Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-02-10 - بوقت: 16:14

جنس کا جغرافیہ - قسط:25

Comments : 0

kiss

حیوانیات کے عالم ، قوت لامسہ کو تمام حواس کی ماں قرار دیتے ہیں ۔ چھونے اور محسوس کرنے کا فعل تقریباً تمام بالاتر جانوروں میں مشترک ہے اور زندگی میں اس قوت کو جتنی اہمیت حاصل ہے ، وہ ظاہر ہے ۔
بعض ماہر نفسیات نے تو لمس کو ہی محبت کی ابتداء اور جنسی ہم آغوشی کو انتہا مانا ہے ۔ گویا لمس کے سرگم کا پہلا "سا" محبت اور آخری "سا" جنسی ہم آغوشی ہے۔ مہذب بوسۂ لب سے وحشیوں اور جانوروں کے بوسۂ زبان تک ہر قسم کا بوسہ، محبت کے عالم لمسیۂ بوسے کی ایک مخصوص شکل ہے ۔ پالتو جانوروں مثلاً کتے ، بلی کا مالک کے جسم سے منہ کو رگڑنا، ہاتھیوں کا ایک دوسرے کی سونڈ سے کھیلنا ، چڑیوں کا چونچ ملانا یہ سب عالم لمسیۂ بوسے کی مثالیں ہیں۔
قوتِ حس، جسم کے ان مقامات میں زیادہ نمایاں ہے، جہاں اندرونی کھال بیرونی کھال سے آکر ملتی ہے، جیسے منہ۔ بوسے میں جو لذت ملتی ہے وہ ان مقاماتِ حس میں لذت خیزی کے ایک پیچیدہ نظام کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ منہ میں یہ حس سب سے زیادہ نمایاں ہے اسی لیے بچے اور بندر جو چیز بھی پا جاتے ہیں، اسے منہ میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بہت سے چھوٹے بچے ماں کے جسم کو چاٹ کر اپنے پیار کا اظہار کرتے ہیں ۔ وحشی قبائل اور اسکیموؤں میں بچوں کی مائیں ایسا چاٹتی ہیں جیسے بلی اپنے بچے کو !
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ زبان کے بوسے کی ابتداء ان جانداروں سے ہوئی جو اپنے بچوں کو دانہ یا غذا بھراتے اور جن کی ارتقائی شکل میں کبوتر یا دوسرے پرندے موجود ہیں ۔ اور شاید انسان کے قدیم ترین اجداد بھی اپنے بچوں کو اسی طرح اپنے منہ میں غذا لے کر بھراتے تھے اور اس فعل میں خود انہیں لذت ملتی تھی۔

بہرحال اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ بوسہ ماضی کے دھندلکے میں لپٹی ہوئی کچھ ایسی ہی خوشگوار یادوں سے وابستہ ہی اور جو ارتقاء کی منزلوں سے گزر کر ایک منفرد جسمانی فعل بن گیا ہے ۔ ایسا خوشگوار فعل جو آج ایک انسان کے جذبات اور احساسات کو دوسرے انسان پر ظاہر کرنے میں نہ صرف کامیاب ہے بلکہ دوسرے انسان میں بھی جواباً وہی جذبات پیدا کر دیتا ہے ۔ اگر ہم گلاب کو چاہے پھولوں کا بادشاہ نہ بھی کہیں تو اس کی خوبصورت میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ اسی طرح محبت کے علامتی اظہار کی ابتدا چاہے کتنی ہی حیوانی کیوں نہ ہو، بوسے کی "شیرینی لب سوز" کم نہیں ہوتی!

بوسہ انسانی تاریخ میں بلاشبہ کروڑوں سال پرانا ہے ۔ پرندوں میں کبوتر کا بوسہ مشہور ہے ۔ اگر نر اور مادہ میں کسی بات پر اختلاف ہو جائے تو بوسہ ان کے دلوں کی کدورت دھو دیتا ہے ۔ اس حقیقت کا بہت سے کبوتر بازوں نے مشاہدہ کیا ہے ۔ چیونٹیاں ایک دوسرے کا بوسہ لیتی ہیں ، انسان میں بوسے کی طرف مائل ہونے کا سبب اپنے احساسات کا اظہار اور حصول لذت ہے ۔
ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ مرد میں مثبت برقی طاقت پائی جاتی ہے اور عورت میں اس کے بر خلاف منفی طاقت کا وجود مانا جاتا ہے ۔ جب یہ دونوں طاقتیں ایک دوسرے سے بوسے کے ذریعہ ملتی ہیں تو ان میں تناسب پیدا ہوتا ہے ۔
یوں تو طرح طرح کے بوسے ہیں۔ مثلاً جب آدم اپنے "گناہ " کی پاداش میں اس بھیانک دھرتی پر پھینک دیے گئے تو خوف و ندامت ان پر غالب ہوئی، اور اس کے اظہار میں انہوں نے حوا کی اچھی طرح مرمت کرنا چاہی مگر حوّا نے اپنی مدافعت میں صرف یہی کیا کہ آدم کا ایک بوسہ لے لیا! جس کا اثر یہ ہوا کہ آدم کا خوف ، ندامت اور غصہ سب کافور ہو گئے اور وہ ایسی جنت میں پہنچ گئے جس نے پرانی بہشت کی یاد دل سے یکسر محو کر دی۔

اس ہمت افزا اور پرسکون بوسے کے برعکس ایک "بوسہ آتش خیز" بھی ہے جس کی گرمی پانے والوں نے ملک کے ملک جلا کر خاک کر دیے ہیں، اور جذبات سے ابلتا ہوا وہ بوسہ بھی ہے جس نے معصوم مارگریٹ کو فاؤسٹ کی محبت کا یقین دلایا او ر انتہا ئے غم کا وہ بوسہ بھی ہے جو رومیو نے جولیٹ کی لاش کو دیا تھا۔ لیکن بوسے کی جتنی بھی کیفیتیں ہوں ، دو محبت کرنے والوں کو بوسے کی آواز میں ہمیشہ ان ابدی لہروں کی آواز سنائی دیتی ہے جو ساحل کے سنگ ریزوں سے ٹکراتی رہی ہے!

بوسے کو شدت ، حدت، کیفیت اور مدت کے لحاظ سے مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کہاجاتا ہے کہ دنیا میں بوسے کی چھ ہزار قسمیں ہیں!
ایک بوسہ وہ ہے جو محبت نرمی اور آہستگی کے ساتھ، صبح کے وقت، نسیم کے پرسکون جھونکوں کی طرح ایک عاشق اپنے کسی سوئے ہوئے محبوب کے خوابیدہ ہونٹوں سے چرا لے، اس طرح کہ محبوب سوتا ہی رہے!
ایک بوسہ وہ ہے جو دو ارمان بھرے دلوں کو برسوں کے انتظار کے بعد ایک دوسرے سے ملاتا ہے ۔ نہایت پرجوش اور جذبات سے لبریز ، جس کو حاصل کرتے وقت روح کی راہ میں حائل ہونے والے تمام مادی موانعات ہٹ جاتے ہیں۔
قدیم یونانیوں کے نزدیک بوسہ "جنت کی کنجی" تھا۔ عرب اس کو "عشق کا نمک" کہتے تھے ۔ اور ہندوستانی شاعروں نے اس کو "قاصد محبت" کہا تھا ۔ امریکہ کے ایک شاعر نے بوسے کو "ایک پل" تصور کیا ہے ، جو دونوں کو آپس میں ملاتا ہے ۔ بوسہ کو ہم خواہ کوئی بھی نام دیں، محبت کی دنیا میں اس کا چلن روز بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے!

سائنس کی رو سے بوسہ عشق و محبت کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے ، کیونکہ لبوں میں شہوانی حس کثرت سے موجود ہے اور اس سے شہوانی جذبات کا راست تعلق ہے ۔ محبت کے گرمجوشانہ طریقۂ اظہار کی حیثیت کے باعث بوسے میں اعتماد ، یقین کی قوت اور آگ کا وجود ضروری ہے۔ پیمانِ محبت کی حیثیت سے بوسہ خاص مفہوم کا حامل ہے ۔
بقول کسے بوسہ ایک ایسی مہر ہے جو محبت کا قول ہارنے پر لگائی جاتی ہے، ماہرین طب نے بوسہ کو دو روحوں کے اتصال کا نشان قرار دیا ہے ، جو مثبت اور منفی جسموں کے اتصال سے سربلند ہوتا ہے ۔ وہ لوگ بھی جو بوسہ کو مصافحہ کی طرح ایک مہذبانہ فعل تصور کرتے ہیں۔ محبت اور خلوص سے بوسہ لیتے وقت اپنے جسم میں برقی رو کے دوڑ جانے کو ضرور محسوس کرتے ہیں ۔

جہاں تک بوسہ اور اس کے فن کا تعلق ہے ، مغربی ادب اس سے بھر ا پڑا ہے اور دورِ حاضر کے تقریبا ہر قوم و ملک کے ادب میں بوسہ سے متعلق شاعرانہ بلند پروازیوں کی افراط ہے ۔ کہیں بوسہ چوری چھپے لیا جاتا ہے اور کہیں کھلے بندوں۔ کہیں بوسہ چاندنی راتوں کی زینت بنتا ہے اور کہیں تاریکی کے خوف کو دور کرتا ہے ۔ کہیں بوسہ، ڈسمبر کی سرد راتوں میں گرمی پہنچاتا ہے اور کہیں محبت کی گرمی کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے ۔ الغرض بوسہ ہر گھڑی ہر موقعہ کی چیز ہے !

بوسے کا موضوع نامکمل رہے گا اگر ہم دور حاضر کے اس انوکھے بوسے کا ذکر نہ کریں، جس میں مرد اپنی محبوبہ کو خط لکھنے کے بعد آخر میں XXX اس قسم کے نشانات کی سطر بھی درج کر دیتا ہے اور محبوبہ اسے دیکھ کر تصور ہی میں اپنے محبوب کے بوسہ کا لطف اٹھا لیتی ہے ۔ اسی طرح محبوبہ اپنے عاشق کو خط لکھ کر اپنے سرخی زدہ لبوں کا سرخ نقش خط پر لگا دیتی ہے ، جس میں عاشق کے لیے سینکڑوں جراحتوں کا مرہم پنہاں ہوتا ہے ۔
ایک فرانسیسی ماہر شماریات نے حساب لگایا ہے کہ روزانہ دنیا میں پچاس ارب بوسے لیے جاتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ ان ہی میں ہمارے پانچ بوسے بھی شامل ہوں!!

The Geography of sex -episode:25

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں