Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-03-28 - بوقت: 15:17

قدیر زماں - کہانی کار، ڈرامہ نگار، قلم کار اور سماجی جہدکار

Comments : 0
qadeer-zaman
28/جنوری 2018 کو روزنامہ 'سیاست' کے اپنے مخصوص کالم "یادِ رفتگاں" میں نامور طنز و مزاح نگار مجتبیٰ حسین نے "قدیر زماں" کی یادیں تازہ کرتے ہوئے پس نوشت کے طور پر لکھا تھا:
بالآخر 20 جنوری 2018 کو قدیر زماں طویل علالت کے بعد ہمیں یکا و تنہا چھوڑ کر اس دنیا سے چلے گئے ۔ اِن سے ہمارے 65 برس پرانے مراسم تھے ۔ اس اعتبار سے وہ ہماری نوجوانی کے دنوں کے اکیلے دوست باقی رہ گئے تھے ۔ ادب اور ثقافت سے اُن کا سروکار نہایت گہرا تھا ۔ وہ افسانہ نگار ، ڈرامہ نگار اور تبصرہ نگار بھی تھے ۔ ان کے بعض ڈرامے خاصے مقبول ہوئے ۔ چار سال پہلے انہوں نے شمس الرحمن فاروقی کے شہرہ آفاق ناول "کئی چاند تھے سرِ آسماں" کی تلخیص "وزیر خانم" کے عنوان سے کی تھی جسے ادبی حلقوں میں خاصا سراہا گیا تھا ۔ وہ طویل عرصہ سے صاحبِ فراش تھے۔ میں اور پروفیسر بیگ احساس وقفہ وقفہ سے ان کی عیادت کیلئے اُن کے گھر جایا کرتے تھے ۔ دس بارہ دن پہلے ہم ان کے گھر گئے تو سورہے تھے۔ ہمارے آنے کی آہٹ سن کر اچانک جاگ گئے ۔ بستر سے اٹھنے کی کوشش بھی کی مگر ہم لوگوں نے انہیں منع کردیا۔ ہمیں دیکھ کر ان کے چہرہ خوشی سے کھِل اُٹھا ۔ تھوڑی دیر کے لئے ان کی باتوں میں علالت اور کمزوری کے کوئی آثار بھی نظر نہیں آئے ۔ میں نے موقع کو غنیمت جان کر اپنے فون سے گلبرگہ میں وہاب عندلیب سے اورالہ آباد میں شمس الرحمن فاروقی سے ان کی بات کروائی ۔ بے حد خوش ہوئے، وہ ان دونوں اصحاب کی بڑی عزت کرتے تھے ۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ ان سے یہ میری آخری ملاقات ہوگی ۔
(مجتبیٰ حسین)

مضطر مجاز نے روزنامہ 'منصف' کے 15/مارچ 2018 کے ادبی ایڈیشن میں قدیر زماں پر ایک موقر مضمون تحریر کیا ہے (جو شاید قدیر زماں کی وفات سے قبل کا تحریر کردہ ہے)۔ روزنامہ 'منصف' کے شکریہ کے ساتھ یہاں پیش ہے۔

آندھرا پردیش کے ضلع کریم نگر کے ایک مالا مال موضع گمبھیر پور میں ایک متوسط زمیندار خاندان میں ایک لڑکے کا جنم ہوا، (5/اکتوبر 1933ء) لیکن وہ اس چھوٹے سے موضع یا ضلع یا صوبے یا پھر اپنے ملک تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ یورپ، امریکہ ، کینیڈا ، کے کئی شہروں کے علاوہ مشرقی وسطیٰ میں قزاقستان اور خود برصغیر میں نیپال کی ترائیوں تک جہانیاں جہاں گشت بنا گھومتا رہا اور یہ کوئی تفریحی دورے نہیں تھے بلکہ شراب علم کی لذت کشاں کشاں اسے لیے پھرتی رہی ۔
اس لڑکے کی قدیر زماں کے نام سے علمی و ادبی حلقوں میں پہچان ہوئی۔

ابتدائی تعلیم تعلقہ مستقر جگتیال پر ختم کر کے قدیر زماں ملازمت کے لئے حیدرآباد آئے تو یہیں کے ہو رہے ۔ چھوٹی موٹی ملازمتوں کے بعد محکمہ امداد باہمی میں ایک درمیانی درجے کے عہدے سب رجسٹرار پر منتخب ہوئے اور اسپیشل کیڈر ڈپٹی رجسٹرار کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ۔
حیدرآباد میں ملازمت کرتے ہوئے انہوں نے اپنا تعلیمی سفر بھی جاری رکھا اور او۔ایل۔ایل۔بی اور ایم۔کام تک کی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔ حیدرآباد میں بھی وہ نچلے نہیں بیٹھے ۔ سب سے پہلے ان کی سماجی مصروفیات میں، گلبرگہ اسٹوڈنٹس کاٹیج سے وابستگی تھی جہاں ان کی ملاقات مشہور مزاح نگار مجتبی حسین اور کرناٹک کے اردو کے مشہور ادیب اور جہدکار وہاب عندلیب سے ہوئی۔ ان سب نے مل کر "بزم ادب، کاچیگوڑہ" کی نیو رکھی جس سے حیدرآباد کے کئی نامی گرامی ادیب اور شاعر ابھرے ۔
جامعہ عثمانیہ میں پوسٹ گریجویشن میں داخلہ لیا تو آرٹس کالج کی طلبا یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ مجلہ عثمانیہ کے علاوہ ایک رسالے "سفینہ" کے ایڈیٹر بھی رہے ۔ انجمن آرائی قدیر زماں کا بڑا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔ تنہائی پسندی اور قنوطیت کا شکار وہ کبھی نہیں رہے ۔ یکے بعد دیگرے کئی انجمنوں سے ان کی بڑی عملی وابستگی رہی ۔
"پیوستہ رہ شجر امید بہا رکھ" گویا ان کی طبیعت کا جزو ثانی سا بن گیا ہے۔ وہ اردو کی محض ادبی انجمنوں ہی سے نہیں بلکہ اور کئی سماجی اداروں سے بھی جڑے رہے جن میں حیدرآباد لٹریری فورم ، اقبال اکیڈیمی، فورم فار ماڈرن تھاٹ اینڈ لٹریچر (جو خود انہوں نے قائم کیا) کے علاوہ ۔۔۔ پرکاشم انسٹی ٹیوٹ، اکثرا جیوتی، انڈین انسٹی ٹیوٹ فار پبلک ایڈمنسٹریشن ( لائف ممبر) ، سوسائٹی فار پریزویشن آف انوائرنمنٹ اینڈ کوالٹی آف لائف (انجمن برائے تحفظ ماحولیات و معیارحیات) ہم سب ہندوستانی( ٹرسٹی) ، بک ریویو گلڈ (ٹرسٹی) شامل ہیں۔
وہ رائیڈنگ کلب اور شکار کلب کے بھی ممبر رہے ۔1993ء سے 1997ء تک وہ ساہتیہ اکادمی کے ممبر بھی رہے ۔ گھڑ سواری ، لٹھ بازی ، بندوق اور تلوار چلانا ان کے مشاغل رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے وقت کے ہر پل سے امرت رس نچوڑنے کو انہوں نے اپنا لازمہ حیات بنا لیا ہے ۔ ایک بھرپور زندگی گزارنا ہی ان کا ماٹو ہے۔
ان تمام دلچسپیوں کے ساتھ ساتھ ان کا تخلیقی سفر بھی اسی سرگرمی سے جاری رہا ۔ افسانے، ڈرامے ، اقبالیات کے علاوہ انگریز اور دیگر ہندوستانی زبانوں سے تراجم میں بھی انہوں نے انتھک کام کیا ہے ۔

افسانوں میں 'رات کا سفر (1976ء)' اور 'ادھورا سفر (1990ء)' عنوانات سے ان کے دو مجموعے شائع ہوئے۔ ڈرامائی ادب میں 'ماورا (1997ء)' اور 'پنجرے کا آدمی (1987ء)' جو ایڈورڈ البی [Edward Albee] کی "دی زو اسٹوری" سے ماخوذ ہے، شائع ہو چکے ہیں۔ ریڈیو سے براڈ کاسٹ ہونے کے علاوہ ان کے تین ڈرامے اسٹیج بھی ہوئے۔
"حیدرآباد کے مایہ ناز دانشور سید عالم خوندمیری" کے عنوان سے اپنے ادارے فورم فارماڈرن تھاٹ کی جانب سے کتاب کو شائع کیا ۔ عالم صاحب ہی کے انگریزی مضامین کا ایک مجموعہ Islam, Modernity & Secularism کے نام سے سیج (Sage) پبلی کیشن دہلی کی جانب سے زیر اشاعت ہے ، جس پر ایک جامع پیش لفظ قدیر زماں صاحب کا تحریر کردہ ہے ۔
تراجم میں ایڈی پس (سوفوکلیز) [Oedipus the King by Sophocles] ، روپوشی کی تحریریں (ویمنا) جو ساہتیہ اکادمی نے شائع کی، 'پرچھائیں' امیتابھ گوش کی شیڈو لائنس [The Shadow Lines by Amitav Ghosh] کا ترجمہ شامل ہیں۔ ساہتیہ اکادمی کے رکن ہونے کی حیثیت سے حیدرآباد میں ترجمے پر ایک ورک شاپ کا اہتمام کیا، جس میں دوسری ہندوستانی زبانوں سے 21 کہانیاں ترجمہ کروا کر ساہتیہ اکاڈمی سے شائع کروائیں ۔ جن میں حیدرآباد کے ادیبوں کے منجملہ خود قدیر صاحب بھی شریک ہیں۔
اردو کی ان تصنیفات ، تالیفات اور تراجم کے ساتھ ساتھ قدیر زماں نے بہ زبان انگلیسیہ بھی خاصہ مواد تیار کیا ہے جس میں رشوت ستانی کے موضوع پر
1. The land marks of Coop-movement in India
2. Judiciary the Last Hope
3. Bribery
4. Silence is Crime
شامل ہیں۔ سال 2000 میں ان کی ایک معرکۃ الآراء کتاب "تلاش اقبال" بھی شائع ہوئی جس میں انہوں نے اقبال کو رحمۃ اللہ علیہ کی طیلسان سے نکال کر بہ حیثیت انسان پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔

یہ نہیں کہ وہ اپنے کاروبار شوق ہی میں گم ہو گئے ہیں ۔ وہ ایک نہایت گھریلو آدمی ہیں۔ ان کی بیگم شہر کی مشہور لیڈی ڈاکٹر ہیں ۔ ان کے صاحبزادے ڈاکٹری کر رہے ہیں ، لڑکی کی انہوں نے شادی کر دی ہے اور اپنے گھر اور بچوں کے لئے بھی وقت نکالتے ہیں ۔
ان کے فکرو فن پر حیدرآباد کے نامور دانشوروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
عالم خوندمیری انہیں جدید افسانے کا معتبر ترجمان قرار دیتے ہیں ۔ ان کے افسانوں میں حقیقت اور طلسم کا امتزاج پایا جاتا ہے جسے نہایت محتاط فنکارانہ انداز سے برتا گیا ہے ۔ ان کی نظر صرف انسان کی خارجی زندگی پر نہیں رہتی، وہ اس کے پس پردہ انسانی کشمکش پر بھی نظر رکھتے ہیں اور خارج سے باطن کے ٹکراؤ کا مشاہدہ کرنے کی بھی ہمت رکھتے ہیں۔

اختر حسن کے خیال میں وہ کسی ایک لمحہ فکر کے آتشیں احساس یا کسی ایک چونکا دینے والے تجربے کی جذباتی آنچ سے اپنے افسانے کے پیکر تراشتے ہیں۔ ان کی اشارتی زبان اور علامتی اسلوب ان کے انسانوں کی زیریں لہر کو پڑھنے میں خارج نہیں ہوتا ۔

مغنی تبسم کے خیال میں ان کی کہانیاں کہانی پن کے متلاشی قاری کو بھی مطمئن کرتی ہیں اور کہیں اینٹی کہانی کے قاری کی تسکین کا باعث بھی بنتی ہیں ۔ ان کی کہانیوں کی ہیئت متاثر کرتی ہیں ۔ خودافسانہ نگار قاری سے مخاطب ہو کر اسے خطابیہ یا موعظہ و تلقین نہیں بناتا۔

اگرچہ وہ عمر کی ساٹھویں دہائی کے منازل طے کر رہے ہیں ۔ اور گھٹیا کے عارضے کے باوجود ان میں نوجوانوں کی سی چستی اور پھرتی پائی جاتی ہے ۔
اللہ کرے زور شباب اور زیادہ!
ہماری سمجھ میں یہ بات بہرحال نہیں آ رہی ہے کہ آخر یہ سب کچھ وہ کس طرح کرتے ہیں؟ یہ ایک ایسا گمبھیر راز ہے جس پر سے گمبھیر پور کا یہ باسی ہی شاید پردہ اٹھا سکے ۔

ان کی اتنی ساری مصروفیات و مشغولیات کے ساتھ تصنیفی و تالیفی کام کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ قدیر زماں کو بھی آخر وہی دن کے 24 گھنٹے، مہینے کے تیس اور سال کے 365 دن ملے ہیں۔ وہ اسی میزان صبح و شام کو جو ہم سب کو قدرت کی طرف سے عطا ہوئی، کس طرح اپنی طرف جھکا لیتے ہیں؟ ان کے پاس ایسا کونسا منتر ہے کہ وہ زماں کی طناب کو ربر کی طرح کھینچ کر اپنے حسب مرضی کر لیتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر ہمیں اقبال کی اس بات پر ایمان لانا پڑتا ہے:
ایام کا مرکب نہیں، راکب ہے قلندر

ایسا لگتا ہے کہ گھڑ سواری کرتے کرتے انہیں مرکب ایام پر سواری کا فن بھی آ گیا ہے ۔

Qadeer Zaman, a notable writer and social activist from Hyderabad. Article: Muztar Majaz

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں