Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-02-19 - بوقت: 16:32

آصف سابع کے آخری فرزند پرنس فضل جاہ بہادر کا انتقال

Comments : 0
prince-fazal-jah
سابق ریاست حیدرآباد دکن کے نظام آصف سابع میر عثمان علی خان بہادر کے آخری فرزند پرنس فضل جاہ بہادر (نواب میر فضل علی خان بہادر، پیدائش: 28/فروری 1946) کا آج بعمر 72 سال حیدرآباد میں انتقال ہو گیا۔ وہ گزشتہ دو ماہ سے بیمار تھے اور حیدرآباد ہی کے ایک نجی اسپتال میں داخل تھے۔ تین دن قبل اچانک خرابئ صحت کی بنا پر انہیں بشیرباغ کے ایک کارپوریٹ اسپتال میں شریک کرایا گیا تھا۔ وہ نظام آصف سابع کی 34 اولادوں میں سے آخری حیات فرزند تھے۔ البتہ آصف سابع میر عثمان علی خان کی 16 دختران میں سے ایک صاحبزادی بشیرالنساء اپنی دختر رشید النساء کے ہمراہ پرانی حویلی میں قیام پذیر ہیں۔
آصف سابع عثمان علی خان کے پوتے نجف علی خان نے بتایا کہ صبح نو بجے اسپتال نے پرنس فضل جاہ کے انتقال کی تصدیق کی۔ اتوار 18/فروری کو بعد نماز ظہر مسجد جودی کنگ کوٹھی میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔
فضل جاہ کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ داور النسا بیگم اور متبنی فرزند ڈاکٹر فضیلت علی خان شامل ہیں۔ پرنس فضل جاہ کی والدہ لیلی بیگم تھیں جو آصف سابع میر عثمان علی خان کی سب سے چہیتی شریک حیات تھیں اور جنہوں نے آصف سابع کے 5 فرزندان (ذوالفقار جاہ، بھوجت جاہ، شبیر جاہ، نوازش جاہ اور فضل جاہ) اور 2 دختران (مشہدی بیگم اور سعیدہ بیگم) کی والدہ بننے کا شرف حاصل کیا تھا۔

آصف سابع میر عثمان علی خان کی دیگر اولادوں کے برعکس فضل جاہ سماجی اور فلاحی خدمات کے اداروں سے وابستہ تھے۔ وہ مختلف ایسے مذہبی ٹرسٹوں کے انچارج تھے جنہیں آصف سابع میر عثمان علی خان نے قائم کیے تھے۔ ان ٹرسٹوں میں سعودی عرب میں واقع حیدرآبادی رباط بھی شامل ہے۔
سابق ریاست کے حقیقی فرزند کی مانند پرنس فضل جاہ نے اپنی ساری عمر حیدرآبادی عوام کے کمزور طبقے کی خدمت میں گزار ڈالی۔ نظام سابع کے دیگر وارثوں کی طرح نہ انہوں نے غیرملکی رہائش کو ترجیح دی اور نہ سیاست میں داخلے میں دلچسپی دکھائی۔ مسجد جودی کنگ کوٹھی کے اپنے دفتر میں وہ عام ملاقاتیوں کے لیے ہمیشہ دستیاب رہے۔ ان کی تدفین میں جہاں عوام کا جم غفیر دیکھا گیا وہیں پرنس مفخم جاہ اور پرنس شہامت جاہ بھی آخری رسومات میں شامل رہے۔ خاندان پائگاہ کی دیگر اہم و معتبر شخصیات بھی فضل جاہ کو خراج عقیدت پیش کرتے دیکھی گئیں۔
کہا جاتا ہے کہ تاریخی جودی مسجد کے بہتر انتظام کے لیے پرنس فضل جاہ نے اپنا سرمایہ فراہم کیا۔ واضح رہے کہ اس مسجد کے احاطے میں آصف سابع میر عثمان علی خان کی والدہ امت الزہرہ مدفون ہیں۔

Prince Fazal Jah, the Last surviving son of 7th Nizam of Hyderabad passes away

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں