Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-04-14 - بوقت: 23:15

جنس کا جغرافیہ - قسط:28

Comments : 0

kissing

کامیاب مباشرت کے لئے جنسی چھیڑ چھاڑ کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اس کے بغیر جنسی ملاپ یک طرفہ جسمانی تناؤ سے نجات تو دلا سکتا ہے لیکن طرفین کے لئے مکمل آسودگی کا باعث نہیں بن سکتا ہے ۔
جنسی ملاپ سے شوہر اور بیوی، دونوں اسی وقت مکمل آسودگی حاصل کر سکتے ہیں جب کہ شوہر نے نفسیاتی اور جسمانی طریقوں سے بیوی کی شہوت بخوبی بیدار کر دی ہو اور وہ بھی مرد کی طرح مباشرت کی خواہش مند ہو۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عموماً بیوی کی شہوت جلد بیدار نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہ شوہر کا فرض ہے کہ وہ اپنی جارحیت، پیش قدمی، جوش و خروش ، حکمت عملی وغیرہ سے کام لے کر بیوی کے جذبات کو بھی مشتعل کر دے تاکہ دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی!
اور صرف ایسی ہی صورت میں دونوں زیادہ سے زیادہ لذت محسوس کر سکتے ہیں ۔ بیوی کی شہوت کو بیدار نہ کرنے سے وہ عدم تعاون کے لئے مجبور ہو جاتی ہے اور عموماً اسے انزال بھی نہیں ہوتا ۔ ظاہر ہے کہ یک طرفہ مباشرت سے مرد اگرچہ اپنا جنسی ہیجان دور کر لے گا لیکن عورت کو اس سے آسودگی نہیں ہو سکتی ۔

دراصل مساس یا چھیڑ چھاڑ کے سلسلے میں کوئی واضح اور متعین طریقہ کار نہیں ہے، کیونکہ بہترین چھیڑ چھاڑ کا انحصار شوہر اور بیوی کی انفرادی پسند پر ہے ۔ ایک کو بدمست کر دینے والی حرکت دوسرے میں شدید نفرت بھی پیدا کر سکتی ہے۔ یہ قطعاً ضروری نہیں کہ کسی کا یکساں رد عمل ہر ایک پر ہو۔
لہذا یہ شوہر کا فرض ہے کہ وہ خود بیوی کے تعاون و اشتراک سے چھیڑ چھاڑ اور مساس کا ایسا طریقہ معلوم کرے جو ان دونوں کے لئے بہترین ہو ۔ جو ان دونوں کی شہوت کو زیادہ سے زیادہ بیدار کر سکے ۔ دوسرے کیا کرتے ہیں کیا نہیں کرتے ۔ اس بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے، جنسی ملاپ کے راز و نیاز ، شوہر اور بیوی تک ہی محدود رہنے چاہیے۔ ہر ایک سے اس موضوع پر بات چیت کرنا اپنی حماقت کا ثبوت فراہم کرنا ہے ۔

بوس و کنار کی جنسی چھیڑ چھار میں بڑی اہمیت ہے۔ یوں تو لمس کا آغاز ہوتے ہی محبت کا کھیل شروع ہو جاتا ہے ۔ لیکن ایک بوسہ جس میں فریقین ڈوب گئے ہوں اس قربت آور تعلق کو اور زیادہ رنگین اور مسرت بخش بنا دیتا ہے ۔ یہ کہاوت بالکل صحیح ہے کہ ایک عورت جو اپنے آپ کو کسی مرد سے چومے جانے کی اجازت دیتی ہے بالآخر خود سپردگی کے لئے آمادہ ہو جائے گی۔ اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جنسی تعلقات میں بوسے کی کیا اہمیت ہے ۔
ہر وہ شوہر جو اپنے سینے میں حساس دل رکھتا ہے، جو قوتِ تخیل اور تخلیقی جذبے سے مالا مال ہے۔ جو اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے، جو خود اپنی تمام ضروریات سے بھی واقف ہے وہ ہر ملاقات میں ان گنت بوسے لے گا ، لیکن اس کا ہر بوسہ مختلف ہوگا اور دونوں کے لئے ہر بوسے کی لذت مختلف ہوگی ۔ ہر بوسہ ایک ان کہی پیار بھری داستان سنائے گا۔

اگر بوسے کو "مقیاس العشق" یا "محبت کا پیمانہ" کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا ، کیونکہ اگر کوئی اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتا تو بوسے ہونٹ پر ہونٹ دبانے تک محدود ہوں گے لیکن اگر وہ واقعی بیوی کو اپنی محبوبہ سمجھتا ہے ، تو پھر بوسے اس کے دلی جذبات کی ترجمانی کریں گے ۔ کبھی وہ اپنی زبان محبوبہ کے لبوں پر بہت پیار کے ساتھ پھیرے گا ، کبھی اپنی زبان اس کے منہ میں داخل کردے گا، تاکہ"میں" اور "تو" کی دیواریں ٹوٹ کر"ہم" رہ جائے اور کبھی وہ اپنے منہ کو اس کے منہ سے بھڑائے گا کہ اس کے دانت محبوبہ کو ایک لذت بخش درد سے آشنا کر دیں گے ۔ زبان سے زبان ہم کنار ہو کر، پیار بھری سرگوشی کرتی ہے ۔ نوک سے نوک دبا کر پیار بھری شرارت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ، یا زبان اندر باہر کرکے "چہل بازی" سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے ۔ مختصراً ایک بوسہ ہے اور ہزارہا مطلب ہیں، ہزارہا لذتیں ہیں، ہزارہا پیغامات ہیں، ہزارہا جلوے ہیں۔۔۔ شرط یہ ہے کہ سمجھنے بوجھنے والے دماغ ہوں ، حواس بیدار ہوں، سننے والے کان ہوں اور دیکھنے والی آنکھیں ہوں!

جنسی تعلقات کے دیگر معاملات کی طرح بوسے بازی میں تجربہ کرنا ضروری ہے۔ صرف تجربوں سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ بیوی کس قسم کے بوسے اور کس مقام پر بوسہ پسند کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ عورت کبھی بھی اپنے آپ یہ نہیں بتائے گی کہ وہ جنسی تعلقات میں کیا پسند کرتی ہے (یہ اور بات ہے کہ وہ دیگر امور میں شوہر سے گھنٹوں بحث کرنے کی عادی ہو) بلکہ اکثر عورتیں شوہر کے پوچھنے پر بھی ہوں ہاں کے علاوہ کوئی واضح جواب نہیں دیتیں۔ اب شوہر کے لئے بیوی کی پسند معلوم کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ مختلف قسم کے بوسے لے اور بیوی کا رد عمل معلوم کرے عموماً بوسے بازی کے لئے صرف رخساروں اور لبوں کو ہی مناسب سمجھا جاتا ہے ۔ بقیہ تمام جسم بوسے بازی کے لئے 'ممنوعہ علاقہ' ہے ! ہم نہیں جانتے کہ بقیہ جسم کو بوسے بازی سے محروم رکھنے کی سزا کس جرم کی پاداش میں دی گئی ہے ۔ جسم کا خالق تو ایک ہی ہے ، پھر یہ سوتیلے پن کا سلوک کیوں؟ ہمارے خیال میں بوسہ بازی کے تعلق سے کسی حصۂ جسم کی قید نہیں ہونی چاہئے ۔ یہ تو اپنی اپنی پسند ہے کہ کون کہاں کا بوسہ لیتا ہے ۔

اکثر عورتیں ہونٹوں کے اندرونی حصوں پر بوسوں کا لین دین پسند کرتی ہیں ۔ دراصل اس قسم کا بوسہ شوہر اور بیوی دونوں کے لئے دلی جذبات کے ایک پرجوش، بے تکلف اور شہوت انگیز تبادلے کی حیثیت رکھتا ہے ۔ بعض عورتیں یہ چاہتی ہیں کہ ان کے نچلے ہونٹ کو چوسا جائے ، یعنی شوہر ان کے نچلے لب کو اپنے گرم گرم ہونٹوں میں دبالے اور پیار سے چوسے ۔ اگر کبھی کبھی زبان سے چھیڑ چھاڑ بھی کرتا رہے تو عورت کی لذت دو آتشہ ہوجاتی ہے ۔
بعض عورتیں نچلے ہونٹ کے بجائے دونوں پر بوسے بازی سے زیادہ مست ہو جاتی ہیں ، یعنی شوہر ان کے دونوں لبوں کو اپنے منہ سے ڈھانپ لے اور آہستہ آہستہ زبان سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہوا چوستا رہے ۔ عورت کی شہوت بیدار کرنے میں ایسا بوسہ اکثر و بیشتر مفید ثابت ہوتا ہے ، کیونکہ اس میں ذائقے کی حس بخوبی آسودہ ہوتی ہے ۔
یوں تو عام بوسوں میں لذت، لمس کے علاوہ تھوڑا بہت ذائقہ بھی محسوس ہوتا ہے، لیکن اس بوسے میں ذائقہ اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ مرد کی زبان عورت کے اندرونی حصے اور زبان سے اچھی طرح لطف اندوز ہوتی ہے، حالانکہ دونوں کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
بوسہ کی ایک اور قسم ہے جس میں مرد اور عورت دونوں منہ کھول کر لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ شوہر اپنی زبان بیوی کے منہ میں ڈال کر ادھر ادھر اندر باہر اوپر نیچے پھراتا ہے ۔ کبھی زبان سے ہمکنار کرتا ہے اور کبھی تالو کا جائزہ لیتا ہے ۔ پھر بیوی بھی اس طرح لطف اندوز ہوتی ہے۔ کبھی کبھی شوہر شرارت کے طور پر یا تبدیلی کے لئے بیوی کی زبان کو اپنے منہ میں بند کر لیتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کون سا طریقہ ہر لحاظ سے بہترین ہے؟ اس کا کوئی ایک جواب ہر ایک کو نہیں دیا جا سکتا ۔ کیونکہ ہر ایک کی پسند مختلف ہوتی ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ ہر قسم کے تجربوں کے بعد بیوی کی پسند معلوم کی جائے اور اس کی پسند کے مطابق بوسے بازی سے لطف اندوز ہونا مناسب ہے ۔

The Geography of sex -episode:28

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں