Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-11-24 - بوقت: 16:35

پرائیویسی اور شفافیت کے درمیان توازن ضروری - وزیراعظم مودی

Comments : 0
پرائیویسی اور شفافیت کے درمیان توازن ضروری
٭ ڈیجیٹل شعبہ کے غلط استعمال کو روکنے تمام ممالک سے متحد ہوجانے مودی کی اپیل
٭سائبر سیکوریٹی پر عالمی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے وزیر اعظم کا خطاب
نئی دہلی
یو این آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے سائبر سیکوریٹی کے تئیں بیداری کو زندگی کا حصہ بنانے کی اپیل کرتے ہوئے آج کہا کہ ڈیجیٹل شعبہ کو دہشت گردی اور دیگر بری طاقتوں سے آزاد رکھنے کے لئے تمام ممالک کو متحد ہوکر ذمہ داری لینی ہوگی ۔ مودی نے یہاں سائبر کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ ملک کو اس امر کو یقینی بنانے کی ذمہ داری لینی چاہئے کہ ڈیجیٹل شعبہ دہشت گردی اور سخت گیری کی بری طاقتیں کے کھیل کا میدان نہ بن جائے۔ اس طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لئے سیکوریٹی ایجنسیوں کے مابین اطلاعات کا تبادلہ اور آپسی تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹر نیٹ سے پاک اور سب کی پہنچ میں نہ ہونے کی کوشش میں اس کے تعلق سے خطرے سے بھی سامنے آتے ہیں۔ ہیکنگ اور ویب سائٹس کی خبریں اس کا صرف چھوٹا سا حصہ ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سائبر حملے بڑا خطرہ ہیں۔ خاص طور پر جمہوری دنیا کے لئے ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ سماج کا کوئی بھی طبقہ سائبر جرائم کے برے ارادوں کا شکار نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سائبر سیکوریٹی کے تئیں بیداری ہماری زندگی کے طرز عمل کا حصہ ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم نے پرائیویسی اور شفافیت کے درمیان توازن کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک طرف پرائیویسی اور شفافیت اور دوسری طرف قومی سلامتی کے درمیان توازن قائم کرسکتے ہیں ۔ شفافیت ، پرائیویسی ، اعتماد اور سیکوریٹی کے اہم سوالات کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ ڈیجیٹل ٹکنالوجی صرف انسان کو طاقتور بنانے کا ذریعہ ہے ۔ ہمیں اس امر کو یقینی بنانا چاہئے کہ یہ اسی کردار میں رہیں۔ قبل ازیں موصولہ اطلاع کے مطابق وزیرا عظم نریندر مودی نے آج سائبر سیکوریٹی کو زندگی کا حصہ بنانے کی اپیل کرتے ہوئے رازداری(پرائیویسی) اور شفافیت کے درمیان توازن ضروری بتایا۔ مودی نے یہاں سائبر سیکوریٹی پر منعقدہ پانچویں عالمی کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ سائبر حملے جمہوری دنیا کے لئے آج سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے ۔ انہوں نے کہا سائبر سیکوریٹی ہماری زندگی کا حصہ ہونا چاہئے ۔ ہم رازداری اور شفافیت اور ڈیجیٹل اور سیکوریٹی کے درمیان توازن قائم کرسکتے ہیں ۔ شفافیت اور رازداری کے اہم سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعظم نے ڈیجیٹل انڈیا کے ذریعے ملک میں لوگوں کی طرز زندگی میں آئی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ انٹر نیٹ کی نوعیت شامل ہے ۔ ہم اس کانفرنس کے ذریعے عالمی طریق کار اور نئے طریقوں کو سیکھنے کی امید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ، جب ہم ساتھ مل کر بڑھتے ہیں تب ہی حقیقی ترقی ہوتی ہے ۔ ہندوستان میں معلومات اور ٹیکنالوجی( آئی ٹی) کے شعبہ میں کافی با صلاحیت افراد ہے اور میں آپ سب کو ان میں سرمایہ کاری کے لئے دعوت دیتا ہوں۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے امنگ موبائل ایپ بھی لانچ کیا جس کے ذریعہ لوگ مرکز اور ریاستی حکومتوں کی ایک سو خدمات کا فائدہ اٹھا سکیں گے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے دو انڈیا اور ایک کیفے ٹیبل کتاب کا اجرا کیا۔ کانفرنس سے اطلاعات و ٹیکنالوجی کے وزیر روی شنکر پرساد اور سری لنکا کے وزیر اعظم رانل وکرم سنگھے نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں ایک سو بیس سے زائد ممالک کے نمائندے حصہ لے رہے ہیں اور یہ جمعہ تک جاری رہے گی۔
Privacy, national security on par: PM Modi

دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانے جدو جہد پر زور
سوشل میڈیا کا ناجائز استعمال روکنے کی ضرورت۔ سائبر اسپیس کانفرنس سے روی شنکر پرساد کا خطاب
نئی دہلی
آئی اے این ایس
مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے آج یہاں کہا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے روک تھام کے عہد کی پابند ہے ۔ اس مقصد کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کیاجائے گا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ انتہا پسندوں، عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانے کا ہندستان نے عزم کیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سائبر اسپیس کاناجائز استعمال کیاجارہا ہے ۔ اس کے علاوہ نفرت اور سازش کے لئے سوشل میڈیا کا بھی استعمال کیاجارہا ہے ۔ لی کن ہم دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے تیار ہیں۔ یہاں سائبر اسپیس سے متعلق گلوبل کانفرنس کے پانچویں ایڈیشن کے افتتاحی سیشن کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی روی شنکر پرساد نے سائبر اسپیس کو محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا ہے کہ ہماری حکومت موثر طور پر سوشل میڈیا کا استعمال کررہی ہے تاکہ انتہا پسندوں کے عزائم کو ناکام بنایاجاسکے جو نا صرف دہشت گردی میں سر گرم ہیں بلکہ نفرت کے بیج بونے کے لیے یہ ذریعہ استعمال کررہے ہیں جو کہ انسانیت کے لئے انتہائی خطرناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور ہائیکرس کی جانب سے سائبر اسپیس کے ناجائز استعمال کو روکنے کے لئے تمام کو متحد ہونا چاہئے تاکہ دہشت گروں اور انتہا پسندوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کی راہ ہموار ہوسکے۔ اس دور روزہ گلوبل کانفرنس میں ایک سو اکتیس ممالک کے ہزاروں مندوبین کے علاوہ چھبیس ممالک کے وزراء بھی شرکت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی جنس کا پتہ لگانے کے لئے بھی عصری طریقہ کار استعمال کیاجارہا ہے ۔ اس کے علاوہ سائبر حملوں اور فراڈس کے واقعات میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو سائبر جرائم کے خلاف ایک آواز ہوکر سر گرم ہونا چاہئے ۔بعد میں اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ سائبر اسپیس ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے ۔ عالمی سطح پر توجہ کا متقاضی بن گیا ہے۔ اجلاس میں آدھار جیسے شناختی کارڈس کی ضرورت پر توجہ مبذول کروائی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں تقریبا1.1ملین موبائل فونس کا استعمال کیاجارہا ہے جب کہ تقریبا پانچ سو ملین انٹر نیٹ کنکشن کے علاوہ تقریبا چار سو ملین اسمارٹ فونس ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل سسٹم فیس بک کے استعمال پر بھی روشنی ڈالی ۔

0 comments:

Post a Comment