Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-09-04 - بوقت: 23:51

مودی کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل

Comments : 0
مودی کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل
نئی دہلی
پی ٹی آئی
نرملا سیتا رامن کو اہم ترین دفاع کا قلمدان دیا گیا ہے جب کہ پیوش گوئل کو سریش پربھو کی جگہ وزارت ریلوے حوالے کی گئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اپنی کابینہ میں بڑے پیمانے پر توسیع اور ردوبدل کرتے ہوئے نو نئے چہروں کو شامل کیا ۔ سیتا رامن ملک کی پہلی مکمل وزیر دفاع بنی ہیں۔ اس سے قبل اندرا گاندھی کے پاس وزارت عظمیٰ کے ساتھ ساتھ یہ ذمہ داری رہی تھی۔58سالہ رکن راجیہ سبھا سیتا رامن قبل ازیں مملکتی وزیر کی حیثیت سے کامرس کا قلمدان رکھتی تھیں۔ انہیں گوئل، دھرمیندر پردھان اور مختار عباس نقوی کے ساتھ ترقی دیتے ہوئے کابینی درجہ دیا گیا۔ سیتا رامن سلامتی پر اہم ترین کابینی کمیٹی کی رکن ہوں گی جس کے دیگر اراکین وزیر اعظم، وزیر داخلہ، وزیر خارجہ اور وزیرفینانس ہیں۔ سریش پربھو کو کامرس اور صنعت کی وزارت بھیج دیا گیا جب کہ جبکہ پردھان اپنے تیل اور قدرتی گیس اور نقوی اقلیتی امور کا قلمدان برقرار رکھ نے میں کامیاب ہوگئے ۔ گوئل ریلویز کے ساتھ وزارت کوئلہ کی ذمہ داری بھی نبھائیں گے ۔ مودی نے اوما بھارتی کو آبی وسائل، دریاؤں کی ترقی اور گنگا کی تزئین کی ذمہ داری سے بے دخل کردیا۔ بھارتی پینے کا پانی اور صفائی کے قلمدان کی ذمہ دار رہیں گی۔ پردھان کو فروغ ہنر مندی وزارت کی زائد ذمہ داری دی گئی ۔ وزیر اعظم نے تین سابق سرکاری عہدیداروں کی انتظامی صلاحیتوں پر بھروسہ کا بھی اظہار کیا اور انہیں اہم قلمدانوں کی آزادانہ ذمہ داری سونپی۔ سابق سفارتکار ہردیپ پوری اور سابق آئی اے ایس عہدیدار الفونس کننتانم کو بالترتیب مملکتی وزیر( آزادانہ چارج) امکنہ و شہری ترقیات اور سیاحت کا قلمدان سونپا گیا ۔ سابق معتمد داخلہ آر کے سنگھ کو توانائی اور نئی و قابل تجدید توانائی کے قلمدان کا آزادانہ ذمہ دار بنایا گیا ۔ راجیو وردھن سنگھ راتھوڑ کو وجئے گوئل کی جگہ اسپورٹس کی وزارت سونپی گئی۔ گوئل جو قبل ازیں آزادانہ چارج رکھتے تھے مملکتی وزیر پارلیمانی امورو پروگرام عمل آوری کی ذمہ داری سبکدو ش کردئیے گئے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس عملہ، عوامی شکایات ووظائف ، ایٹمی توانائی، محکمہ خلائی سائنس اور تمام اہم پالیسی مسائل کے قلمدان بھی موجود ہیں۔ علاوہ ازیں، جو قلمدان کسی وزیرکو نہیں دئیے گئے وہ بھی وزیر اعظم کے پاس ہیں۔ مجلس وزراء میں کابینی درجہ کے وزراء اس طرح ہیں۔ راج ناتھ سنگھ امور داخلہ، سشما سوراج امور خارجہ، ارون جیٹلی فینانس اور کارپوریٹ امور۔ نتن جئے رام گڈ کری روڈ ٹرانسپورٹ اور قومی شاہراہیں، بندرگاہیں اور آبی وسائل،دریاؤں کی ترقی اور گنگا کی تزئین نو۔ سریش پربھو کامرس و صنعت، پی وی سدانند گوڑا شماریات اور پروگرام عمل آوری۔ اوماب ھارتی پ ینے کا پانی و صفائی، رام ولاس پاسوان امور صارفین، اغذیہ و عوامی نظام تقسیم۔ منیکا گاندھی بہبود خواتین و اطفال، انند کمار کیمیاوکھاد، پارلیمانی امور، روی شنکر پرساد قانو ن و انصاف ، الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی۔ جے پرکاش نڈا صحت خاندانی بہبود۔ اشوک گجپتی راجو شہری ہوا بازی ۔ انند گیتے بھاری صنعتیں اور پبلک انٹر پرائزرس ، ہر سمرت کو ر بادل فوڈ پراسیسنگ، صنعتیں ، نریندر سنگھ تومر دیہی ترقیات ، پنچایت راج ، کانکنی، چودھری بریندر سنگھ فولاد ۔ جول اورام قبائیلی امور ۔ رادھا موہن سنگھ زراعت و بہبود کسان۔تھاور چندگہلوٹ سماجی انصاف اورامپاورمنٹ، اسمرتی ایرانی پارچہ جات ،اطلاعات اور نشریات ۔ ہرش وردھن سائنس و ٹکنالوجی ، علوم اراضی، ماحولیات، جنگلات، ماحولیاتی تبدیلی ، پرکاش جاؤڈیکر فروغ انسانی وسائل۔ دھرمیندر پردھان پٹرولیم اور قدرتی گیس، فروغ ہنر مندی اور نئی صنعت کاری۔ پیوش گوئل ریلویز، کوئلہ، سیتا رامن دفاع،مختار عباس نقوی اقلیتی امور ۔
مرکزی کابینہ کا ردو بدل - وزراء کی شمولیت انتظامی سے زیادہ سیاسی نوعیت پر مبنی ، لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر برہمن طبقہ کو نمائندگی دینے بی جے پی کوشاں
نئی دہلی، لکھنو سے پی ٹی آئی کی علیحدہ اطلاع کے بموجب مرکزی کابینہ میں9وزراء کی شمولیت اور چار وزراء کو ترقی دیتے ہوئے کابینہ وزیر بنیاجانا وزیر اعظم نریندر مودی کے حکمرانی کے توجہ دینے پر مرکوز کیاجارہا ہے لیکن کابینہ میں شمولیت اور ردوبدل کو بی جے پی کے سیاسی مقاصد کے نظر سے بھی دیکھاجارہا ہے۔ دھرمیند ر پردھان جنہوں نے آج کابینی وزیر کے طور پر حلف لیا، وہ اڈیشہ میں بی جے پی کے اصل چہرہ ہیں۔ پردھان، غریبوں کو ایل پی جی کنکشن دینے کی سیاسی مہم میں بھی یہ معروف ہی ں۔ اس کے علاوہ اڈیشہ ان اہم ریاستوں میں سے ایک ہے جس پارٹی صدر امیت شاہ نے2019ء کے لوک سبھا انتخابات میں ترجیحی مقام دے رکھا ہے ۔ پردھان کولوک سبھا انتخابات سے بیس ماہ قبل ترقی دی گئی اس کے علاوہ اڈیشہ اسمبلی کے انتخابات میں بھی انہیں پارٹی کے چہرہ کے طور پر پیش کیاجاسکتا ہے ۔ نقوی کی ترقی اور سابق آئی اے ایس عہدیدار الفون کنتان تھانم کی کابینہ میں شمولیت سے زعفرانی پارٹی کی اقلیتی پیشکش ہیں ۔ الفون جس وقت بر سر خدمت تھے، ان کی تنظیمی صلاحیتوں کو اکثرت ستائش کی جاتی رہی ہے ۔ کا تعلق کیرالا کے عیسائی طبقہ سے ہے۔ کیرالا وہ ریاست ہے جہاں عیسائی قابل لحاظ تعداد میں آباد ہیں اور بی جے پی یہاں قدم جمانے کی زبردست کوشش کررہی ہے۔ دیگر نو وزراء میں تین ارکان کا تعلق برہمن طبقہ سے ہے ۔ جن میں شیوپرتاپ شکلا، اشونی کمار چوبے اور اننت کمار ہیگڈے شامل ہی ں۔ دو ارکان آر کے سنگھ اور گجیندر سنگھ شیخاوت راجپوت ہیں۔ ایک جاٹ(او بی سی)ستیہ پال سنگھ اور ایک دلت وریندر کمار بھی ہیں۔ دو دیگر ارکان کا تعلق اقلیتی طبقہ سے ہے ۔ ہردیپ پوری ایک سکھ ہیں اور الفون عیسائی ہیں۔ بی جے پی برہمن رکن راجیہ سب ھا شکلا جن کی چیف منسٹر اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ سے مخالف عیاں ہے کہ کابینہ میں شمولیت کو بی جے پی پر برہمنوں کی اعتبار کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھاجارہا ہے ۔ جب کہ چوبے کا آر ایس ایس سے بہت اچھے تعلقات ہیں لیکن وہ اپنے ریاست بہار کے قائدین سشیل کمار مودی و دیگر کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔چوبے بہار کے حلقہ لوک سبھا بکسر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جہاں کے او بی سیز پر بی جے پی کی نظر ہے۔ چوبے کی کابینہ میں شمولیت پارٹی میں تعدل برقرار رکھنے کی کوشش ہے ۔ کابینہ میں شمولیت آر کے سنگھ کی بہبود کے طور پر دیکھاجارہا ہے ۔2015ء کے بہار اسمبلی انتخابات میں ٹکٹوں کی فراہمی پر پارٹی قائدین پر سخٹ تنقید کرتے رہے ہے، ان کی شمولیت سے انہیں راحت دی گئی ہے جس سے افراد کو حیرت مین ڈال دیا ۔ سابق معتمد داخلہ اور دیانتدار امیج رکھنے والے راجپوت کی کابینہ میں شمولیت سے راجپوت قائد راجیو پرتاپ روڈی کی بے دخلی کی تلافی سمجھی جارہی ہے ۔ ممبئی کے سابق پولیس عہدیدار ستیہ پال سنگھ جاٹ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ میں ردوبدل نے سب کی نظریں اتر پردیش کے پوروانچل یا مشرقی اتر پردیش پر مرکوز کردیں۔ بی جے پی اس علاقہ کے سیاسی قائدین میں ذات پات کے توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہے ۔ مرکزی کابینہ میں شیو پرتاپ شکلا کی شمولیت سے بی جے پی کے لئے برہمنوں کے ووٹوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے ۔65سالہ شکلا کا تعلق چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے گڑھ گورکھ پور سے ہے ۔ شکلا کو غازی پور کے مہندرا ناتھ پانڈے کی بحیثیت صدر اتر پردیش بی جے پی تقرر کے ایک دن بعد مرکزی کابینہ میں شامل کیاگیا ہے ۔ غازی پور بھی مشرقی اتر پردیش کا علاقہ ہے ۔ شکلا اور پانڈے دونوں برہمن ہیں اور پوروانچل سے تعلق رکھتے ہیں۔ بی جے پی نے سال2019ء میں منعقد شدنی لوک سبھا انتخابات میں برہمن ووٹوں کو نظر میں رکھتے ہوئے ان دونوں کا تقرر عمل میں لایا ہے ۔ اس کے علاوہ ڈپٹی چیف منسٹر دنیش شرما بھی برہمن ہیں۔ اس طرح بی جے پی آئندہ عام انتخابات تک برہمنوں کو پارٹی سے باندھے رکھنا چاہتی ہے ۔
Modi Cabinet Expansion, PM reshuffles Council of Ministers

کابینی توسیع بے کار عمل، مودی لا تعلق اور امیت شاہ کا غلبہ
نئی دہلی
پی ٹی آئی، یو این آئی
کانگریس نے مرکزی کابینہ میں آج ہوئی توسیع کو بے کار عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دفتر وزیر اعظم ہنوز وزارتوں پر کنٹرول برقراررکھے گا۔ بھاگوت دفتر وزیراعظم پر کنٹرول رکھیں گے ۔ دونوں ہی ناکام ہوچکے ہیں۔ اے آئی سی سی ترجمان سشما دیپ نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ یہ بات کہی ۔ پارٹی کے ایک اور ترجمان منیش تیواری نے اس ردو بدل پرتبصرہ کرتے ہوئے اننت کمار ہیگڈے کو کابینہ میں شامل کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نئی کابینہ کے نئے چہرے ہیگڈے کو حال ہی میں ڈاکٹرس پر ان کے مبینہ حملہ پر صحت کا قلمدان دیاجانا چاہئے تھا۔ تیواری نے جیٹلی کے حوالہ سے بھی کابینی توسیع کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وزیر اعظم نے صرف ایک شخص کو بخش دیا ہے جو ہندوستانی معیشت کو تباہ کرنے کا ذمہ دار ہے ۔ اس کے علاوہ ایسا لگتا ہے کہ اس پورے عمل سے وزیر اعظم کا کوئی تعلق نہیں تھا جب کہ بی جے پی صدر امیت شاہ نے مرکزی کردار نبھایا۔ انہوں نے کابینی توسیع کے اعلان کے فوری بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ ریمارکس کئے ۔ انہوں نے کہا کہ راجیو پرتاپ روڈی اور کلراج مشرا جیسی شخصیتوں کو غیر کارکردگی کی بنیاد پر کابینہ سے ہٹایا گیا اور دانشور جو معیشت کی تباہی کا ذمہ دار ہے اسے بخش دیا گیا ۔ انہوں نے نرملا سیتا رامن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی میعاد میں ملک کی برآمدات پر ضرب پڑی ہے ۔ نقوی کی ترقی کو انہوں نے علامتی قرار دیا اور کہا کہ نئے وزراء کے انتخاب کے بعد کابینہ بزرگ شہریون کے کلب میں بدل دے گی کیونکہ بیشتر نئے وزراء کی عمریں60سال سے زائد ہیں ۔ حالانکہ مودی یہ کہتے رہیں کہ ملک کو نوجوانوں کی ضرورت ہے ۔ تیواری نے کہا کہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اننت کمار ہیگڈے کی کابینہ میں شمولیت ہے جن کو اس سال کے اوائل میں کرناٹک کے ایک ہاسپٹل میں ڈاکٹرس کو مارتے ہوئے دیکھا گیا اور یہ تصاویر کیمرے میں قید ہوگئیں۔ جنتادل یو کی عدم شمولیت پر کانگریس ترجمان نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی ڈوبتی کشتی کا سواربننا نہیں چاہتا ۔ آپ طاقت کے بل پر کسی کو بھی اپنے ساتھ شامل کرسکتے ہیں لی کن حقیقت یہ ہے کہ آپ کی ڈوبتی کشتی میں سوار ہونے تیار نہیں ہے ۔ کانگریس کے ایک اور لیڈر سنجے جھانے کہا کہ مودی جی کی کابینہ میں ایک نا اہل کی جگہ بے اثر کو اور بے اثر کی جگہ نا اہل کو لایا گیا ہے ۔

0 comments:

Post a Comment