Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-10-11 - بوقت: 20:24

مطالعہ و کتب بینی بمقابل سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ

Comments : 0
reading-habit
ادریس آزاد صاحب لکھتے ہیں کہ فیس بک سنجیدہ مطالعہ کی جگہ نہیں اور کتاب کی جگہ تو لے ہی نہیں سکتی۔ ہم کہتے ہیں کہ جو مزہ صوفے پر الٹا سیدھا پڑ کر یا مسہری اور دیوار کے بیچ ایک تنگ سی جگہ میں اکڑوں بیٹھ کر کتاب میں غرق ہونے کا ہے، وہ چھوٹے سے موبائل فون یا بھاری سے لیپ ٹاپ کی چمکتی سکرین پر نظریں جما کر پڑھنے کی کوشش میں کہاں؟ اس پر مستزاد یہ کہ ہر تھوڑی دیر کے بعد کوئی نہ کوئی کھڑکی کھلتی ہے، کسی کا پیغام ہے، کوئی نوٹفیکیشن ہے، ذھن بھٹک کر کسی اور لنک کی طرف جاتا ہے۔ یہ تحریر پڑھ لی جائے یا کسی اور بلاگ کے لنک کو بھی ساتھ ہی کھول کر "skimming" کر لی جائے یا پھر کسی چاہنے والے یا ہر گز نا چاہنے والے کی پوسٹ پر کوئی تائیدی یا اختلافی کومنٹ کر دیا جائے؟ یہ بھی ہے کہ خصوصا فیس بک پرکوئی پوسٹ یا بلاگ پانچ چھ سطروں سے زیادہ طویل ہو جائے تو توجہ مرکوز کرنا مشکل ہوتا ہے۔
کتاب کی عیاشی اور چیز ہے۔ ناول کی ضخامت سے مطالعے کے شوقین قاری کو کبھی گھبراتے نہیں دیکھا۔ پانچ چھ سو صفحات پر مشتمل ناول ایک رات نہیں تو دو چار کاموں میں ڈنڈی مار کر چند گھنٹے دن کے بھی لگا کر دو تین راتوں میں ختم کر ہی لئے جاتے ہیں۔ ذرا "اعلی درجے " کا ناول ہو یا کوئی سنجیدہ کتاب ہو تو سرہانے رکھ کر بیس پچیس صفحات روز کے پڑھ لینا کچھ ایسا مشکل نہیں معلوم ہوتا تھا۔ اب تو حال یہ ہے کہ احباب منہ بنا کر کہتے ہیں ، :ذرا مختصرا اس کتاب یا تحریر کا لب لباب بیان کر دیجیے۔
ارے صاحب ! ہمارے نزدیک مطالعہ کا مقصد صرف "سبق" یا " حاصل کلام" جان لینا نہیں ہوتا۔ یہ تو الفاظ کے نگینوں ، خیالات کے جمال اور اسلوب بیان کی رنگینی سے مزین ایک جادوئی دنیا کا سفر ہے۔ جس کے ہر جلوے سے آپ محظوظ ہوتے ہیں۔ اچھی تحریر کو آپ "skim" یا "سکپ" کر کے کیسے پڑھ سکتے ہیں؟ نشاط تو "حاصل کلام" سے نہیں بلکہ رعنائ کلام سے کشید کیا جاتا ہے۔ مولانا مناظر احسن گیلانی کی "النبی الخاتم" صلی اللہ وسلم ، " اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات" ، "تدبر القران" ، "سید بادشاہ کا قافلہ" ، " سفینہ غم دل" ، " ہاوسنگ سوسائٹی" ، آنگن" ، "دن اور داستان"، " سیاہ حاشیے" ، ابن انشا اور یوسفی اور ایک طویل فہرست ہے کہ آپ دم سادھے پڑھتے جاتے ہیں۔ الفاظ آپ کی انگلی پکڑے آپ کو کہاں کہاں لے جاتے ہیں۔ کن کن دنیاؤں کی سیر کرواتے ہیں، اور آپ کو چھو کر بھی یہ بے ہودہ خیال نہیں گزرتا کہ براہ کرم کوئی چند جملوں میں اس کتاب کا حاصل مطالعہ بتا دے تاکہ ہم بھی کہہ سکیں کہ ہمیں پتہ ہے کہ اس کتاب میں لکھا کیا ہے!
سنجیدہ کتاب پڑھتے ہوے سب سے اہم سرگرمی جسے ای بک میں نہ کر سکنے کی الجھن قایم رہتی ہے، وہ ہے قلم لے پڑھنا۔ اہم جملوں اور پیراگراف کو نشان زد کرتے، حاشیے لکھتے، کہیں سوالات لکھتے، کتنی ہی کتابیں پہلے سے زیادہ قیمتی ہو جاتی ہیں۔
اور پھر جس کو کھانا تناول کرتے وقت کتاب پر نظریں جمائے رکھنے کی لت ہو ، اس کے دل میں ای بک کے لئے کینہ ضرور ہوتا ہے۔ نہ آپ لیپ ٹاپ کو موڑ سکتے ہیں، نا پلیٹ کے نیچے آدھی کتاب کی طرح دبا کر ایک ہاتھ سے نوالہ منہ کی جانب لے جاتے ہوے اس چند سیکنڈ کی فراغت کو تیزی سے دوسرے ہاتھ سے صفحہ پلٹنے کی سرگرمی میں استعمال کر سکتے ہیں ۔ نہ ہی چائے کی پیالی پکڑنے کی کوشش کے دوران قلم، چمچہ ، مڑا ہوا کاغذ یا بسکٹوں کی پلیٹ کو بوقت ضرورت "بک مارک" کے طور پر استعمال کرنے کی نوبت آپاتی ہے۔
وہ زمانے تو لد ہی گئے جب گھر والوں سے چھپ کر سٹور میں لحافوں کے ڈھیر پر دبک کر کتاب پڑھی جاتی تھی، یا اونچی کتابوں کی الماری پر لٹکے لٹکے ایک چوتھائی کتاب پر سرسری نظریں دوڑا کر جائزہ لے لیا جاتا تھا کہ اس کتاب سے دوپہر کے کھانے کے ساتھ لازم چٹنی یا اچار کے طور پر لطف لیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟
پاکستان سے انے والے کتابوں کے پارسل میں سب سے قیمتی دو کتب ہیں۔ ایک تو "لمحات" ( خرم مراد )اور دوسری "گردش رنگ چمن " (قرۃ العین حیدر )۔ قیمتی ہونے کی دلیل کے طور پر ویسے تو نام ہی کافی ہے، مگرپھر بھی عرض کیے دیتے ہیں کہ ان کے قیمتی اور محبوب ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ یہ امی کے خزانے سے فرمائشی طور پر منگوائی گئی دو ان حسین و جمیل کتب میں سے ہیں جن کے اوراق سالخوردہ اور پیلے پیلے سے ہیں۔ امی کی مسہری کے نیچے گتے کے کارٹنوں میں کتابیں بھری ہوتی تھیں۔ کبھی بارش کا پانی کمرے تک آجاے تو یہ کارٹن بھیگ جاتے تھے، جس کے سبب کچھ کتابوں کے بوسیدہ زرد اوراق پر پانی کے دھبے اور شکنیں ابھراتی تھیں۔ ہمیں ایسی کتابیں انتہائی رومانوی معلوم ہوتی ہیں۔ گزری صدیوں کی شاندار اور پراسرار عمارتوں کی طرح جن کے بھاری مگر آرٹسٹک نقوش امتداد زمانہ کے سبب دھندھلا کر کچھ اور بھی پراسرار اور رومانی لگنے لگتے ہیں۔ یہ دو کتب انہی کتب کی قبیل سے ہیں۔ " گردش رنگ چمن " کی جلد ایک جگہ سے پھٹی ہوئی ہے، جس نے اس کے قدیم دیو مالائی حسن کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ بھلا بتایے ، فیس بک یا ای بک میں ایسی جمالیاتی تسکیں کہاں سے میسر آئے؟
البتہ ایسا بھی نہیں کہ فیس بک کی تحریروں یا بلاگوں کا کوئی فائدہ ہی نہ ہو۔ بات یہ ہے کہ اگرچہ فیس بک اور بلاگ مطالعے سے زیادہ مکالمے اور گفتگو کے میدان ہیں، ہم ایسے لائبریری سے بچھڑے حسرت زدہ متاثرین کے لئے انٹرنیٹ ہی مطالعہ اور کتب بینی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ پھر اگر آپ نے اپنی نیوز فیڈ ذرا قابو میں رکھی ہوئی ہو، تو کافی حد تک پڑھنے لکھنے والوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ متفرق موضوعات پر لوگ کس طرح سوچ رہے ہیں، کون کون سی مختلف اور متضاد ارا موجود ہیں، ان سب کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
یہ بھی ہےکہ جن کو پڑھنے کی "لت" لگی ہو، وہ یہ کہاں دیکھتے ہیں کہ کہاں لکھا ہے؟ کتنا طویل ، کتنا مختصر یا کس قدر ادھورا لکھا ہے؟
پڑھنے کے کیڑے تو وہ ہوتے ہیں جو تندور کی روٹی اور بازار کی تلی مچھلی کو لپیٹے آدھے ادھورے اخبار سے لے کر، کریانے سے لائی دال کو سنبھالے لفافے کی تہیں کھول کر، ٹوتھ پیسٹ اور شیمپو کے ڈبوں پر لکھی ہدایات تک سب چاٹ جاتے ہیں۔
ایسے میں فیس بک کی آدھی ادھوری، چند سطروں سے لے کر طویل پوسٹیں دلچسپی رکھنے والوں کی توجہ ضرور اپنی طرف مبذول کرتی ہیں۔ خصوصا کچھ صاحبان علم کی طویل و مختصر دونوں قسم کی تحریروں سے فائدہ ہوتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم جیسوں کے لئے یہ صرف نفس مضمون ہی نہیں بلکہ صاحب مضمون کے "مطالعے" کا ذریعہ بھی ہوتی ہیں۔
فیس بک اور انٹرنیٹ کتب بینی کا متبادل نہیں ہیں۔ سنجیدہ اور ارتکاز کے ساتھ مطالعہ کی عادت دوبارہ ڈالنی چاہیے جو ہماری زندگیوں میں آلات کے غیر ضروری حد تک بڑھ جانے کے سبب ازحد متاثر ہو رہی ہے۔ البتہ ہمارے نزدیک مقابلہ برقیاتی اور ورقیاتی تحریروں کے بیچ نہیں ، بلکہ اصل امتحان یہ ہے کہ لوگ اب پڑھنے کے بجائے "سننے" اور "دیکھنے" کو فوقیت دینے لگے ہیں۔ احباب منہ بنا کر کہتے ہیں اس موضوع پر کوئی "لیکچر" یا "فلم" مل سکتی ہے تو بتائیے۔ ایک چلنج یہ ہے کہ پڑھنے کی عادت ختم ہوجانے کے سبب بہت سے الفاظ و تراکیب نامانوس ہونے لگے ہیں۔ اچھے خاصے آسان سے ایسے الفاظ جو پڑھ کر سیکھے جانے کے بعد روز مرہ کی گفتگو میں مستعمل ہو سکتے ہیں، اب متروک ہونے لگے ہیں۔
لوگ باگ پوچھتے ہیں "جاڑا" کیا ہوتا ہے؟ "عنابی اور بنفشی" رنگ کیسا ہوتا ہے؟ "زود رنج" کا کیا مطلب ہے؟ "ثریا" کس شے کا نام ہے؟ آپ "پت جھڑ" کیوں کہتی ہیں؟
اس نہ پڑھنے کی وجہ سے "طشت ازبام ہونا" کو روز مرہ گفتگو کے کسی جملے میں استعمال کرنے کی بے قراری اب کہاں ہوتی ہے؟

Reading habit and social media networking. - Article: Jawaria Saeed

0 comments:

Post a Comment