Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-10-24 - بوقت: 16:40

کشمیر حل کے لئے بات چیت شروع کرنے مرکز کا فیصلہ

Comments : 0
کشمیر حل کے لئے بات چیت شروع کرنے مرکز کا فیصلہ
نئی دہلی
پی ٹی آئی
مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے کے لئے حکومت ٹھوس بات چیت شروع کرے گی ۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج یہ بات کہی۔ سنگھ نے عجلت میں طلب کردہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انٹلی جنس بیورو کے سابق ڈائرکٹر دنیشور شرما جموں و کشمیر میںتمام فریقوں سے مذاکرات شروع کرنے کے لئے مرکزی حکومت کے نمائندے ہوں گے۔ شرما1979ء بیاچ کے ریٹائرڈ آئی پی ایس عہدیدار ہیں جنہوں نے دسمبر2014ء سے 2016ء تک آئی بی سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا شرما، حریت کانفرنس سے بھی بات چیت کریں گے ، راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ شرما یہ فیصلہ کریں گے کہ انہیں کن کن لوگوں سے بات کرنا چاہئے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ سر گرمی وزیر اعظم نریندر مودی کے یوم آزادی خطاب کے مطابق شروع کی گئی ہے ۔ کشمیریوں تک پہونچنے کی این ڈی اے حکومت کی یہ پہلی ٹھوس کوشش ہے جو وادی میں علیحدگی پسندوں کے خلاف غیر قانونی رقومات کی منتقلی اور دہشت گردی کے لئے فنڈنگ کے نام سے جاری طویل مہم کے بعد سامنے آئی ہے ۔ کشمیر پالیسی کی از سر نو تربیت کا واضح اشارہ دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ شرما کو ریاست میں کسی بھی گروپ یا فرد بشمول علیحدگی پسندوں سے بات چیت کی مکمل آزادی ہوگی۔ سنگھ نے کہا کہ شرما پر کسی گروپ سے بات کرنے یا نہ کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے ۔ ہم جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کو سمجھنا چاہتے ہیں ۔ حکومت ہند کے نمائندوں کی حیثیت سے دنیشور شرما ریاست کے عوام کی جائز تمناؤں کو سمجھنے کے لئے مذاکرات اور ٹھوس تبادلہ خیال شرو ع کریں گے ۔ این ڈی اے حکومت کی جانب سے گزشتہ تین برسوں میں کشمیریوں تک پہونچنے کی یہ پہلی ٹھوس کوشش ہے۔ اس سے مرکزی حکومت کی جانب سے وادی میں سیکوریٹی مہمات کے بیچ مسئلہ کشمیر سے نمٹنے کے طریقہ کار میں تبدیلی کار اشارہ ملتا ہے ۔ چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے مرکز کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات وقت کی ضرورت ہے اور آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے ۔ سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے تاہم کہا کہ وہ اپنا ذہن کھلا رکھیں گے اور مذاکرات کے نتائج کا انتظار کریں گے ۔ عبداللہ نے سلسلہ وار ٹوئیٹس میں کہا کہ مذاکرات کا یہ عمل ان لوگوں کے لئے کرار ا طمانچہ ہے جو صرف طاقت کو واحد حل سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی قائدین پر طنز کرتے ہوئے یہ بات کہی جو وادی کشمیر میں خلل پر قابو پانے کے لئے سخت گیر پالیسی زور دیتے رہے ہیں ۔ ایک مصالحت کار کے تقرر کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ مختلف سیاسی گوشوں سے تجویز دی جارہی تھی کہ حکومت کو چاہئے کہ کشمیر کے تمام فریقوں سے بات چیت کی جائے ۔ اس کے علاوہ وزیرا عظم نے بھی یوم آزادی کے خطاب میں کہا تھا کہ کشمیر کے مسائل صرف کشمیریوں کو گلے لگانے سے حل ہوسکتے ہیں ، الزام تراشیوں یا گولیوں سے نہیں۔ یاد رہے کہ منموہن سنگھ حکومت نے بھی2010ء میں ممتاز صحافی دلیپ پڈ گاؤنکر کی قیادت میں تین مصالحت کاروں کا گروپ مقرر کیا تھا، جس نے اپنی قطعی رپورٹ حکومت کو پیش کی ۔ اس کمیٹی کی سفارشات میں صرف شبہ کی بنیاد پر برسہا برس تک قید رکھنے کے عمل کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی تھی ۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا حکومت فی الواقع ایک اور رپورٹ چاہتی ہے تو انہوں نے سابقہ رپورٹ کا حوالہ نہیں دیا لیکن کہا کہ حکومت کے ارادے بالکل واضح ہیں۔ اس دوران کشمیر س متعلق مصالحت کار کی حیثیت سے تقرر کے بعد سابق آئی بی سر براہ دنیشور شرما نے کہا کہ یہ ان کے لیے ایک گھر واپسی کے مترادف ہے ۔ شرما نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ یہ میرے لئے گھر واپسی جیسا ہے مجھے یقین ہے کہ میں ملک کے عوا م اور حکومت کی توقعات کو پورا کرپاؤں گا ۔ اکسٹھ سالہ شرما فی الحال آسام کے عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ بات چیت کے لئے مصالحت کا ر کا رول ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اہم ذمہ داری تفویض کرنا ان کے لئے اعزا کی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امن ایک ترجیح ہے اور میرے دروازے سب کے لئے کھلے ہوں گے ۔

مرکز نے کشمیر پالیسی کی ناکامی کا اعتراف کرلیا: کانگریس
نئی دہلی
پی ٹی آئی
کانگریس نے آج دعویٰ کیا ہے کہ مرکز کشمیر میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے اور قیمتی وقت ضائع کرنے کے بعد اعتراف کیا ہے کہ طاقت کے زور سے وادی میں کام نہیں بن رہا ہے ۔ پارٹی نے کہا کہ کشمیر کے لئے ایک مصالحت کار کو مقرر کرتے ہوئے حکومت نے وادی میں امن قائم کرنے کے لئے تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کے لئے اپوزیشن کے مطالبہ سے اتفاق کیا ہے ۔ جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر غلام نبی آزاد نے کہا کہ حکومت نے کشمیر میں بات چیت کے لئے پہل کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ اپوزیشن صحیح ہے ۔ دوسری طرف سابق مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا کہ مصالحت کار کا تقرران لوگوں کی ایک بڑی کامیابی ہے جو سیاسی حل پر زور دیتے رہے ہیں ۔ چدمبرم نے تویٹر پر کہا کہ بات نہ کرنے سے لے کر تمام فریقوں سے بات چیت کرنے تک کا یہ فیصلہ ان لوگوں کی کامیابی ہے جو جموں و کشمیر میں سیاسی حل پر زور دے رہے تھے ۔ مصالحت کار کے تقرر کے بعد میں امید کرتا ہوں کہ حکومت نے یہ بات مان لی ہ کہ جموں و کشمیر میں طاقت کا یہ رویہ ناکا ہوگیا ہے ،، غلام نبی آزاد نے سوال کیا کہ حکومت نے ساڑھے تین سال کیوں ضائع کردیے جس کی وجہ سے کئی قیمتیں جانیں گئیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بری طرح ناکام رہنے کے بعد حکومت نے آخر کار اپنی غلطی تسلیم کی ہے، ہم رو ز اول سے مطالبہ کررہے تھے کہ تمام فریقوں سے بات چیت کرنی چاہئے اور وہ اس مطالبہ کو مسترد کررہے تھے ۔ غلام نبی آزاد نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور اپوزیشن مسلسل کہہ رہے ہیں کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی غلط فیصلے تھے اور اب حکومت تبدیلیاں کررہی ہے ۔

جی ایس ٹی’’ گبر سنگھ ٹیکس‘‘ راہول گاندھی
گاندھی نگر
پی ٹی آئی
کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے آج گڈس اینڈ سرویس ٹیکس کو’’گبر سنگھ ‘‘ٹیکس قرار دیا۔ اور وزیرا عظم نریندر مودی کی نوٹ بندی اور ٹیکس اصلاحات پر تنقید کی کہ ایک ایسے وقت جب گجرات میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں راہول گاندھی نے کہا کہ ریاست انمول ہے اور اسے خریدانہیں جاسکتا ۔ایک دن قبل پٹیل لیڈر نریندر پٹیل نے احمد آباد میں ادعا کیا تھا کہ انہیں بی جے پی میں شامل ہونے کے لئے ایک کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی لیکن زعفرانی جماعت نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے ۔ راہول گاندھی نے ایک ریالی میں جی ایس ٹی کا مسئلہ اٹھایا اور یہ بات نمایاں کی کہ کس طرح اس سے عوام کو تکلیفیں ہورہی ہیں ۔ اس ریالی میں او بی سی لیڈر الپیش ٹھاکر باقاعدہ طور پر کانگریس میں شامل ہوئے ۔ اپوزیشن جماعت بی جے پی سے مقابلہ کے لئے اپنی سیاسی اور سماجی بنیادوں کو وسیع کرنے کی ایک حکمت عملی پر عمل پیرا ہے ۔ ریاست میں کانگریس تقریبا دو دہوں سے اقتدار سے محروم ہے ۔ راہول گاندھی نے گاندھی نگر میں ٹھاکر وں کی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس ٹی ، جی ایس ٹی نہیں جی ایس ٹی کا مطلب گبر سنگھ ٹیکس ہے ۔ اس سے ملک کو نقصان ہورہا ہے ۔ چھوٹے کاروباری ختم ہورہے ہیں ۔ لاکھوں نوجوان بے روزگار ہوگئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ لوگ سننے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی موجودہ شکل میں وہ نہیں ہے جس کا نظریہ کانگریس نے پیش کیا تھا۔ راہول گاندھی نے نوٹ بندی فیصلے کے لئے مودی کا مضحکہ اڑایا ۔ انہوں نے کہا کہ پتہ نہیں کیا ہوا؟8نومبر کو مودی جی نے کہا کہ پانچ سو روپے اور ایک ہزار روپے کے نوٹ مجھے پسند نہیں ہیں ۔ اس لئے رات بارہ بجے سے میں انہیں ختم کررہا ہوں ۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے کہا کہ پہلے دو تین دنوں تک وہ نہیں سمجھ پائے کہ کیا ہورہا ہے ۔ نریندر مودی نے پورے ملک کی معیشت کو برباد کردیا ہے ۔ راہول گاندھی نے پٹیل لیڈر نریندر مودی کی جانب سے لگائے گئے رشوت کے الزام پر مودی اور بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
نئی دہلی
پی ٹی آئی
بی جے پی نے آج گجرات کے او بی سی لیڈر الپیش ٹھاکر کے کانگریس میں شمولیت کے فیصلے کو ایک ڈرامہ قرار دیا اور کہا کہ وہ پہلے سے ہی پارٹی کے رکن ہیں۔ بی جے پی نے کہا کہ راہول گاندھی نے انہیں پھر سے متعارف کیا جو ایک تماشہ ہے اور بوکھلاہٹ میں چلی گئی ایک چال ہے ۔ بی جے پی لیڈر روی شنکر پرساد نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ٹھاکر کانگریس کی طلبا شاخ این ایس یو آئی کے رکن تھے اور اس سے پہلے بھی پارٹی ٹکٹ پر پنچایت چناؤ لڑا ہے ۔

سنیما گھروں میں قومی ترانہ، حب الوطنی کا پیمانہ نہیں
جسٹس چندرا چوڑ کا ریمارک ۔ سپریم کورٹ ، سابقہ حکم کو بدلنے تیار
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سپریم کورٹ نے آج مرکز کو ہدایت دی کہ ملک بھر میں سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجانے سے متعلق ضابطہ مقرر کرنے کے لئے قانون قومی پرچم میں ترمیم پر غور کرے ۔ چیف جسٹس دیپک مشرا ، جسٹا اے ایم کھنویلک اور جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ مرکز کو تھیٹروں میں قومی ترانہ بجانے سے متعلق عدالت عظمیٰ کے قبل ازیں حکم سے متاثر ہوئے بغیر فیصلہ کرنا چاہئے۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ ہندوستان ایک متنوع ملک ہے اور یکسانیت لانے کے لئے سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجانے کی ضرورت ہے ۔ بنچ نے اشارہ دیا کہ وہ یکم دسمبر2016ء کو ا پنے حکم میں ترمیم کرسکتی ہے جس کے ذریعہ اس نے فلم کے آغاز سے قبل سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجانے کو لازمی قرار دیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ وہ لفظ بجایاجائے ، کو بجایاجاسکتا ہے ، میں تبدیل کرسکتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال ملک بھر کے تھیڑوں میں قومی ترانہ لازماً بجانے اور اس موقع پر تمام ناظرین کو کھڑے ہوکر اس کا احترام ظاہر کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اس کا مقصد قوم میں حب الوطنی اور قوم پرستی کا جذبہ پیدا کرنا بتایا گیا ۔ سپریم کورٹ کی سہ رکنی بنچ کیرالا کی کود نگلور فلم سوسائٹی کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست کی سماعت کررہی ہے ۔ جس میں نومبر کا حکم نامہ واپس لینے کی خواہش کی گئی ہے ۔ بنچ میں شامل جسٹس چندرا چوڑ نے30نومبر کے حکم نامہ کی منطق پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی ہندوستانی کو حب الوطنی اپنی پیشانی پر باندھ کر پھرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے قومی ترانہ کے احترام کے حوالے سے دی گئی ہدایات پر کہا کہ آگے کہاجائے گا کہ لوگ ٹی شرٹ اور شارٹس پہن کر فلم دیکھنے نہ جائیں کیونکہ یہ قومی ترانہ کی بے حرمتی تصور کی جائے گی۔اتفاق کی بات ہے کہ2016ء کا حکم جسٹس مشرا کی قیادت والی بنچ نے جاری کیا تھا۔ مشرا نے تب اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ اس سے حب الوطنی اور قوم پرستی کا جذبہ قوم میں راسخ ہوگا ۔ تازہ سماعت میں چیف جسٹس مشرا کے بازو بیٹھے ہوئے چندرا چوڑ نے قانونی پرچم کے حوالے سے کہا کہ لوگوں کے لئے ضروری نہیں کہ سنیما ہال میں جب قومی ترانہ بجایاجائے تو وہ کھڑے ہوں ۔ کیونکہ سنیما ہال تفریح کی جگہ ہے۔ وہ تفریح کے لئے سنیما ہال کو جاتے ہیں، سماج کو تفریح کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں نے احساس ظاہر کیا کہ آپ کو محب وطن ہونے کا تصور دینے کے لئے سنیما ہال میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جسٹس چندار چوڑ نے یہاں تک کہا کہ انہوں نے سنیما ہال میں قومی ترانہ بجانے کے وقت لوگوں کو باہر نکلتے ہوئے دیکھا ۔ اسی لئے وہ کہتے ہیں کہ اس عدم احترام کی وجہ سے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ بنچ نے کہا کہ وہ حکومت کو اس کے کندھے پر رکھ کر گولی چلانے کی اجازت نہیں دے گی اور حکومت کو ہدایت دی کہ قومی ترانہ بجانے کے ضابطہ کے مسئلہ پر کوئی فیصلہ کرے ۔ چندرا چوڑ نے یہ بھی ریمارک کیاکہ قومی ترانہ کے دوران اگر کوئی کھڑا نہ ہو تو اسے قوم دشمن کیوں کہاجائے ؟

0 comments:

Post a Comment