Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-02-28 - بوقت: 14:35

جنس کا جغرافیہ - قسط:26

Comments : 0

massage

بوس و کنار کی طرح مساس کے بھی بے شمار طریقے ہیں۔ ان طریقوں کو جاننے کی ضرورت ہے کہ جنسی فعل میں ذہن کا کتنا حصہ ہے اور جسم کا کتنا؟
جنسی تعلقات میں جسمانی اور جذباتی عناصر کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اور مباشرت کی شروعات میں ان دونوں پہلوؤں کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔ جہاں تک جذباتی عنصر کا تعلق ہے اس کا انحصار عورت مرد کی انفرادی حیثیت، مزاج، تربیت اور ان لمحات کی عام حالت و کیفیت پر ہوتا ہے ۔ چنانچہ اس میں بے شمار تنوعات ہونے کا امکان ہوتا ہے ۔ مثلاً جنسی ملاپ کا کوئی ایک طریقہ جو ایک وقت تو ایک عورت میں کافی ہیجان پیدا کر دیتا ہے مگر کسی اور وقت اور کسی دوسری عورت کے لئے بالکل ہی برعکس ثابت ہو سکتا ہے اور بعض اوقات ایک لفظ، ایک اشارہ یا خوشبو ہی کسی طویل دل لگی اور چھیڑ چھاڑ سے زیادہ موثر ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ کسی باضابطہ طرز عمل یا کسی مقررہ اصول کا تجویز کیا جانا مناسب اور ممکن نہیں ہوتا بلکہ جنسی تعلقات کے سلسلے میں انفرادی بے ساختگی ، مہارت اور باہمی آہنگی اور ذکاوت پر ہی بھروسہ کرنا لازم ہوتا ہے ۔

اگرچہ عورت کی نفسانی خواہش یعنی شہوت کو پوری طرح بیدار کرنے کے لئے صرف ایک حساس جذباتی قربت کا ہی کافی ہونا ممکن ہے لیکن بیش تر صورتوں میں اصل مباشرت سے پہلے ہیجان پیدا کرنے کے لئے براہ راست جسمانی طریقوں پر بھی عمل کرنا سود مند ہوتا ہے ۔ یہ طریقے زیادہ تر دل لگی ، مذاق، چھیڑ چھاڑ، بوس و کنار اور مساس پر مشتمل ہوتے ہیں۔
ایک مرد کے جسم میں جنسی اعتبار سے ہیجان انگیز اعضاء کم و بیش ایک ہی جگہ مرکوز ہوتے ہیں ۔ لیکن اس کے برعکس عورت کے شہوت انگیز اعضاء سارے جسم میں پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ بہرحال جذباتی نقطہ نظر سے درست اور موزوں حالات کے تحت جسم کے کسی حصے کے ساتھ بھی مساس ، جنسی ہیجان و اشتعال کا باعث ہو سکتا ہے ۔
ہونٹ، گردن، کان کی لویں، پستان اور خاص طور پر سر پستان، زیر ناف کا حصہ، مقعد ، رانیں، پنڈلیاں، چوتڑ، جانگھیں (چڈھے) بالخصوص زودحس ہوتے ہیں ۔ اور ان اعضاء کا مساس کرنا اکثر شہوت کے شدید طور پر بیدار ہوجانے کا باعث ہوتا ہے ۔

عام طور پر عورتیں شادی کے ابتدائی دنوں میں اعضائے تناسل کے ساتھ براہ راست اتصال کی بہ نسبت عام جسمانی مساس سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ چنانچہ بعض اوقات عورتوں کے لئے اعضائے تناسل کے ساتھ براہ راست اتصال صرف اس وقت ہی جنسی طور پر ہیجان انگیز ثابت ہوتا ہے جب کہ ان کی فطری شرم و حیا بتدریج غائب ہو چکی ہوتی ہے ۔
محراب فرج کا تمام تر علاقہ جنسی اعتبار سے زود حس ہوتا ہے ۔ اور چھوٹے لبوں، دہانہ، فرج اور بالخصوص بظر پر ہلکے ہلکے تھپتھپانا ، عورت کے لئے کافی شہوت انگیز ثابت ہوتا ہے ۔
یہ اعضاء اور سر پستان نہایت حساس رگ پٹھوں سے بنے ہوتے ہیں اور ان میں جنسی ہیجان کے تحت سختی آ جاتی ہے اور پھول جاتے ہیں اور ان میں ایستادگی کے مانند تناؤ پیدا ہوجاتا ہے۔
بہرحال اس ضمن میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان اعضاء کا مساس ہلکے ہلکے اور نرم و نازک ہو اور صرف نمی یا رطوبت کی موجودگی میں ہو ، غیر مناسب دباؤ اور تشدد آمیز مساس بالخصوص اس وقت ناخوشگوار تاثرات کا باعث ہو سکتا ہے، جب کہ جلد کی سطح خشک ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس صرف ہلکا ہلکا مساس ہی اناً فاناً سارے جسم میں شہوت اور مباشرت کے لئے آمادگی پیدا کر سکتا ہے ۔

مساس ہو یا مباشرت اس میں ایک بے ساختگی ہونی چاہئے ۔ یہ سب بندھے ٹکے قانون یا قاعدے کے تحت نہیں ہونا چاہئے ۔ مساس کبھی تو لبوں کے بوس و کنار سے شروع ہو سکتا ہے ۔ کبھی یکدم پیڑو پر ہاتھ پھیر کر اس کی ابتداء کی جا سکتی ہے ۔ کبھی پستانوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔ بہر حال اس سلسلے میں عورت کو تذبذب کی حالت میں رکھنا چاہئے اور اسے اس بات کا پتہ چلنے نہ دیا جائے کہ کس وقت مرد جسم کے کس حصے کو مساس کے لئے منتخب کرتا ہے ۔

فن مباشرت میں کسی ایک مخصوص ضابطہ پر عمل کرنے کے جواز یا مناسبت پر اب تک بھی شک کیا جاتا ہے اور ایک شخص کے لئے زیادہ بہتر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ فن مباشرت میں کسی رہبر کی ہر ایک ہدایت پر لفظ بہ لفظ یا مرحلہ وار عمل کرنے کی بجائے خود اپنے آپ میں خوش تدبیری اور مہارت پیدا کرے اور اپنے جنسی تعلقات کو ایک مشترکہ مہم بنائے۔ بعض اوقات کچھ لوگ جب جنسی ملاپ کے موضوع پر لکھی ہوئی کتابوں کی چند مخصوص ہدایات پر حرف بہ حرف عمل کرتے ہیں تو مباشرت کی تمام بے ساختگی ہی ختم ہو جاتی ہے، سارا لطف ہی غائب ہو جاتا ہے اور جنسی ملاپ ایک سراسر مصنوعی اور کشیدہ عمل بن جاتا ہے ۔ چنانچہ شوہر اور بیوی کو جنسی ملاپ میں مطابقت پیدا کرنے کے لئے خود اپنے ہی تخیلات اور رجحانات کو مکمل اظہار کا موقع دینا زیادہ مناسب ہوتا ہے ۔

یہاں یہ بتادینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ چھیڑ چھاڑ ، بوس و کنار ، مساس اور مباشرت کے دوران ایک بیوی کا مفعول ہونا لازم نہیں۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ ایک عورت فطری طور پر ایک ایسے فعل کے لئے بھی، جس کی وہ خود خواہش مند ہوتی ہے ، ترغیب دئیے جانے یا مجبور کئے جانے کو ترجیح دیتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کا جنسی چھیڑ چھاڑ کے دوران بالکل ہی بے حس اور ساکت رہنا ایک شدید غلطی ہوتی ہے۔ کیونکہ ایک شوہر کے لئے خواہ وہ کتنا ہی سرگرم کیوں نہ ہو، ایک بیوی کی حقیقی یا مصنوعی بے اعتنائی سے زیادہ تباہ کن اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اگرچہ اکثر عورتیں اپنی جنسی زندگی کے آغاز پر ڈرپوک اور شرمیلی واقع ہوتی ہیں، اور اس وقت مرد کے لئے ساری پیش قدمیاں کرنا لازم ہوتا ہے لیکن جب مکمل جنسی تعلقات قائم ہوجائیں تو عورت کی جانب سے چھیڑ چھاڑ ، بوس وکنار، مساس اور مباشرت میں سرگرم اشتراک اور وقتاً فوقتاً جنسی ملاپ کا آغاز کرنا مناسب ہوتا ہے۔
اگر عورت بھی مباشرت کی تیاری میں مساس کے وہ تمام تر طریقے اختیار کرلے جنہیں مرد بروئے کار لاتا ہے تو اس میں نہ ہی کوئی غیر شائستگی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی غیر فطری بات ہوتی ہے کیونکہ جس طرح ایک بیوی کو بیدار کرنے کی کوششوں کے دوران ایک شوہر کی خواہشات ، بیداری اور ایستادگی میں اضافہ ہو جاتا ہے ، اسی طرح ایک عورت کی جانب سے پہل اور سرگرمی بھی خود اس کی اپنی شہوت کو دوبالا کر دیتی ہے اور وہ جنسی ملاپ کے لئے بہتر طور پر تیار ہو جاتی ہے ۔

چونکہ عورت کا انزال ، مرد سے مختلف ہوتا ہے ۔ مرد کی طرح اس کا مادۂ منویہ خارج نہیں ہوتا بلکہ جنسی ہیجان سے چند دوسرے غدود بیدار ہو کر ایک پسینہ نما رطوبت خارج کرتے ہیں ، اس کی تسکین کے لئے ان کی مکمل بیداری رغبت اور تعاون ضروری ہے ۔ اور جنسی قربت میں انتہائی لطف اور مشترکہ تسکین اسی وقت ممکن ہے جب کبھی کبھی عورت بھی جنسی اقدامات میں پہل کرے اور ہمیشہ مرد کے اشاروں پر نہ ناچے ، کیونکہ صحت مند مرد کبھی کبھی تو یہ چاہتا ہے کہ اس کی رفیقہ جنسی فعل میں ہدایات دے بلکہ وہ ان معاملات میں خود کو اپنے آپ سے اتنا بےتکلف کر لے کہ وہ اپنی تسکین یا عدم تسکین کا اشارتاً یا لفظاً اظہار بھی کرے ۔

یہ سمجھنا سراسر غلط ہے کہ بوس و کنار اور مساس میں عورت کا حصہ معمولی اور ثانوی ہوتا ہے ۔ اکثر نئی نویلی دلہنیں شرم کے باعث جلد ہی چھیڑ چھاڑ میں حصہ لینے سے مصنوعی طور پر ہچکچاتی ہیں، لیکن رفتہ رفتہ جب ان کی یہ جھجک دور ہو جاتی ہے تو اپنا رول مستعدی سے ادا کرتی ہیں اور تب وہ بھی بھینچنے ، چومنے اور اعضاء کو چھونے اور سہلانے میں فراخدلانہ طور پر حصہ لیتی ہیں۔ جہاں تک جنسی چھیڑ چھاڑ کا تعلق ہے ۔ عورت مرد دونوں کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے ۔

The Geography of sex -episode:26

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں