Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-09-25 - بوقت: 17:27

من کی بات - پروگرام کے 3 سال مکمل ۔ وزیر اعظم کا خطاب

Comments : 0
من کی بات - پروگرام کے 3 سال مکمل ۔ وزیر اعظم کا خطاب
نئی دہلی
پی ٹی آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے آج کہا کہ انہوں نے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات کو خود اپنے تاثرات کے اظہار کے لئے نہیں بلکہ عوامی امنگوں اور عوام کی آراء کے اظہار کے لئے استعمال کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے تین سالہ پروگرام کو سیاست سے دور رکھا اور سیاسی گر می اور برہمی جو کسی بھی مخصوص وقت میں غلبہ پاسکتی ہے اس سے متاثر ہوئے بغیر عوام سے ربط پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ریڈیو نشریہ کا36واں پروگرام جسے 2اکتوبر2014ء کو شروع کیاگ یا تھا۔ اس میں مودی نے امید ظاہر کی کہ سماجی، سائنسداں، یونیورسٹیاں، ریسرچ اسکالرس اور میڈیا ماہرین پروگرام کا تجزیہ کریں گے اور اس کے مثبت و منفی نکات کا اجاگر کریں گے جو اس کے لئے فائدہ مند ہوگا ۔ اپنے تیس منٹ طویل نشریہ میں انہوں نے گزشتہ تین سال کے دوران پروگرام میں چند مسائل کو پیش کیاتھا اور صفائی مہم کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپنے ہم وطنوں پر زور دیا تھا کہ وہ ہندوستان کے حیرت انگیز تنوع اور خوبصورتی کا جائزہ لیں ۔ انہوں نے ملک میں منعقد کئے جارہے فی فیفاانڈر17ورلڈ کپ ٹورنمنٹ کے بارے میں بتایا تھا ۔انہوں نے ان دو شہداء کی بیویوں کی ستائش کی جو حال ہی میں فوج میں شامل ہوئی ہیں ۔ انہوں نے سری نگر کے18سالہ بلال ڈار کے زیر اہتمام صفائی مہم کی بھی ستائش کی ۔مودی نے بتایا کہ من کی بات سے ملک کی مثبت طاقت کا اظہار ہوتا ہے ۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ اس پروگرام کے ذریعہ انہیں عوام سے جڑ جانے اور ان کے احساسات، خواہشات ، امنگوں اور ان کی شکایت کی جانکاری کا منفرد موقع حاصل ہوا ہے ۔ مودی نے بتایا کہ انہوں نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ یہ میری من کی بات ہے ۔ وہ اپوزیشن پارٹیوں کی تنقیدوں کا واضح جواب دے رہے تھے جو ان پر الزام لگارہے ہیں کہ وہ عوام کی آواز نہیں سن رہے ہیں بلکہ اپنے تاثرات کا اظہار کررہے ہیں ۔ مودی نے بتایا کہ اس پروگرام کے ذریعہ وہ عوام کے تاثرات کا اظہا رکررہے ہیں جو انہیں ای میلس، ٹیلی فونس اور مائی جیو وی ایپ کے علاوہ نریند مودی ایپ پر معلومات فراہم کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے گوشہ گوشہ سے انہیں مسلسل رد عمل حاصل ہورہا ہے لیکن وہ ان میں سے چند کی ہے تیس منٹ طویل ریڈیو پروگرام میں وضاحت کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ بیشتر معلومات ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بڑی تعداد میں معلومات(عوامی رد عمل) حکمرانی میں بہتری پیدا کرنے سے متعلق ہوتا ہے ۔ بعض وقت شخصی شکایت ہوتی ہے اور بعض مرتبہ میری توجہ عوامی مسائل پر مبذول کی جاتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے نتیجہ میں انہیں مختصر سے وقت میں عام آدمی کے تاثرات کو جاننے میں مدد ملی ہے ۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت میں احساس کی کیفیت موجود ہے اور توجہ ان طاقتوں کی جانب مبذول ہوئی ہے جو دور دراز کے مقامات پر موجود ہیں ۔ انہوں نے پروگرام کے دوران بتایا کہ ہمیشہ انہوں ںے روحانی گرو آچاری وینو بھا وے کی تعلیمات کو ذہن میں رکھا ہے جو کئی دہوں قبل اراضی اصلاحات تحریک کی وجہ سے سب سے زیادہ جانے جاتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اچاریہ وینوب ھاوے ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ غیر سیاسی ہونا موثر ہوتا ہے لہذا انہوں نے من کی بات پروگرام میں ملک کے عوام کو اسی مرکز پررکھنے کی کوشش کی۔ مودی نے بتایا کہ انہوں نے خود کو سیاست سے دور رکھا ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ برہمی، جوش و خروش جو کسی مخصوص وقت میں پیدا ہوتی ہیا س سے متاثر ہوئے بغیر مستحکم ذہن کے ساتھ عوام سے مربوط رہنے کی کوشش کی ہے ۔ مودی نے یاد دلایا کہ انہوں نے2اکتوبر کو مہاتما گاندھی کی یوم پیدائش سے پندرہ دن قبل صفائی مہم کی شروع کی گئی تھی جب کہ آخری پروگرام کے دوران انہوں نے اس کا عہد کیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ صدر جمہوریہ رامناتھ کووندے نے مہم کا آغاز کیا اور معاشرہ کے طبقات جس میں اسپورٹس کی سرکردہ شخصیتیں، فلمی ادکار، ماہرین تعلیم، اسکولس کالجس، یونیورسٹیز، کسان ، عہدیدار یا مسلح افواج کے ملازمین نے وابستگی اختیار کی تھی ۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ اس بات پر دباؤ ڈالا گیا ہے کہ عوامی مقامات کو اب گندہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
'Mann Ki Baat' completes three years

ہندوستان میں فاشسٹ نظریہ کی حکمرانی، پاکستان کا الزام
نیویارک
یو این آئی
اقوام متحدہ میں پاکستانک ی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے پاکستان پر دہشت گردی برآمد کرنے کے ہندوستان کے الزامات مسترد کرتے ہوئے ہندوستان کو جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں اور سرپرست اعلی ریاست قرار دے دیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سب سے بڑی منافقت ہے۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ ہندوستان، پاکستان کے خلاف بہتان تراشی پر اتر آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، ہنودستان کے ساتھ تمام مسائل کا حل مذاکرات سے چاہتا ہے کیونکہ مذاکرات کے لئے پاکستان کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کامیاب مذاکرات کے لئے ہندوستان کو دہشت گردی کی معاونت ترک کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی معاونت بند کرنی ہوگی۔ کشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ کشمیر پر ہندوستانی قبضہ غیر قانونی ہے اور وادی میں ہندوستانی جرائم کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر ، ہندوستان کا حصہ نہیں ہے اور اقوام متحدہ اور عالمی برادری بھی اسے ایک متنازعہ علاقہ تسلیم کرتی ہے ۔ ملیحہ لودھی نے باور کرایا کہ ایک ہی جھوٹ کو بار بار دہرانے سے وہ سچ میں تبدیل نہیں ہوگا ۔ ہندوستانی وزیر خارجہ کی جانب سے کشمیر معاملے پر اقوام متحدہ کی قرار داد کی میعاد ختم ہونے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل کی قرار داد وقت سے مشروط نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر معاملے پر ہنوستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی قرار داد وں پر عمل سے انکار دھوکہ اور کھلی جارحیت ہے ۔ پاکستان میں جاری دہشت گردی میں ہندوستانی ملوث ہونے کے حوالے سے پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہندوستان دہشت گردی کو ریاستی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے اور حال ہی میں بلو چستان میں پکڑے گئے ہندوستانی جاسوس کلبھوشن یادو نے بھی پاکستان میں دہشت گردی کروانے اور اس کی معاونت کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح پر تنقید کرنے والو ں کے ہاتھ گجرات میں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں ، واضح رہے کہ ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے72ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو دہشت گردی برآمد کرنے کی فیکٹری قرار دیا تھا۔

بی ایچ یو میں تشدد کی تحقیقات کا حکم
واراناسی،یوپی
پی ٹی آئی
بنارس ہندو یونیورسٹی( بی ایچ یو)کیمپس میں طلبہ کی طرف سے تشدد کے واقعات پیش آئے ۔ جن پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کے مبینہ واقعہ پر احتجاج نے اس طرح کا بڑا رخ اختیار کرلیا ۔ کہاجاتا ہے کہ تصادم میں کئی طلبہ اور پولیس ملازمین زخمی ہوگئے۔ پولیس ذرائع نے یہ بات کہی ، جس کے مطابق تشدد کے مد نظر یونیورسٹی نے2اکتوبر تک تعطیلات کا اعلان کردیا ہے ، جو پیشگی28ستمبر سے دی جائیں گی ۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے ان واقعات کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔تشدد اس وقت پ ھوٹ پڑا جب طلبہ خواتین سے ہمیشہ چھیڑ چھاڑ کے واقعہ پر احتجاج کررہے تھے اور وئس چانسلر سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے خواہاں تھے ۔ پولیس اور یونیورسٹی کے ذرائع نے یہ بات کہی۔ یونیورسٹی کے سیکوریٹی گارڈس نے طلبہ کو روک لیا اور پولیس کو اس بات سے مطلع کیا جس کے بعد طلبہ پتھراؤ پر اتر آئے، پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لئے لاٹھی چارج کیا۔ سینئر عہدیداروں جس میںPACعملہ بھی شامل ہے کیمپس اور اس کے اطراف تعینات کردیا گیا تاکہ نظم و ضبط کو برقرار رکھنا چاہئے۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے بنارس ہندو یونیورسٹی کی طالبات پر لاٹھی چارج کرنے پر بی جے پی پر آج شدید تنقید کی ہے۔ بی جے پی کا بنارس ہندو یونیورسٹی میں بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ، کا روپ ہے۔ گاندھی نے ٹوئٹ پر یہ بات کہی۔ انہوں نے طلبہ کا ایک ویڈیو لنک بھی اس سے منسلک کیا جس نے الزا م عائد کیا کہ بعض پولیس ملازمین نے کیمپس میں انہیں مار پیٹ کی ہے۔ چیف منسٹر اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے آج اس واقعہ کے بارے میں ڈیویژنل کمشنر سے رپورٹ طلب کی ہے جب کہ کئی ایک سیاسی جماعتوں بشمول سماج وادی پارٹی نے حکومت پر تنقید کی ہے اور پولیس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے ۔ پولیس کے لاٹھی چارج میں کئی ایک طلبہ بشمول خواتین اور دو صحافی زخمی ہوگئے۔ تصادم کے دوران دو پولیس ملازمین بھی زخمی ہیں جب کہ طلبہ نے پتھراؤ کیا ۔ جرنلسٹس پر لاٹھی چارج، لکھنو میں احتجاج کا سبب بنا اور بعض جرنلسٹس نے چیف منسٹر کی رہائش گاہ کے قریب دھرنا دیا اور بعد ازاں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو ایک یادداشت حوالے کی اور خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔

کانگریس قائدین راج ببر اور پی ایل پونیا کو آج ان کے سینکڑوں سرگرم پارٹی کارکنوں کے ساتھ اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب انہوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی کا دورہ کرنے کی کوشش کی، جہاں طلبہ پرپولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا تاہم انہیں ایک گھنٹہ بعد رہا کردیا گیا۔ ضلع کانگریس کے قائد نے آ ج یہ بات کہی ۔ تشدد کے مد نظر ضلع نظم و نسق نے کل سے 2اکتوبر تک وارانسی کے تمام کالجس اور یونیورسٹیز کو تعطیلات دینے کی ہدایت کی ۔ پولیس نے سولہ طلبہ کو بھی حراست میں لے لیا، جنہوں نے پولیس کارروائی کے خلاف اپنا دھرم ختم کرنے سے انکار کردیا تھا۔اتر پردیش کانگریس کے صدر راج ببر اور رکن راجیہ سبھا پنیا کو پولیس نے گیلاٹ بازار کے قریب دوران راستہ اس وقت روک دیا جب وہ بی ایچ یو کے احتجاجی طلبہ سے ملنے کے لئے جارہے تھے ۔

این آئی اے کا حریت کانفرنس کے قائدین کو سمن
نئی دہلی
پی ٹی آئی
این آئی اے نے کشمیر میں عسکریت پسند سر گرمیوں کے لئے رقومات کی فراہمی کے کیس میں حریت کانفرنس کے قائدین ، تجار کی تنظیم کے سربراہ اور کشمیر یونیورسٹی کے ایک پی ڈی ایچ اسکالر کو ایک سمن جاری کیا ہے ۔ عہدیدارں نے بتایا کہ علیحدگی پسند اور پاکستان نواز لیڈر سید علی شاہ گیلانی زیر قیادت حریت کے دو قائدین عبدالحمید ماگڑے اور ولی محمد، کشمیر ٹریڈس اینڈ مارکٹنگ فیڈریشن کے سربراہ یاسین خان ، کشمیر یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کرنے والے اعلیٰ فاضل کو قومی تحقیقاتی ایجنسی کے روبرو دہلی میں اس کے ہیڈ کوارٹر پر کل حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ کشمیر ٹریڈرس کی تنظیم نے خان کی طلبی کے خلاف بطور احتجاج کل ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔ کشمیر بار اسوسی ایشین کے صدر میاں قیام کوبھی این آئی اے کی جانب سے دوبارہ طلب کئے جانے کا امکان ہے ۔ عہدیداروں نے یہ بتاتے ہوئے کہا کہ انک ے بیان میں جو قبل ازیں ریکارڈ کیا گیا تھا کئی تضادات پائے جاتے ہیں ۔ عہدیداروں کے مطابق کل جن افراد کو طلب کیا گیا ان سے سیکوریٹی فورسس پر پتھراؤ کرنے والے مختلف گروپوں کو رقومات کی فراہمی کے بارے میں پوچھ تاچھ کی جاسکتی ہے ۔ این آئی اے نے علیحدگی پسندوں اور حریت کانفرنس کے نامعلوم ارکان کے خلاف30مئی کو ایک مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام ہے کہ ملزمین کا وادی میں تخریبی سر گرمیاں انجام دینے والی عسکری تنظیموں، حزب المجاہدین، دختران ملت، لشکر طیبہ اور دیگر تنظیموں اور ٹولیوں سے سر گرم تعلق ہے ۔ یہ مقدمہ حوالہ کے بشمول مختلف غیر قانونی وسائل سے رقومات کی وادی میں امن و امان کو درہم برہم کرنے کے لئے تخریبی سر گرمیوں میں استعمال کے مقصد سے غیر قانونی طور پر رقم اکٹھا کرنے اور اس کی تقسیم سے متعلق ہے ۔ ایف آئی آر میں ان عناصر پر اسکولوں کو نظر انداز کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا بھی الزام لگایا گیا ہے ۔ این آئی اے نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ دو ملزمین نے اس کیس میں اقبالی بیانات دئیے ہیں جو جوڈیشیل مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ کئے گئے ۔ ایجنسی کے مطابق اس عمل کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی ۔

گاؤ رکھشک‘ کیرالا میں سفید انقلاب کی راہ میں رکاوٹ
گجرات سے مویشیوں کی منتقلی حکومت کے لئے جوکھم۔ ریاستی وزیر کا بیان
تھروا ننتا پورم
پی ٹی آئی
کیرالا کے وزیر افزائش مویشیاں نے آ آج کہا کہ ریاست میں سفید انقلاب یعنی دودھ کی خود مکتفی پیداوار کے منصوبہ کو گاؤ رکھشکوں سے خطرہ لاحق ہے ۔ ریاست کے وزیر برائے جنگلات ، افرائش مویشیاں و چڑیا گھر کے راجو نے کہا کہ کیرالا میں دودھ کی پیداوار میں اضافہ کی اپنی کوششوں کے حصہ کے طور پر گیر نسل کے گائے کے حصول کا منصوبہ بنایا تھا۔ نہ صرف گجرات بلکہ دیگر ریاستوں سے بھی گایوں کی خریدی کا معاملہ تحفظ گاؤ کے نام پر ہجومی تشدد کے امکانی خطرہ کی وجہ سے کھٹائی میں پڑ گیا ہے ، تاہم گجرات سے گیر نسل کی گائیں خریدنے کا منصوبہ ہم نے ترک نہیں کیا ہے ۔ اس پر ہم اب بھی سنجیدگی سے غور کررہے ہیں تاہم گایوں کی منتقلی کے جوکھم کی وجہ سے فی الحال اس کو ملتوی کردیا گیا ہے ۔ دودھ کی وافر پیداوار کے لئے شہرت رکھنے والی گیر نسل کی گائیں گجرات کے سوراشٹر علاقہ کے گیر جنگلاتی علاقہ اور اطراف کے اضلاع میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ راجو نے کیرالا فی گائے ایک لاکھ روپے مالیت پر مشتمل دو سو گائیں خریدنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں گجرات کا دورہ بھی کیا اور متعلقہ وزیر سے ملاقات کرتے ہوئے اس منصوبہ پر تبادلہ خیال کیا۔ گجرات کے حکام نے منصوبہ پر مثبت رد عمل دیا اور کہا کہ گایوں کی دستیابی بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ہمارا منصوبہ تھا کہ دیہاتوں کو جاکر وہاں سے گائیں راست طور پر کسانوں سے خریدی جائیں لیکن اصل مسئلہ وہاں سے کیرالا کو مویشیوں کی منتقلی کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گجراتی حکام نے ریاست کی سرحد تک گایوں کے محفوظ منتقلی کا یقین دلایا ہے لیکن وہاں سے کیرالا پہنچنے سے قبل مہاراشٹرا کے بشمو ل دیگر ریاستوں کا سفر کرنا پڑتا ہے اور فی الحال گاؤ رکھشکوں کی موجودگی سے متعلق رپورٹس کے پیش نظر گایوں کے ساتھ اتنا طویل فاصلہ طئے کرنا خطرہ سے خالی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس خطرہ کے باوجود ریاستی حکومت پراجکٹ کو آگے بڑھجانے کی متمنی ہے اور اس سلسلہ میں بہت جلد مناسب قدم اٹھایاجائے گا۔ وزیر موصوف نے کہا کہ گاؤ رکھشکوں کی وجہ سے کیرالا میں دودھ کی پیداوار میں اضافہ مشکل ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میںمویشی پالن پر لاکھوں عوام کا گزر بسر ہوتا ہے ۔ گاؤ رکھشکوں کی دہشت کی وجہ سے ان کی معاش پر بھی اثر پڑا ہے ۔

0 comments:

Post a Comment