میں مکمل سناٹا ہے کوئی شور شرابہ نہیں ۔ برسوں ایک جگہ رکھی ہوئی چیز جوں کی توں پڑی ہے ، گھر میں مکمل سکون ہے ، شور شرابا یا کوئی بے ترتیبی نہیں۔۔۔

ایک وقت تھا جب میری بیوی سارا دن بچوں کے پیچھے چیختی چلاتی رہتی تھی اور ہر تھوڑی دیر بعد آکر مجھ سے بچوں کی شکایت کرتی رہتی تھی ۔ اب وہ بھی مکمل خاموش ہو گئی ہے ، بچوں کے باہر چلے جانے سے گھر کا ماحول انتہائی پرسکون ہو گیا ہے اور آج ہمیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ شور شرابا زندگی کی علامت ہے اور سکون موت کی نشانی ہے ۔
جس شور شرابے سے ہم سمجھتے تھے کہ پاگل ہو جائیں گے، لیکن اچھے بھلے تھے لیکن آج ان سناٹوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم پاگل ہو جائیں گے۔ محدود ذرائع روزگار نے ہمیں مجبور کر دیا ہے کہ اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لئے انہیں باہر بھیج دیں لیکن پردیس جاکر ہمارے بچے ہم سے دور بہت دور ہو گئے ہیں۔
دشمن کو بھی ہوتی ہے میرے حال پہ رقت
پر دل یہ تیرا ہے کہ کبھی بھر نہیں آتا
جو مجھ پہ گزرتی ہے کبھی دیکھ لے ظالم
پھر دیکھوں کہ رونا تجھے کیوں کر نہیں آتا

***
نوٹ :
بشکریہ: روزنامہ 'منصف'
مضمون از: مظہر قادری (موبائل: 09392488219)

The dilemma of today's parents and guardians. Article: Mazhar Qadri

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں