Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-11-15 - بوقت: 17:12

صحت کے معاملہ میں ہندوستان دوسرے ممالک سے پیچھے ۔ نائب صدر جمہوریہ

Comments : 0
نائب صدر جمہوریہ نے آج کہا کہ چند سیاست داں خاندانی منصوبہ بندی کی فکر سے اس لئے دور رہتے ہیں کیونکہ ان کا ایقان ہے کہ آبادی پر قابو پانے سے ووٹوں پر بھی قابو ہوجائے گا۔ نائب صدر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ آبادی پر قابو پانے کے مسئلہ پر بحث کرنے اور اس مسئلہ پر وسیع تر سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کی وکالت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے خاندانوں کو جنہوں نے خاندان منصوبہ بندی کروائی ہے انہیں فائدہ پہنچایاجانا چاہئے۔ نائب صدر نائیڈو نے ایک تقریب میں انڈیا اسٹیٹ لیول ڈسیزبرڈن رپورٹ اور تکنیکل پیپر جاری کرتے ہوئے کہا چند ہمارے سیاست دانوں میں خاندانی منصوبہ بندی کے تعلق سے تعاون کرنے میں بھی کسی قدر جھجھک برقرار ہے ۔ چونکہ آبادی پر کنٹرول کا مطلب پروٹوکول پر کنٹرول ہوجائے گا۔ ایسا بھی کچھ لوگوں کا ماننا ہے ۔ طبی تحقیق کی ہندوستانی کونسل نے پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا اور( یونیورسٹی آف واشنگٹن سیاٹل) کے انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلیو ایشن کے تعاون سے یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کی پوری آبادی کے لئے اچھی صحت کا حصول ہندوستان کی حکومت کا ایک اہم مقصد ہے اور یہی مزید سماجی اور اقتصادی ترقی کی بنیاد بھی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی ایک ریاست میں سب سے زیادہ متوقع عمر اور سب سے کم متوقع عمر کے درمیان فرق اس وقت گیارہ سال کا ہے اور ریاست میں چھوٹے بچوں کی اموات کی زیادہ سے زیادہ عمر اور کم سے کم عمر میں فرق چار گنا ہے ۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان میں صحت کے بارے میں جو اشارات ملتے ہیں وہ اسی طرح کی ترقی والے دوسرے ممالک کے مقابلے میں اب بھی کمزور ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان میں صحت کے تعلق سے کافی ترقی ہوئی ہے لیکن اسے اور بھی بہتر بنایاجاسکتا ہے ۔ ہندوستان کے پاس دوسرے ذرائع سے بھی اہم قومی جائزے اور اعداد و شمار موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں بعض بیماریوں کے اثرات ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں ۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ انڈیا اسٹیٹ لیول ڈیزیزبرڈن اینیشیٹیو کی جو رپورٹ آج جاری کی گئی ہے اس میں ہندوستان پہلی مرتبہ1990سے2016تک ہر ریاست کے صحت سے متعلق جامع جائزے فراہم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ سے تیکنیکی سائنسی مقالے سے ہندوستان کی ہر ریاست کے بارے میں صحت سے متعلق معلومات فراہم کی گئی ہے اور مختلف ریاستوں کے مابین صحت سے تعلق سے جو عدم یکسانیت ہے اسے اجاگر کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کم غذائیت کی وجہ سے بیماریوں کا جو بوجھ ہے اسے جلد سے جلد ہلکا کیا جانا چاہئے تاکہ ہندوستان کی اگلی نسل اپنی ذاتی ترقی اور قوم کی ترقی کے معاملے میں پورے عروج کو پہنچے ۔ نائب صدر نے کہا کہ ہندوستان مین دنیا کی کل آبادی کا تقریبا پانچواں حصہ موجود ہے ۔ ملک کے مختلف حصوں اور ریاستوں میں رہنے والے لوگ اپنے نسلی بنیاد اور کلچر کی وجہ سے ایک ودسرے سے مختلف ہیں اور دوسرے بہت سے طریقوں پر بھی ان کے صحت کے حالات پر اثر پڑتا ہے ۔ صحت ہی دولت ہے ۔ اگر ہمیں صحت مل جائے تو ہم دولت حاصل کرسکتے ہیں لیکن اس بات کوئی ضمانت نہیں ہے کہ آپ دولت سے صحت بھی حاصل کرسکتے ہیں ۔ ہمیں ا پنے اس عہد کی تصدیق کرنی چاہئے کہ ہم اپنے بچوں کو ایک صحت مند مستقبل اور رہنے کے لئے ایک بہتر جگہ فراہم کریں گے ۔ طب کے پیشہ ور ماہرین کو چاہئے کہ وہ مریضوں کے علاج کے لئے ایک انسان دوست طریقہ اخٹیار کریں۔ ہندوستان میں صحت کے منظر نامے میں آزادی کے بعد سے بہتری آرہی ہے ۔ مثال کے طور پر ہندوستان منیں1960میں جو شخص پیدا ہوا تھا اس کی عمر کا اندازہ چالیس تھا جو اب بڑھ کر تقریبا70سال ہوگیا۔1960میں ہندوستان مین پیدا ہونے والے ایک ہزار زندہ بچوں میں سے تقریبا160پہلے ہی سال میں مر جاتے تھے لیکن اب بچوں میں شرح اموات اس سے تقریبا ایک چوتھائی کی سطح تک آگئی ہے ۔ میں آئی سی ایم ار کے ڈائریکٹر جنرل اور ان کے ساتھ معاونت کرنے والے دیگر تمام افراد اور اداروں کو اس طرح کا بہترین کام مکمل کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں ۔ اپ سب نے معلومات کی بنیاد بڑھانے میں اپنا رول ادا کیا ہے ۔ اس سے ملک میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے خصوصی حکمت عملی تیار کرنے میں مدد ملے گی ۔ مجھے امید ہے کہ کام کا یہ سلسلہ ائندہ بھی جاری رہے گا ۔ میں آپ سب کی کوششوں کی ستائش کرتا ہوں ۔ مرکزی وزیر صحت ، خاندانی بہبود جے پی نڈا اور مملکتی وزیر صحت و خاندانی وبہبود انو پریہ پٹیل اور دیگر معززین بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

preventive public health should be prioritized: Vice President

0 comments:

Post a Comment