Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-09-21 - بوقت: 14:05

کتاب مرقعِ حیدرآباد کی رسم اجرا - رپورتاژ

Comments : 0
muraqqa-e-hyd-book-release
اندھیرے روشنی کا کوئی باب مانگنے لگے
کواڑ نیند کے کھلے تو خواب مانگنے لگے
حروف ہیں صدا میں گم ، صدا ہے گنبدوں میں گم
اب ایسے میں اگر کوئی کتاب مانگنے لگے
(رؤف خلش)
درج بالا اشعار یاد آنے کی وجہ یہ رہی کہ بالآخر، قریب سال بھر کے انتظار کے بعد حالیہ رمضان المبارک میں زیور طبع سے آراستہ ہونے والی شہر دکن حیدرآباد کی تاریخ پرمشہور ادیب، خطیب و مورخ علامہ اعجاز فرخ صاحب مدظلہ کی تاریخی تصنیف ''مرقعِ حیدرآباد(جلد اوّل)'' کی رسم اجرأ بروز پیر 18 ستمبر 2017کی شام سات بجے بدست نائب وزیر اعلٰی تلنگانہ جناب محمود علی صاحب انجام پائی۔
کتاب چونکہ تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈمی نے شائع کی ہے اسی لئے تقریب رسم اجرأ کا اہتمام بھی اردو اکیڈمی و محکمہ اقلیتی بہبود ، حکومت تلنگانہ کی جانب سے کیا گیاتھا۔ قلب شہر میں واقع نہرو آڈیٹوریم، مدینہ ایجوکیشن سنٹر ، نامپلی، حیدرآباد میں منعقدہ اس جلسے کی صدارت اور رسم اجرأ تصنیف "مرقعِ حیدرآباد" نائب وزیر اعلٰی تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے کی جبکہ جناب بنڈارو دتہ تاریہ، معزز رکن اسمبلی سکندرآباد، جناب عبدالقیوم خان مشیر اقلیتی بہبود، حکومت تلنگانہ اور جناب عمر جلیل سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود، حکومت تلنگانہ نے بحیثیت مہمانان خصوصی شرکت کی۔
یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ علامہ محترم اپنی ذات میں بجائے خود ایک انجمن ہیں۔ عمر عزیز کی پچھتر (75) بہاریں دیکھنے کے بعد بھی ماشاء اللہ، فصاحت، بلاغت و خطابت میں یقیں محکم و عمل پیہم کا اعلیٰ و ارفع نمونہ ہیں۔قریب چار دہائیوں سے زائد وقفہ روزنامہ ''سیاست''، حیدرآباد میں آپ کے مضامین شائع ہوتے رہے۔ ڈاکٹر فضل اللہ مکرم صاحب کی قائم شدہ ویب سائٹ ''جہانِ اردو'' میں بھی آپ کے مضامین کا سلسلہ جاری رہا۔ بعد ازاں ''خامہ خوں چکاں اپنا''، ''مطبع آصفیہ''، ''حیدرآباد شہر نگاراں''،'' گلمسز آف حیدرآباد'' اور''عکس حیدرآباد حصہ اول و حصہ دوم'' کے عنوان سے کتابیں بھی شائع ہوئیں۔ ان سبھی تصانیف کی زبردست پذیرائی ہوئی اور تمام نسخے مہینوں بلکہ ہفتوں میں فروخت ہوگئے۔بقول افتخار عارف:
کہاں میں اور کہاں فیضان نغمہ و آہنگ
کرشمہ سب در و بست نوا کا لگتا ہے !
علامہ محترم جدید تکنالوجی سے واقفیت رکھنے کے علاوہ گذرتے وقت کے ساتھ اسے اپنانے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا میں بھی فعال ہیں۔ ان تمام صلاحیتوں اور خوبیوں کے باوجود وہ اپنے قاری و سامع کو ہی اپنا انعام و سرمایہ نہ صرف مانتے ہیں بلکہ برملا اس کا اظہار بھی فرماتے ہیں۔اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں وہ یوں رقم طراز ہیں:
''میں تو اپنے قارئین کے دلوں میں بستا ہوں۔ وہ میرے اپنے ہیں۔ اْن کے دلوں کی وسعتیں بہت زیادہ ہیں ۔سرحدوں سے ماورا۔ کدورتوں سے پرے ۔ محبتوں سے معمور۔جہاں ہمیشہ موسمِ گْل رہتا ہے ۔ جہاں خزاں کا گْزر نہیں۔ سنتا ہوں کہ تیسرے فاقے کے بعد حرام حلال ہو جاتا ہے ۔میری زبان فاقے کے ذائقے سے آشنا رہی لیکن میرے رب نے دوسرے فاقے سے پہلے ہی مجھ پر اپنا رزقِ کرم نازل کردیا ۔اس دور مادیت میں آپ جیسے محبت کرنے والے احباب عطاء کئے ۔ میں اس کی کن کن نعمتوں کاشکر ادا کروں۔ آپ سلامت رہیں ،خوش رہیں، آباد رہیں ، آپ کی نسلیں پھلیں پھولیں، میرا یہ قبیلہ شادوآباد رہے ۔''
گویا عزیز وارثی کے الفاظ میں:
دل میں اب کچھ بھی نہیں ان کی محبت کے سوا
سب فسانے ہیں حقیقت میں حقیقت کے سوا !
"مرقعِ حیدرآباد" کی کامیاب ترین تقریب رسم اجراء کو بھی اسی تناظر میں لیا جائے گا۔ 15ستمبر کو علامہ محترم نے سوشل میڈیا کی مدد سے اپنے تمام قارئین کو اس تقریب کا دعوت نامہ روانہ کرتے ہوئے فیس بک پرپوسٹ لگائی، جس کا متن تھا:
''عزیزان گرامی !السلام علیکم! میں اپنی مسرت میں آپ کو اپنے فردِ خاندان کی طرح شامل کرتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میری کتاب "مرقعِ حیدرآباد" کی رسم رونمائی 18 سپٹمبر بروز دوشنبہ 6 بجے شام، نہرو آڈیٹوریم، مدینہ ایجوکیشنل سنٹر، نامپلی، حیدرآباد میں قرار پائی ہے۔ آپ نے ہمیشہ مجھے اپنی محبتوں سے نوازا ہے ، آپ کی محبتیں ہی میرا بیش قیمت سرمایہ ہے ۔ آپ کی تشریف آوری میری مسرت کا باعث ہوگی۔ اس تحریر کو از راہ کرم میرا شخصی دعوت نامہ تصور فرمائیں۔ میں آپ کا انتظار کروں گا، دعوت نامہ ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔''
اس تحریر کو پاکر گویا سبھی قارئین و احباب کا حال بقول اثر لکھنوی یوں رہا:
آپ کا خط نہیں ملا مجھ کو
دولت دو جہاں ملی مجھ کو
میرے اہل خانہ و دیگر احباب توشاید اپنی رہائش گاہوں سے سیدھے تقریب گاہ پہنچے۔ خاکسار، سروے فیلڈ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر راستے میں واقع ٹی وی ٹاورز، ملک پیٹ میں منتظر اپنے ماموں سید منور پاشا کو لے کر شام قریب سوا چھ بجے پہنچا تو علامہ محترم اعجاز فرخ صاحب مدظلہ اور محبی برادرم وصی اللہ بختیاری عمری کو تقریب گاہ کے باب الداخلہ پر اپنے مہمانوں کا استقبال کرتے پایا۔قریب میں سکریٹری/ڈائریکٹر اردو اکیڈمی تلنگانہ ایس اے شکور صاحب بھی اپنے ماتحتین کے ہمراہ مہمانوں کی اندرون آڈیٹوریم رہنمائی فرمارہے تھے۔
ایک طویل مدت بعد مشاہدے میں رہا کہ قریب چار سو سامعین کی گنجائش کے حامل آڈیٹوریم کا اندرونی حصہ، تقریب کے آغاز سے قبل ہی باذوق سامعین سے مکمل طور پر پُر ہوچکا تھا۔ صدر محفل و مہمانوں کی آمد اور ان کے ڈائس پر متمکن ہونے تک بیرون آڈیٹوریم کا حصہ بھی سامعین کی کثرت کے سبب تنگ دامنی کا شکوہ کرنے لگا۔گویا بقول شاعر:
یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے
یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے
ٹھیک ساڑھے چھ بجے صدر محفل عالی جناب محمد محمود علی صاحب کی اجازت سے اردو اکیڈمی کے افسر تعلقات عامہ جناب سید ارشد مبین زبیری صاحب نے خیر مقدمی کلمات سے تقریب کا آغاز کیا۔سکریٹری/ڈائریکٹر جناب ایس اے شکور صاحب نے "مرقعِ حیدرآباد" کا مختصر لیکن جامع الفاظ میں تعارف کروایا۔ پھر جناب عمر جلیل صاحب نے اپنی تقریر میں اس کتاب کے انگریزی ترجمے کی خواہش وضرورت ظاہر کی اور ان کے بعد جناب اے۔ کے۔ خان صاحب نے بھی مختصر و جامع خطاب کیا۔
muraqqa-e-hyd-book by Allama Aijaz Farrukh
یہاں اس بات کا ذکر بھی بے جا نہ ہوگا کہ '' مرقعِ حیدرآباد'' کی یہ جلد اوّل، خطہ دکن میں قطب شاہوں کی آمد سے میر محبوب علی خان آصف سادس تک تاریخ (معہ اہم تصاویر) کا منظر نامہ ہے جو اپنے قاری کے لئے گویا معلومات کا ایک خزانہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ علامہ محترم نے اس تصنیف میں شہر دکن حیدرآباد کی تاریخ، تہذیب اور طرز معاشرت کو اس کی منفرد تشخص کے حوالے سے نہ صرف رقم کیا ہے بلکہ یہاں کی تاریخ، تہذیب اور تمدن سے وابستہ بیسویں یادگار لمحات کو اپنے مخصوص و منفردطرز نگارش اور اسلوب سے دنیا کے سامنے بطور خاص نسلِ نَو کیلئے پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔یعنی بقول شاعر:
پڑھیں نوشتہ دیوار سب کے بس میں نہیں
کچھ اور ہے یہ عبارت نہیں کتابوں کی !
علامہ محترم کی تقریر سے قبل ڈائریکٹر اردو اکیڈمی نے صدر و صاحب تصنیف کے بشمول سبھی مہمانان خصوصی کو گلدستہ تہنیت پیش کیا۔ جبکہ صدر محفل نے علامہ محترم کی شال پوشی کرنے کے علاوہ یادگاری مومنٹو پیش کیا۔بعد ازاں علامہ نے اپنے مخصوص انداز میں خطاب فرمایا تو محفل میں گویا ان ہی کی آواز گونجتی رہی۔ سب نے دم بخود ہوکر ابتدأ سے انتہا تک تقریر سماعت کی۔ اختصار کی خاطر تقریر کا ابتدائی پیرا پیش ہے:
''اس کتاب میں درحقیقت سیاسی تاریخ سے زیادہ انسانوں کی سانس لیتی تاریخ ہے۔ تاریخ کولکھنا کوئی آسان نہیں ہوتا۔ جب تک ماضی کا ایک ایک پتھر انسان سے سرگوشی نہ کرے اور اس کے فن سے واقف نہ ہو تب تک ماضی کی تاریخ لکھنا آسان نہیں ۔ لکھنے والے کےلئے یہ ضروری ہے کہ ہوا کواپنا رازداربناکر تاریخ کوہوا کے سپرد نہ کرے بلکہ تاریخ کوانسان تک پہنچائے ۔"مرقعِ حیدرآباد" سیاسی تاریخ سے زیادہ تہذیبی تاریخ ہے۔ دہلی کی تاریخ مرتب ہوئی۔ لکھنؤ میں رجب علی سروری' قرۃ العین' جعفرحسین صاحب نے تاریخی کتابیں لکھیں۔ حیدرآباد کی بدقسمتی تو نہیں کہوں گا شائد حیدرآباد کی تہذیبی تاریخ کو مرتب کرنے کے لئے کسی نے کچھ نہیں کیا شائد ان کو وقت نہیں ملا۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے مواقع ملے۔ اس زمین پرسانس لیتے ہوئے 75 برس گذرے۔ میں نے وہ دوربھی دیکھا جب چھوٹے چھوٹے مٹی کے چراغ ٹمٹماتے' دیوار گریاں' لالٹنیں' مدھم روشنی' اسی روشنی میں ہماری ماں کھانا پکالیتی' ہم پڑھالیتے تھے' ہم پڑھ لیتے تھے۔ دادی سوئی میں دھاگا ڈال لیتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس زمانہ میں ہمیں روشنی اندر زیادہ تھی اورباہر کم۔ لیکن آج ہرجگہ روشنیوں کا جنگل بن گیا ہے، اس روشنی میں لوگوں کے دلوں میں اندھیرا ہے۔ وقت بدل گیا۔ہرطرف روشنیاں مگر مجھے کوئی چیز صاف نہیں دکھتی۔ مجھ سے اب لگتا ہے کہ بینائی چھین گئی ہے۔ وقت بدل گیا' تاریخ بد ل گئی' اس کتا ب میں حیدرآباد کی تاریخ کو سمٹینے کی کوشش کی گئی ہے کہ کافی ضخیم کتاب ہے' تصاویر ہیں۔''
علامہ محترم کو بالکلیہ پہلی بار سماعت کررہے سامعین کو بقول شاعر شدت سے احساس ہو رہا تھا:
ہوا کی دسترس میں کیا نہیں تھا
دئیے کو اس کا اندازہ نہیں تھا !
جسے ہم کان دھر کر سن رہے تھے
ہمارے دور کا لہجہ نہیں تھا !
علامہ محترم کے بعد مہمان خصوصی جناب بنڈارو دتہ تاریہ صاحب نے اپنی تقریر میں تصنیف و صاحب تصنیف کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے اس تاریخی کتاب کو تلگو میں بھی ترجمہ کرنے کا مطالبہ کیا اور ان کے بعد نائب وزیر اعلیٰ جناب محمد محمود علی صاحب نے صدارتی خطاب فرمایا۔ باذوق سامعین میں شامل کتب بینی کے شائقین کے اصرار پر انھوں نے تقریب رسم اجرأ "مرقعِ حیدرآباد" کے پرمسرت موقع پر نصف قیمت پر فراہمی کا پرشور تالیوں کی گونج میں اعلان کیا۔ بعد ازاں جناب عمر جلیل صاحب کے شکریہ پر یہ تاریخی و یادگار تقریب اختتام کو پہنچی۔
تقریب کے اختتام پر شہر دکن حیدرآاد کے ادبی افق پر فعال بے شمار شخصیات کے علاوہ پڑوسی اضلاع و دیگر شہروں سے آئے ہوئے مختلف مکاتیب فکر کے حامل معزز شخصیات بھی نظر نواز ہوئیں اور تقریباً سے ملاقات بھی ممکن رہی ۔ جن میں پروفیسر مسعود احمد خان، ڈاکٹر محسن جلگانوی، م۔ ق۔ سلیم ،صلاح الدین نیر، ڈاکٹر فاروق شکیل، اعجاز عبید، احمد نثار، ڈاکٹر محمد عمران، ڈاکٹرمحمدہلال اعظمی، مختار احمد فردین، احمد ارشد حسین، عبدالقدوس، احمد نثار، ڈاکٹر ناظم علی، ڈاکٹر ارشد زبیری، ڈاکٹر جنید ذاکر، سید حبیب امام قادری، سید فتح اللہ بختیاری، سید لیاقت اللہ سہیل بختیاری، محمد رحمان باشا، سہیل عظیم، اسحاق مرزا بیگ، بشیر احمد بیگ، اقبال شانہ، محمد مصطفیٰ علی سروری، محترمہ نسیمہ تراب الحسن، پروفیسر فاطمہ پروین، پروفیسر اشرف رفیع، محترمہ فریدہ وقار، محترمہ تسنیم جوہر وغیرہ شامل تھے۔
برادر کلاں سید مکرم نیاز و ان کے لڑکپن کے رفیق ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم، ہر دو صاحبان اپنی بیگمات کے ہمراہ شریک محفل رہے۔
تقریب کے اختتام کے بعد بھی کافی دیر تک آدیٹوریم کے باہر "مرقعِ حیدرآباد" کی خریداری کے لئے اکیڈمی کی جانب سے لگائے گئے سیل کاؤنٹر پر کافی رش رہا۔ سینکڑوں جلدوں پر مشتمل کارٹن دیکھتے ہی دیکھتے فروخت ہوگئے۔ خیریت رہی کہ کچھ ہی فاصلے پر واقع عمارت ''حج ہاؤز'' کی چوتھی منزل ہی میں اکیڈمی کا دفتر ہونے کے سبب تازہ اسٹاک منگوانے میں سہولت رہی۔
ای۔ ٹی۔ وی (اردو )کی جانب سے جناب انیس الرحمن صاحب نے علامہ محترم اور سید وصی اللہ بختیاری صاحب کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ بعد ازاں دستیاب وقت میں سید وصی اللہ بختیاری اور ریسرچ اسکالر محسن خان کے ہمراہ آڈیٹوریم کے ایک گوشہ میں نشست رہی۔
خاکسار چونکہ علامہ صاحب کے خطاب کے دوران کچھ وقفہ عکس بندی میں مصروف رہ گیا تھا۔ تقریر کی مشمولات جاننے کے لئے پہل کرتے ہوئے پوچھا:
''علامہ محترم نے اپنی تقریر کے درمیانی حصے میں اردو اکیڈمی سے اپنی وابستگی کے بارے میں کچھ کہا ہے؟''
برادرم وصی نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیتے ہوئے بتایا:
''جی ہاں، علامہ اعجاز فرخ صاحب نے فرمایا کہ میں اکیڈمی میں شروع ہی سے ہوں، روز اول ہی سے اکیڈمی کی کارکردگی میری نظروں میں ہے ، آپ نے مزید فرمایا کہ جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی صاحب کے دور میں انہوں نے ایوارڈ کو ناموں سے موسوم کیا، انہیں مختلف زمروں میں تقسیم کیا!''
مزید وضاحت کی خواہش پر وہ گویا ہوئے:
''علامہ محترم نے کہاکہ انھوں نے ہی انعام کی رقم کو پانچ ہزار سے بڑھا کر پچیس ہزار کیا تھا ۔اس وقت یہ منظر ہوتا تھا کہ ادباء و شعراء قطار میں کھڑے ہو کر پانچ ہزار کا چیک وصول کرتے تھے۔ آپ نے انعامی رقم کو پچیس ہزار کرنے کے علاوہ یہ بھی کیا کہ انہیں چیک پہنچایا جائے کہ وہ آ کر قطار میں وصول نہ کریں- اسی طرح آپ نے یہ بھی کیا کہ ایوارڈ کے لیے درخواستیں نہ طلب کی جائیں بلکہ ایوارڈ قابلیت کی بنیاد پر دیا جائے - اکیڈمی کی کمیٹی یا جیوری خود فیصلہ کر دے -''
علامہ صاحب کی تقریر میں مخدوم صاحب کے ذکر پر استفسار پر برادرم محسن خان گویا ہوئے:
''جی ہاں! علامہ صاحب نے مخدوم محی الدین کا تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ ایک بڑا ایورڈ ہے۔ جسے ان سے موسوم کیا گیا ہے کہ ، مخدوم، فیض کے ہم پلہ شاعر تھے۔ آپ نے اشارتاً ذکر کیا کہ مخدوم ایوارڈ کے لیے ایک لاکھ کی رقم انتہائی کم ہے -''
اسے سن کر میں نے یاد دلایا کہ:
'' علامہ صاحب نے نائب وزیر اعلیٰ سے اس بارے میں کچھ گفتگو بھی کی !''
اس بار برادرم وصی نے جواب دیا:
''جی ہاں اربابِ حکومت اور متعلقہ افسران کی موجودگی کا خیال کرکے ہی علامہ محترم نے اس جانب توجہ دلائی ہے۔ جسے قبول کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے ایوارڈ کی رقم دگنی کر دینے کا اعلان کیا، جس پر سامعین و حاضرین محفل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی-''
میں نے مسکراتے ہوئے کہا گویا شہر دکن حیدرآباد ہی سے وابستہ جدید لب و لہجے کے شاعر علی الدین نوید کے الفاظ میں:
تمھاری فکر کا چہرہ بھی کھل گیا ہم پر
فقط کتاب کی وہ رسمِ رونمائی نہ تھی
تقریب کے اختتام پرمختلف عمر، مزاج اور ذہن کے لوگ کتاب خرید کرحضرت علامہ اعجاز فرخ صاحب سے جس طرح آٹو گراف لے رہے تھے اور بڑی ہی اپنائیت، عقیدت و محبت و احترام کا مظاہرہ کر رہے تھے ۔ اس منظر کو دیکھ کرمیں نے وصی بختیاری سے ان کے تاثرات جاننا چاہے۔
برادرم وصی نے جواب دیا:
''برادرِ مکرم ! میرے لئے واقعی یہ ایک جذباتی منظر تھا۔آج تک میں نے کسی مصنف کی ایسی توقیر، قدردانی، عقیدت و محبت اور خلوص و احترام کا مظاہرہ کہیں نہیں دیکھا۔لوگ علامہ صاحب کی ایک دستخط کے لیے ایک ایک گھنٹہ منتظر رہے ۔علامہ صاحب کی اس کتاب کی رسمِ اجراء میں اتنی بڑی تعداد میں سامعین کی موجودگی دیکھ کر اور اس کی رفتار فروختگی سے اندازہ ہوا کہ ابھی اردو میںسامع و قاری معدوم نہیں ہوا۔مطالعہ کا ذوق و شوق باقی ہے ۔لوگوں میں قلمکار کے تئیں قدردانی کے جذبات پائے جاتے ہیں!!''
میں نے محسن خان کو مخاطب کرتے ہوئے حیدرآبا د اور اس کے مضافات کے علاوہ بھی دیگر اضلاع سے سامعین کی شرکت کے بارے میں ان کے خیالات جاننے چاہے:
''عموماً ایسی ادبی تقاریب کا انعقاد ہفتہ یا اتوار کے روز کیا جاتا ہے۔ کام و مصروفیات کے حوالے سے چونکہ پیر پہلا روز ہوا کرتا ہے ، اس کے باوجود اتنی تعداد میں سامعین کی شرکت واقعی حیران کن امر ہے!!''
محسن خان نے متانت سے جواب دیا:
''جی ہاں! واقعی حیرت انگیز بات ہے کہ ناندیڑ، محبوب نگر، نظام آباد، رائے چوٹی، اور حیدرآباد کے دور و نزدیک مقامات سے اہلِ ذوق کھنچے کھنچے چلے آئے تھے ۔ساتھ ہی تقریب میں وقت کی پابندی کا نظم بھی متاثر کن امر رہا۔یہ ایک طرح سے اردو اور ادبی ذوق وشوق کے لئے مثردہئ جاں فزا بات ہے''
ڈھلتی شب کا خیال کرتے ہوئے میں نے آخری سوال پوچھ لینا مناسب سمجھا۔
'' محکمہ پنچایت راج ، نظام آبادسے وابستہ موظف انجنئیرجناب اسحاق مرزا بیگ صاحب اور ان کے دبئی میں مقیم فرزند اکرام ناصر کو ہم نے سوشیل میڈیا میں فعال دیکھا ہے ۔ آج مرزا صاحب کے ساتھ ان کے برادرِ کلاں جناب بشیر احمد بیگ صاحب سے ملاقات رہی۔ موصوف کا مزید کچھ تعارف؟''
برادرم وصی نے قدرے تبسم کے ساتھ جواب دیا:
'' جی! جناب بشیر احمد بیگ صاحب تو علامہ محترم کے بڑے قدردان ہیں۔ان کے ہاں علامہ محترم کی اخبارات میں اب تک شائع شدہ ہرتحریر کا تراشہ محفوط ہے ۔''
برادرم سید وصی اللہ بختیاری اور محسن خان سے گفتگو کے اختتام پر تقریب کے حوالے سے بے ساختہ ایک ہی شعر یاد آیا:
مہک بن کر ملا کوئی ، لگا یوں
جہاں میں ہم ہی ہم پھیلے ہوئے ہیں

***
سید معظم راز
16-8-544, New Malakpet, Hyderabad-500024.
mzm544[@]gmail.com

سید معظم راز

Muraqqa-e-Hyderabad, Release of a book on Hyderabad Estate History. Reportaz: Syed Moazzam Raaz

0 comments:

Post a Comment