Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-03-03 - بوقت: 16:56

مجتبیٰ حسین اور طنز و مزاح - شمس الرحمن فاروقی

Comments : 0
mujtaba-hussain-farooqi
مزاح نگار کو ہمارے یہاں عام طور پر دورجہ دوم کا فن کار اور مزاح نگاری کو درجہ دوم کی چیز سمجھا گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہماری زبان یا ہمارے ملک میں مزاح کی صلاحیت نہیں ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ اردو زبان اور اس کے بولنے والوں میں مزاح کی صلاحیت عام جدید ہندوستانی زبانوں اور ان کے بولنے والوں سے کچھ زیادہ ہی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری زبان جن عناصر سے مرکب ہے ، یعنی سنسکرت اور فارسی، دونوں میں اعلیٰ مزاح کی روایت بہت قدیم اور بہت وسیع رہی ہے ۔ دنیا کی تمام ترقی یافتہ زبانوں کی طرح سنسکرت، فارسی اور پھر اردو میں بڑے ادیبوں نے مزاح کو نام نہاد سنجیدگی سے الگ کوئی چیز نہیں سمجھا۔ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے یہ خیال کیا کہ مزاحیہ اور طنزیہ تحریریں صرف ہلکی پھلکی تحریریں ہوتی ہیں۔ ان میں کوئی گہرائی یا وزن نہیں ہوتا یا اگر ہوتا بھی ہے تو اس درجہ نہیں جس درجہ کسی سنجیدہ تحریر میں ہوتا ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انگریزی تعلیم کے بعض غلط نتائج نکلے، کیونکہ زیادہ تر لوگ انگریزی یا مغربی ادب سے پوری طرح واقف نہیں تھے ۔ ان کا مبلغ علم سنی سنائی باتوں یا ادھر اُدھر کی باتوں تک محدود تھا۔ پھر انگریزی تنقید کے بعض اہم نمائندوں کی ایک آدھ تحریر پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ کیا گیا ۔ مثلاً آرنلڈ نے سو برس پہلے لکھا کہ ڈرائڈن اور پوپ انگریزی شاعری کے نہیں بلکہ انگریزی نثر کے اعلیٰ نمونے ہیں ۔ پھر کیا تھا، لوگ فوراً ایمان لے آئے کہ جب آرنلڈ جیسا نقاد اور پوپ جیسے بڑے طنزو مزاح نگار شعرا کو شاعروں کی فہرست سے ہی خارج کرہا ہے تو اردو کے چھُت بھئیوں کی کیا اوقات ہے ۔ لوگ یہ بھول گئے کہ آرنلڈ کا قول غلط بھی ہوسکتا ہے ۔ لوگ یہ بھی بھول گئے کہ آرنلڈ کی اس رائے کو اس کے زمانے میں بھی بہت سے لوگوں نے قبول نہیں کیا اور اس کے پچیس ہی تیس برس بعد ٹی ایس ابلیٹ نے ان شاعروں کی تعریف کی بلکہ بڑی شاعری کی ایک صفت یہ بھی بتائی کہ اس کو پڑھ کر پوری طرح نہیں کھلتا کہ شاعر سنجیدہ ہے یا مذاق کررہا ہے یا سنجیدہ بھی ہے یا مذاق بھی کررہا ہے ۔ غالب اور میر کے یہاں یہ صفت واضح ہے ۔ لیکن ہم لوگوں نے ان کے یہاں بھی ایسے شعروں کو نظر انداز کردیا بلکہ اکثر ان پر شرمندہ بھی ہوئے کہ صاحب یہ پرانے زمانے کے نیم مہذب لوگ تھے، ان کی عمر کا لحاظ کرکے انہیں معاف کردیجئے ۔ لیکن سارا قصور انگریزی تعلیم کا نہیں ہے کیونکہ اسی انگریزی تعلیم کے دور دورے کے زمانے میں یہاں اکبر الہٰ آبادی جیسا عظیم طنزو مزاح نگار پیدا ہوا۔ اس زمانے میں اقبال تک نے ظریفانہ شعر کہے اور ان لوگوں کے فوراً بعد ہمارے یہاں رشید احمد صدیقی اور پطرف بخاری نے ہمارے ادب کو مالا مال کیا۔ اسی زمانے میں ظریف لکھنوی بھی تھے اور خواجہ حسن نظامی بھی۔ ظریفانہ ادب اور ادیب کی تقلیل قدر یعنیDevaluationکی کچھ ذمہ داری ہمارے ظریفانہ ادیبوں پر بھی ہے، جنہوں نے بھونڈے پن کو ظرافت اور کھردرے جھنجھلائے ہوئے انداز بیان کو طنز نگاری سمجھا۔ طنزیہ مزاحیہ ادیب کی پہلی صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ خو د کو دنی والوں اور رسم و رواج سے بندھی ہوئی ان کی ذہنیت سے برتر اور الگ سمجھتا ہے یعنی طنزو مزاح قائم اسی وقت ہوتے ہیں جب ہم نطز نگار یا مزاح نگار کی ذہنی بر تری یا اخلاقی برتری کو قبول کریں۔ طنزو مزاح نگار اگر دنیا اور اہل دنیا کو حقیر یا بے وقوف یا نا سمجھ نہ سمجھے تو اس کی تحریر کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا ۔ لیکن ذہنی اور اخلاقی برتری کا یہ رویہ لطیفہ بازی، جملہ بازی دانت پیس کر کوسنے ، گلا پھاڑ کر چلانے سے نہیں قائم ہوتا۔ ہمارے زمانے کے ظریفانہ ادیبوں ںے خود کو مسخرایا جھگڑالو بناکر پیش کرنا پسند کیا۔ ذہنی اور اخلاقی برتری نصیب نہیں تھی ، ان میں سے اکثر میں وہmaliceیا کینہ توزی بھی نہ تھی ، جس نے سودا سے شاہ ولی اللہ جیسے محترم اور مقدس اور مفکر بزرگ اور مرزا مظہر جان جاناں جیسے مرنجاں مرنج اور فرشتہ صفت صوفی کی ہجوئیں لکھوائیں ۔لہٰذا انہوں نے خود کو بھانڈ یا محفل کی وقت گزاری کو آسان کرنے والے لطیفہ گو یا فقرہ باز یا بات بات پر گالیاں سنانے والے سٹھیائے ہوئے بڈھے کے روپ میں پیش کرنے میں عافیت سمجھی ۔ ہمارے زمانے کے اکثر طنزومزاح نگار اپنے لئے میں کے بجائے ہم کا استعمال کرتے ہیں ۔ کیونکہ’’ہم‘‘ میں ایک طرح گم نامیتAnonymityایک طرح کی مسکینی اور عاجزی ہے ۔ یہ وہ’’ہم‘‘ نہیں ہے جو غزل کا شاعر استعمال کرتا ہے ، بلکہ یہ وہ ’’ہم‘‘ ہے جسے لوگ عام بول چال میں گھریلو انداز میں استعمال کرتے ہیں ۔ ہمارے اکثر طنزیہ مزاحیہ مضامین میں ہم ایک سادہ لوح شخص کی صورت میں نمودار ہوتا ہے ۔ یہ سادہ لوح شخص بیوی سے ڈرتا ہے ، دوست اس کی شرافت اور سیدھے پن کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دفتر میں یا کاروبار میں اسے ترقی نہیں ملتی اس کی خوبی صرف یہ ہے کہ وہ موقع بے موقع بھونڈے یا سپاٹ لطیفوں سے اپنی باتوں کو قابل برداشت بناتا ہے ۔ مرزا مظہر جان جاناں اور میر کے بارے میں سودا کے اشعار خواجہ سرا کی ہجوئیں، میر کے اشعار، ظہور اللہ نوا کی ہجویں ، جرات کا مخمس، انگریزی تہذیب کے رنگ میں ڈوبے ہوئے ہندوستانی نواجوں کے بارے میں اکبر کی نظمیں پڑھ کر جس شخصیت کے خدو خال سامنے آتے ہیں اس کو آپ ناپسندیدہ کہہ سکتے ہیں ، اس سے دوستی کرنا آپ شاید پسند نہ کریں، لیکن آپ اسے گھر گھسنا، نکھٹو، زن مرید، دوستوں اور ساتھیوں کے فقروں کا ہدف نہیں کہہ سکتے ۔ نہ ہی آپ اسے کٹ کھنا، چڑ چڑے بوڑھے کی طرح بڑ براتا ہوا کوئی مجہول الحال لفظوں کا بھاڑ جھونکنے والا کہہ سکتے ہیں۔ آج کل ہمارے زیادہ تر مزاح و طنز نگار جس شخصیت اور ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہیں ، وہ انہیں دوخانوں میں سے ایک میں فٹ ہوسکتی ہے۔
مزاح میں گہرائی طنز کے بغیر نہیں آسکتی، اور طنز کی پہلی شرط غصہ نہیں بلکہ فکر ہے ۔ یہ سمجھنا کہ طنز نگار کا میلان مفکرانہ نہیں ہوتا، طنز نگاری اور کالم نگاری کو خلط ملط کرنا ہے ۔ مفکرانہ میلان سے میری مراد یہ نہیں کہ طنز نگار کسی فلسفے کی تلقین کرتا ہے یا وہ افلاطون اور ارسطو کی کتابیں پڑھ کر ان کے خیالات کو بیان کرتا ہے ۔ مفکرانہ میلان سے مراد یہ ہے کہ طنز نگار خو د کو دنیا اور اہل دنیا کی کمزدوریوں اور مجبوریوں سے اوپر سمجھتا ہے لیکن وہ ان کمزوریوں اور مجبوریوں سے بخوبی واقف ہوتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ وہ خود بھی ان برائیوں کا شکار ہوسکتا ہے ۔ اس میں کھلنڈرا پن نہیں ہوتا لیکن ایک طرح کیIrreverenceاس میں ضرور ہوتی ہے جیسا کیہS.J.Perelmanنے کہا ہے ، لوگوں کے کولہوں میں کبھی کبھی سوئی چبھوتے رہنا چاہئے ۔ لیکن یہIrreverenceسرکس کے مسخرے والی حرکت نہیں ہوتی، جو ہیروئن کو چپت لگا کر خود چاروں شانے چت گرجاتا ہے ۔ ہمارے زمانے کے اکثر ظریفانہ ادیبوں نے خود کو میر کے شیخ کے مصداقبنالیا۔
شہرہ رکھے ہیں تیری خریت جہاں میں شیخ
مجلس ہو یا کہ دشت اچھل کود ہر جگہ
بہت دن پہلے جب میں نے مجتبیٰ حسین کی تحریریں پڑھی تھیں تو ان کی نثر کی چستی اور بھونڈے اچھل کود والے لطیفوں اور فقروں سے ان کے اجتناب کو دیکھ کر مجھے محسوس ہوا تھا کہ اعلیٰ مزاحیہ تحریروں کا گھر جو ایک عرصہ سے اردو میں بند پڑا تھا آہستہ آہستہ کھل رہا ہے ۔ میں نے اس وقت بھی ان کا خیر مقدم کیا تھا جب وہ حیدرآباد کے ایک بالکل نو آمدہ لیکن چلبلے اور کسی طائر نو پر کی طرح نئی نئی اڑانیں بھرنے کے شائق مزاح نگار کی حیثیت سے دنیا کے سامنے آئے تھے۔ پچھلے بیس برسوں میں میں نے بہت سے نئے ادیبوں سے توقعات وابستہ کیں، اور ان میں سے اکثر نے بعد میں مایوس کیا ۔ یہ بھی ہمارے زمانے کا المیہ ہے کہ لوگوں کے شعلے بہت جلد بجھ جاتے ہیں یا شاید اب کے لوگ کاروبار ادب میں روحانی اور داخلی منفعت کے بجائے شہرت اور مالی منفعت زیادہ تلاش کرتے ہیں۔ بات جو بھی ہو میری کتابوں کی الماریاں ایسے مجموعوں سے بھری پڑی ہیں جن میں شامل تحریروں کے لکھنے والے آج یا تو خاموش ہیں یا پہلے سے بہت خراب لکھ رہے ہیں۔ مجتبیٰ حسین کے بارے میں مجھے یہ خوف کئی سال تک رہا کہ یہ چمک دمک یہ آن بان کہیں چار دن کی چاندنی نہ ہو ۔ میں نے ان کی ہر تحریرکو اور بعد میں جب ان سے ملاقات ہوئی اور ملاقاتیں ہونے لگیں تو خود ان کو اسی غور اور شوق اور تشویش سے دیکھا ، جس غور اور شوق اور تشویش سے کوئی ماہر نباتات کسی ایسے پودے کو دیکھتا ہو جس کا دنیا میں صرف ایک نمونہ ہو اور جس پر اس پودے کی تمام نسل کے قیام و استقلال کا دارومدار ہو ۔ وہ جس طرح ہر ہر پتی، ڈالی کی ہر نوک اور پھنگی کو توجہ سے دیکھتا ہے کہ کہیں مرجھا تو نہیں رہی ہے ، کمزور تو نہیں پڑ رہی ہے ، اسی طرح مجتبیٰ حسین اور ان کی تحریروں کو دیکھتا تھا کیوں کہ مجھے یقین ہی نہ آتا تھا کہ ایسا طرحدار مزاح نگار دس پانچ برس کے بعد بھی ترقی کرتا رہے گا۔ کیا معلوم ہمارے بزرگ مزاح و طنز نگاروں کا بھونڈا پن، ان کا مسخرا پن، ان کی تلملاتی ہوئی جھنجھلاہٹ اس پر کب اثر انداز ہوجائے ۔ لیکن مجبتیٰ حسین نے میں ہی کیا مجھ سے بہتر لوگوں کو بھی حیرت میں مبتلا رکھا۔ اور اب جب کہ ہم ان کے سفر نامہ جاپان کا خیر مقدم کرنے یہاں جمع ہوئے ہیں تو اس اطمینان اور یقین کے ساتھ کہ ابھی اس کنویں میں کئی ڈول پانی ہے ۔
معاصر ظریفانہ ادیبوں میں دو ہی چار ایسے ہیں جنہوں نے طنزومزاح کی ادبی حیثیت کو دوبارہ مستحکم کیا ہے ۔ ایسے لوگوں میں مجبتیٰ حسین کا نام بہت نمایاں ہے ۔ مشتاق احمد یوسفی ظاہر ہے ، اس گروہ کے سردار ہیں ۔ کوئی اور اصطلاح میسر نہ ہو پر میں ان لوگوں کو ادبی مزاح و طنز نگار کہتا ہوں ۔ اس وجہ سے نہیں کہ مشتاق احمد یوسفی کی طرح مجتبیٰ حسین کے یہاں بھی اردو کے ادب عالیہ کی روایت اور اس کے کارناموں سے گہری واقفیت کا اظہار ہوا ہے ۔ بلکہ اس وہج سے کہ ان لوگوں نے طنزومزاح کی اس روایت کو زندہ کیا ہے جس کا سلسلہ سودا اور میر سے لے کر پطرف بخاری تک پھیلا ہوا ہے ۔ مجتبیٰ حسین ابھی ’’ہم‘‘ کے جال سے اور لطیفہ گوئی کے گورکھ دھندے سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے ہیں۔ شاید وہ وقت نزدیک ہی ہے جب وہ ان بیساکھیوں کو بالکل ترک کردیں گے لیکن جو چیز ان کی سب سے بڑی قوت ہے ۔ وہ یہ کہ انہیں زبان کو مزاحیہ طریقے سے برتنے کا سلیقہ آتا ہے جیمس تھر برJames ThurberنےNew Yorkerکے ایڈیٹر ہرالڈراسHarold Rosesکے بارے میں لکھا ہے کہ وہ جس مزاح نگار کو کم تر درجے کا قرار دیتا تھا اس کے بارے میں وہ کہتا تھا کہHe is not funny he does not know Englishیعنی اس کی ظرافت مزے دار نہیں ہے اس کو زبان نہیں آتی۔ تھربر کہتا ہے کہ جب راس سے اس کی پہلی ملاقات ہوئی اور تھربھر نے اس کو اپنی لیاقتوں کی فہرست کی فہرست بنائی تو راس نے پوچھا۔’’ وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن تم کو انگریزی آتی ہے کہ نہیں؟‘‘ تھربر نے جواب دیاکہ’’ کیوں نہیں ، آتی؟‘‘ تو راس نے کہا’’خدا غارت کرے ، انگریزی کسی کو نہیں آتی۔‘‘ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ مزاح نگار کو زبا ن کی قوت کا اندازہ ہونا کس قدر ضروری ہے۔ ہنسی پیدا کرنے والے واقعات تو ہما شما سب نکال لیتے ہیں لیکن زبان کو اس طرح برتنا کہ تضاد، تناسب، توازن کے ذریعہ، ہنسی والی بات بن جائے ہر ایک کا کام نہیں ۔ مجتبیٰ حسین ان تینوں طریقوں کو بہت خوبی سے برتتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے کی خرابی یہ ہے کہ جب بھی زمین پر کوئی آفت آتی ہے تو آسمان کی طرف دیکھنے لگتے ہیں ۔ کپڑے بنانے والی کمپنیاں ہمیشہ اپنے کیلینڈروں پر ایسی حسیناؤں کی قد آدم تصویر چھاپتی ہیں جن کے بدن پر گھڑی اور انگوٹھی کے سوائے کوئی لباس نہیں ہوتا ۔ مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ اس شہر میں ہمیں اپنے سوا کوئی سستی چیز نظر نہیں آتی۔‘‘ کمرہ اتنا چھوٹا ہے کہ اس میں کسی خواب کے داخل ہونے کی گنجائش نہیں ہے ۔ ان جملوں میں وہ باریکیاں ہیں جو تخلیقی زبان میں ہوتی ہیں۔
پھر یہ بھی ہے کہ مجتبیٰ حسین کو غیر متوقعConnectionsملانا خوب آتا ہے ۔ یہ صفت بھی زبان کے خلاقانہ استعمال سے پیدا ہوتی ہے ۔ قدرت اللہ مجھ سے ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ وہ کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ درست بھی تھا کیوں کہ ایک بار میں نے خود اپنی آنکھوں سے انہیں سوکھی روٹی کا ٹکڑا چٹنی کی مدد سے کھاتے اور بعد میں پانی پیتے دیکھاتھا۔‘‘ ایک زمانے میں انگریزی تعلیم کے زیر اثر لوگوں کا خیال تھا کہIncongruityمزاح کا جوہر ہے ۔ بات صحیح ہے لیکنIncongruityکا مطلب بے تکاپن نہیں، بلکہ غیر متوقع چیزوں کو یک جا کرنا ہے۔ مجتبیٰ حسین اس کے ذریعہ طنز کا بھی کام لیتے ہیں۔ ان کی شگفتگی کو دیکھ کر بعض لوگ اس بات کا اندازہ کر جاتے ہیں کہ وہ معاصر دنیا سے خاصے ناراض بھی ہیں اور ان کا مزاح ان کے طنز سے الگ نہیں ہے۔ جاپان چلو جاپان چلو، میں ان کی ناراضگی ذرا کم جھلکتی ہے ۔ ویسے یہ ٹھیک بھی ہے، کیونکہ میں انہیں سفر نامہ نگار یا نامہ نگار نہیں سمجھتا بلکہ میں انہیں پطرس بخاری کی کرسی کی طرف بڑھتا ہوا دیکھنا پسند کرتا ہوں۔

ماخوذ: مجلہ 'چہار سو' ، راولپنڈی، پاکستان۔
"مجتبیٰ حسین نمبر" ، جلد:24 ، شمارہ: جنوری/فروری 2015


Mujtaba Hussain and his satirical Humour. Article: Shamsur Rahman Farooqi

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں