Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-09-26 - بوقت: 11:57

دنیا سمٹ رہی ہے

Comments : 0
world-is-shrinking
ہندوستان میں موبائل فون انقلاب برپا کرنے میں بلا شبہ امبانیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔انہوں نے "کر لو دنیا مٹھی میں" کا نعرہ دے کر پورا موبائل مارکیٹ اپنی مٹھی میں کر لیا ہےجسے کھولنے کی کوشش میں حریف کمپنیاں یا تو بند ہو رہی ہیں یا ایک دوسرے میں ضم ہو رہی ہیں۔
کبھی کہا جاتا تھا ٹیلی ویژن نے دنیا کو سمیٹ کر ہمارے ڈرائنگ روم میں لا دیا ہے۔پھر انٹر نیٹ اور لیپ ٹاپ نے اسے ہماری گود میں ڈال دیا، اور اب اسمارٹ موبائل فونس نے تو سچ مچ دنیا مٹھی میں کر دی ہے۔لیکن یہ کہنا نہایت دشوار ہے کہ موبائل ہماری مٹھی میں ہیں یا ہم موبائل کی مٹھی میں۔
موجودہ تیز رفتار مواصلاتی دَور میں دنیا واقعی سمٹ کر گلوبل ویلیج بن گئی ہے لیکن روایتی گاؤں کی طرح نہ تو وہ چوپال ہیں نہ ہی فرصت کے پل جب ہم ایک ساتھ اکٹھے بیٹھ کر ایک دوسرے کو سن اور سمجھ سکیں۔ان سمٹتی دوریوں نے ہمیں ایک دوسرے سے اتنا دور کر دیا ہے کہ ہم دوستوں اور رشتے داروں سے ملنا ترک کر کے اپنے اپنے کمروں اور اپنی اپنی دنیا میں سمٹ کر رہ گئے ہیں۔لہٰذا بالی ووڈ کے اس مشہور نغمے کے خالق کی دور اندیشی کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتے :
کیوں زندگی کی راہ میں مجبور ہو گئے
اتنے ہوئے قریب کہ ہم دور ہو گئے
رشتے اتنی تیزی سے سمٹ رہے ہیں کہ لفظ "سمٹ" کا "س" بھی غائب ہوتا جا رہا ہے۔یہ سمٹنے سمٹانے کا عمل زندگی کے ہر شعبے اور ہر مرحلےمیں جاری و ساری ہے۔مشاعرے ادبی نشستوں میں،اور نشستیں "باہمی" غزل سرائی بلکہ "غزل سنائی" میں۔ مشاعرے اردو ادب کا ٹسٹ میچ ہوا کرتے ہیں جب کہ ادبی نشستیں ون ڈے میچ۔ ٹسٹ میچوں کے زوال کا سبب لوگوں میں وقت کی کمی ہے جب کہ مشاعروں کے زوال کا سبب وقت پر لوگوں کی کمی ہے۔بلکہ اب تو ادب کا ٹی ٹوینٹی بھی شروع ہو چکا ہے۔ یعنی اور مختصر شکل، اور حسبِ روایت اس کے مجتہد بھی شعراء ہی ہیں۔ راہ چلتے ایک شاعر دوسرے کو چائے نوشی کا جھانسا دے کر قریب کے چائے خانے میں دھکیل لے جاتا ہے۔ پھر مہمان شاعر کو چائے کی پہلی چسکی لیتےدیکھ میزبان شاعر بےدھڑک کئی ا شعار جڑ دیتا ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے فی چسکی دو اشعار کی شرح سے حملہ آور ہوجاتا ہے اور چائے کی پیالی خالی ہونے تک دو تین غزلیں بآسانی اسقاط کے مرحلے سے گزر جاتی ہیں۔اگر یہ سامع اوّل غیر شاعر ہوا تو بلبلا اُٹھتا ہے۔ اور اگر شاعر ہوا تو باآواز بلند شعر کی تعریف کرتا ہے لیکن زیر لب بڑبڑاتا جاتا ہے"سالے ، کل ایک ایک شعر کا چن چن کر بدلا لوں گا۔" ویسے اس ادبی ٹی ٹوینٹی کا انعقاد جس کے لئے دس دس اشعار سنانے کی کوئی قید و بند نہیں کہیں بھی ہو سکتا ہے گو چائےخانےاور ہیئر کٹنگ سیلون اس کے موزوں ترین اسٹیڈیم ہوا کرتے ہیں۔اسٹیشن پر ٹرین کا انتظار کرتے وقت اچانک اناؤنسر کی آواز سنائی دیتی ہے: "ٹرین چالیس منٹ لیٹ ہے" اور آپ بظاہر اُف کہتے ہوئے پلیٹ فارم پر واقع چائے خانے کی طرف بڑھتے ہیں لیکن داہنا ہاتھ چپکے سے دائیں جیب کی طرف بڑھتا ہے۔ لیکن تب ہی آپ کے ساتھی آپ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں "نہیں، کل آپ نے سنائی تھی۔ آج میری باری ہے۔" اور آپ جھینپتے ہوئے تعمیل کر نے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ سلسلہ تو قائم رہے۔
ہمارے یہاں شادی سات جنموں کا بندھن ہوتی ہے۔ لیکن یوروپ خصوصاً ہالی ووڈ میں ازدواجی زندگیاں سمٹ کر اتنی مختصر ہو گئی ہیں کہ سات برس تو دور سات مہینے میں ہی ان کے متعلق جنرل نالج اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ورنہ کسی کی بیوی کو کسی اور کے شوہر سے منسوب کرنے کے خطاوار ہو سکتے ہیں۔ یہ طبقہ بڑھاپے تک اس طرح بیویاں اور شوہر بدلتا ہے گویا پورا سال ایکس چنج آفر چل رہا ہو۔خاندانی محاذ پر بھی سمٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جوائنٹ فیملی نیوکلیر فیملی میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔بچے سنِ بلوغت تک پہنچنےسے قبل ہی نہ صرف بالغ جسمی بلکہ بالغ نظری کا ثبوت دیتے جارہے ہیں۔ دیکھنے دکھانے سے لے کر منگنی، شادی اور ولیمہ وغیرہ کے مرحلے وار طویل سلسلوں کو نئی نسل نے ڈیٹنگ سے کورٹ میرج تک سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔پھر بھی پرانی نسل کو وقت، پیسے اور توانائی کی یہ بچت ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ حد تو یہ ہے کہ انہیں خواتین کے لباس میں کپڑوں کی بچت بھی نہیں بھاتی۔کیا دامن کیا آستین، سبھی سمٹ رہی ہیں ...غنیمت ہے اس سمٹنے سمٹانے کے فیشن میں ایک چیز تو پھیل رہی ہے ...گلا ...آگے اور پچھے دونوں جوانب سے جو مچھروں کے لئے رزق میں "کشادگی" کا مظہر ہے۔لباس کے معاملے میں اگر ایک طرف خواتین میں کفایت شعاری کی مقابلہ آرائی ہو رہی ہے تو دوسری جانب مرد حضرات فضول خرچی کا مظاہرہ کرتے ہوئےٹائی باندھ کر دھڑ کے آخری کھلے حصے کو بھی چھپائے بغیر اسٹوڈیو میں نہیں آتے۔شاید یہی وجہ ہو کہ آج کے گھٹنوں تک آنے والے مردانہ پینٹ کو دیکھ کر میں سمجھ نہیں پاتا کہ یہ ہاف پینٹ کی توسیعی شکل ہے یا پتلون کی سمٹی ہوئی شکل۔
مشینی زندگی نے ہمیں اتنا مصروف کر دیا ہے کہ آداب و اطوار کے بھی شارٹ کٹ "دریافت" ہو گئے ہیں ، مثلاً پہلے معانقہ مصافحے میں، اور اب مصافحہ سمٹ کر، بلکہ "سگھٹ" کر ہائے ہلو میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اب تو ہاتھ تک ہلانے کی ضرورت باقی نہیں رہی، نہ ہی لبوں کو تکلیف دینے کی۔کسی کے سلام کے جواب میں بس اس طرح ہلکے سے جھٹکے کے ساتھ سر ہلا دیتے ہیں گویا کہہ رہے ہوں ...جانےدیجئے ...موالی قسم کے لوگ اس طرزِ تخاطب سے اپنے حریفوں کو للکارتے ہیں۔ہم شریف لوگ اپنی زبان کیوں گندی کریں۔
اب تو زندگی کی میعاد بھی تیزی سے سمٹ رہی ہے اور عین ممکن ہے کہ سبکدوشی اور سانحۂ ارتحال میں اتنا وقفہ بھی نہ ہوگا کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ سے قبل پنشن کے کاغذات تیار ہو سکیں۔بلکہ بعض سوانح حیات میں ایسے جملوں کا بطور خاص ذکر ہوگا:"وہ اتنے خوش نصیب تھے کہ خود اپنی آنکھوں سے اپنی سبک دوشی دیکھی"یا "اللہ رب العزت نے انہیں اتنی طویل عمر بخشی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تقریباً ایک ماہ تک سانسیں چلتی رہیں" یا پھر "یہ ان کی نیکیاں ہی تھیں جن کی بدولت انہیں حیات مابعد سبکدوشی بھی نصیب ہوئی" وغیرہ وغیرہ۔ ویسے نئی نسل کے حق میں یہ بہتر بھی ہے کہ انہیں بے روزگاری ما بعد سبکدوشی سے نجات مل جائے گی کیوں کہ آنے والے وقتوں میں سنا ہے بیشتر حکومتیں پنشن کا ٹینشن لینےکے حق میں نہیں ہیں۔ بلکہ مجھے تو لگتاہے بہت جلد ہماری اوسط عمر پچاس تک پہنچ جائے گی۔اور تب ملازمت سے ریٹائر منٹ کا تصور ہی اُٹھ جائےگا اور ہر ایک کی سروس بک میں سبکدوشی کی تاریخ کی جگہ"تا مرگ" لکھا ہوا ملے گا۔اگرکبھی کسی کے باپ نے ساٹھ باسٹھ سال کی عمر پا لی تو وہ فخریہ کہتا پھرے گا "انہوں نے نہ صرف میری شادی دیکھی بلکہ اپنے پوتے کا ختنہ بھی دیکھا۔"
"لیکن آپ کے بیٹے کے ختنےکی تقریب میں تو میں بھی مدعو تھا۔ میں نےتو نہیں دیکھاتھا انہیں اس وقت؟" آپ پوچھیں گے۔
"بھائی، یہ محاورتاً کہا۔ مطلب یہ تھا کہ اس وقت بھی وہ بقید حیات تھے۔"وہ وضاحت کرے گا۔
"اوہ" آپ خفیف ہو جائیں گے "ظاہر ہے بستر علالت پر لیٹے لیٹے ہی پوتے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دعائیں دی ہوں گی۔"
"نہیں، انہوں نے اپنی زندگی کے آخری آٹھ سال کوما کی حالت میں لائف سپورٹ کے سہارے گزاری تھی۔"
اور تب جا کر آپ پر اس "طویل عمری" کا راز منکشف ہوگا کہ بازار میں دستیاب ملاوٹ شدہ غذائی اجناس کی بجائے خالص گلوکوز کی بوتلوں کی کنٹرولڈ ڈائٹنگ (controlled dieting) اور فضائی آلودگی کے برعکس سیلنڈر کےخالص آکسیجن کے سہارے ہی اوسط طبعی عمر کو مات دی جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر، زندگی ہاف سنچری بھی بمشکل بنا پائےگی کیوں کہ جو افراد زیادہ وقت گھر کے باہرگزارتے ہیں وہ پھیپھڑے کی بیماری سے مرتے ہیں اور جو زیادہ وقت گھر پر گزارتے ہیں وہ گٹھیا یا موٹاپا سے۔
تیزی سے بڑھتی آبادی کے سبب شہروں میں جگہیں بھی اتنی ہی تیزی سے سمٹ رہی ہیں۔نتیجتاً سول انجینئرز کوبھی کم جگہ میں زیادہ سے زیادہ کمروں کی گنجائش نکالنے میں اتنی ہی دماغی مشقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جتنی ہمیں قربانی کا گوشت پڑوسیوں اور رشتے داروں میں تقسیم کرنے میں۔پائیں باغ، صحن، دالان، پورچ، دہلیز وغیرہ اب صرف پکچر ڈکشنریوں میں ہی نظر آ تی ہیں۔ پہلے مین گیٹ سے گزرکر لان پار کیا جاتا پھر اندرونی گیٹ سے گزر کر دالان، تب کہیں مہمان خانےتک رسائی ہوتی۔ مگر آج کل تو پچھلا پاؤں فٹ پاتھ سے اُٹھنے سے قبل دوسرا پاؤں مہمان خانے اور بعض اوقات براہِ راست بیڈروم میں پڑتا ہے۔ اگر "داخلی آبادی" بھی گھنی ہوئی تو مالک مکان کی اجازت اور کسی بھی قسم کے اضافی کرایے کے بغیر بیڈ کے چاروں پایوں کو بلند کر کے ایک منزلہ مکان میں دو منزلہ کمروں کی سہولیات سے فائدہ اُٹھانا کلکتے اور ممبئی جیسے شہروں کے ادنیٰ طبقے کے لوگوں کا خصوصی استحقاق ہے۔البتہ مہنگے شہروں میں متوسط طبقے کے افراد رہائشی کمروں کی کشادگی کے لئے کچن، حمام اور ٹائلٹ کا حق بلا جھجھک مار لیتے ہیں۔ نتیجتاً ان میں اور ٹیلی فون بوتھ میں صرف نل اور فون کا فرق رہ جاتا ہے۔پریشانی اس وقت ہوتی ہے جب آپ حمام میں داخل ہونے سے قبل بنیان اتارنے کی بجائے حمام میں ہی یہ کوشش کرتے ہیں اور نتیجتاً کہنیاں زخمی کر بیٹھتے ہیں۔ٹائلٹ کا معاملہ تو اور نازک ہوتا ہے۔آرام سے بیٹھیں تو "نشانہ" چوک جاتا ہے، اور اگر نشانہ "ایڈجسٹ" کریں تو ناک سامنے کی دیوار یا دروازے سے لگ جاتی ہے۔
ہندوستان کی اولین اردویونیورسٹی عثمانیہ یونیورسٹی میں جو کبھی میڈیکل کی ڈگری کی سند بھی خالص اردو میں جاری کرتی تھی اردو اب یونیورسٹی کے مونوگرام تک سمٹ آئی ہے۔ہندو ازم جس کے پیروکار اپنی وسیع القلبی نیز کشادہ ذہنی پر ہمیشہ سے فخر کرتے آئے ہیں، آج صرف گائے میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔ہماری قومیت، ہماری حب الوطنی کھوکھلے نعروں میں سمٹتی جا رہی ہے۔اگر سمٹنے سمٹانے کے ان سلسلوں کونہ روکا گیا تو بہت جلد ہماری اعلیٰ تہذیب بھی سمٹ کر وحشی دَور میں لوٹ جائے گی ، یعنی 'بیک ٹو اسکوائر وَن'۔

***
jawednh[@]gmail.com
موبائل : 09830474661
B-5, Govt. R.H.E., Hastings, 3, St. Georges Gate Road, Kolkata-22
جاوید نہال حشمی

The world is shrinking - Humorous Essay: Jawed Nehal Hashami

0 comments:

Post a Comment