Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-03-31 - بوقت: 14:28

ناول - ایک بت - سلامت علی مہدی - آخری قسط:24

Comments : 0

ek-bot-last-episode
گذشتہ اقساط کا خلاصہ :
کمار نے ونود کے وکیل سے ملاقات کی اور اسے پتا چلا کہ ونود کی درخواست ضمانت منظور ہو گئی ہے اور وہ کل صبح رہا ہو جائے گا۔ وکیل خوش تھے کہ ان کی زبردست بحث اور قانونی دلائل نے ونود کو ضمانت پر رہا کرایا ہے ۔ لیکن کمار خوب جانتا تھا کہ ونود کی یہ مشکل کیسے آسان ہوئی ہے، اسے یقین تھا کہ یہاں بھی شاتو کی روحانی طاقت نے اپنا کرشمہ دکھایا ہے ۔ شاتو نے کمار کو اپنی ساری کہانی سنا کر کہا کہ وقت نے ہم سب کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے ۔ شاید خود بھگوان بھی اب اس کہانی کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ ۔۔۔ اب آپ آگے پڑھئے ۔۔۔

قسط : 1 --- قسط : 23

"مجھے معلوم ہے کہ وہ کہاں ہیں۔"
"پھر آپ مجھے ان کا پتہ کیوں نہیں بتاتے۔" کالکا نے تقریباً روٹھتے ہوئے کہا۔
"سب بتا دوں گا۔" میں نے اسے دوبارہ تسلی دی۔
" لیکن اتنا سمجھ لو کہ اگر میں تمہیں شانتا کے پاس لے جاؤں گا تو دوبارہ وہ بھوتوں کے ہتے چڑھ جائے گی۔"
" جیسی آپ کی مرضی۔" کالکا نے گردن جھکا کر جواب دیا۔
" اب آپ مزدوروں کی مزدوری دے دیجئے تاکہ ان سے چھٹی مل جائے ۔"
میں نے جیب سے نوٹ نکال کر کالکا کو دے دیئے اور اس سے کہا کہ وہ مزدوروں کو معاوضہ دینے کے بعد یہاں میرے پاس لے آئے ۔ مزدور آئے تو میں نے ان سے کہا۔
" ایک بات تم سب لوگ کان کھول کر سن لو۔ اگر تم میں سے کسی نے کنویں کے اس دروازے کا تذکرہ گاؤں میں کسی سے کیا تو اتنا یاد رکھنا کہ اس حویلی کو بھوتوں کی حویلی کہا جاتا ہے ۔"
"نہیں سرکار۔" دو مزدوروں نے ایک زبان ہوکر کہا ۔ "ہمیں اپنی موت نہیں بلانی ہے ۔ ہماری زبان جل جائے جو ہم اس کا تذکرہ اپنی زبا ن پر لائیں۔"
میں نے محسوس کیا کہ مزدور واقعی ڈرے ہوئے ہیں۔ میں نے ان سے کوئی اور بات نہیں کی اور وہ خاموشی کے ساتھ چلے گئے۔
مزدوروں کے جانے کے بعد میں نے شاتو کے بت کی طرف دیکھا۔ اور یہ یقیناً میری نظروں کا فریب تھا کہ مجھے اس وقت یہ بت روشنی میں نہایا ہوا نظر آ رہا تھا۔
شام چونکہ قریب آرہی تھی ، اس لئے میں اپنے کمرے میں چلا گیا ۔ تاکہ شاتو وہیں آ جائے اور ہم دونوں کی گفتگو میں کوئی تیسرا مخل نہ ہو، اب مجھے شاتو سے ملنے کی بڑی جلدی تھی۔ حالانکہ صرف ایک دن قبل تک اس کا تصور ہی میرے دل و دماغ میں نفرت کی ایک آگ سی جلا دیتا تھا۔
مجھے اپنے کمرے میں داخل ہوئے مشکل سے دس منٹ ہوئے ہوں گے کہ شاتو آ گئی۔۔۔۔۔۔میں نے کہا:
"میں تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں ، شاتو۔۔۔۔۔"
" اس میں شکریہ کی کیا بات ہے ۔ "شاتو نے جواب دیا۔
" وہ میرا فرض تھا ، اب تمہیں بھی اپنا وعدہ پورا کرنا ہوگا۔"
"ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔" میں نے جواب دیا: " تم اطمینان رکھو۔۔۔" چند لمحات کے توقف کے بعد میں نے کہا:
" اب تم مجھے کنویں کے دروازہ کا راز بتا دو۔"
"ضرور۔۔۔۔۔" شاتو نے جواب دیا۔ " تم میرے پیچھے آؤ۔"
شاتو اتنا کہہ کر کمرے کے باہر نکلی اور میں اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ میں سمجھتا تھا کہ وہ کنویں کی طرف جائے گی لیکن۔۔۔۔۔۔۔وہ راہداری سے گزرتی ہوئی حویلی کے ایک کمرے میں جس میں پرانا ساز و سامان بھرا ہوا تھا داخل ہو گئی ۔ یہاں پہنچنے کے بعد اس نے ایک جگہ دیوار پر ہاتھ مارا۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے ہی لمحہ دیوار میں ایک شگاف پیدا ہوا، جو بتدریج بڑا ہو کر ایک دروازے میں تبدیل ہوگیا ۔ شاتو اس دروازے میں داخل ہوگئی ۔ اندر سیڑھیاں تھیں جو نیچے جا رہی تھیں۔
میں بھی ڈرے بغیر ان سیڑھیوں تک پہنچ گیا۔
تقریباً چالیس سیڑھیاں اترنے کے بعد ایک راستہ دائیں جانب نظر آیا اور جب یہ راستہ بھی جو تقریباً سو گز لمبا تھا، ختم ہوا تو میں ایک بڑے کمرے میں پہنچ گیا۔
اچانک شاتو چلتے چلتے رک گئی اور اس نے کہا:
" یہی وہ کمرہ ہے جہاں میں ونود سے چھپ چھپ کر ملا کرتی تھی۔ ہم دونوں گھنٹوں ایک دوسرے سے باتیں کیا کرتے تھے اور محبت کا وہ راگ سنا کرتے تھے ، جس کی صدائے باز گشت آج بھی حویلی کی فضاؤں میں موجود ہے ۔"
اس کمرے کے بعد ہم ایک دوسرے کمرے میں داخل ہوئے یہ کمرہ چھوٹا تھا، یہاں پہنچ کر بھی شاتو رک گئی اور اس نے کہا ۔
" اب ہم کنویں کے بالکل قریب ہیں بلکہ یوں سمجھ لو کہ زیر زمیں حویلی کا یہ آخری کمرہ ہے ۔ "
شاتو کی آواز اچانک روہانسی ہو گئی، اس نے کہا:
" اور ڈاکٹر۔۔۔۔۔۔ یہی وہ کمرہ ہے جہاں میں نے اپنی مادی زندگی کی آخری سانس لی تھی، اس کمرے کے آخری گوشے میں لکڑی کا ایک تخت بچھا ہوا ہے ۔ تم اس تخت کے قریب جاؤ تو یہ دیکھ کر ڈر نہ جانا کہ اس تخت پر اب بھی میں لیٹی ہوئی ہوں۔ میری لاش صدیوں سے وہاں پڑی ہوئی ہے ۔"
میں تخت کے قریب گیا تو واقعی شاتو کا مردہ جسم تخت پر سو رہا تھا ۔ میں نے سونے کا لفظ جان بوجھ کر استعمال کیا ہے ، کیونکہ شاتو حقیقتاً سوتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔
اب کمرے میں شاتو کا جسم بھی تھا اور روح بھی۔۔۔۔۔۔اور مجھے دونوں وجود نظر آرہے تھے۔ شاتو نے میرے قریب آ کر کہا۔
" اسی تخت پر میرا قتل ہوا تاکہ میں راج کمار ونود کے راستے سے ہٹ جاؤں اور اس کے بعد اس زیر زمین عمارت کو بند کر دیا گیا ۔ تاکہ میرے قتل کا راز کسی دوسرے کو نہ معلوم ہونے پائے ۔ افشائے راز کے خوف سے میری آخری رسومات بھی ادا نہیں کی گئیں اور میں اسی تخت پر پڑی رہی لیکن ڈاکٹر۔۔۔۔ جس طرح انسان مر جاتا ہے اور اس کا کردار کبھی نہیں مرتا ہے ۔ اسی طرح میں بھی نہیں مری، مر جانے کے باوجود زندہ رہی، اس لئے کہ میری روح اس دنیا میں موجود رہی۔"
چند لمحات کے بعد شاتو نے کہا:
" بس یہی میر ی کہانی ہے۔۔۔۔۔ اب مجھے بتاؤ کہ تم کو مجھ سے ہمدردی ہوئی یا نہیں ہوئی۔"
"تم واقعی ہمدردی کی مستحق ہو۔" میں نے جواب دیا۔
" لیکن شاتو یہ تو بتاؤ کہ ونود کو حاصل کر کے بھی تم کیا پاؤ گی۔
"تم مردہ ہو اور تمہارے پاس صرف روح ہے اور وہ زندہ ہے اس کے پاس روح بھی ہے اور جسم بھی۔"
" یہ میں ونود ہی کو بتاؤں گی۔" شاتو نے کہا۔
"خیر۔۔۔۔۔۔۔۔" میں نے کہا:
" اب یہ بتاؤ کہ شانتا کہاں ہے؟"
"وہ مر چکی ہے ڈاکٹر۔" شاتو نے آہستہ سے کہا۔
"اس کی لاش بھی برابر والے کمرے میں موجود ہے ۔ حویلی کی روح نے اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حاصل کر لیا ہے ۔"
شانتا مر چکی ہے۔" میں چیخا۔
"ہاں۔۔۔۔۔۔۔" شاتو نے جواب دیا۔
" اور اب اسے سکون مل چکا ہے ۔ موت ایک بہت بڑے سکون کا نام ہے ڈاکٹر۔"
اور شاتو کے اس انکشاف نے جیسے مجھ پر ایک سکتہ سا طاری کردیا ۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں شانتا کی گمشدگی کے بعد سے اس کی سلامتی کے بارے میں مشکوک تھا اور میں اس خبر کو سننے کے لئے پہلے سے تیار تھا۔۔ لیکن بہرحال شانتا میری محبوبہ تھی اس کی موت کی خبر نے جیسے میرے اعصاب کو ہلا کر رکھ دیا۔
میں نے کہا:
" ونود پاگل ہو جائے گا شاتو۔۔۔۔۔۔ وہ شانتا کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کر سکے گا۔"

لیکن اب شاتو خاموش ہوچکی تھی، اس نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس سے کہا۔
"آؤ اب باہر چلیں"۔ اور شاتو وہاں سے روانہ ہوگئی۔
میرے لئے اب ایک ایک منٹ پہاڑ ہو رہا تھا۔
کالکا نے مجھ سے پوچھا بھی کہ میں بالکل خاموش کیوں ہو گیا ہوں لیکن میں نے نہ تو اپنی خاموشی کا سبب بتایا اور نہ شانتا کا انجام۔۔
دن اسی طرح گزر گیا اور رات بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح دس بجے ونود حویلی میں داخل ہو گیا۔۔۔ میں حویلی کے پھاٹک پر ہی اس کا استقبال کرنے کے لئے موجود تھا۔
وہ مجھ سے لپٹ گیا اور اس نے پوچھا:
"شانتا کہاں ہے؟"
"وہ سو رہی ہے۔" میں نے جواب دیا۔
"کیا اس کو میرے آنے کی خبر نہیں تھی۔" ونود نے بےچین ہو کر پوچھا۔
"وہ بیمار ہے ونود۔" میں نے جواب دیا۔
کالکا نے ہم دونوں کی یہ گفتگو سنی تو اس کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے لیکن وفادار ملازم خاموش ہی رہا۔
ونود پاگلوں کی طرح شانتا کے کمرے کی طرف دوڑا۔ لیکن راستے میں ہی وہ رک گیا کیوں کہ دروازے پر شاتو اس کا راستہ روکے کھڑی تھی۔
"بد معاش عورت۔" ونود چلایا۔
" تو میرا جو کچھ بگاڑ سکتی تھی وہ بگاڑ چکی ہے اس لئے میرے راستے سے ہٹ جا۔"
شاتو نے جواب دینے کے بجائے میری طرف امید بھری نظروں سے دیکھا گویا آنکھوں ہی آنکھوں میں مجھ کو میرا وعدہ یاد دلا رہی ہو۔
میں نے مشتعل ونود سے کہا:" تمہیں شاتو کے بارے میں ایک شدید غلط فہمی ہوئی ہے ۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ شاتو کی وجہ سے ہی تم اتنی جلد ضمانت پر رہا ہو گئے ہو ، ورنہ پتہ نہیں تم کب تک جیل میں رہتے۔۔۔۔۔۔۔"
"میں یہ کچھ نہیں جانتا۔۔۔۔" ونود چیخا۔
" میں سب سے پہلے شانتا سے ملنا چاہتا ہوں۔"
اور مجبور ہوکر شاتو نے ایک مرتبہ پھر ونود پر سحر کر دیا۔اس کے بعد وہ ہم دونوں کو لے کر آگے بڑھی ۔ اسی طرح دیوار میں ایک دروازہ نمودار ہوا ۔ اور ہم کنویں والے تہہ خانے میں داخل ہو گئے۔
اور تہہ خانے میں کیا داخل ہوئے کہ یہ داستان ہی ختم ہوگئی ۔ شاتو ونود کو لے کر اس کمرے میں آئی جس میں شانتا کی لاش پڑی تھی۔ ونود مردہ شانتا کو دیکھ کر اس سے چمٹ گیا اور دیوانوں کی طرح اپنے بال نوچنے لگا۔ شاتو نے اب اپنا سحر ختم کر دیا تھا۔
میں نے مختصر لفظوں میں ونود کو شاتو کی کہانی سنادی۔ اب ونود نے پرسکون ہو کر شاتو کے خوبصورت لیکن غم کے مارے چہرے کی طرف دیکھا۔
شاتو بالکل خاموش رہی۔
اور پھر نے اس نے بڑے ڈرامائی انداز میں ایک خنجر ونود کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا:
"میرے ساتھ چلو ونود۔ اس دنیا میں نہ اب کچھ تمہارے لئے باقی رہ گیا ہے اور نہ میرے لئے۔"
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے دیکھتے ہی دیکھتے ونود نے یہ خنجر اپنی چھاتی میں اتار لیا۔

کہانی ختم ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے سامنے ونود کی بھی لاش پڑی تھی اور شانتا کی بھی۔۔۔۔۔۔میں ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ اس تہہ خانے سے باہر نکلا تو شاتو کا بت بھی اپنی جگہ کھڑا ہوا تھا۔ ۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔
اب اس بت کی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب یہ بت زندہ عورت کا نہیں معلوم ہو رہا تھا۔


Novel "Aik Bot" by: Salamat Ali Mehdi - Last episode:24

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں