Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-11-27 - بوقت: 13:11

عاملہ، مقننہ اور عدلیہ سے باہم تعاون کرنے مودی کی اپیل

Comments : 0
عاملہ، مقننہ اور عدلیہ سے باہم تعاون کرنے مودی کی اپیل
نئی دہلی
آئی اے این ایس
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ عاملہ ، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان توازن دستور کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے مملکت کے تینوں ستونوں سے اپیل کی کہ وہ ایک مضبوط، محفوظ اور خود مکتفی ہندوستان کی خاطر ایک دوسرے کو مستحکم بنائیں اور آپس میں تعاون کریں، تاکہ ایک ایسے ہندوستان کو یقینی بنایا جاسکے جو اکیسویں صدی تعلق رکھتا ہے ۔ لا کمیشین آف انڈیا اور نیتی آیوگ کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقدہ قومی یوم قانون کے موضوع پر دو روزہ اجلاس سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دستور نے ان تینوں کے درمیان بہت نازک لکیر کھینچی ہے اوریہ توقع ہے کہ یہ تینوں دوسروں کے اختیارات میں مداخلت کے بغیر اپنے اختیارات کا استعمال کریں گے ۔ مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد کی جانب سے حد سے زیادہ سر گرمی اور عاملہ و مقننہ کے دائرہ اختیار میں مداخلت کرنے پر سپریم کورٹ کو نشانہ تنقید بنائے جانے کے بعد تعاون کے لئے مودی کی یہ اپیل مملکت کے تینوں شعبوں کے درمیان مفاہمیت کے لئے کی گئی درخواست تصور کی جارہی ہے ۔
نئی دہلی سے یو این آئی کے بموجب وزیر اعظم نریندر مودی نے نیو انڈیا کے بعد پوزیٹیو انڈیا نعرہ دیا ہے اور لوگوں کو اس سے سوشل میڈیا پر پھیلانے کی اپیل کی ہے ۔ مودی نے آج من کی بات پروگرام میں آئین کے مطابق نیو انڈیا بنانے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے پوزیٹو انڈیا بنانے کی بات کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سال2017کے پانچ سب سے اہم مثبت تجربات کو اشتراک کرنے کے لئے کہا ہے تاکہ ملک میں مثبت ماحول بنے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے دن قوم کوعید میلاد النبیؐ کی مبارکباد دی ۔ انہوںنے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات میں کہا کہ چند دن بعد مقدس عید میلاد النبی منائی جائے گی۔ میں تمام ہم وطنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ عید میلاد النبی 2دسمبر کو منائی جائے گی۔
نئی دہلی سے پی ٹی آئی کے بموجب نو برس قبل ممبئی دہشت گرد حملہ میں بہادر شہریوں کی قربانیوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ دہشت گردی لگ بھگ روز مرہ کے معمول کی طرح عالمی خطرہ بن چکی ہے ۔ مودی نے کہاکہ چند سال قبل تک ہندوستان جب دہشت گردی کے خطرات کی بات کرتا تھا تو دنیا میں کئی لوگ اسے سنجیدگی سے لینے کے لئے تیار نہیں تھے ۔ اب دہشت گردی ان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے ۔ دنیا کی ہر حکومت جو انسانیت اور جمہوریت کی قائل ہے اسے ایک سب سے بڑے چیلنج کے طور پر دیکھ رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات میں یہ بات کہی ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے دنیا بھرمیں انسانیت کو خطرہ لاحق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے بھدی شکل اختیار کرلی ہے اور وہ لگ بھگ روز مرہ کے معمول کی طرح عالمی خطرہ بن گئی ہے۔ دہشت گردی نے انسانیت کو چیلنج کیا ہے وہ انسانی طاقتوں کو تباہ کرنے پر تلی ہے لہذا نہ صرف ہندوستان بلکہ انسانیت کے قائل تمام قوتوں کو دہشت گردی کی برائی کو شکست دینے متحدہ لڑائی لڑنی ہوگی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان گوتم بدھ مہاویر، گرونانک اور مہاتما گاندھی کی سر زمین ہے اور اس نے دنیا کو محبت اور عدم تشدد کا پیام دیا ہے ۔ مودی نے کہا کہ26نومبر کو یوم دستور کی حیثیت سے منایاجاتا ہے ۔
نئی دہلی سے پی ٹی آئی کے بموجب نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں گجرات پلانٹ میں نانو کاروں کی تیاری میں کمی کی بات کہی گئی ہے ۔ راہول نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا محبوب میک ان انڈیا پراجکٹ د توڑ چکا ہے ۔ گجراتی ٹیکس دہندگان کے33ہزار کروڑ روپے پھونکے گئے ۔ نائب صدر کانگریس نے سوال کیا کہ اس کے لئے کون جواب دہ ہے ؟ راہول نے ٹوئٹر پر کہا کہ پی ایم کا پیٹ میک ان انڈیا پراجکٹ دم توڑ چکا ہے ۔ گجراتی ٹیکس دہندگان کا 33ہزار کروڑ روپے پھونکا گیا ، جواب دہ کون ہے؟ کانگریس قائد ان دنوں گجرات میں مہم چلار ہے ہیں۔ جہان اسمبلی الیکشن ہونے والا ہے۔ میڈیا اطلاع میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹاٹا کے سانند پلانٹ میں روزانہ اوسطاً صرف دو نانو کاریں بن رہی ہیں۔
the executive, legislature and judiciary, Three pillars of state backbone of Constitution, should cooperate: PM Modi

اختیارات کو تقسیم کرنے والے دائرہ کار میں خلل اندازی کے خلاف صدر جمہوریہ کا انتباہ
نئی دہلی
پی ٹی آئی
صدرجمہوریہ رامناتھ کووند نے آج کہاکہ اختیارات کی علیحدگی کے دائرے کار میں خلل اندازی نہ کرتے ہوئے نازک توازن کوبرقرار رکھنا ایک اہم اقدام ہے ۔ انہوں نے عدلیہ ، عاملہ اور مقننہ کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بات بتائی ، جب کہ یہ تمام مساوی ہیں۔ حکومت کے تینوں شعبوں کو اپنی آزادی کا شعور رہنا چاہئے اور اپنی خود مختاری کے تحفظ کی کوشش بھی کرنی چاہئے۔ تاہم انہیں اختیارات کی علیحدگی کے دائرہ کار میں خلل اندازی پر محتاط رہنا چاہئے۔ حتی کہ نادانستہ طور پر دیگر دو شاخوں کے دائرہ کار میں در اندازی تک بھی نہیں کی جانی چاہئے۔ صدرج مہوریہ نے یوم دستور کا جشن منانے سپریم کورٹ کی جانب سے منعقدہ تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی تینوں شاخوں بشمول عدلیہ ، مقننہ اور عاملہ کے درمیان تعلقات کے جائزہ کے وقت اس نازک اور پیچیدہ توازن کو ذہن میں رکھنا اہمیت رکھتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ دستور جامد نہیں بلکہ ایک زندہ دستاویز ہے ۔ لہذا ان تینوں حکومت کی شاخوں کے درمیان رابطہ میں اعتدال اور اختیار تمیزی انتہائی قرین مصلحت ہیں۔ صدر جمہوریہ نے بتایا کہ اس کے نتیجہ میں حکومت کی تینوں مساویانہ شاخوں کے درمیان اخوت کو فروغ حاصل ہوگا اور اس میں اضافہ ہوگا ، جب کہ دستور کے تحت ان تینوں پر مخصوص ذمہ داری عائد ہے۔ اس سے عام شہری کو اس بات کا دوبارہ تیقن حاصل ہوگا کہ دستور محفوظ ہے اور باشعور لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ضرورت ہے کہ ملک کے تمام ہائیکورٹس فیصلوں کی مصدقہ ترجمہ کردہ کاپیاں فوری فریقین مقدمہ کو فراہم کرے جو مقامی اور علاقائی زبانوں میں ہوں ۔ انہوں نے بتایاکہ اگر ممکن ہو تو عدالتوں میں بھی سماعتی کارروائی ایک ایسی زبان میں ہونی چاہئے جو عام شہری کے لئے قابل فہم ہو۔ مقدمہ کی یکسوئی کی کارروائی میں بھی تیزی پید اکرنا ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ سطحی عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحت کے عدلیہ کی اس کارروائی میں نگرانی اور اس کی حوصلہ افزائی کرے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومتوں کا تعاون بھی اشد ضروری ہے ۔ صدرجمہوریہ نے بتایا کہ ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ضلع اور تحت کی عدالتوں کو ان کی کما حقہ فتوحات اور سہولتوں سے محروم نہ رکھاجائے جب کہ ہائیکورٹس کو چاہئے کہ وہ تحت کی عدالتوں پر زور دیں کہ وہ کارگزار بنیں اور تیزی سے مقدمات کی یکسوئی کریں۔ انہوں نے بتایا کہ اس بات پر انہیں مسرت ہے کہ چند ہائیکورٹس اس سمت میں اقدامات کررہے ہیں۔ جون2017کو جھار کھنڈ ہائیکورٹ کے دائرہ کار میں واقع سیشنس اور ضلع عدالتوں میں پانچ سال یا اس سے زائد عرصہ سے تقریبا75ہزار قدیم مقدمات زیر التوار ہے ہیں۔ ہائیکورٹ نے تقریبا آدھے مقدمات کی یکسوئی کے لئے31مارچ2018کا نشانہ مقرر کیا ہے ۔ انہوں نے دس سال سے زائد عرصہ سے زیر التوا مقدمات کی یکسوئی کے لئے چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کی جانب سے30اپریل2018اور پانچ تا دس سال سے زیر تصفیہ مقدمات کی یکسوئی کے لئے آئندہ سال30ستمبر کی تاریخ مقرر کرنے کے اقدام کا حوالہ دیا۔

مالیا کی ہندوستان کو حوالگی ،آرتھر روڈ جیل امکانی ٹھکانہ: وزارت داخلہ
نئی دہلی
پی ٹی آئی
شراب کے روپوش سرکردہ تاجر وجئے مالیا کو اگر9ہزار کروڑ روپے قرض عدم ادائیگی کے مقدمات کے سلسلہ میں قانون کا سامنا کرنے ہندوستان کے حوالے کیا گیا تو ان کا ٹھکانہ ممبئی کی آرتھر روڈ جیل ہوگا۔ آئندہ ہفتہ ہندوستان کراؤن پراسیو کیوشن سرویس سی پی ایس جو مرکزی حکومت کی جانب سے مالیا کے خلاف مقدمات تحویل میں بحث کررہا ہے ۔ اس کے زریعہ اس بات کا اظہار برطانوی عدالت سے کردیاجائے گا۔ وزارت داخلہ کے عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ لندن کے ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت کو بتایا جائے گا کہ حکومت کا فریضہ ہے کہ وہ قیدیوں کی سلامتی کو یقینی بنائے جب کہ ملیا کا اندیشہ ہے کہ اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے یہ بات گمراہ کن ہے ۔ عدالت کو بتایاجائے گا کہ ہندوستانی جیلس بھی عالمی سطح پر دوسری جیلوں کی طرح اچھی ہیں اور ان جیلوں میں قیدیوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جاتا ہے ۔ ایک عہدیدار جو حکومت کے تیار کردہ جوابات سے واقف ہے اس نے پی ٹی آئی کو یہ بات بتائی ۔ اس سے قبل مالیا کے وکلاء نے تبایا تھا کہ مفرور تاجر کو اگر ہندوستان کے حوالے کیا گیا تو اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوگا کیونکہ ہندوستانی جیلوں میں حقوق انسانی خلاف ورزیوں کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ4دسمبر سے کاروائی تحویل کی سماعت کا آغاز کرے گی ۔ لندن کی عدالت کو بتایا جائے گا کہ اگر مالیا کو آرتھر روڈ جیل میں رکھا گیا تو اس کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا جب کہ یہ جیل بین الاقوامی معیار کے مقابل انتہائی محفوظ ہے ۔ علاوہ ازیں مالیا کے مبینہ اندیشہ کو بھی مسترد کردیا گیا کہ اگر اسے9ہزار کروڑ روپے کنگ فشر ایر لائنس قرض ناہندگی مقدمات میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کے لئے ملک واپس بھیجا جائے تو ہندوستانی جیلوں میں وہ محفوظ نہیں رہے گا ۔ ایک اور عہدیدار نے شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پر یہ بات بتائی ۔ آرتھر روڈ جیل میں قیدیوں کے علاج کے لئے مناسب طبی سہولتیں موجود ہیں جہاں مالیا کو زیر دریافت قیدی کی حیثیت سے مکمل سیکوریٹی حاصل رہے گی۔

0 comments:

Post a Comment