Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-10-17 - بوقت: 15:47

مکالمہ - ہندوستان میں مدارس کی موجودہ صورتحال

Comments : 0
madrasa-education-in-India
28 سالہ محمد علم اللہ کا تعلق جھارکھنڈ کے ضلع رانچی سے ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے تواریخ کے مضمون میں گریجویشن کے بعد ماس کمیونیکشن اینڈ جنرنلزم میں ایم اے کیا۔ لکھنے پڑھنے کے شوقین ہیں۔ اسی لیے میدان صحافت کا انتخاب کیا۔ ہندُستان ایکسپریس، صحافت، خبریں، جدید خبر میں نامہ نگاری، فیچر رائٹنگ، کالم نگاری، تراجم کرتے آئے ہیں۔ گزشتہ ایک برس سے ای ٹی وی اردو میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے فرائض نبھا رہے ہیں۔ ڈاکیومینٹری فلم بنانے کے علاوہ سفرنامے لکھے، کبھی کبھار کہانی بھی لکھتے ہیں۔

مقطع میں آ پڑی ہے، سخن گسترانہ بات
مقصود اس سے قطعِ محبت نہیں مجھے

گزشتہ دنوں میں نے بین الاقوامی امور سے متعلق گفتگو پر اپنے ایک دوست کے کمنٹ جس میں اس نے مدارس سے فارغ طلبا کو بارہویں کے مماثل قرار دیا تھا اپنی حمایت درج کراتے ہوئے یہ بات کہی کہ آپ نے تو پھر بھی بارہویں کہہ کر لاج رکھ لی ورنہ سچی بات تو یہ ہے کہ وہ ’ریاستی نصاب‘ کے آٹھویں درجہ کی بھی اہلیت نہیں رکھتے؟ اس پر کچھ احباب بہت زیادہ چراغ پا ہوگئے اور کچھ لوگ تو یہاں تک تبصرہ کر گئے کہ آپ جیسے لوگوں ہی نے مدارس کو بدنام کیا ہوا ہے، اور یہ کہ آپ جیسے لوگ دراصل احساس کم تری کے شکار ہیں جو اسی تھالی میں چھید کرنے کا کام کرتے ہیں جس میں کھاتے ہیں وغیرہ۔

میں نے یہ جاننے کے لیے کہ جدید کہے جانے والے مدارس کے پروردہ فضلا کا اس بارے میں کیا خیال ہے، اس گفتگو کو مدرسۃ الاصلاح سرائے میر اعظم گڑھ کے ایک واٹس ایپ گروپ پر ڈال دیا جہاں منتظمین مدرسہ سے وابستہ کئی افراد کے علاوہ دنیا بھر میں کام کرنے والے فضلا کی ایک معتدبہ تعداد موجود ہے، مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ جس مدرسہ کو جدید اور قدیم کا حسین سنگم کہا جاتا ہے اور علامہ شبلی نے ندوہ سے نامرادی اور مایوسی کے بعد جس ادارہ کو اپنے خوابوں کا مرکز تصور کیا تھا اور جس مدرسے میں رات دن درس نظامی اور اس سے متعلق نصاب کو لعن طعن اور طنز و تعریض کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اس کے فارغین نے درس نظامی کے پروردہ سے کہیں زیادہ خطرناک رد عمل کا اظہار کیا اور بعض کے پاس جب کوئی جواب نہیں بن پڑا تو ذاتیات پر اتر آئے، بعض احباب نے میرے اوپر علمیت جھاڑنے، فلسفہ بگھاڑنے، مدارس کو حقیر ٹھیرانے اور اس کی حقیقت سے منکر ہونے کا الزام عاید کیا۔

یہاں پر یہ بات عرض کرتا چلوں کہ ان میں سے قطعا میرا کوئی بھی مقصد نہیں ہے۔ ہاں سوچنے کا انداز الگ ہو سکتا ہے۔ جس طرح سے آپ کو اپنی بات کہنے کا حق ہے اسی طرح مجھے بھی ہے اور جس طرح سے آپ اسلام، مسلمان اور کلمہ حق کی سر بلندی چاہتے ہیں ہم بھی وہی چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ان کا حق ملے، مسلمان سر اٹھا کر جئیں، کس مپرسی، مقہوری، مجبوری کے رویہ سے باہر نکلیں۔ کسی چیز کے بارے میں تلخ رائے کا اظہار کرنے کا مقصد قطعا یہ نہیں ہوتا کہ اس کو ذلیل کریں یا اس کو نیچا دکھائیں بلکہ مقصد آئنہ دکھانا ہوتا ہے، تا کہ ہم اس کو اور بہتر کریں اور اس میں کوئی نقص نہ رہنے پائے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں ذرا آئنہ دکھاتے ہی لوگ ٹوٹ پڑتے ہیں، بھوکے گدھ کی طرح سے نوچنا شروع کر دیتے ہیں اور کچھ کہنے والا بے چارہ یا تو خاموش رہنے میں عافیت سمجھتا ہے یا پھر کفر کا فتویٰ لگوا کر اپنے آپ کو عتاب کا شکار بنا لیتا ہے، اب جب کہ مجھے عتاب کا شکار بنا ہی دیا گیا ہے تو مناسب سمجھتا ہوں کہ ان احساسات کا بھی ذکر کر دوں جن کے بارے میں میں اکثر سوچتا رہتا ہوں۔

ہندوستان میں کئی لاکھ مدارس ہیں اور ان لاکھوں مدارس سے اگر ایک ایک بھی فرض کر لیں تو ہر سال کئی لاکھ فارغین نکلتے ہوں گے۔ آخر وہ کہاں جاتے ہیں اور کیا کرتے ہیں؟ کیا انھیں زمین نگل لیتی ہے یا آسمان اچک لیتا ہے؟ ایسے لاکھوں پروڈکٹس کی کھپت کہاں ہے؟ پھر ہم اچھے لکھاری، اچھے داعی، اچھے قائد، اچھے مفسر، اچھے محدث، اچھے موذن، اچھے خطیب کا رونا کیوں روتے رہتے ہیں؟ شاید رونا ہماری فطرت بن گئی ہے یا پھر ہم حقیقت کو قبول کرنے کی ہمت ہی نہیں رکھتے۔ میں مدارس پر تنقید نہیں کر رہا ہوں یا ان کی محدود افادیت سے انکار بھی نہیں کر رہا۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہم اس سے ہزار، بلکہ لاکھ گنا بہتر رزلٹ دے سکتے تھے جو ابھی دے رہے ہیں۔ لیکن شاید ہم چاہتے ہی نہیں رزلٹ دینا، ہمارا مقصد صرف رونا اور اپنی حسرت و ناکامی پر آنسو بہانا رہ گیا ہے۔

جس وقت ملک میں مشنریاں اپنے کام کا آغاز کر رہی تھیں، ہماری اس سے پہلے سے جڑیں مضبوط تھیں۔ لیکن اس کے بعد ہمیں کیا ہوگیا کہ ہم مستقل پھسلتے ہی چلے گئے۔ آپ خود دیکھیے آرایس ایس اور اس طرح کی باطل فکر رکھنے والے افراد نے بہت بعد میں کام شروع کیا اور وہ ہر جگہ اپنے افراد کو بٹھانے میں کامیاب ہو گئے۔ فوج ہو، عدالت ہو، صحافت ہو، سفارت ہو، کون سا ایسا میدان ہے جس میں انھوں نے کامیابی حاصل نہیں کی۔ ماہرین تعلیم ان کے یہاں، ماہرین نفسیات ان کے یہاں، ہر رنگ اور ہر قبیل کے ریسرچر ان کے یہاں۔

ایک بات مجھے اکثر کچوکے لگاتی ہے۔ جس ملک میں ہم رہتے ہیں اس میں ہماری یعنی اہل مدارس کی کتنی حصہ داری ہے؟ کیا ہم واقعی ریاست سے جڑے ہوئے ہیں؟ اگر ہم ایمان داری سے اس کا جواب تلاش کریں تو بات بالکل نفی میں ہوگی۔ پھر یہاں پر سوال پیدا ہوگا کہ مثبت کیوں نہیں منفی ہی کیوں؟ تو اس کا جواب اس کے علاوہ اور کیا دیا جا سکتا ہے کہ ہم جو بوئیں گے وہیں کاٹیں گے بھی۔ اس سلسلے میں ہم درس نظامی یا اس سے متعلق اداروں کے بارے میں فی الحال بات نہ کرکے ان اداروں کی بابت بات کرنا مناسب سمجھتے ہیں جو خود کو روشن خیال اور قدیم و جدید کا حسین سنگم قرار دیتی ہیں۔ اتفاق سے میری ابتدائی تعلیم بھی ویسے ہی ایک ادارہ سے ہوئی ہے اس کے بعد بھی کئی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا، جہاں مجھے ان رویوں کو بہت قریب سے جاننے کا اتفاق ہوا اور میں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ ایسی بہت ساری باتیں جن کے بارے میں دوسرے لوگ بولتے ہیں اور جن کی بنیاد پرمدارس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ان کی ساری باتیں غلط بھی نہیں ہیں۔

آئیے! آج انھی میں سے چند باتوں کا ذکر کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم حصہ داری کی بات کریں گے اور اس میں بھی گفتگو کا آغاز انتہائی جدید سوچ کے حامل مدرسے سے کریں گے جہاں سے میری اپنی تعلیم ہوئی ہے یعنی ’مدرسۃ الاصلاح‘ کی۔ جب تک میں مدرسے میں تھا معلوم ہی نہیں تھا کہ دنیا کیا چیز ہے؟ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہم ایک دشمن ملک میں رہ رہے ہیں، اور مسلمانوں کو چھوڑ کر سارے ہندو ہمارے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ حکومت کیا ہے ہمیں نہیں معلوم تھا؟ ریاست کیا چیز ہے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتا تھا؟ ہندوستان جہاں ہم رہ رہے ہیں وہ کیسے چلتا ہے؟ وفاقی حکومت ہے یا عمرانی؟ ہماری اس میں کیا ذمہ داری ہے؟ حکومت ہمارے لیے کیا کر رہی ہے؟ اس بارے میں کبھی بتایا ہی نہیں گیا۔ ہاں بتایا گیا تو یہ کہ حکومت کی ساری اسکیمیں مسلمانوں کے خلاف بنتی ہیں۔ حکومت سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔ الغرض حکومت اور اسٹیٹ کے بارے میں ایسا بتایا جاتا تھا کہ ہم کسی اور ملک میں رہ رہے ہیں اور پورا نظام ہمارے خلاف ہے۔ یہ تو اس ادارے کا حال تھا جو خود کو انتہائی جدید کہنے کا دعوے دار ہے۔ اب آپ اندازہ لگائیے کہ جہاں سیکڑوں سالہ قدیم نصاب پڑھایا جا رہا ہے وہ کیا سیکھتے ہوں گے اور ان کو ملک کے بارے میں کیا پتا ہوتا ہوگا۔

میں سمجھتا ہوں کہ دیگر مدارس کی حالت اس سے کم بد تر نہیں ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم آج ملک میں حاشیے پر جا چکے ہیں۔ وہ تو جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور ان جیسے دوسرے اداروں کا احسان ہے کہ مدارس سے فارغ طلبا کو ان اداروں میں داخلہ مل جاتا ہے اور ان میں سے کچھ ان چیزوں کے بارے میں جان جاتے ہیں، ورنہ مجموعی طور پر حالت ایسی ہی رہتی ہے، پھر اس کے بعد بھی ہم شکوہ کناں ہیں کہ ہمیں اچھے لیڈر نہیں ملتے، مرکزی دھارے سے ہمیں کاٹ دیا گیا ہے وغیرہ۔ آپ خود سوچیے کہ جہاں فکر و خیال کو ایک خاص سمت میں تربیت دی جا رہی ہے تووہاں سے کس طرح ایسے افراد نکلیں گے جو آپ کی قیادت یا رہنمائی کر سکیں۔ میں نے عرصہ پہلے تہیہ کر لیا تھا کہ مذہبی امور یا ان سے وابستہ مسائل پر نہیں لکھوں گا، ہاں ان مسائل پر ایک ناول کا خاکہ تقریبا تین سال قبل بنایا تھا اور اپنے کیریکٹر کی زبانی ان احساسات کو بیان کرنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر کبھی کبھی درد اس قدر شدت اختیار کر جاتا ہے کہ چیخ خود بخود نکل جاتی ہے۔ آپ اس کو میرا درد ہی کہہ سکتے ہیں، اس میں بھی ابھی میں نے محض ایک نکتے کو بیان کیا ہے۔ جیسے جیسے وقت ملتا جائے گا آگے لکھتا جاؤں گا۔

*****

46 سالہ ریاض الدین سنابلی کا تعلق اترپردیش کے ضلع سدھارتھ نگر سے ہے۔ سراج العلوم (جھنڈا نگر) اور جامعہ اسلامیہ سنابل سے مدرسہ تعلیم کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن اور دہلی یونیورسٹی سے ایم۔اے کی تکمیل کی۔ بعد از تعلیم کچھ ماہ ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب کے ساتھ کام کیا، پھر کچھ عرصہ شامی سفارت خانہ میں ملازمت کی۔ بعد ازاں دبئی میں کئی سال ایک کمپنی میں مختلف عہدوں پر برسرکار رہے۔ فی الحال سعودی قونصلیٹ، ممبئی میں بطور مترجم کے ساتھ ساتھ ممبئی یونیورسٹی میں عربی میں ایڈوانس ڈپلوما کی تدریس کا فریضہ بھی انجام دے رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے علاوہ سوریا، مصر، جرمنی، ہالینڈ ، بیلجیم، فرانس کے اسفار کا تجربہ رہا ہے۔ اردو، عربی اور انگریزی زبان و ادب کے ساتھ ، عربی ثقافت و سیاست پر گہری نظر ہے۔

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
متذکرہ مضمون پڑھ کر اس قدر حیرانی ہوئی کہ اس کے جواب کی شروعات کہاں سے کروں؟ سب کچھ بھلا بیٹھا۔ بھلا ہو چچا غالب کا کہ انہوں نے ٹہوکا دیا اور یہ خوبصورت شعر میرے سامنے آ کر مجسم کھڑا ہو گیا۔
مدارس کی درجہ بندی کا تعین اور وہاں کے قدیم سانچے میں ڈھل کر نکلنے والے فارغین کی رینکنگ Ranking کا معیار وضع کر کے فاضل مضمون نگار نے جس طرح خود کو بڑی صفائی سے نکال لیا، وہ اسلوب بڑے کمال کا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ قلمکار محترم حالات کا جائزہ لیتے ، مدرسۃ الاصلاح سے صرف ایک قدم آگے جامعۃ الفلاح کا بھی درشن کر لیتے، چند ثانیے استراحت فرما کر وہاں کے اساتذہ اور طلبہ سے کچھ دیر گفتگو کر لیتے تو شاید منہ کا مزا بدل جاتا۔
فلاح کے طلبہ سے کچھ سوالات کرتے کچھ ان کے بھی پریشان سوالوں کے جوابات دیتے تو اس قدر مایوسی نہ ہوتی، پھر چند میل کے فاصلے پر شہر بنارس جا کر جامعہ سلفیہ کے بچوں سے بات کرتے اور اس احاطے میں موجود کچھ علم کے مناروں سے روشنی اخذ کرتے، مقتدی حسن ازھری اور رئیس الاحرار کے روضے سے چند خوشنما پھول چن لیتے تو شاید دل وحشی کو سکون میسر آ جاتا اور جناب کی تلخی میں کچھ مٹھاس در آتی۔ دلی کے سات سواروں میں نام لکھانے سے پیشتر لکھنو شہر میں رک کر گومتی کے کنارے ندوہ میں کچھ دیر کے لیے سستا لیتے تو کیا حرج ہو جاتا؟ کچھ اور نہیں تو یہی سوچ کر رک جاتے کہ یہی وہ ادارہ ہے جسے شبلی اپنے خوابوں کی تعبیر بنانا چاہتے تھے اور علی میاں نے یہیں کے آب و گل سے اپنا خمیر تیار کیا تھا، جہاں سید سلیمان ندوی اور آسمان علم وادب پر نہ جانے کتنے دمکتے روشن چاند ستاروں نے قیام کیا تھا۔ رک کر کچھ دیر وہاں کی عظمت رفتہ کو سلام کرتے، وہاں موجود طلبہ سے ہمکلام ہوتے کچھ تو رازہائے سر بستہ کھلتے۔ خیر کوئی بات نہیں عجلت تھی دلی پہنچنے کی اور دلی پہنچ بھی گئے، وہیں جامعہ ملیہ سے متصل سنابل کی سیر کر لیتے، وہاں کے طلبہ سے بھی تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی مکالمہ کر لیتے تو ممکن تھا اطمینان قلب حاصل ہو جاتا۔
فاضل مضمون نگار کو شکایت ہے کہ یہ مدارس ڈھنگ کا عالم، موذن، امام اور مدرس تک نہیں پیدا کرتے! کاش جناب والا یہ محسوس کرنے کی زحمت کرتے کہ آج ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کا بھرم جو ہے انہیں کے دم بدم سے تو ہے:
لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہلِ زمانہ! قدر کرو نایاب نہ ہوں، کمیاب ہیں ہم

بہت سارے لوگ جو بینکنگ سے لے کر بزنس مینیجمنٹ کی دنیا اور مسند درس سے لے کر ماس کمیونیکیشن وغیرہ جیسے مختلف و متنوع شعبہ جات میں کلیدی رول ادا کر رہے ہیں وہ انہیں مدرسوں کے مرہون منت ہیں۔ اسکے باوجود اگر مایوسی کسی کی مقدر ہو تو اسکا گلہ کیوں کر کریں اس پر تو رحم آنا چاہیے۔

درحقیقت مدارس کا المیہ اور وہاں سے لاکھوں کی تعداد میں نکلنے والوں کا مرثیہ پڑھنا ہمارے خودساختہ دانشوروں کا مشغلہ بن گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا معترض محترم اگر اپنے ہی تشخیص کردہ امراض کا درماں بن کر کچھ مداوا کرتے۔ مدارس کے طلبہ کو معزز قلمکار نے اسقدر ڈاؤن گریڈ کیا کہ انہیں آٹھویں کلاس کے بچوں سے بھی پیچھے دھکیل دیا۔ صرف اس لیے کہ وہ ملک کا دستور نہیں جانتے، حکومت اور ریاست کی تعریف سے نابلد ہیں اور وفاقی و عمرانی حکومتوں کے فرق سے ناواقف ہیں!
مجھے افسوس ہے کہ انہوں نے مدرسے کے بچوں کا جائزہ لیا اور انکی جہالت پر مہر ثبت کر دی!
میں یہ ضرور پوچھنا چاہوں گا کہ کیا جناب کو سرکاری اور پرائویٹ اسکولوں کے طلبہ سے بات چیت کی توفیق ہوئی؟ ان بچوں سے ان سولات کا منطقی اور تشفی بخش جواب مل گیا؟ ظاہر ہے انہوں نے ان سے ربط ہی نہیں کیا ! اگر کیا ہوتا تو مایوسی دوگنی ہوتی!

مدارس کا نصاب بدلنا ضروری ہے۔ وہاں کا نظم و ضبط درست کرنا اس سے زیادہ ضروری ہے لیکن کیا صرف ہماری یونہی انگشت نمائی سے تبدیلی کا مُصلح کُل معرض وجود میں آ جائےگا؟
ہرگز نہیں!
بہت سارے لوگوں نے لائحہ عمل تیار کیا اور سنجیدگی سے اس موضوع پر عملی کام بھی کیا مگر حکومتی سطح پر کوئی مثبت اور تعمیری اقدام نہ ہونے کی وجہ سے کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی۔ اسکی ایک وجہ تو حکومت کے تئیں مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی اور اپنے تشخص کو کھو دینے کا اندیشہ ہے جو آئے دن رونما ہونے والے واقعات سے مزید مستحکم ہو جاتا ہے۔ ایسی بے اطمینانی اور خوف و ہراس کے ماحول میں مسلم دینی اداروں میں گراس روٹ لیول کی تبدیلی لانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

کوئی بھی باشعور اور مدارس کے اندرون خانہ سے واقف شخص اس بات کی تصدیق کرنا تو دور اس کا گمان بھی نہیں کر سکتا کہ اہل مدرسہ بچوں کو وطن مخالف بناتے ہیں یا حکومت کے خلاف ان کی ذہن سازی کرتے ہیں یا ملک کے دوسرے ہم وطنوں کے خلاف اکساتے ہیں۔
میرا بھی تعلق مدرسے سے رہا ہے اور بعد میں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی یونیورسٹی کا طالبعلم رہا ہوں۔ میں نے اس قسم کی بات نہ سنی نہ دیکھی۔ اب انہیں شکایت کہ ان کی تکفیر ہو رہی ہے اور برا بھلا کہا جارہا ہے تو بھائی! اپ اگر بیل کو دعوت مبارزت دے کر کہیں کہ آ بیل مجھے مار تو وہ تو مارے گا ہی اور آپ کو تکلیف بھی ہوگی۔ بعینہ آپ جب کسی کمیونٹی پر بہتان تراشی کریں گے تو ردعمل کے طور پر وہ صلوات ہی سنائے گا گلپاشی کرنے سے رہا۔

سستی شہرت کا متلاشی بننا کتنا آسان ہے۔ چونکہ لوگ طعنِ اغیار تو سہہ لیتے ہیں لیکن اپنوں کی یلغار کے سامنے سپر ڈال دیتے ہیں اور احتجاج شروع کر دیتے ہیں۔ پھر مخالفین جو عناد سے چور ہوتے ہیں ایسے لوگوں کی حمایت پر اتر آتے ہیں اور بسا اوقات حکومت بھی ایک ٹکڑا ڈال دیتی ہے اور ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔

ائنیہ شوق سے دکھائیں تنقید بھرپور کریں لیکن کسی کی دلازاری نہ ہو، کسی کی ذات مخدوش نہ ہو بلکہ اصلاح کا پہلو دامن گیر ہو تعمیر کا جذبہ مضمر ہو ۔ کلیم عاجز نے بڑی اچھی بات کہی:
بات چاہے بے سلیقہ ہو مگر
بات کہنے کا سلیقہ چاہیے
کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن یہ کہانی پھر کبھی سہی۔ ابھی صرف حفیظ جالندھری کا ایک شعر لکھ کر اپنی بات ختم کر رہا ہوں
اہلِ زباں تو ہیں بہت، کوئی نہیں ہے اہلِ دل
کون تِری طرح حفیظ ، درد کے گیت گا سکے

Current situation of madarsas in India, A dialogue. - By: Mohd. Alamullah & Riyazuddin Sanabali

0 comments:

Post a Comment