Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-12-10 - بوقت: 17:07

گجرات اسمبلی الیکشن - مرحلہ اول میں 68 فیصد پولنگ

Comments : 0
گجرات اسمبلی الیکشن - مرحلہ اول میں 68 فیصد پولنگ
احمد آباد
پی ٹی آئی
گجرات میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ میں89حلقوں کے لئے آج زائد از68فیصد ووٹنگ ہوئی جو بجائے خود ایک ریکارڈ ہے ۔ ان حلقوں میں رائے دہندوں کی جملہ تعداد2.1کروڑ ہے ۔ اس ریاست میں ج ہاں گزشتہ بائیس سال سے بی جے پی کی حکومت ہے ، وزیر اعظم نریندر مودی اور عنقریب صدر کانگریس بننے والے راہول گاندھی کے درمیان زبردست مقابلہ ہے۔ شام پانچ بجے رائے دہی کا وقت ختم ہونے کے بعد بھی پولنگ مراکز کے باہر رائے دہندوں کی قطاریں دیکھی گئیں ۔ اس سبب رائے دہی کا قطعی تناسب بڑھنا یقینی ہے ۔ سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر اومیش سنہا نے نئی دہلی میں یہ بات بتائی۔ ضلع سریندر نگر کے موضع چواولا میں ایک ہی فرقہ کے دو گروپوں کے درمیان تصادم میں چار افراد زخمی ہوگئے۔ پولنگ بہ اعتبار مجموعی پر امن رہی ۔ اپوزیشن قائدین نے الکٹرانک ووٹین مشینوں کے بارے میں الٹ پھیر کے خدشات ظاہر کئے ہیں۔ اسی دوران وزیر اعظم نریندرمودی نے رائے دہی کی ریکارڈ تعداد پر گجرات کی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیام میں کہا ہے کہ میں گجرات میں ریکارڈ تعداد میں رائے دہی کے لئے اپنے گجراتی بھائیوں اور بہنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں میں دیکھ رہا ہوں کہ بی جے پی ایک تاریخی کامیابی کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ اس پارٹی کو ہر گجراتی کی تائید اور ہمدردی حاصل ہوئی ہے ۔ پہلے مرحلہ میں سوراشٹر اور جنوبی گجرات میں89نشستوں کے لئے977امید وار مقدر آزما رہے ہیں۔2012میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے مذکورہ نشستوں میں63اور کانگریس22پر کامیابی حاصل کی تھی۔2012ء میں رائے دہی کا تناسب70.70تھا جب کہ2007میں مذکورہ نشستوں پر یہ تناسب60فیصد تھا۔ آج صبح جلد ووٹ ڈالنے والوں میں اہم قائدین بشمول چیف منسٹر وجئے روپانی، حلقہ راجکوٹ ویسٹ سے ان کے حلیف اندرا نیل راجیہ گرو، سنیئر کانگریسی رہنما احمد پٹیل، گجرات بی جے پی کے صدر جیتو واگھانی شامل ہیں۔ راجکوٹ میں کرکٹر چھتیشور پجارا نے بھی ووٹ ڈالا۔ اہم امید واروں میں روپانی اور کانگریس کے شکتی سنگھ کوبل(حلقہ مانڈھوی) اور پریش دھنانی امریلی شامل ہیں ۔ رائے دہی کا آغاز صبح آٹھ بجے ہوا ۔ شدید سردی کے باوجود لوگ اپنے اپنے گھروںسے باہر آئے اور ووٹ ڈالنے کے لئے قطاروں میں کھڑے رہے ۔ اب جب کہ شادیوں کا سیزن جاری ہے ، دولہوں اور دلہنوں نے بھی جو شادی کے ملبوسات پہنے ہوئے تھے ، اپنے رشتہ داروں کے ساتھ پولنگ بوتھ پہنچ کر ووٹ ڈالے ۔ ایسے کئی رائے دہندے بھڑوچ، بھاؤ نگر ،گنڈل اور سورت میں دیکھے گئے۔ راجکوٹ کے اپلیٹا ٹاؤن میں115سالہ خاتون آجی بین چندراواڈیا نے بھی اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ صبح آٹھ بجے تا شام پانچ بجے تک جنوبی گجرات کے نوساری علاقہ میں اور سوارشٹرا موربی ضلع میں اب تک کا سب سے بڑا رائے دہی تناسب75فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سب سے کم یعنی ساٹھ فیصد تناسب پور بندر اور بوٹاٹ اضلاع میں ریکارڈ کیا گیا ۔ ضلع جونا گڑ کے ویسا وور ٹاؤن میں بی جے پی امید وار کیرت پٹیل ایک انتخابی عہدیدار کے ساتھ مبینہ طور پر الجھ پڑے ۔ ایک عہدیدار نے بتای اکہ یہ ایک معمولی واقعہ تھا پٹیل پولنگ کے وقت کے بارے میں کسی مسئلہ پر ناخوش تھے ۔ سورت میں اشوین پٹیل نے جو پاٹیدار کوٹہ متوازی احتجاج چلانے کا دعوی کرتا ہے الزام لگایا کہ بعض افراد نے اس کی کار پر حملہ کیا۔ یہاں یہ تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ2019ء میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے قبل مودی کی اس ریاست میں یہ انتخابات بی جے پی اور کانگریس دونوں کے لئے اہم ہیں۔
گجرات کے ضلع موربی کے ایک موضع گجاڈی میں آج ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا اور رائے دہندوں نے اس طرح پولنگ کا بائیکاٹ کیاکیونکہ وہ اس موضع میں پانی کی قلت سے تنگ آچکے تھے ۔ ایسے میں جب کہ سوراشٹر اور جنوبی گجرات میں اسمبلی انتخابات کی رائے دہی کے پہلے مرحلہ میں پولنگ بوتھ کے باہر طویل قطاریں دیکھی گئی۔ موضع گجاڈی میں رجسٹر شدہ ایک ہزار کے ووٹرس کے منجملہ ایک بھی ووٹر، ووٹ ڈالنے نہیں آیا ۔ ضلع نظم و نسق نے بتایا کہ ہم نے دیہی عوام کو ووٹ ڈالنے کی مقدور بھر کوشش کی ۔ کلکٹر اور ضلع الیکشن آفیسر مسٹر آئی کے پٹیل نے بتایا کہ دیہی عوام نے چند ماہ قبل ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ ووٹ نہیں ڈالیں گے ان کی اصل شکایت پانی کی سربراہی کے بارے میں ہے اگرچہ اس موضع میں پائپ لائن کے ذریعہ پانی سربراہ کیا جارہا ہے ۔ دیہی عوام کا دعوی ہے کہ یہ کافی نہیں ہے ایک اور پائپ لائن کی ضرورت ہے ۔

الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں الٹ پھیر کا الزام بے بنیاد۔ سی ای او کا بیان
احمد آباد
پی ٹی آئی
گجرات میں آج الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ بلو ٹوتھ ٹکنالوجی کے ذریعہ الکڑانک ووٹنگ مشینوں میں امکانی الٹ پھیر کے خدمات جو آپس میں کانگریس نے ظاہر کئے ہیں بے بنیاد ہیں ۔ کمیشن نے کہا ہے کہ وہ آلہ جس کا پتہ، شکایت کنندہ نے اپنے موبائل فون کو بلو ٹوتھ پر رکھنے کے بعد چلایا ہے، کوئی الکٹرانک ووٹنگ مشین نہیں تھا البتہ ایک موبائل فون تھا جو ایک پولنگ ایجنٹ لے آیا تھا۔ قبل ازیں جب کہ 89نشستوں کے لئے رائے دہی جاری تھی، کانگریسی رہنما ارجن مودھواڈیا نے پور بندر کے ایک مسلم اکثریتی علاقہ میں تین پولنگ بوتھس پر الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں امکانی الٹ پھیر کی شکایت کی تھی۔ پور بندر سے مودھواڈیا مقابلہ کررہے ہیں۔ کانگریس نے دعویٰ کیا کہ بعض الکٹرانک ووٹنگ مشینیں، خارج آلات سے جیسے بلو ٹوتھ کے ذریعہ موبائل فونس سے جڑی ہوئی ہیں۔ چیف الکٹورل آفیسر بی بی سوین نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ اس شکایت کی تحقیقات کا حکم دیا گیا اور رپورٹ ملنے پر معلوم ہوا کہ شکایت کنندہ کے موبائل فون نے جب کہ اس کا بلوٹوتھ کارکرد کیا گیا تھا، ایک اور آلہECO 105کا پتہ چلایا۔ سوین نے بتایا کہ ای سی او105کے بارے میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ پولنگ بوتھ کا ای وی ایم ہے۔ اس سبب بلو ٹوتھ ٹکنالوجی کے ذریعہ امکانی الٹ پھیر کے اندیشہ کو تقویت ملی۔ جن مقامات سے شکایات وصول ہوئیں تھیں وہاں متعلقہ کلکٹر او رمبصر کو بھیجا گیا اور شکایت بھی طلب کی گئی۔ مقامی میڈیا کے سامنے تحقیقات کی گئیں اور ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کو رپورٹ پیش کردی گئی ۔ اس میں کہا گیا کہ ایک پولنگ ایجنٹ انٹیکس کمپنی کا موبائل فون لے جارہا تھا جس پر ماڈل نمبر ای سی او105درج تھا۔ سوین نے کہا کہ منوج سنگھ راکھیہ نامی ایک ایجنٹ یہ موبائل فون لے جارہا تھا وہ(منوج) شکایت کنندہ کے فون کے قریب تھا، ممکن ہے کہ شکایت کنندہ نے یہ خیال کیا ہو کہ ای سی او، میں ای سی کی اطلاع الیکشن کمیشن کے لئے ہے ۔ مودھواڈیا نے کہا تھا کہ شکایت کنندگان نے میمن واڑہ( مسلم اکثریتی علاقہ) میں تین پولنگ بوتھس پر ای وی ایمس کو بلو ٹوتھ کے ذریعے خارج آلات سے مربوط پایا۔ مودھواڈیا نے کہا کہ اس کے معنی یہ ہوئے کہ بلو ٹوتھ کے ذریعہ الکٹرانک ووٹگ مشینس میں الٹ پھیر کی جاسکتی ہے ۔ دوسری جانب حکمراں بی جے پی نے مودھواڈیا کی شکایت کو مسترد کردیا اور کہا کہ اس شکایت سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس، کوئی بہانہ ڈھونڈ رہی ہے ۔ بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے کہا کہ نتائج کے نکلنے سے پہلے ہی کانگریس، بہانہ ڈھونڈ رہی ہے ۔ کیونکہ اس کو انتخابات میں نقصان نظر رہا ہے ۔ دریں اثناء الیکشن کمشنر کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ سورت اور دیگر مقامات پر الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں فنی رکاوٹوں کی اطلاع ملی تھی لیکن ان مشینوں کو تبدیل کردئیے جانے کے بعد پولنگ دوبارہ شروع ہوگئی ۔

0 comments:

Post a Comment