Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-11-06 - بوقت: 12:31

کانگریس میدان جنگ سے فرار ہو چکی ہے - مودی

Comments : 0
کانگریس میدان جنگ سے فرار ہو چکی ہے - مودی
اونا،کلو
پی ٹی آئی
ہماچل پردیش انتخابات کو یکطرفہ مقابلہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کانگریس پر میدان جنگ سے فرار ہوجانے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں پچھتائے گی۔ہماچل پردیش میں سلسلہ وار انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے یہ بھی کہا کہ نوٹ بندی کے ایک سال کی تکمیل کے موقع پر احتجاج کرنے کانگریس کی اپیل سے ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کے پتلے جلانے سے پارٹی انہیں کرپشن اور کالے دھن کے خلاف لڑائی کو آگے بڑھانے سے نہیں روک سکتی۔ انہوںنے کہا کہ کانگریس میدان چھوڑ کر بھاگ چکی ہے ۔ یہ انتخاب اب یکطرفہ بن چکا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ میں کانگریس کے ہمارے بھائیوں کے درد کو سمجھ سکتا ہوں ۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک چائے والا وزیر اعظم بن گیا ہے ۔ ان کے غریب ماں کا بیٹا اس سطح تک پہنچ چکا ہے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے یہ عہدہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیا ہے لیکن عوام سب کچھ جانتے ہیں۔
نئی دہلی
پی ٹی آئی
نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج نریندر مودی کی حکومت سے کہا کہ وہ کھوکھلی تقاریر بند کرے اور مہنگائی کی روک تھام نہ کرسکتی ہو روزگار نہ دے سکتی ہو تو مستعفی ہوجائے ۔ راہول نے جو ٹویٹر پرتاخیر سے سر گرم ہوگئے ہیں مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر ٹوئٹ کیا ’’مہنگی گیس، مہنگا راشن، بند کرو کھوکھلا بھاشن، دام باندھو ، کام دو ورنہ خالی کرو سنگھاسن۔ ٹویٹ کے ساتھ انہوں نے پکوان گیس اور دیگر اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کی نیوز رپورٹ جوڑی۔ یو این آئی کے بموجب نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے مہنگائی کے مسئلہ پر نریندر مودی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ وزیر اعظم مہنگائی پر قابو پائیں یا اپنا سنگھاسن(تخت) خالی کردیں۔ چہار شنبہ کے دن تیل کمپنیوں نے قیمتوں میں جو اضافہ کیا اس کے حوالہ سے کانگریس قائد نے ہندی میں ٹویٹ کیا۔ کہ پکوان گیس مہنگی ہوگئی ، راشن مہنگا ہوگیا ، کھوکھلی تقریریں بند کیجئے، روزگار دیجئے یا سنگھاسن چھوڑ دیجئے۔ پکوان گیس سلنڈر کی قیمت میں4.50پیسے اور بغیر سبسیڈی والے سلینڈر کی قیمت میں 93روپے کا اضافہ ہوا تھا۔
Congress Has Run Away From The Battlefield, Says PM Modi

کمل ہاسن نے سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کردیا
تنقید برداشت نہیں کرنے والے میری جان لینا چاہتے ہیں: اداکار
چینائی
آئی اے این ایس
اپنے سیاست میں داخلہ کی توثیق کرتے ہوئے کمل ہاسن نے بتایا کہ پہلا مرحلہ7نومبر کو63ویں سالگرہ کے موقع پر موبائل سافٹ ویر ایرپ کا آغاز ہوگا جس سے وہ اپ نے مداحوں سے رابطہ میں ہوں گے۔ مداحوں ، ویلفیر کلب کی39ویں تقریب کے موقع پر انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعت شروع کرتے ہوئے سیاست میں داخلہ کی وہ توثیق کرتے ہیں۔ ہاسن نے کہا کہ سیاسی جماعت کا آغاز خاموشی کے ساتھ ہوگا ۔ موبائل ایپ کا آغاز جو7نومبر کو ہوگا پہلا قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مداح سیاسی جماعت کے لئے فنڈ جمع کریں گے اور موبائل ایپ فنڈس کی موزوں وصولی میں سہولت پیدا کرے گا ۔ ان کے بموجب عوام کی بہبود کے لئے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا شرم کی بات نہیں ہے۔ اگر صرف دولت مند آدمی ٹھیک طرح سے ٹیکس ادا کرے تو ملک سیدھے راستے پر ہوگا ۔ کمل ہاسن نے کہا کہ7نومبر کو کیک کاٹنے، جشن منانے کا دن نہیں ہے، بلکہ نہریں کھودنے کا دن ہے ۔ وہ دراصل حالیہ بارش کے دوران کئی مقامات پر سیلاب کا حوالہ دے رہے تھے ۔ اداکار نے مزید کہا کہ آفات سماوی غریب اور امیر میں تمیز نہیں کرتے ۔ تمام کو اپنے چہیتے لوگوں کی جانوں کے نقصان کے بعد کام کرنے کے بجائے احتیاطی اقدامات کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ظلم و ستم سیاست کا حصہ بن گیا ہے ۔ یہ اہم نہیں ہے کہ کتنے آدمی آپ کو دھمکی دے رہے ہیں بلکہ جو بات اہم ہے وہ یہ کہ آپ کیا کررہے ہیں ۔ قبل ازیں موصولہ علیحدہ اطلاع کے مطابق معروف اداکار کمل ہاسن نے اپنے مخالفین کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو تنقید کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتے ، اب وہ ان کی جان لینا چاہتے ہیں۔کمل ہاسن نے کسانوں کے ایک گروپ کو خطاب کرتے ہوئے کہ اکہ اگر ہم ان پر سوال اٹھاتے ہیں تو وہ ہمیں ملک مخالف قرار دیتے ہیں اور جیل بھیجنا چاہتے ہیں۔ اب چونکہ جیلوں میں تو کوئی خالی جگہ نہیں ہے ، اس لئے وہ ہمیں گولی مار کر ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ باتیں اکھل بھارتیہ ہندو مہا سبھا کے نائب صدر اشوک شرما کے بیان کے جواب میں کہیں۔ شرما نے کمل ہاسن کو ہندو دہشت گردی سے متعلق مضمون لکھنے پر کہا تھا کہ ان کے جیسے لوگوں کو گوی ماردی جانی چاہئے ۔

0 comments:

Post a Comment