Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-12-12 - بوقت: 13:05

وزیر اعظم مودی ملک سے معافی مانگیں - منموہن سنگھ

Comments : 0
وزیر اعظم مودی ملک سے معافی مانگیں: منموہن سنگھ
آئی اے این ایس
سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پیر کے دن وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ گجرات الیکشن جیتنے کی مایوسانہ کوشش میں جھوٹی باتیں پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے ان سے مطالبہ کیاکہ وہ قوم سے معافی مانگیں۔ سخت بیان میں منموہن سنگھ نے مودی کے ان الزامات کی تردید کی کہ کانگریس قائد منی شنکر ایئر کے بنگلہ پر انہوں نے اور دیگر مدعوئین نے پاکستانی سفارت کاروں سے گجرات الیکشن پر بات چیت کی تھی۔ کانگریس قائد نے کہا کہ سیاسی فائدہ کے لئے پھیلائے جاے والے جھوٹ سے مجھے بڑی تکلیف ہوئی ۔ گجرات میں یقینی شکست کے خوف سے وزیر اعظم مودی اتنے بوکھلاگئے ہیں کہ وہ گالیاں دینے پر اتر آئے ۔ افسوس کی بات ہے کہ مودی ایک خطرناک نظیر قائم کررہے ہیں ۔ وہ ایک سابق وزیر اعظم اور فوجی سربراہ کے دستوری عہدہ کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مودی نے گجرات میں ایک انتخابی جلسہ میں الزام عائد کیا تھا کہ ایئر کے بنگلہ پر مہمانوں نے بشمول منموہن سنگھ و سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری، پاکستان کے موجودہ ہائی کمشنر اور ایک سابق پاکستانی وزیر خارجہ سے گجرات الیکشن پر تبادلہ خیال کیا۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ میں اس جھوٹ کو مسترد کرتا ہوں کیونکہ میں نے ڈنر میں کسی سے بھی گجرات الیکشن پر بات چیت نہیں کی ۔ ڈنر کے شرکاء میں کسی نے بھی گجرات کا مسئلہ اٹھایا ہی نہیں۔ تبادلہ خیال ہند۔ پاک تعلقات تک محدود تھا ۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ کانگریس کو ایک ایسی جماعت اور وزیر اعظم سے قوم پرستی کا پاٹھ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے جن کا دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں سمجھوتہ والا ٹریک ریکارڈ واضح ہے ۔ مجھے مودی کو یاد دلانے دیجئے کہ وہ ادھم پور اور گرداسپور دہشت گرد حملوں کے بعد بن بلائے مہمان بن کر پاکستان گئے تھے ۔ وزیر اعظم مودی ، ملک کو بتائیں کہ پٹھا ن کوٹ فضائی اڈہ میں پاکستان کی بدنام آئی ایس آئی کو مدعو کرنے کی وجہ کیا تھی؟ منموہن سنگھ نے آگے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ وزیر اعظم اس بالغ نظری اور وقار کا مظاہرہ کریں گے جس کی ان کے عہدہ سے توقع کی جاتی ہے ۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ ملک و قوم سے اپنی غلط سوچ کے لئے معافی مانگیں گے۔ پی ٹی آئی کے بموجب سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے آج موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک سے معافی مانگیں۔ پاکستانیوں سے گجرات الیکشن پر بات چیت کے الزام کو خارج کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم کی اس کم عقلی سے انہیں شدید تکلیف پہنچی ۔ منموہن سنگھ نے منی شنکر ایئر کے بنگلہ پر ڈنر میں شرکت کرنے والوں کی فہرست جاری کرتے ہوئے کہا کہ گجرات الیکشن پر سرے سے کوئی بات چیت ہی نہیں ہوئی۔ انہوں ںے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ وزیر اعظم مودی اپنی غلط سوچ کے لئے ملک و قوم سے معافی مانگیں گے اور اس عہدہ کا وقار بحال کریں گے جس پر و ہ فائز ہیں۔
Manmohan Singh asks Modi to apologise over Pakistan conspiracy

وزیر اعظم کی جانب سے معافی خارج از بحث: ارون جیٹلی
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ سے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی کے ریمارکس پر مودی کی جانب سے کسی معافی نامہ کے امکانات کو عملا مسترد کرتے ہوئے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج الزام لگایا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پاکستانی سفارتکارو سے ملاقات کرتے ہوئے قومی دھارے کی خلاف ورزی کی۔ جیٹلی نے جاننا چاہا کہ کس پس منظر میں یہ ملاقات کی گئی اور ایسی ملاقات کی مناسبت یا کیا ضرورت تھی ۔ جیٹلی نے اس ملاقات کو ایک سیاسی غلط مہم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سنگھ اور کانگریس اور اس پس منظر کی وضاحت کریں جب کانگریس سے معطل کردہ لیڈر منی شنکر ایئر کی جانب سے پاکستانی سفارتکاروں کے لئے ترتیب دئیے گئے عشائیہ میں سنگھ نے شرکت کی تھی ۔ مرکزی وزیر فینانس نے کہا کہ اصل اپوزیشن پارٹی سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ قومی پالیسی کو اپنائیں گی جس کے تحت کہا گیا کہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ جاری نہیں رہ سکتے ۔انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ اصل اپوزیشن پارٹی، مملکت کا حصہ نہیں ہے؟ بی جے پی نے کہا کہ اگر کوئی شخص قومی دھارے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کو سوالات کا جواب دینے تیار ہونا چاہئے ۔ یہ ایک سیاسی غلط مہم ہے اور اس کی سیاسی قیمت ہے۔ جیٹلی نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ اس سے چند ہی گھنٹے قبل منموہن سنگھ نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایک خطرناک نظیر قائم کرنے پر قوم سے معافی مانگیں۔ جیٹلی نے مطالبہ کیا کہ مذکور میٹنگ میں جو کچھ بات ہوئی، سابق وزیر اعظم اس کی وضاحت کریں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے لڑنے میں موجودہ حکومت کا جو ریکارڈ ہے وہ ماضی کی کسی حکومت کا نہیں ہے ۔ نریندر مودی سے معافی مانگنے سنگھ کے مطالبہ کے جواب میں جیٹلی نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے اس قومی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے کہ بات چیت اور دہشت گردی ایک ساتھ جاری نہیں رہ سکتے ، وہ لوگ معافی مانگیں۔

داخلی سیاست میں ہمیں نہ گھسیٹا جائے: پاکستان
اسلام آباد
پی ٹی آئی
پاکستان نے آج ہندوستان کی داخلی سیاست میں اسے گھسیٹنے کی ہندوستانی سیاستدانوں کی کوششوں خو بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ قرا ر دیا ۔ ایک دن قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات اسمبلی الیکشن میں پاکستان کی مداخلت کا الزام عائد کیا تھا ۔ مودی نے کل ایک انتخابی جلسہ میں کہا تھا کہ پاکستان، گجرات اسمبلی الیکشن میں مداخلت کی کوشش کررہا ہے ۔ رائے دہی کا دوسرا مرحلہ14دسمبر کو مقرر ہے ۔ مودی کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان محمد فیصل نے ٹویٹ کیا کہ ہندوستان، پاکستان کو اپنی الیکشن بحث میں گھسیٹنا بند کرے اور من گھڑت سازشوں کے بجائے اپنی طاقت کے بل بوتے پر جیت حاصل کرے ۔ مداخلت کا الزام پوری طرح بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہے ۔ وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ پاکستانی فوج کے سابق ڈائرکٹر جنرل سردار ارشد رفیق نے سینئر کانگریس قائد احمد پٹیل کو چیف منسٹر گجرات بنانے کی اپیل کی ہے ۔ مودی نے الزام عائد کیا تھا کہ کانگریس قائد منی شنکر ایئر کے بنگلہ پر ایک میٹنگ ہوئی جس میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری اور پاکستانی ہائی کمشنر متعینہ دہلی اور ایک سابق وزیر خارجہ پاکستان نے شرکت کی ۔

مودی، گجرات کے بجائے پاکستان کی بات کیوں کررہے ہیں؟
انتخابات میں پڑوسی ملک کی مداخلت کے الزام پر راہول گاندھی کا وزیر اعظم پر جوابی وار
تھراد(گجرات)
یو این آئی
کانگریس نائب صدر راہول گاندھی نے گجرات انتخابات میں پاکستان کی مداخلت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے الزامات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ مودی جی گجرات میں گجرات کی بات نہیں کرتے ہوئے افغانستان ، چین اور پاکستان اور جاپان کی بات کررہے ہیں۔ راہول گاندھی نے آج بناس کانٹھا ضلع کے تھراد میں ایک ریلی میں کہا۔ گجرات کا الیکشن ہورہا ہے لیک مودی جی اس کی بات نہیں کرتے ۔ وہ کبھی افغانستان کبھی چین کبھی پاکستان کبھی جاپان کی بات کررہے ہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ مودی جی گجرات کے مستقبل کا الیکشن ہے ، تھوڑی گجرات کی بھی بات کرلیجئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مودی جی بہت سے ممالک کی بات کررہے ہیں، امیت شاہ کے بیٹے کی کمپنی کی بات بھی نہیں خرتے ۔ وہ شاید شاہ سے ڈرتے ہیں۔ کانگریس کو ختم کرنے کی بات بھی وہ کہتے ہیں اور ان کی تقریر کا آدھا حصہ کانگریس پر ہی مرکوز ہوتا ہے ۔ باقی آدھی بات وہ اپنے بارے میں کرتے ہیں۔ گاندھی نے کہا کہ مودی جی کے کہنے پر امیت شاہ کی جانب سے گجرا ت میں نکالی گئی بی جے پی کی وکاس یاترا کسی فلاپ فلم کی طرح فلاپ ہوگئی ۔ انہوں نے نینو کار پروجیکٹ پر بھی مودی پر حملہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج کی سچائی یہ ہے کہ مودی جی سے 33ہزار کروڑ لینے والی نینو فیکٹری میں صرف دو گاڑیاں روزانہ بنتی ہیں اور آنے والے وقت میں اس کی پیداوار بھی بند ہونے جارہی ہے ۔ انہوں نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی وغیرہ کو لے کر بھی بی جے پی حکومت پر حملے جاری رکھے ۔ گاندھی نے کانگریس کی حکومت بننے کے دس دن میں کسانوں کے قرض معاف کرنے ، فصلوں کی امدادی قیمت کا اعلان کرنے، مفت تعلیم اور علاج سمیت کانگریس کے منشور کے وعدوں کو بھی دہرایا۔علیحدہ اطلاع کے مطابق کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتخابی نعرے اچھے دن پر سوال اٹھاتے ہوئے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے پوچھا کہ بی جے پی صدر امیت شاہ کے بیٹے جے شاہ کے معاملے پر آپ مون صاحب کیوں بنے ہوئے ہیں۔ راہول گاندھی نے وزیر اعظم پر13واں سوال تھوپتے ہوئے جے شاہ کی کمپنی کی آمدنی میں بے تحاشہ اضافہ کا معاملہ اٹھایا اور مودی پر دوستوں کی جیب بھرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا گجرات اسٹیٹ پٹرولیم کا رپوریشن۔ جے ایس پی سی، بجلی میٹرو گھوٹالہ ، شاہ۔ زادہ پر خاموشی ہر بار ، دوستوں کی جیب بھرنے کو ہیں بے قرار ۔ کانگریس لیڈر نے گجرات میں بی جے پی حکومت کے گزشتہ بائیس سالوں کا حساب مانگتے ہوئے کہا بائیس سالوں کا حساب، گجرات مانگے جواب ۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے دوران مودی کے نعرے پر طنز کرتے ہوئے گاندھی نے کہا کہتے تھے دیں گے جوابدہ حکومت۔ کیا ، لوک پال کو کیوں در کنار؟ انہوں نے کہا کہ ایسے سوالات کی طویل فہرست ہے جن کا جواب وزیر اعظم کو دینا چاہئے ۔ کانگریس لیڈر نے ٹویٹ کیا لمبی ہے فہرست اور مون صاحب سے ہے جواب درکار ۔ کس کے اچھے دن کے لئے بنائی سرکار؟ کانگریس نائب صدر گجرات اسمبلی انتخابات میں ریاست کی بد حالی کے لئے بی جے پی حکومت کا الزام لگارہے ہیں اور وزیر اعظم سے صحت، تعلیم، مہنگائی ، کسان، بد عنوانی اور قبائلیوں کی حالت جیسی ریاست سے منسلک مختلف مسائل پر روزانہ ایک سوال پوچھ رہے ہیں۔

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں