Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-09-20 - بوقت: 15:38

ہمیشہ مادری زبان میں بات کرنے نائب صدر کا زور

Comments : 0
ہمیشہ مادری زبان میں بات کرنے نائب صدر کا زور
اماں یا امی کا لفظ دل سے نکلتا ہے۔ سبا لکشمی پر منعقدہ تقریب سے وینکیا نائیڈو کا خطاب
نئی دہلی
پی ٹی آئی
نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ’اماں‘ یا امی کا لفظ قلب سے نکلتا ہے جب کہ ممی کا لفظ لب سے نکلتا ہے ۔ نائیڈو نے دہلی کے اندرا گاندھی نیشنل سنٹ فار آرٹس آئی جی این سی اے) میں ماہر موسیقی سبا لکشمی کی صد سالہ تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے مادری زبان میں بات کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے عوام سے کہا کہ وہ اپنی مادری زبان میں بات کرنا نہ بھولیں لیکن یہ بہتر ہوگا کہ آپ بیرونی افراد سے بات کرتے ہیں تو انگریزی میں بات کریں۔ نائیڈو نے کہا کہ آج کل ہم باپ اور ماں کو ممی یا ڈیڈی پکار رہے ہیں لیکن ماں کے لئے اماں ایک خوبصورت زبان ہے جو دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہے ۔ جب کہ ممی کا لفظ ہونٹوں سے ادا ہوتا ہے ۔ اردو میں ماں کے لئے امی کا لفظ بولاجاتا ہے ، یہ لفظ بھی دل سے نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندی، اردو ہو یا تیلگو سنسکرت ہمیں ہمیشہ اپنی مادری زبان میں بات کرنا چاہئے ۔ نائیڈو جو5اگست کو نائب صدر بننے سے قبل مودی حکومت میں کابینی وزیر تھے ، اس سال کے آغاز پر کہا تھا کہ یہ بہت ہی اہم بات ہے کہ ہم راشٹر بھاشا ہندی کو سیکھیں کیونکہ ہندی ملک میں زیادہ بولی جاتی ہے ۔ انہوں نے مادری زبان سیکھنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ میں نے ہمیشہ عوام سے کہا ہے کہ کسی کو بھی اپنا ماں، مادر وطن ، آبائی مقام اور مادری زبان نہیں بھولنی چاہئے ۔ جو لوگ یہ بھول جاتے ہیں انہیں انسان نہیں کہنا چاہئے ۔ وہ کچھ اور ہیں انسان نہیں۔ اس لئے ہمیں ہمیشہ اپنی مادری زبان میں بات کرنا چاہئے ۔ اس موقع پر نائب صدر جمہوریہ ہند وینکیا نائیڈو نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ایم ایس سبا لکشمی ایک افسانوی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سبا لکشمی نے گاندھی جی سے لے کر عام آدمی تک کو مسحور کیا۔ نائیڈو نے یہاں سبا لکشمی سے متعلق ایک نائش کا بھی افتتاح کیا ساتھ ایک یادگار سکی جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی قیمتی ثقافتی ورثے کا ملک ہے اور یہاں موسیقی کی مختلف شیلیوں کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی شناخت موسیقی کے اسی قیمتیو رثے میں مضمر ہے اور یہی ورثہ مذہب، علاقے، ذات پات اور طبقہ سے قطع نظر لوگوں کو ایک ساتھ ملائے رکھنے کا موجب ہے ۔ وینکیا نائیڈو نے سبا لکشمی کی موسیقی کو لافانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں ہر ایک شخص ان کی موسیقی سے متاثر ہوا اور وجد میں آیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب سبا لکشمی نے مختلف دھنوں کے لئے ا پنی آواز کا استعمال کیا تو انہوں نے ایک آفاقی حیثیت اختیار کرلی ۔ وہ پہلی موسیقار تھیں، جنہیں ملک کا سب سے بڑا سولین ایوارڈ بھارت رتن دیا گیا اور وہ پہلی ہندوستان موسیقار تھیں جنہوں نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا یہ ہماری فرض ہے کہ ہم اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھیں اور اسے اگلی نسل تک منتقل کریں۔

Indians should speak in their mother tongue: Vice President Naidu

0 comments:

Post a Comment