Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-11-05 - بوقت: 15:21

بے نامی جائیدادوں کے خلاف کارروائی کرنے کا اشارہ - وزیر اعظم مودی

Comments : 0
بے نامی جائیدادوں کے خلاف کارروائی کرنے کا اشارہ - وزیر اعظم مودی
نئی دہلی
پی ٹی آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج بے نامی املاک سے متعلق قانون میں سختی برتنے کا اشارہ دیا اور کہا کہ کانگریس اس لئے پریشان ہے کہ اس کے قائدین کے ایسے اثاثہ جات حکومت کی کارروائی میں بچ نہیں پائیں گے ۔ سندر نگر میں ایک انتخابی ریالی میں اپوزیشن جماعت کو کرپشن پر انہوں نے سخت نشانہ بنایا۔ مودی نے کہا کہ نوٹ بندی کے خلاف کانگریس کی مہم عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے اور بے نامی اثاثہ جات پر طوفان کھڑا کرنے سے قبل ایک ماحول تیار کرنا ہے ۔ آئی اے این ایس کے بموجب وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے دن کہا کہ ورلڈ بینک کی ایز آف ڈوئنگ بزنس رینکنگ(کاروبارمیں آسانی کی درجہ بندی) میں ہندوستان کا موقف بہتر ہوا ہے ۔ لیکن وہ جاریہ سال 30زینے چڑھنے پر اکتفا نہیں کریں گے ۔ وہ چاہیں گے کہ یہ درجہ مزید بلند ہو۔ پرواسی بھارتیہ کیندر نئی دہلی، میں ہندوستان کی تجارتی اصلاحات پر خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ہندوستان ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں اس کے لئے ا پنا موقف مزید بہتر بنانا آسان تر ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوششوں نے رفتار پکڑ لی ہے ۔ عالمی بینک نے ہماری محنت کا اعتراف کیا ہے ۔ تین سال کے مختصر وقفہ میں ہم نے42درجے بلند کئے ۔ ایک سال میں ہندوستان کا موقف کافی بہتر ہوا ہے ۔ اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سابق میں عالمی بینک میں کام کرچکے لوگ اب ہندوستان کی درجہ بندی پر شبہ ظاہر کررہے ہیں۔ بعض لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہندوستان کی درجہ بندی142سے بڑھ کر100ہوجانے کا کیا اثر ہوگا۔ انہیں اس کی پرواہ نہیں۔ مودی نے کہا کہ میں وزیر اعظم ہوں جس نے ورلڈ بینک کی عمارت کبھی نہیں دیکھی، جب کہ پچھلی حکومت میں جو لوگ تھے وہ ورلڈ بینک کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ ایسے لوگ اب عامی بینک کی درجہ بندی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ کاروبار کرنے میں آسانی کے مقابلہ میں درجہ بلند ہونا اچھی حکمرانی کی مثال ہے ۔ ہمارا منتر اصلاح ، تبدیلی اور کارکردگی ہے جی ایس ٹی پر مودی نے کہا کہ یہ ہندوستان کی تاریخ میں سب سے بڑی ٹیکس اصلاح ہے اور عالمی توقعات پوری کررہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک اوراس کے125کروڑ عوام کے لئے تبدیلی لانا میرا مشن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال ہندوستان کا موقف مزید بہتر ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنے میں آسانی کے نتیجہ میں زندگی بھی آسان ہوجاتی ہے ۔
کانگڑا سے آئی اے این ایس کی علیحدہ اطلاع کے بموجب وزیر اعظم نریندر مودی نے آج حکمراں کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس کا تقابل دیمک سے کیا اور کہا کہ ہماچل اسمبلی کے آنے والے انتخابات میں پارٹی کو نکال پھینکنا چاہئے ۔ ضلع کانگڑا کے شاہ پور اسمبلی حلقہ کے چمی علاقہ میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے گزشتہ سال پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹوں کی منسوخی کو نشانہ تنقید بنانے پر کانگریس پر سخت نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ(کانگریس)8نومبر کو یوم سیاہ منانے اور میرے پتلے جلانے جارہے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ مودی سردار پٹیل کا شاگرد ہے اور اسے خوفزدہ نہیں کیاجاسکتا ۔ میں آپ سے یہ کہنے نہیں آیا ہوں کہ بی جے پی کو کامیاب بنائیں بلکہ میں یہ کہنے آیا ہوں کہ اسے تین چوتھائی اکثریت دلائیں۔ کانگڑا میں مودی کی یہ دوسری ریالی تھی۔
Modi government to take action against 'benami' properties

کشمیری پنڈتوں کی باز آباد کاری کو ترجیح دی جائے - پروین توگڑیہ
جموں
پی ٹی آئی
وی ایچ پی صدر پروین توگڑیا نے آج مرکز کے خصوصی نمائندہ برائے جموں و کشمیر ونیشور شرما سے خواہش کی کہ وہ مقررہ مدت میں کشمیری پنڈتوں کی با ز آبادی کاری کو ترجیح دیں ۔ انہوں نے دستور کے آرٹیکل370اور آرٹیکل35Aکی برخواستگی کا بھی مطالبہ کیا اور علیحدگی پسندوں سے بات چیت کی مخالفت کی ۔ توگڑیہ نے جموں میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کے اپنی سر زمین پر آباد ہوجانے تک کوئی بھی بات چیت بے معنی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری پنڈت اپنے مکانوں میں واپس نہیں آسکتے۔ یہ بات نہ صرف تکلیف دہ بلکہ شرمناک بھی ہے۔ ونیشور شرما سے درخواست ہے کہ وہ اس مسئلہ کو ترجیح دیں اور مقررہ مدت میں ان کی باز آباد کاری کو یقینی بنائیں ۔ وشوا ہندو پریشد سربراہ جموں کے سہ روزہ دورہ پر کل یہاں پہنچے ۔ انہوںنے ہندو ہیلپ لائن کنونشن کی صدارت کی جس میں ملک بھر سے سو سے زائد مندوبین نے شرکت کی ۔ توگڑیہ نے علیحدگی پسندوں سے بات چیت کی مخالفت کی اور کہا کہ آزادی یا خود حکمرانی کا مطالبہ کرنے والوں کو پاکستان چلے جانا چاہئے کیونکہ دستور کے خلاف بولنے والے غدار ہیں۔ انہیں اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ جہاں تک پاکستانی ایجنٹوں کا تعلق ہے بات چیت بے کار ہے کیونکہ وہ اسے نہیں سمجھیں گے ۔ وہ صرف اے کے47کی بھاشا سمجھتے ہیں ۔ وی ایچ پی قائد نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ مکمل الحاق کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں جیسے آرٹیکل35Aاور آرٹیکل370کو برخواست کردینا چاہئے تاکہ ریاست میں خوشحالی واپس آئے ۔ یہ پوچھنے پر کہ چیف منسٹر محبوبہ مفتی دھمکی دے چکی ہیں کہ ریاست کے خصوصی حقوق اور مراعات سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست میں ترنگا لہرانے والا کوئی نہیں رہے گا، وی ایچ پی سربراہ نے کہا کہ پروین توگڑیہ اور ملک بھر سے میرے کروڑوں ساتھی،پرچم بلند کرنے آجائیں گے ۔ متنازعہ قائد نے یہ بھی ریمارک کیا کہ وادی میں سیکوریٹی فورسس پر سنگباری کرنے والوں پر اندھا دھند بمباری کردینی چاہئے ۔
یو این آئی کے بموجب وی ایچ پی کے بین الاقوامی صدر پروین توگڑیا نے ہندوستان میں مقیم روہنگیائی مسلمانوںکو غیر قانونی پناہ گزین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بین الاقوامی سطح پر سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط ہیں ۔ انہوںنے مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ غیر قانونی پناہ گزینوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرے۔ شعلہ بیان وی ایچ پی لیڈر نے ان باتوں کا اظہار ہفتہ کو یہاں ہندو ہیلپ لائن کی آل انڈیا میٹنگ سے قبل نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا یہ مرکزی اور ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسرے ملکوں خے غیر قانونی پناہ گزینوں کو پکڑ کر سرحد سے باہر کرے۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ روہنگیا مسلمانوں جو غیر قانونی پناہ گزین ہیں اور جن کے بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطے دنیا میں ثابت ہوئے ہیں، کو اب تک پکڑ کر جموں سے بنگلہ دیش کی سرحد پر کیوں نہیں بھیجا گیا ، مجھے اس کا جواب چاہئے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں میں مقیم میانمار اور بنگلہ دیش کے تارکین وطن کی تعداد تیرہ ہزار چار سو ہے ۔ یہ تارکین وطن جموں میں گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے مقیم ہیں۔ مرکزی سرکار کی جانب سے گزشتہ ماہ سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ دائر کیا گیا جس میں روہنگیا مسلمانوں کو ملک کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ قرار دیاگیا ۔ تاہم نیشنل کانفرنس کے کار گزار صدر اور ریاست کے سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں یہ خطرہ مابعد 2014پیش رفت کا پیدا کردہ ہے ۔

0 comments:

Post a Comment