Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-01-24 - بوقت: 16:55

دیگر مذاہب کے زائرین کی کفالت - ریاستی حکومتوں کے زیراثر

Comments : 0
indian-pilgrims subsidy
حج کے تعلق سے مرکز کے حالیہ اقدام کے بعد، دیگر زائرین کو صوبائی سطح پر دی جانے والی متعدد اسکیموں کے بارے میں انڈین اکسپریس کا ایک جائزہ
کئی ریاستیں مختلف ادیان کے مقدس مقامات کی زیارت کرنے والوں کو رعایتیں دیتی ہیں۔ ان میں سے کچھ تو عمر رسیدہ شہریوں کو مفت سفر اور دیگر سہولیات بھی فراہم کرتی ہیں. آج جب مرکز نے حاجیوں کو دی جانے والی تمام رعایتیں اس سال سے ختم کردی ہیں تو آئیے دیگر دھار مک زیارتوں کو مختلف ریاستی حکومتوں کی جانب سے دی جانے والی رعایتوں پر بھی ایک نظر ڈال لیں:

مدھیہ پردیش: ابتدائی اسکیم
2012 میں مدھیہ پردیش نے اپنی نوعیت کی پہلی مکھیہ منتری تیرتھ درشن یوجنا متعارف کرائی۔ اس سال کی پہلی کھیپ نے ستمبر میں سفر کیا. اس اسکیم میں مدھیہ پردیش کے وہ سینئر شہری تھے جو اِنکم ٹیکس ادا نہیں کرتے، اس اسکیم میں ہر سال 1 لاکھ افراد کا ٹارگٹ ہے. موجودہ مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں 89،000 لوگ بھیجے جا چکے ہیں، انہیں تمام 51 اضلاع سے منتخب کیا گیا تھا اس شرط کے ساتھ کہ ایک شخص صرف ایک بار ہی سفر کرسکتا ہے۔ انہیں ریل کے ذریعہ بدری ناتھ، کیدارناتھ، جگن ناتھ، پوری، دوارکا، وشنو دیوی، گیا، ہری دوار، شیرڑی، تروپتی، اجمیر شریف، کاشی، سمد شیکر، سروان بیلاگولا اور ویلکاننائی چرچ کے مقامات پر لے جایا گیا۔ بہت پہلے بی جے پی حکومت نے بیرون ملک جانے کے لئے زائرین کو 30,000 روپے یا پورے اخراجات کا 50٪ دونوں میں جو کم ہو وہ رعایت دینے کی اسکیم شروع کی تھی۔ اس اسکیم میں جو مقامات شامل تھے وہ پاکستان میں نانکانا صاحب، ہنگلاز ماتا مندر، چین میں مانسرور، کمبوڈیا میں انگکر واٹ اور سری لنکا میں سیتا مندر اور اشوک واٹیکا ہیں۔

دہلی: تازہ ترین پلان
دہلی کی کابینہ نے اسی ہفتے مکھیہ منتری تیرتھ یاترا یوجنا پاس کیا ہے جس کی رو سے ہر اسمبلی نشست سے 1100 سینئر شہریوں کو فری اسکیم ملے گی ۔ قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب کئے گئے 77,000 زائرین پیکیج کے مقامات پر ایرکنڈیشنڈ بسوں سے جا سکیں گے جن میں مٹھرا، ورنداون، آگرا، ہری دوار، رشی کیش، نیلکنٹھ، اجمیر، پشکر، واگہ، آنند پور صاحب، وشنو دیوی اور جموں شامل ہیں۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ اس سے مستفید ہونے والے افراد کے لئے شرط ہوگی کہ ان کی سالانہ آمدنی 3 لاکھ روپے سے زائد نہ ہو یا وہ سرکاری ملازم نہ ہو۔ اس منصوبہ میں 2 لاکھ روپے کا انشورنس بھی کور ہوگا۔ قیام و طعام کے ساتھ سفر کی قیمت بھی ادا کی جائے گی۔

اتر پردیش: دگنی رعایت
اتر پردیش کیلاش مانسرور یاترا اور سندھو درشن یاترا کے لئے رعایت دیتا ہے. سندھو درشن کیلئے پہلے 100 درخواست دہندگان کو 2015 سے 10,000 روپے ملتے ہیں۔ جب سماجوادی پارٹی اپنے دور اقتدار میں کیلاش مانسرور کے ہر زائر کو 50,000 روپے دیتی تھی، گزشتہ سال سے بی جے پی حکومت نے یہ وہ رقم دگنی کر کے 1 لاکھ روپے کردی ہے. موجودہ حکومت نے ایس پی حکومت کے سرون یاترا اسکیم کو بند کر دیا ہے جس کے تحت بزرگوں کے لۓ مختلف مقامات کی زیارت کے غرض سے خصوصی ٹرین فراہم کی جاتی تھی۔ پرنسپل سیکرٹری (برائے مذہبی امور) آونیش اوستھی نے کہا کہ کیلاش مانسرور یاترا کی بڑھائی گئی سبسڈی اسی سال سے دی جائے گی۔

اتراکھنڈ: ہندو مسلم مقامات
2014 میں کانگریس کی حکومت نے ‘میرے بزرگ میرے تیرتھ’ اسکیم شروع کی جس میں ریاست کے سینئر شہریوں کی زیارت کی کفالت تھی اس میں صوبے کے اپنے مقامات گنگوتری، بدریناتھ اور ریٹھا میٹھا صاحب کے ساتھ دہلی کی نظام الدین درگاہ بھی شروع میں اس کا حصہ تھی لیکن بعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔ 2017 میں بی جے پی حکومت نے اسکیم کا نام بدل کر پنڈت دین دیال ماترا پیترا تیرتھاتن یوجنا کردیا اور اس میں کچھ نئے مقامات بھی شامل کر دیے جس میں ہری دوار کی پیران کلیر درگاہ اور ریاست کے کچھ اور ہندو مقامات ہیں۔ حکومت کے ترجمان اور وزیر مدن کوشیک نے کہا کہ "سابقہ حکومت کے جاری کردہ تمام منصوبے بشمول اقلیتوں کے ہم جاری رکھے ہوئے ہیں." ٹورزم ڈیویلپمنٹ بورڈ کے مطابق ستمبر 2014 اور نومبر 2017 کے درمیان 12,343 لوگوں نے اسکیم کا فائدہ اٹھایا. ڈیپارٹمنٹ نے 2015-2016 میں 374.24 لاکھ روپے اور 2016-2017 میں 124.69 لاکھ روپے خرچ کیے. کلچر ڈیپارٹمنٹ نے کیلاش مانسرور کے زائرین کے لئے بڑھی ہوئی رقم 30،000 روپے کے ساتھ 2008 اور 2017 کے درمیان 25،000 روپے فی زائر کے حساب سے ریاست کے 32.25 لاکھ روپے خرچ کیے.

ہماچل: پلان جلد آ رہا ہے
حال ہی میں جیتے گئے انتخابات کے لئے تیار کردہ اپنے ویژن ڈاکومنٹ میں بی جے پی نے چار دھام یاترا کے لئے بزرگوں کو سبسڈی اسکیم دینے کا وعدہ کیا تھا. ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری منیش نندا نے بتایا کہ وژن دستاویز کو حکومت کی پالیسی کے طور پر منظور کر لیا گیا ہے اور جلد ہی فیصلہ لیا جائے گا. انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں اس منصوبے کے طریقۂ کار پر کام کرنے کی ضرورت ہے." وژن دستاویز میں سینئر شہریوں کے لئے دیو بھومی میں موجود مذہبی مقامات کی مفت زیارت کا بھی وعدہ ہے۔

ہریانہ: 2 یاترا، 100 زائرین
موجودہ حکومت کی جانب سے شروع کئے جانے والے منصوبوں میں 50 سینئر شہریوں کو لداخ میں سندھو درشن یاترا کے لئے (10,000 روپئے فی کس) سبسڈی فراہم کی جاتی ہے، اور دوسرے 50 زائرین کو (50,000 فی کس) کیلاش مانسرور یاترا کے لئے۔ ایک سرکاری ترجمان کے مطابق متعلقہ زیارتوں کے لئے بالترتیب 5 لاکھ اور 25 لاکھ روپے کی رقم 2016-2017 کے سالانہ منصوبے میں مختص کر لی گئی ہے۔

راجستھان: اب ہوائی سفر بھی
2013 میں کانگریس حکومت نے سینئر شہری زائرین کے لئے تمام ادا شدہ اخراجات کے ساتھ ریلوے سفر کا آغاز کیا تھا۔ 2013-2014 میں 41,390، 2014-2015 میں 6,914 اور 2015-2016 میں 8,710 زائرین نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا۔ گزشتہ سال بی جے پی حکومت نے اسکا نام بدل کر دین دیال اپادھیائے ورشٹ ناگریک تیرتھ یوجنا رکھ دیا اور 65 سال سے زائد عمر کے شہریوں کو ہوائی سفر کی سہولت بھی فراہم کی. سال رواں کی اسکیم میں 13 مقامات شامل ہیں جن میں تروپتی، رامیشورم، سمد شیکھر، جگناتھ مندر اور وشنو دیوی بھی شامل ہیں. 2013 سے 80،221 افراد نے بذریعہ ٹرین اور 5,762 افراد نے ہوائی سفر سے اس اسکیم کا فائدہ اٹھایا اور ریاست نے 125.50 کروڑ روپئے خرچ کئے۔

گجرات: جاری اور نیا
کیلاش مانسرور یاترا اسکیم 2001 سے جاری ہے. سندھو درشن اور سرون تیرتھ درشن یوجنا اس سال متعارف کرایا گیا. گجرات پوتر یاترا دھام وکاس بورڈ کی تنفیذی ایجنسی کے سیکرٹری کریت ایم ایڈویریو نے کہا کہ "تیرتھ یاترا جانے کے لئے ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے لیکن غریب ایسا نہیں کرسکتے لہذا ریاست انہیں پوری قیمت تو نہیں لیکن کچھ مدد ضرور دیتی ہے۔”
کیلاش مانسرور یاترا کے لئے 23،000 روپے کی مالی امداد (سفر کے لئے 20,000 روپے اور کِٹ کے لئے 3,000 روپے) گجرات کے زائرین کو دیا جاتا ہے. اس رقم میں 2001 سے کوئی بدلاؤ نہیں ہوا ہے البتہ کِٹ کو کیش سے بدل دیا گیا ہے. اب تک اس سکیم سے 1,750 زائرین نے 4.02 کروڑ روپئے کا فائدہ اٹھایا ہے. لداخ میں لیہ سے تبت کے پہاڑوں سے نکلنے والی سندھو دریا کے ساتھ ساتھ سندھو درشن کے چار روزہ یاترا کے لئے ریاست قرعہ اندازی سے چنے گئے لگ بھگ 200 زائرین کو 15,000 روپے کی سبسڈی عطا کرتی ہے۔ اس اسکیم سے زندگی میں صرف ایک بار فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے. سروان تیرتھ درشن یوجنا کے تحت کم از کم 50 افراد کے گروپ کی شکل میں گجرات کے اندر سفر کرنے والے سینئر شہریوں کو سفر کے اخراجات کا (50٪ بس کا کرایہ) بطور مراعات ہے۔

کرناٹک: سالانہ 5 کروڑ روپے
کرناٹک کے لوگوں کو چار دھام یاترا کے لئے ایک بار 20,000 روپئے کی سبسڈی متعین ہے جس میں بدری ناتھ، کیدارناتھ، گنگوتری اور جمنوتری شامل ہیں۔ ہر سال 1000 سے 1,500 افراد تک اس سبسڈی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ اسکیم 2014 میں کانگریس حکومت کی طرف سے متعارف کرایا گیا تھا۔ سابقہ بی جے پی حکومت نے مانسرور زیارت کے لئے 30,000 روپے کی سبسڈی کو متعارف کرایا تھا۔ ان سبسڈیوں کے لئے ریاستی حکومت بجٹ میں ہر سال 5 کروڑ روپے الگ کر دیتی ہے۔ 2017 میں سیاحت کے شعبے نے ریاست بھر میں سبھی لوگوں کے مذہبی مقامات کی زیارت کے لئے پونیتا یاترا Puneeta Yathre نام سے ایک زائر پیکج متعارف کرایا اور پیکیج کی بنیادی قیمت کا 25٪ سبسڈی دے دیا۔

تامل ناڈو: مانسرور اور یروشلم
تمل ناڈو میں زیارت کے لئے دو سبسڈی ہیں؛ عیسائیوں کو یروشلم کے لئے اور ہندؤوں کو مانسرور اور مکتی ناتھ کے لئے۔ مانسرور - مکتی ناتھ یاترا کے لئے سبسڈی کا اعلان 2012 میں کیا گیا۔ ابتدائی تجویز کے مطابق ریاست تقریبا ایک لاکھ روپے تک کے مانسرور تک ہوائی ٹکٹ کا 40,000 روپیہ برداشت کرے گی اور نیپال میں مکتی ناتھ جانے والوں کے لئے 10,000 روپے برداشت کرے گی۔ اس کا مطلب 500 مستفیدین میں ہر مقام کے لئے 250. ہندو ریلیجیس انڈ چیریٹیبل اینڈاومنٹ کے ایک اہلکار نے کہا: "گزشتہ جولائی میں ہم نے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد 1,000 کردی اور 1.25 کروڑ روپے کی اضافی رقم بھی مختص کردی."
یروشلم سبسڈی بھی 2012 سے جاری ہے۔ اس اسکیم میں 20,000 روپے فی کس کے حساب سے فروری اور مئی میں 500 زائرین نے فائدہ اٹھایا۔ حکومت نے 2 کروڑ روپے دو سالوں کے لئے مختص کر لیا ہے اور قرعہ اندازی کے ذریعے ضلعی سطح پر زائرین کو منتخب کیا جاتا ہے۔ چنئی ڈی سی دفتر کے ایک اہلکار نے بتایا ک یہ معاملہ ریاستی سطح پر ضلع کے پچھڑے طبقے اور اقلیتی فلاح و بہبود کا شعبہ ہینڈل کرتا ہے۔

اوڈیشہ: ضرورتمند بزرگوں کے لئے
حکومت نے 2016 میں بریشٹھا ناگریکا تیرتھ یاترا منصوبہ شروع کیا اور 2016-2017 کے لئے 5 کروڑ روپئے کی منظوری بھی دے دی. یہ اسکیم خط افلاس سے نیچے جینے والے سینئر شہریوں کے لئے 100٪ رعایت فراہم کرتا ہے اور اِنکم ٹیکس نہ دینے والے دیگر زائرین کے لئے 50% ہے جن کی عمر 60-70 کے درمیان ہے اور 70-75 سال کے عمر والوں کے لئے 70% فراہم کرتا ہے۔ یہ منصوبہ تین ڈویژن پر مشتمل ہے: جنوبی (رامیشورم ، مدورائی)، مرکزی (الہ آباد، وارانسی) اور شمالی (رشی کیش، ہری دوار). شعبہ سیاحت کی ایک رپورٹ کے مطابق 2016 میں مجموعی طور پر 2،931 افراد نے اس اسکیم سے فائدہ حاصل کیا. اس سال وزیر اعلی نوین پٹنایک نے تروپتی اور ویلور کے لئے ٹرین کو جھنڈی دکھائی۔ دوسرے مقامات اجمیر، پشکر، شرڈی اور ٹریمبکیشور ہیں. اسسٹنٹ ڈائریکٹر (سیاحت) سروج کمار جینا نے کہا کہ "حکومت آنے والے بجٹ سیشن میں رقم بڑھا بھی سکتی ہے."

آسام: مفت، زائد الاؤنس
آسام کی دھرمجیوتی اسکیم جو کہ 2004-2005 میں اسوقت کی کانگریس حکومت نے سینئر شہریوں کے لئے (20 کے گروپوں میں) متعارف کرایا تھا۔ یہ اسکیم بسوں کے ذریعے مختلف مقامات کی زیارت پر 50 فیصد سبسڈی فراہم کرتا ہے۔ اس اسکیم سے 2012-2013 سے لے کر 2015-2016 تک 1.33 لاکھ لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور 7.50 کروڑ روپے خرچ کئے گئے اور 2016-2017 کے لئے مزید 3 کروڑ روپئے کی منظوری ہوچکی ہے۔
موجودہ بی جے پی حکومت نے 2017 میں پنیہ دھام یاترا یوجنا متعارف کرایا ہے۔ یہ 3،000 زائرین کے لئے ہے جو گروپ کی شکل میں مرد 60-75 سال کی عمر والے اور خواتین 55-70 کی عمر رسیدہ، جگن ناتھ مندر، ورنداون، اجمر شریف، متھرا اور وشنو دیوی جائیں گے۔ حکومت مفت ٹرین (AC-3)، گوہاٹی سے روڈ ٹرانسپورٹ اور تین روزہ قیام کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ہر ایک کو 150 روپے کے علاوہ 500 / دن کے حساب سے (ایک گروپ میں تین) حفاظتی نقطہ نظر سے فراہم کرتی ہے۔

کوئی سبسڈی نہیں
پنجاب نے منقطع کردیا: شرومنی اکالی دل اور بی جے پی کی سابقہ حکومت نے 2016 میں مکھیہ منتری تیرتھ درشن یاترا شروع کی تھی اور 2017 تک 139 کروڑ روپے خرچ کردئیے تھے۔ اس اسکیم کے تحت پنجاب، ہماچل، راجستھان، یوپی اور تامل ناڈو کے مقامات کی مفت بس سروس تھی۔ کانگریس کی نئی حکومت نے یہ کہتے ہوئے اسے بند کردیا کہ اسکیم کافی مہنگا ہے۔ شرومنی اکالی دل کے ترجمان دلجیت سنگھ چیمہ نے کہا “یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے مذہبی امنگوں کو پورا کرے، اور ایسا سبھی مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ہونا چاہئے۔ میرے حساب سے حکومت کو اسے جاری رکھنا چاہئیے۔”

دوسری ریاستیں
بنگال، بہار، مہاراشٹرا، آندھراپردیش، تلنگانہ، کیرلا کی حکومتیں کسی بھی قسم کی زیارت کے لئے کوئی سبسڈی نہیں فراہم کرتیں۔

بشکریہ 'انڈین ایکسپریس' کالم - How state govts sponsor pilgrims to Haridwar, Ajmer or Jerusalem

How state govts sponsor pilgrims to Haridwar, Ajmer or Jerusalem.
After Centre’s Haj move, we looks at various state-run subsidy schemes for pilgrims.
Article: Express News Service | New Delhi | Updated: January 18, 2018
Urdu Translation: Riyazuddin Mubarak

0 comments:

Post a Comment