Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-02-08 - بوقت: 15:04

پارلیمنٹ میں وزیراعظم کی تلخی غلطی اور طعنے

Comments : 0
pm-modi-in-parliament
پریہ درشن NdTv انڈیا میں سینیر ایڈیٹر ہیں۔ انہوں نے این۔ڈی۔ٹی۔وی بلاگ پر اس موضوع پر اپنے بےلاگ تاثرات کا بےباکانہ اظہار کیا ہے۔
وزیر اعظم اکثر جس پارلیمانی اور آئینی وقار کی بات کرتے ہیں کیا وہ صدر جمہوریہ کے خطاب کا جواب دیتے وقت ان کے بیان میں تھا؟ یہ ٹھیک ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کا ایک گروپ ان کی تقریر کے درمیان ہنگامہ کر رہا تھا، لیکن کیا یہ مناسب تھا کہ اس ہنگامے سے وہ اتنے مشتعل ہو جائیں کہ اپنے پورے بیان کو ایک تلخ سیاسی بیان میں ہی نہیں، بلکہ ایک انتقامی کارروائی میں تبدیل کر دیں۔

احتیاط سے دیکھیں تو وزیر اعظم نے ایوان میں ایک سے زیادہ ایسی باتیں کہیں جنہیں کوئی دوسرا کہتا تو کانگریس شاید پارلیمنٹ چلنے ہی نہیں دیتی۔ اس لحاظ سے کانگریس نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ۔ وزیراعظم نے کانگریس پر بھارت کی تقسیم کا بھی الزام لگایا۔ تاریخی طور پر اُس وقت کی سب سے بڑی اور ملک کی نمائندہ پارٹی ہونے کے ناطے کانگریس تقسیم کی ذمہ داری سے بچ نہیں سكتی- تقسیم کے گنہگاروں کو لے کر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں کانگریسی لیڈروں کو بخشا نہیں گیا ہے۔ تقسیم کے بعد ہونے والے فسادات سے گاندھی جی اتنے دکھی تھے کہ آزادی کے دن انہوں نے دہلی میں رہنا قبول نہیں کیا تھا۔ لیکن وزیر اعظم کس کانگریس کی بات کر رہے ہیں ؟ کیا پٹیل اس کانگریس میں شامل نہیں تھے جس نے تقسیم کی تجویز پاس کی؟ اور ان دنوں شیامہ پرشاد مکھرجی کہاں تھے؟1951 میں جن سنگھ کے قیام سے پہلے وہ کانگریس میں تھے اور نہرو کابینہ میں شامل تھے۔ ظاہر ہے، تقسیم کی گنہگار جو کانگریس تھی، اس میں نہرو بھی تھے، پٹیل بھی اور شیاما پرساد مکھرجی بھی۔ لیکن جب آپ اپنی سیاسی سہولت کے لئے تاریخ کا استعمال کرتے ہیں، تو آپ کچھ چیزیں بھول جاتے ہیں، کچھ چیزیں یاد رکھتے ہیں ۔ وزیر اعظم پوری تقریر میں یہی کام کرتے رہے ۔ کشمیر پر، انہوں نے بی جے پی کا پٹا ہوا نظریہ دہرایا کہ اگر سردار پٹیل ہوتے تو پورا کشمیر ہمارا ہوتا ۔ جبکہ تاریخ میں یہ بات درج ہے کہ سردار پٹیل بالکل ابتدائی دنوں میں جس طرح جونا گڑھ اور حیدرآباد کو ان کے نظاموں کی چاہت کے باوجود چھوڑنے کو تیار نہیں تھے اسی طرح جموں و کشمیر میں بھارت کے ضم ہونے کے بہت زیادہ خواہشمند نہیں تھے ۔ یہ نہرو تھے جنہوں نے اپنی سرزمین کا حوالہ دیتے ہوئے ماؤنٹ بیٹن سے گزارش کی کہ وہ شری نگر جا کر مہاراجہ ہری سنگھ سے ملے۔ تب یہ ملاقات ممکن نہیں ہو پائی ۔ بعد میں قبائلی حملہ آوروں کی آڑ لے کر پاکستان نے جو حملہ کیا اس کے سبب حالات خراب ہوگئے۔

بہرحال، نہرو اور پٹیل کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے والی بی جے پی اور ان کے وزیر اعظم مودی شاید یہ نہیں جانتے کہ ریاستوں کی زبانی اعتبار سے تنظیمِ نو کے مسئلہ پر نہرو اور پٹیل دونوں کی کشمکش ایک جیسی تھی۔ جس آندھرا کا وہ ذکر کر رہے تھے ، وہیں تیلگو کی بنیاد پر علیحدہ ریاست کے لئے چلنے والی تحریک کے خلاف دونوں تھے۔ کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ ایک بار مذہب کے نام پر تقسیم ہونے والا ملک اب زبانوں کے نام پر نہ بنٹنے لگے ۔ لیکن آندھرا پردیش کے علیحدہ ریاست بننے کے بعد کے تجربے نے دونوں کو یقین دلایا کہ ملک زبانوں کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوگا بلکہ بندھے گا۔ کشمیر یا آندھرا کا ذکر یہ سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے کہ آزادی اور تقسیم کے بعد 600 ریاستوں میں بٹے ہوئے ملک کو جوڑنا اور اس کا سیاسی نقشہ تیار کرنا دونوں کا مشترکہ کارنامہ تھا، جس میں بہت سارے لوگ شامل تھے۔ اس عمل کے دوران نہرو پٹیل کئی بار ساتھ چلے ہوں گے اور کئی بار ایک دوسرے سے متفق نہیں بھی ہوئے ہوں گے ۔ دونوں کے خطوط اس کی گواہی دیتے ہیں، لیکن ان کو ایک دوسرے کے مخالف کے طور پر پیش کرنے کی جو محدود بھاجپائی سوچ رہی ہے اسے پارلیمنٹ میں رکھنا وزیر اعظم کے شایانِ شان نہیں تھا۔

بہرحال ، یہ سچ ہے کہ آزادی کے بعد سب سے طویل عرصے سے اقتدار پر قابض کانگریس کے جرم کچھ کم نہیں ہیں ۔ بدعنوانی ، خاندان پروری اور تمام قسم کی بیماریاں جو کانگریس میں نظر آتی ہیں ان کے بیج کانگریس میں موجود تھے ۔ لیکن یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ نہرو نے اندرا گاندھی کو وزیر اعظم نہیں بنایا۔ کانگریس کے بڑے رہنماؤں کے جھگڑوں کے بیچ وہ گونگی گڑیا کے طور پر آگے بڑھائی گئی تھیں ۔ یہ گونگی گڑیا جب بولنے لگی تو انہیں کانگریسی رہنماؤں نے کنارے لگانے کی کوشش کی۔ کانگریس ٹوٹ گئی اور تنظیم کانگریس دوسروں کے پاس چلی گئی ۔ یہ وہی دور ہے جب اندرا گاندھی 'صرفِ خاص' (Privy Purse) کا خاتمہ کرتے ہوئے اور بینکوں اور کوئلے کی کانوں کو قومیاتے ہوئے دکھائی پڑتی ہیں اور 1971 میں غریبی ہٹاؤ کے نعرے کے ساتھ جیت کر لوٹتی ہیں۔

اندرا گاندھی کی ایمرجنسی وزیر اعظم کو یاد ہے ، جسے انہوں نے پارلیمنٹ میں بھی دہرایا۔ یقیناً یہ ہندوستانی جمہوریت کا سب سے سیاہ باب ہے، جس کی سزا انہیں عوام نے دی، لیکن اسی اندرا گاندھی کو بنگلہ دیش مکتی سنگرام کے بعد مودی کے محبوب نیتا اٹل بہاری واجپئی نے دیوی درگا کہا تھا، جسے وہ بھول گئے۔ اپنی منتخب کردہ سچائیاں بیان کرنا لیڈروں کی ہی نہیں، کئی بار نظریات سے بندھے ہوئے مورخین کی بھی فطرت ہوتی ہے، لیکن ایک وزیر اعظم کو کم سے کم پارلیمنٹ میں ایسی منتخب کردہ سچائیاں نہیں رکھنی چاہئے۔ وزیراعظم پوری تلخی کے ساتھ یہی کام کرتے رہے اور اس میں حقائق کو بھی بھول گئے ۔1972 کے شملہ معاہدے کو انہوں نے اندرا گاندھی اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ہونے والا معاہدہ بتا ڈالا، جبکہ وہ بے نظیر کے والد ذوالفقار علی بھٹو کا کیا ہوا معاہدہ تھا۔ حالانکہ یہ الگ بات ہے اس غلطی کے لیے کوئی انہیں اس طرح ٹرول (troll) نہ کرے جیسے راہل گاندھی کو کیا جاتا ہے ۔ وزیر اعظم کی اس سیاسی تلخی نے نئی اور بدمزہ راجیہ سبھا میں انتہا کر دی جہاں کانگریس لیڈر رینوکا چودھری کی ہنسی پر انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ہنسی رامائن سیریل ختم ہونے کے بعد پہلی بار سنی۔
ملک کی ممبر آف پارلیمنٹ کے لئے ایسی شیطانی ہنسی کا اشارہ کیا وزیر اعظم کو زیب دیتا ہے؟ لیکن ہندی کے ایک شاعر شمشیر بہادر سنگھ نے لکھا ہے:
جو نہیں ہے۔ اس کا غم کیا۔ جیسے مزاج یار آئے۔

نوٹ :
عبدالغفار سلفی بنارس ہندو یونیورسٹی میں عربی کے ریسرچ اسکالر ہیں۔
***
فیس بک : Abdul Ghaffar Salafi
عبدالغفار سلفی

संसद में प्रधानमंत्री की तल्खी, गलती और ताने
PM Modi's crackdown, mistakes and taunts in the Parliament. Article: Priya Darshan. Urdu-Translation: Abdul Ghaffar Salafi

0 comments:

Post a Comment