Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-01-30 - بوقت: 13:51

جنس کا جغرافیہ - قسط:24

Comments : 0

amativeness
یہ کتاب حیدرآباد (انڈیا) کے ایک (مرحوم) دانشور ادیب کی تحریر کردہ ہے۔۔ چونکہ انہوں نے یہ کتاب کاروباری نقطہ نظر کے بجائے اپنے حلقۂ احباب اور واقفکار لوگوں کی علمی و سماجی تربیت کی خاطر محدود پیمانے پر شایع کی تھی، لہذا یہ کتاب کسی بھی مکتبہ یا بک شاپ پر دستیاب نہیں ہے۔
ادیب مذکور کے انتقال سے قبل اسے انٹرنیٹ پر پیش کرنے کی اجازت لی جا چکی تھی، یوں تعمیر نیوز بیورو (ٹی۔این۔بی) کی جانب سے پہلی بار اس کتاب کو نیٹ پر پیش کیا جا رہا ہے۔
چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر یہ سلسلہ 23 ویں قسط کے بعد سے تعطل کا شکار ہو گیا جس کے لیے ہم اپنے معزز قارئین سے معذرت خواہ ہیں۔ یہ ہفتہ وار سلسلہ اب دوبارہ جاری کیا جا رہا ہے۔ 24 ویں قسط یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
فن مباشرت کے لوازمات میں مساس ، بوس و کنار اور جنسی چھیڑ چھاڑ کی بڑی اہمیت ہے ۔ اب ہم ان ہی موضوعات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے ۔
مساس کے بارے میں تفصیلات جاننے سے قبل "شہوت کی حقیقت" معلوم کرنا ضروری ہے ۔ اکثر و بیشتر افراد کی رائے میں شہوت کا تعلق صرف جنسی اعضاء سے ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے کئی لوگ سستی اشتہا بازی کا شکار ہوکر غلط دواؤں کا سہارا لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملتا۔
درحقیقت جنسی نظام، تمام جسم سے تعلق رکھتا ہے۔ شہوت کے ابھارنے میں دماغ، مرکزی اعصابی نظام، خودکار اعصابی نظام (مثلاً: سانس کی آمد و رفت ، دل کی دھڑکن وغیرہ) حواس خمسہ، پٹھوں کا نظام ، ہارمون پیدا کرنے والے غدود، بیرونی جنسی اعضاء اور اندرونی نظام تولید ، ان سب کو دخل ہے ۔
مثال کے طور پر دماغ نہ صرف شہوت کی بیداری کے لئے بلکہ انزال کے لئے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ دماغ، ریڑھ کی ہڈی کے ذریعہ سارے جسم سے تعلق رکھتا ہے ۔ اگر دماغ کا تعلق جسم کے نچلے حصے سے ختم ہو جائے تو شہوت اور انتشار پیدا نہیں ہو سکتا۔ اگر انتشار ہو اور دماغ حاضر نہ ہو تو ایسے اتصال سے لذت بھی محسوس نہ ہوگی ۔ اگر کوئی صحت مند نوجوان، جوش و خروش کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کرنے میں مصروف ہو اور اچانک کوئی سانپ بستر کے قریب پھنکار مارے تو تمام جنسی مستی اچانک ختم ہو جائے گی کیونکہ خوف اور دہشت کی حالت میں دماغ اور اعصابی نظام معمول کے مطابق کام نہ کر سکیں گے ۔
دماغ جنسی انزال اور نظام شہوت پر نگرانی کے فرائض انجام دیتا ہے ۔ اگر مباشرت کے دوران اپنی تمام تر توجہ انسان دوسرے امور کی طرف مبذول کر دے تو لذت کم محسوس ہوگی۔ کچھ لوگ اس تکنیک سے کام لے کر اپنی بیویوں کو زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونے کا موقع دیتے ہیں۔ توجہ کو دوسری جانب مبذول کردینے سے امساک (ٹھہراؤ) میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ شہوت کس طرح بیدار ہوتی ہے؟
فرض کیجئے کہ مرد کوئی شہوت انگیز تصویر، جسم یا منظر دیکھتا ہے یا جنسی طور پر اشتعال انگیز بات، لطیفہ یا موسیقی سنتا ہے یا محبوبہ کے جسم کے ملبوسات کی مخصوص خوشبو سونگھتا ہے تو شہوت بیدار ہو جاتی ہے اور یہ تمام عمل دماغ میں ہوتا ہے۔ دماغ فوراً لذت کی ایک لہر بذریعہ برقیہ، ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصہ کو بھیج دیتا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ ریڑھ کی ہڈی کے نچلے سرے سے متصل اعصاب کا ایک پیچیدہ مواصلاتی نظام کا مرکز ہے جو براہ راست دیگر اعصاب اور خلیوں سے مربوط ہے۔ یہ مواصلاتی نظام فوراً اس لذت کو دماغ کو بھیج دیتا ہے ۔ اس طرح پیغام رسانی کے ذریعہ شہوت بیدار ہوتی ہے۔
اگر شہوت، رخسار یا جلد کی کسی اور سطح کو سہلانے یا بوسے سے شروع ہوتی ہے تو اس مقام کے ریشوں کے سرے اسے ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے سے متصل مواصلاتی نظام تک پہنچا دیتے ہیں ۔ یہ مواصلاتی نظام اس لذت کو دماغ تک بھیج دیتا ہے اور دماغ اس لذت کو تمام متعلقہ اعصاب تک نشر کر دیتا ہے اور تمام جسم میں رد عمل کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ عمل اور رد عمل میں کوئی نمایاں وقفہ محسوس نہیں ہوتا۔

اگر جنسی خواہش کسی نامناسب وقت یا مقام سے شروع ہوتی ہے مثلاً شوہر بیوی کے ساتھ کوئی فلم دیکھ رہا ہے، مرد کسی منظر سے متاثر ہوکر اچانک اپنا ہاتھ بیوی کی کمر میں ڈال دیتا ہے ، لیکن فوراً ہی اسے خیال آتا ہے کہ وہ دونوں خواب گاہ میں نہیں بلکہ سنیما ہال میں ہیں تو وہ آہستہ سے اپنا ہاتھ الگ کر لیتا ہے اور جنسی خواہش کچھ ہی دیر میں معدوم ہو جاتی ہے ۔
البتہ اگر دونوں اپنی خوابگاہ میں ہیں تو بوس و کنار کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور مواصلاتی نظام کام کرنے لگتا ہے ۔ آہستہ آہستہ شہوت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور بڑھتی ہوئی قربت مزید قربت اور بے تکلفی کے لئے اکساتی ہے۔ یہاں تک کہ دونوں مباشرت کی خواہش کی تکمیل کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں۔

مرکزی اعصابی نظام جو پٹھوں اور نسوں کو کنٹرول کرتا ہے عموماً قوت ارادی کے ماتحت کام کرتا ہے ۔ جیسے گھٹنے موڑنا، کوئی چیز پھینکنا، بیٹھنا، لیٹ جانا وغیرہ۔ لیکن شہوت کی حالت میں یہ غیر اختیاری ہو جاتا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں قوت ارادی کے ماتحت کام نہیں کرتا ۔ مثال کے طور پر شہوت کی حالت میں رگ پٹھے اپنے آپ اکڑ جاتے ہیں ۔ اس طرح سارے جسم میں ایک تناؤ پیدا ہو جاتا ہے ۔
دوسرا خود کار اعصابی نظام جو عموماً قوت ارادی سے بالاتر ہوتا ہے ۔ (مثلاً سانس لینا، دل کا دھڑکنا وغیرہ) مخصوص تبدیلیوں کا حکم جاری کر دیتا ہے ۔ مثال کے طور پر شہوت کے عالم میں سانسیں پہلے سے زیادہ گہری اور تیز ہو جاتی ہیں۔ پھر سانسوں میں کوئی نظم و ضبط قائم نہیں رہتا اور انسان ہانپنے لگتا ہے جیسے دوڑ کر آ رہا ہو ۔ لہذا چہرہ مسرت اور سکون کا اظہار نہیں کرتا بلکہ چہرے سے کچھ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کسی تکلیف میں مبتلا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ غیر معمولی سانسوں کی وجہ سے جسم میں آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے ۔ خون کا دباؤ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ اگر عام حالت مٰں خون کا دباؤ اتنا زیادہ ہو تو ڈاکٹر انسان کی زندگی سے مایوس ہو جائے گا۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے ۔ نبض اتنی تیزی سے چلتی ہے گویا انسان نے ابھی ابھی ایک فرلانگ کی دوڑ ختم کی ہو۔ جلد سے متصل نسوں میں دوران خون تیز ہو جاتا ہے اور خون کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے ۔
اسی سے شوہر اور بیوی ،دونوں کے جنسی اعضاء میں تناؤ پیدا ہو جاتا ہے ، تمام جسم کی جلد تمتمانے لگتی ہے اور زیادہ گرم ہو جاتی ہے، تمام غدود زیادہ رطوبت خارج کرنے لگتے ہیں۔ مثلاً تھوک زیادہ آتا ہے ، جنسی اعضاء رطوبت سے تر ہو جاتے ہیں۔ حواس خمسہ یعنی باصرہ، سامعہ، ذائقہ، شامہ اور لامسہ سست ہو جاتے ہیں تاکہ عورت اور مرد دونوں کی توجہ جنسی لذتوں کی جانب مبذول ہو جائے ۔
جسم گرمی اور سردی کے لئے غیر حساس ہوجاتا ہے ۔ قوت شامہ اور قوت باصرہ وقتی طور پر کمزور ہو جاتی ہے تاکہ خارجی ماحول لذت کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ آنکھ کی پتلیاں ادھر ادھر گھومنے لگتی ہیں اور نظر کا دائرہ نسبتاً کم ہو جاتا ہے تاکہ محبوب کے علاوہ کچھ اور دکھائی نہ دے!
عورت اس سلسلہ میں زیادہ حساس ہوتی ہے ، اس لئے اس کی آنکھیں خود بخود بند ہو جاتی ہیں۔ ذہنی قیود، شہوت کے جوش میں اپنے آپ ٹوٹ جاتے ہیں ۔ سارے جسم کے پٹھے تن جاتے ہیں، خصوصاً ناک ، بازو، رانیں، ہاتھ پاؤں، آنکھ ، چہرہ اور سینے سے متصل حصے، اب سب کی حرکتیں غیر اختیاری ہو جاتی ہیں۔ چونکہ تمام اعصاب کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہوتا ہے ، اس لئے لذت میں اضافہ کرنے کے لئے سب ہی اپنا اپنا کام کرتے ہیں اور اس طرح لذت شہوت اور مستی میں اضافہ ہو جاتا ہے ، جب شہوت اور مستی کی حد ختم ہو جاتی ہے تو دونوں کو انزال ہوجاتا ہے اور جسم آہستہ آہستہ عام حالت میں لوٹ آتا ہے ۔

مباشرت ایک ایسا عمل ہے جس سے حواس خمسہ ایک ہی وقت میں لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اگر ایک طرف عنبریں پسینہ اور مشکبار گیسو کو معطر کر دیتے ہیں تو دوسری طرف لب شیریں اور سیب زنخداں کو مست بناتے ہیں ۔ ایک طرف جمال دلفریب اور حسن کے سانچے میں ڈھلے ہوئے اعضاء قوت باصرہ کے لئے نظر افروز ہیں تو دوسری طرف میٹھی اور رسیلی باتوں سے کان لطف اٹھاتے ہیں، سامعہ اور اس فعل میں سب سے بڑھ کر قوتِ لامسہ کو لذت ملتی ہے۔ جسم کے تمام رگ و پٹھے اور خون کا ایک ایک قطرہ خود رفتہ ہو جاتا ہے۔ اسی لیے قوتِ لامسہ کو دوسرے چاروں حواس سے اہم مانا گیا ہے۔

The Geography of sex -episode:24

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں