منموہن سنگھ نے میرے بارے میں گجرات میں جھوٹ بولا ہے - وزیراعظم مودی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2017-11-28

منموہن سنگھ نے میرے بارے میں گجرات میں جھوٹ بولا ہے - وزیراعظم مودی

منموہن سنگھ نے میرے بارے میں گجرات میں جھوٹ بولا - وزیراعظم مودی
جسدن، دھاری
یواین آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کانگریس پر گجرات مخالف ہونے کا الزام دہراتے ہوئے کہا کہ نرمدا باندھ منصوبے پر سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بھی گجرات میں آکر یہ جھوٹ کہا تھا کہ وہ(مودی) بحیثیت چیف منسٹر ان سے اس معاملے پر اپنے دور حکومت میں کبھی نہیں ملے ۔ مودی نے امریلی کے دھاری علاقہ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انتخابات کو کانگریس غیر ذمہ داری اور جھوٹ کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کررہی ہے ۔ ریاست میں پہلے بھی انتخابات ہوئے ہیں، لیکن ایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ واہیات اور جھوٹی باتیں پھیلائی جارہی ہیں۔ یہ دہلی کے تخت کو اپنی وراثت سمجھنے والی پارٹی سے اقتدار چھن جانے کی فطری مایوسی کے سبب ہے۔ مودی نے مزید کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کانگریس کے رگ رگ اور اس کی قیادت کے چال چلن میں گجرات کے لئے نفرت بھری ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ذرا غور کریں کہ ایک ریاست کا چیف منسٹر( مودی) نرمدا منصوبے کے معاملے پر کچ۔ کاٹھیواڑ کے لوگوں کو پانی دلانے کے لئے اس وقت کی مرکزی حکومت کے سامنے بھوک ہڑتال پر بیٹھا ہوا اور حکومت کو جھکنا پڑا ہو اور اس وقت کے وزیر اعظم( ڈاکٹر منموہن سنگھ) نے گجرات میں آکر کہا کہ میں نے ان سے اس معاملے پر کبھی بات نہیں کی تو کیا یہ جھوٹ کسی کے گلے اترے گا ؟ انہوں نے کہا کہ کانگریس جھوٹ کے سہارے انتخابی مہم چلارہی ہے ۔ قبل ازیں انہوں نے جسدن میں ایک انتخابی جلسے میں کہا کہ کانگریس کو غریب کے بیٹے کے وزیر اعظم بننے سے غمزدہ نہیں ہونا چاہئے ۔ عوامی زندگی میں عوامی معاملات پر بات چیت ہونی چاہئے اور انہیں آئے دن پھر سے چائے بیچنے پر مجبور کردینے کی دھمکی نہیں دی جانی چاہئے ۔ وہ چائے بیچ لیں گے مگر ملک کو بیچنے کا کام نہیں کریں گے ۔ سورت سے موصولہ علیحدہ اطلاع کے بموجب نریندر مودی نے آج کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو معلوم تھا کہ دہلی سے بھیجا ان کا ایک روپیہ گاؤں میں پہنچتے پہنچتے پندرہ پیسہ ہوجاتا ہے تو انہوں نے اس پر روک لگانے کے لئے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا۔ مودی نے آج یہاں ودوڈرا میں ایک انتخابی اجلاس میں کہا کہ راجیو گاندھی صوفیانہ بات کرتے تھے اور کہتے تھے کہ دہلی سے جاری ہونے والا ایک روپیہ گاؤں تک پہنچتے پہنچتے پندرہ پیسہ ہوجاتا تھا۔ پر جب انہیں یہ بات معلوم تھی تو انہوں نے اسے روکنے کے لئے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا۔ یہ کیسا پنجہ(کانگریس کا انتخابی نشان) ہے جس نے ایک روپے کو گھس گھس کر پندرہ پیسے بنادیا تھا۔ کانگریس کو یاد کرنے سے ایک ہی خاندان کا چہرہ سامنے آتا ہے ۔ بوفورس ، ٹوجی، کوئلہ گھٹالے یاد آتے ہیں۔ اس نے پانی زمین یا آسمان جہاں بھی موقع ملا وہیں ہاتھ مارنے کی روایت بنادی تھی انہوں نے کانگریس پر گجرات مخالف ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پوری ریاست میں بی جے پی کے حق میں ایسی آندھی چل رہی ہے کہ کانگریس شکست کے خوف سے بری طرح خوفزدہ ہوگئی ہے ۔ اسے سمجھ میں آنا چاہئے کہ جب تک یہ کفارہ ادا نہ کرے گجرات مخالف ذہنیت نہیں بدلے گی۔ ریاست اسے کبھی قبول نہیں کرے گی۔ یہ بدلے ہوئے وقت میں گاؤں میں بھی نئی تکنیک کو سمجھنے والی نئی نسل کو متاثر کرنے کی امید کرکے بیٹھی ہے ۔
Manmohan lied in Gujarat on my meetings with him on Narmada project: PM Modi

مودی عوام کو گمراہ کر رہے ہیں : کانگریس
نئی دہلی
پی ٹی آئی
کانگریس نے آج وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے غیر درست بیانات کے ساتھ جواہر لال نہور کی خدمات کے بارے میں گجرات کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس سے ان کی غیر صھت مند سوچ کا اظہار ہوتا ہے ۔ مودی کے اس الزا م پر کہ کانگریس خاندانی سیاست کو فروغ دیتی رہی ہے، مودی پر جوابی وار کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر ترجمان آنند شرما نے کہاکہ وزیر اعظم بھول گئے ہیں کہ کانگریس نے لال بہادر شاستری اور منموہن سنگھ جیسے وزیر اعظم دئیے ہیں جن کا پس منظربے حد معمولی تھا ۔ نہرو، گاندھی خاندان کا دفاع کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ گزشتہ تقریبا تین دہائیوں سے گاندھی کاندان کا کوئی بھی فرد حکومت کا حصہ نہیں رہا ہے ۔ انہوں نے مودی کے ان دعوؤں کی تردید کی کہ کانگریس اور ملک کے اولین وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے گجرات کے لئے کچھ نہیں کیا۔ شرما نے الزام عائد کیا کہ یہ مہم بی جے پی کی گجرات اسمبلی انتخابات میں امکانی شکست سے پید اہونے والی مایوسی کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ملک کے اولین وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے گجرات کے لئے کچھ نہیں کیا۔یہ غلط اور سچائی سے بعید ہے ۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ وزیر اعظم غیر صحت مند سوچ رکھتے ہیں جو قومی تشویش کا باعث ہے ۔ قبل ازیں موصولہ یو این آئی کی اطلاع کے بموجب ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہ سابق کانگریس حکومتوں نے گجرات اور مرکز میں کوئی ترقیاتی اقدامات شروع نہیں کئے ، شرما نے کہا کہ ہمارا یہ احساس ہے کہ وزیر اعظم کو یہ بتانا ضروری ہے کہ سابق کانگریس حکومتوں نے گجرات میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن( این آئی ڈی)نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹکنالوجی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ ایڈ منسٹریشن جیسے ادارے قائم کئے ہیں۔ اس کے علاوہ کانگریس کے دور حکومت میں ہی انکلیشور میں او این ایل سی کامپلکس تعمیر کیا گیا تھا ۔ وزیر اعظم کو ذمہ دارانہ بیانات دینا چاہئے۔ مرکز کی این ڈی اے حکومت پر رافیل، معاملت میں کرپشن میں ملوث ہونے اور بد عنوان وزراء پر مشتمل ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ اس حکومت میں بدعنوان لوگ بھرے ہوئے ہیںاور یہ رافیل لڑاکا جیٹ طیاروں کی معاملت میں بڑے گھوٹالوں میں گھری ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم کبھی پارلیمنٹ میں مباحث میں حصہ نہیں لیتے اور یہی وجہ ہے کہ وہ گجرات اسمبلی انتخابات سے پہلے پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس طلب کرنا نہیں چاہتے تھے، کیونکہ انہیں ریاست کے عوام کے سامنے بے نقاب ہوجانے کا اندیشہ تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں