Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-09-17 - بوقت: 17:21

ریاست حیدرآباد کا پولیس ایکشن یا فوجی ایکشن؟

Comments : 1
Hyderabad Police Action
حیدرآباد پر ہندوستانی افواج کے حملے یا منصوبہ بند یکطرفہ جنگ کوپولیس ایکشن کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک ایسا فریب ہے جو17ستمبر1948سے ساری دنیا کو دیاجارہا ہے یعنی ایک مکمل اور بھرپور فوجی کارروائی کو پولیس ایکشن کہنے کا جھوٹ اس قدر کثرت سے کہا گیا اور کہا جارہا ہے کہ وہ لوگ جو یہ جانتے ہیں کہ یہ دراصل پولیس ایکشن نہیں بلکہ فوجی یا آرمی ایکشن تھا وہ بھی بے بنیاد اور سفید جھوٹ و پروپیگنڈہ کے زیر اثر پولیس ایکشن ہی کہنے لگے ہیں ۔ سقوط حیدرآباد پر مزید کچھ رقم کرنے سے پہلے یہ بتانا میں اپنا فریضہ سمجھتا ہوں کہ سقوط حیدرآباد یا نام نہاد و خود ساختہ پولیس ایکسن سے قبل کے واقعات کا یکطرفہ ، جانبدارانہ اور حد درجہ متعصبانہ چرچہ عام طور پر اور خاص طور پر نصابی کتب میں زور و شور سے کیاجاتا ہے لیکن17ستمبر1948کے بعد کے المناک ، دردناک وحشیانہ اور خونیں واقعات کا سر ے سے تذکرہ نہیں کیاجاتا۔ مسلمانوں کے جانی و مالی نقصانات کے حقیقی و مستند اعداد وشمار بیھ پیش نہیں کیے جاتے ۔ فرقہ پرستوں ، اسلام و مسلم دشمنوں اور ہند و توا اور زعفرانی ذہنیت کے مالک حتی کہ سیکولر عناصر نے تک تاریخ کو کچھ اس طرح مسخ کردیا ہے کہ اس کا اندازہ لگانا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ رضا کاروں کے نام نہاد، من گھڑت، بے بنیاد اور فرضی مظالم کے اتنے چرچے ہوئے کہ سقوط حیدرآباد کے بعد پیدا ہونے والی اور جوان ہونے والی نسلیں( جو کہ اب ضعیف ہوچکی ہیں) ان کو حقیقت قرار دیتی ہیں اور بعض مفاد پرست ضمیر و ایمان فروش ، مرعوب ذہنوں کے مالک اور سرکاری مسلمان بھی نظام ہفتم ، لائق علی اور قاسم رضوی اور ان کے رضا کاروں پر بہتان تراشنے میں پیچھے نہیں رہتے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ ملک کی آزادی و تقسیم اور منتقلی اقتدار کا منصوبہ جو عام طور پر جون منصوبہ کہلاتا ہے ، اس میں دیسی ریاستوں کے تمام حکمرانوں کواختیار دیا گیا تھا کہ وہ آزادی کے بعد اگر ہندوستان و پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ اپنی ریاست کا الحاق پسند نہ کریں تو وہ آزاد و خود مختار رہ سکتے ہیں۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آصف سابع و نظام ہفتم نے اعلان آزادی کیا تھا تو ہنگامہ مچ گیا جو لاکھوں افراد کی ہلاکت، ناقابل قیاس تباہی و بربادی بلکہ دور آصفی(1724ء تا1948ء) کی تہذیب و تمدن اور اردو زریعہ تعلیم کی تاریخی جامعہ کے اردو کردار کے خاتمے پر اختتام کو پہنچا ۔ جون منصوبہ کی درج بالا شق انگریزوں کی ایک چال تھی جس کا مقصد آزادی کے بعد بر صغیر کو انتشار اور بحرانوں سے دوچار کرنا تھا۔ملک کی آزادی کے بعد حکومت ہند نے تنازعہ کے مکمل حل اور مذاکرات کو جاری رکھنے کی غرض سے ایک معاہدہ معاہدہ انتظام جاریہ یا Stand Still Agreementکیا تھا جس کی میعاد ایک سال تھی جو ختم نومبر1948ء اور معاہدے کی میعاد سے قبل ہی حیدرآباد کے خلاف سخت ترین معاشی تحدیدات عائد کردی گئی تھیں۔ جن ضروری اشیاء سے ریاستی عوام کو محروم کردیا گیا تھا ، ان میں پینے کا پانی صاف کرنے والی کلورین، جان بچانے والی دوائیں، پٹرول ، و ڈیزل اور روز مرہ کی زندگی میں کام آنے والی بے شمار ضروریات زندگی قابل زکر تھیں۔ کلورین کی عدم دستیابی سے جگہ جگہ ہیضہ اور دوسری مہلک بیماریاں پھیل گئی تھیں جو وسیع پیمانے پر ہلاکتوں اور شدید پریشانیوں و تکالیف کا باعث بن گئی تھیں۔ چند سال قبل کی بات ہے کہ سلامتی کونسل کی ہی جانب سے عراق پر لگی پابندیوں کا ذکر ہورہا تھا تو دو تین معتبر و معزز بزرگوں (جنہوں نے حیدرآباد کی معاشی ناکہ بندی کا زمانہ دیکھا تھا ) کہا تھا کہ ہم نے اس سے بھی شدید معاشی تحدیدات کا سامنا کیا تھا۔ واضح رہے کہ حیدرآباد میں غیر مسلم آبادی85فیصد تھی، اس لئے معاشی ناکہ بندی سے مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم بھی اسی تناسب سے اذیت کا شکار ہوئے تھے ۔
آج چو طرفہ دہشت گردی کے خلاف زور شور سے مہم چل رہی ہے، حیدرآباد تو اس کا شکار سقوط سے قبل ہی ہوگیا تھا ، آزادی کے بعد تمام ریاست حیدرآباد میں اس دور کی سب سے بڑی سیاسی جماعت نے ریاست کی سرحدی صوبوں سے ریاست میں داخل ہوکر زبردست تخریبی کارروائیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ جن میں ریل کی پٹریاں اکھاڑنا ، ریلوے اور سڑک کے پلوں کو اڑا دینا، سرحدی چوکیوں، چنگی ناکوں اور دیگر دور افتادہ سرکاری دفاتر، عمارات کو اڑانا، جگہ جگہ دھماکے کرنا، سرنگیں بچھانا اور ویران مقامات سے گزرنے والے سرکاری عہدہ داروں اور گاڑیوں پر حملے شامل تھے۔ حد تو یہ تھی بینک بھی ڈاکہ زنی کے انداز میں لوٹے گئے اور انتہا تو یہ تھی کہ آصف سابع کی موٹرپر بھی بم دے دن دھاڑے حملہ کیا گیا تھا، حضور نظام بال بال بچ گئے تھے۔یہ سب جنگ آزادی کا حصہ مانا جاتا ہے ۔ بہ حال! عزت نفس کسی شخص کی محفوظ نہیں والا معاملہ روا تھا ۔ حیدرآباد پولیس ایکشن نہیں بکہ باقاعدہ، منصوبہ بند اور مکمل ملٹری ایکشن ہوا تھا۔ کئی ہزار فوجیوں نے جو اس وقت کے جدید ترین اسلحہ سے لیس تھے، بھاری ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور کہیں کہیں بمبار طیاروں کے سائے میں زائد از دو درجن مقامات سے مختلف سمتوں سے حملہ کیا تھا۔ جنرل جے این چودھری نے اپنی ڈائری میںArmoured Invasion in Operation POLOنامی باب میں رقم کیا ہے کہ حیدرآباد کے خلاف فوجی کارروائی کا عنوان آپریشن پولو رکھا گیا تھا جس کی وجہ حیدرآباد کے عمدہ گراؤنڈ تھے ۔ یہ ڈائری ہندوستان سے کسی طرح اسمگل ہوکر پاکستان اور لندن میں شائع ہوئی تھی، اس کا اردو ترجبہ بھی شائع ہوا تھا ۔ جنرل چودھری اس اہم بات کی اشاعت و ترجے کے بعد پندرہ سال تک زندہ رہے اور جس کی اشاعت کا حال ان کو معلوم بھی ہوا تھا لیکن انہوں نے کبھی اس کی تردید بھی نہیں کی تھی ۔ سقوط حیدرآباد سے قبل ایک اہم واقعہ یہ بھی ہے کہ مذاکرات کے حیدرآباد میں غیر مسلمون کی بھاری اکثریت کو ذہن میں رکھ کر لارڈ مانٹ بیٹن نے حیدرآبادی وفد کے آگے ریاست کی تقدیر کا فیصلہ استصواب عامہ کے ذریعہ کرنے کی تجویز سمجھ کر پیش کی تھی کہ قلیل مسلم آبادی کی وجہ سے میر لائق علی یہ تجویز مسترد کردیں گے لیکن لائق علی کو اپنے عوام پر اس قدر بھروسہ تھا کہ انہوں نے فور ا ً ہی یہ تجویز منظور کر کے ہر ایک کو ششدر کردیا تھا ۔ سردار پٹیل کی شدید مخالفت کی وجہ سے یہ بات وہیں پر ختم ہوگئی تھی۔ سقوط حیدراباد کے بعد ریاست بھر میں خاص کر گلبرگہ، اورنگ آباد، عثمان آباد، بیدر، بیڑ، لاتور، جالنہ، پربھنی اور رائچور کے اضلاع میں مسلمانوں پر جو مظالم ہوئے تھے ان کا دفاع اور جواز پیش کرنا ناممکن ہے ، ساری ریاست کو عہد قائم کی طرح ایک مفتوحہ ملک اور مسلمانوں کو مفتوح رعایا مان کر قتل عام، غارت گری، لوٹ مار، اور زنا بالجبر کا بازار جگہ جگہ گرم ہوا۔ عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی گئی۔ تقریبا تین لاکھ مسلمان قتل کردیے گئے۔ اس کے باوجود کچھ تعصب پسند اور فرقہ پرست سیاسی جماعتیں 17ستمبر کو جشن منانا چاہتی ہیں، اس دن کچھ عناصر، یوم نجات مناکر مسخ شدہ، بے بنیاد اور غیر مستند اور غیر مصدقہ باتیں پھیلاتے ہوئے سلاطین آصفیہ کو رسوا وبدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ سلطنت آصفیہ میں ہندو اور مسلم امن و چین سے رہا کرتے تھے اور ان کا آپسی بھائی چارہ ساری دنیا میں مشہور تھا جب کہ آخری تاجدار نواب میر عثمان علی خان ہندو اور مسلمان کو اپنی دو آنکھیں کہا کرتے تھے۔
پھلا پھولا رہے یا رب چمن میری امیدوں کا
جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے ہم نے پالے ہیں

Police Action or Military Action of Hyderabad State? Article: Prof Akhtar ul Wasey

1 comments:

  1. There is a book by the title " Fall of Daccan" which contains lot of references. It was banned in India till 70's though almost all the reports of those commissions from Nehru were included in it. A must read for all Hyderabadis.

    ReplyDelete