Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-09-08 - بوقت: 17:00

جعلی خبروں کے دور میں - گوری لنکیش کا آخری اداریہ

Comments : 0
gauri-lankesh
گؤری لنکیش نام ہے رسالے کا۔ 16 صفحات کا یہ رسالہ ہر ہفتے نکلتا ہے۔ 15 روپئے قیمت ہوتی ہے۔ 13/ستمبر کا شمارہ گؤری لنکیش کے لئے آخری ثابت ہوا۔ ہم نے اپنے دوست کی مدد سے ان کے آخری اداریہ کا ترجمہ کیا ہے تاکہ آپ کو پتا چل سکے کہ کنّڑا میں لکھنے والی اس صحافی کی تحریر کیسی تھی، اس کی دھار کیسی تھی؟
ہر شمارے میں گؤری 'کنڈا ہاگے' نام سے کالم لکھتی تھیں۔ 'کنڈا ہاگے' کا مطلب ہوتا ہے: 'جیسا میں نے دیکھا'۔ ان کا اداریہ میگزین کے تیسرے صفحہ پر شائع ہوتا تھا۔ اس بار کا اداریہ فیک نیوز پر تھا اور اس کا عنوان تھا "فیک نیوز کے زمانے میں" (جعلی خبر کے زمانے میں)۔
بشکریہ: روش کمار (بحوالہ: دی وائر اردو)

اس ہفتہ کے ایشو سے متعلق میرے دوست ڈاکٹر واسو نے گوئے بلز کی طرح ہندوستان میں فیک نیوز بنانے کی فیکٹری کے متعلق لکھا ہے کہ جھوٹ کی ایسی فیکٹریاں عموماً مودی بھکت ہی چلاتے ہیں۔ جھوٹ کی ان فیکٹریوں سے جو نقصان ہو رہا ہے میں اپنے اداریہ میں اسے واضح کرنے کی کوشش کروں گی۔
ابھی "گنیش چترورتھی" تھی اس دن سوشل میڈیا میں ایک افواہ پھیلائی گئی۔ اس افواہ کی اشاعت کے پس پردہ سنگھ کے ہی حامی تھے۔
یہ افواہ کیا ہے؟
افواہ یہ ہے کہ کرناٹک سرکار جہاں حکم دے گی وہیں گنیش کی مورتی نصب کرنا ہوگی، اس سے قبل دس لاکھ رقم ڈپازٹ کرنی ہوگی، مورتی کی لمبائی کتنی ہوگی اس کے لئے حکومت سے اجازت لینی ہوگی، دوسرے مذاہب (اسلام) کے ماننے والے جہاں رہتے ہیں ان علاقوں اور راستوں سے مورتی وسرجن کے لئے نہیں جا سکتے اور پٹاخے ، آتش بازی وغیرہ بھی نہیں کر سکتے۔
سنگھ کے حامیوں نے اس جھوٹ کی اتنی شدت کے ساتھ اشاعت و تشہیر کی کہ بالآخر کرناٹک پولس کے اعلی حکام کو پریس کانفرنس کے ذریعہ مبینہ پروپیگنڈہ کی تردید کرنی پڑی کہ حکومت نے ایسا کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا ہے۔ بلکہ یہ سب جھوٹ ہے۔ اس افواہ کے سررشتہ معلوم کرنے کی جستجو کی تو ہماری جستجو postcard.news نامی ویب سائٹ پر جاکر ختم ہوئی۔ postcard.news نامی ویب سائٹ کٹر ہندو توا وادی کی ہے، اس کا کام ہی ہر روز فیک نیوز بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلانا ہے۔
11/ اگست کو postcard.news میں ایک سرخی لگائی گئی " کرناٹک میں طالبان حکومت " اس سرخی کے ذریعہ پورے صوبہ میں افواہ اور جھوٹ پھیلانے کی کوشش کی گئی اور سنگھ کے حامی اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ جو لوگ کسی نہ کسی وجہ سے سدھارمیا حکومت سے نالاں رہا کرتے ہیں انھوں نے اسے اپنا ہتھیار بنا لیا، علاوہ ازیں تعجب اور افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام نے بھی بغیر فکر و تدبر کے اسے درست مان لیا، اپنی قوت سماع، قوت شامہ نیز دماغی صلاحیتوں کے درست استعمال سے عوام گریزاں بھی رہے۔

گذشتہ ہفتہ جب عدلیہ نے رام رحیم نامی ایک ڈھونگی بابا کو عصمت دری کے مقدمہ میں سزا سنائی تو اس ڈھونگی کے ساتھ بھاجپا کے کئی لیڈروں کی تصویر سوشل میڈیا میں وائرل ہونے لگیں۔ اس ڈھونگی بابا کے ساتھ مودی کے ساتھ ساتھ ہریانہ کے کئی بھاجپائی ممبران اسمبلی کی تصویر اور ویڈیوز بھی وائرل ہونے لگے، اس سے سنگھ اور اس کا مبینہ کنبہ پریشان ہو گیا۔ اسے کاؤنٹر کرنے کے لئے گرمیت رام رحیم کے بغل میں کیرالہ کے سی پی ایم وزیر اعلیٰ پن رائی وجین کے بیٹھے ہونے کی تصویر بھی وائرل کر دی، یہ تصویر فوٹو شاپ کی خرافات کی منہ بولتی تصویر تھی، جبکہ اصل تصویر میں کانگریس کے لیڈر اومن چانڈی بیٹھے ہیں۔ لیکن ان کے دھڑ پر وجین کا سر جوڑ کر آر ایس ایس کی طرف سے شر پھیلایا گیا۔ شکر ہے کہ سنگھ کا یہ طریقۂ عمل بری طرح ناکام ثابت ہوا۔ کیوں کہ کچھ لوگ فوراً ہی اصل تصویر تلاش کر لے آئے اور سوشل میڈیا پر سچائی واضح کر ڈالی۔
دراصل گذشتہ سال تک آر ایس ایس کے فیک نیوز پروپیگنڈہ کو روکنے یا اس کی سچائی سامنے لانے والا کوئی نہیں تھا۔ لیکن اب بہت سے لوگ سنگھ کی دروغ گوئی کو واشگاف کرنے میں لگ گئے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند امر ہے۔ پہلے اس طرح کے فیک نیوز ہی شائع ہوا کرتے تھے، لیکن ان فیک نیوز کے ساتھ ساتھ اب اصلی نیوز بھی آنے لگ گئے ہیں اور عوام اسے پڑھ اور سمجھ بھی رہے ہیں۔

مثال کے طور پر 15/ اگست کے دن لال قلعہ کی فصیل سے مودی نے جو تقریر کی اس مذکورہ تقریر پر ایک تجزیہ خوب وائرل ہوا۔ دھرو راٹھی [Dhruv Rathi] نے اس کا تجزیہ کیا تھاـ دھروراٹھی دیکھنے میں تو کسی کالج کے عام طالب علم جیسا ہی ہے، تاہم وہ گذشتہ کئی ماہ سے مودی کی دروغ گوئی کی پول سوشل میڈیا پر کھول رہا ہے۔ یہ ویڈیو ہم جیسے لوگوں نے ہی دیکھا تھا عام آدمی تک یہ ویڈیو نہیں پہنچا تھا، لیکن 17/ اگست کو ویڈیو ایک دن میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں تک پہنچ چکا تھا۔
دھرو راٹھی نے بتایا کہ بوسی بسیا (نوٹ: مصنفہ عموما مودی کو 'بوسی بسیا [Boosi Basiya]' ہی لکھا کرتی تھیں، جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ جب بھی منہ کھولیں گے جھوٹ ہی بولیں گے) کی سرکار نے راجیہ سبھا میں ایک ماہ قبل کہا تھا کہ 33 لاکھ نئے محصول دہندہ آئے ہیں۔ اس سے بھی پہلے وزیر اقتصادیات ارون جیٹلی نے 91 لاکھ نئے محصول دہندگان کے جڑنے کی بات کہی تھی، تاہم آخر میں اقتصادی سروے میں یہ کہا گیا کہ صرف 5 لاکھ 40 ہزار نئے محصول دہندگان ہی جڑے ہیں۔ تو بالآخر اس میں سچائی کیا ہے؟ راٹھی نے اپنے ویڈیو میں اسی سوال کو قائم کیا ہے ـ

آج کا مین اسٹریم میڈیا مرکزی حکومت اور بھاجپا کے ذریعہ فراہم کردہ اعداد و شمار اور دیگر تفصیلات کو غالباً 'منزل من اللہ' تصور کرتے ہوئے من و عن نشر کر رہا ہے۔ مین اسٹریم کے لئے حکومت کا تلفظ کردہ ہر ایک حرف گویا ویدک اشلوک ہے۔ اور جو ٹی وی چینلس ہیں وہ تو اس کارِ خیر میں دس قدم آگے ہی ہیں۔
بطور مثال: جب رام ناتھ کووند نے صدر جمہوریہ کا حلف اٹھایا تو اس دن سارے انگریزی چینلوں نے یہ خبر چلائی کہ صرف ایک گھنٹہ میں ٹوئٹر پر صدر جمہوریہ کے فالوور کی تعداد 30 لاکھ سے متجاوز ہو گئی ہے۔ ان چینلوں کا واضح عندیہ تھا کہ اتنی بڑی تعداد صدر جمہوریہ کی حمایت کر رہی ہے۔
بہت سارے ٹی وی چینل آج آر ایس ایس کی ٹیم کا ایک حصہ بن کر رہ گئے ہیں اور اسی کے لئے کام بھی کرتے ہیں۔ جب کہ ٹوئٹر فالوور معاملے کی سچائی تو یہ ہے کہ اس دن سابق صدر جمہوریہ کا سرکاری اکاؤنٹ نئے منتخب صدر جمہوریہ کے نام تبدیل ہو گیا تھا۔ علاوہ ازیں ایک اور قابل غور امر یہ بھی ہے کہ سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کو بھی 30 لاکھ سے بھی زائد افراد فالو کرتے تھے!

آج سنگھ کے ذریعہ اس طرح پھیلائے ہوئے فیک نیوز کی سچائی عوام تک سامنے لانے میں بہت سے لوگ آگے آ گئے ہیں۔
دھروراٹھی ویڈیو کے ذریعہ جھوٹ کو بے نقاب کرنے میں لگے ہیں
تو پرتیک سنہا altnews.in نام کی ویب سائٹ کے ذریعہ یہ کام کر رہے ہیں
ہوکس سلیر [smhoaxslayer.com]، بوم لائیو [BoomLive] اور فیکٹ چیکر [Factchecker] نام کی ویب سائٹس بھی یہی کام کر رہی ہیں۔
ساتھ ہی ساتھ thewire.in اور Scroll.in وغیرہ جیسی ویب سائٹس بھی متحرک ہیں۔
میں نےجن لوگوں کے نام بتائے ہیں ان لوگوں نے حال ہی میں کئی فیک نیوز کی حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔ ان کے کام سے سنگھ کے حامی بہت نالاں ہیں اور سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ یہ لوگ پیسے کیلئے کام نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کا ایک ہی مقصد ہے۔ وہ یہ کہ فاشسٹ طاقتوں کی مبینہ کذب بیانی اور دروغ سامانی کو بے نقاب جائے!

کچھ ہفتہ قبل بنگلور میں موسلادھار بارش ہوئی۔ اس وقت آر ایس ایس حامیوں نے ایک تصویر وائرل کرائی جس کے کیپشن میں لکھا تھا کہ ناسا نے مریخ پر لوگوں کے چلنے کی تصویر جاری کی ہے۔ بنگلور نگر پالیکا B.B.M.C نے اس کی تردید کی کہ مذکورہ تصویر مریخ کی نہیں ہے۔ سنگھ کی نیت یہ تھی کہ اسے مریخ کی تصویر ثابت کرکے بنگلور کی تضحیک کی جائے جس سے عوام یہ تأثر قائم کریں کہ سدارمیا حکومت نے کوئی کام کیا ہی نہیں ہے ، یہاں کی سڑکیں خستہ اور بدحال ہیں۔ لیکن یہ تصویر سنگھ لئے ہی باعث ذلت ثابت ہوئی۔ کیونکہ یہ تصویر بنگلور کی نہیں تھی۔ بلکہ مہاراشٹر کی تھی جہاں بھاجپا کی حکومت قائم ہےـ

حال ہی میں جب مغربی بنگال میں فسادات ہوئے تھے تو آر ایس ایس کے حامیوں نے دو تصویریں جاری کیں۔ ایک تصویر کا کیپشن تھا " بنگال جل رہا ہے "۔ مذکورہ تصویر میں املاک میں آتشزدگی کا منظر تھا۔
دوسری تصویر میں ایک خاتون کی ساڑی کھینچی جا رہی تھی اور کیپشن میں درج تھا " بنگال میں ہندو خاتون پر ظلم ہو رہا ہے "
تاہم بہت جلد ہی اس کی سچائی سامنے آگئی پہلی تصویر 2002 میں رونما گجرات فساد کی تصویر ہے جب بوسی بسیا (نریندر مودی) وہاں کے وزیراعلیٰ تھے اور دوسری تصویر ایک بھوجپوری فلم کا سین تھی، جو حالیہ چند سال قبل ریلیز ہوئی تھی۔

صرف سنگھ ہی نہیں، بلکہ بھاجپا کے مرکزی وزیر بھی ایسی فیک نیوز پھیلانے میں پوری مہارت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر دیکھئے کہ بھاجپا کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے ایک فوٹو شیئر کیا جس میں کچھ لوگ ترنگا میں آگ لگا رہے تھے فوٹو کیپشن میں لکھا تھا " یوم جمہوریہ کے موقعہ پر حیدرآباد میں ترنگا کو نذر آتش کیا جا رہا ہے"
ابھی گوگل امیج سرچ نامی ایک نیا ایپ متعارف ہوا ہے جس کی معرفت آپ کسی بھی تصویر سے اس کی سچائی جان سکتے ہیں کہ تصویر کب کی اور کہاں کی ہے؟
پرتیک سنہا نے یہی کام کیا ہے اور اس ایپلیکیشن کے ذریعہ گڈکری کے اشتراک کردہ تصویر کی حقیقت عیاں کی، معلوم ہوا کہ مذکورہ تصویر حیدرآباد کی نہیں ہے، بلکہ پاکستان کی ہے جہاں کسی ممنوعہ کالعدم شدت پسند تنظیم کے افراد بھارت مخالف نعرہ لگاتے ہوئے ترنگا میں آگ لگا رہے ہیں۔

اسی طرح ایک ٹی وی مباحثہ میں بھاجپا کے ترجمان سنبت پاترا نے کہا کہ سرحد پر فوجیوں کو ترنگا لہرانے میں کتنی دشواریاں پیش آ رہی ہیں پھر جے این یو میں ترنگا لہرانے میں کون سا مسئلہ ہے؟ یہ سوال پوچھ کر سنبت پاترا نے ایک تصویر دکھائی، بعد میں پتہ چلا کہ یہ معروف تصویر ہے، لیکن اس میں بھارتی فوجی نہیں ہیں، بلکہ امریکی فوجی ہیں جو دوسری عالمی جنگ میں جب جاپان کے ایک جزیرے پر قبضہ کیا تھا تب انھوں نے اپنا جھنڈا لہرایا تھا۔ مگر فوٹو شاپ کے ذریعہ بھاجپا ترجمان عوام کو چکمہ دے رہے ہیں۔ ان کا یہ فعل ان کے لئے مہنگا ثابت ہوا جب ٹوئٹر صارفین نے ان کا بےتحاشا مذاق اڑایا۔

مرکزی وزیر پیوش گوئل نے حال ہی میں ایک تصویر شیئر کی، لکھا تھا کہ بھارت کے 50,000 کیلومیٹر راستوں پر حکومت نے 30 لاکھ LED بلب لگوائے ہیں۔ مگر جو تصویر انھوں نے لگائی وہ جعلی نکلی یہ تصویر بھارت کے کسی خطہ کی تھی ہی نہیں، بلکہ سال 2009 کے جاپان کی تھی۔
اسی گوئل نے پہلے بھی ایک ٹوئیٹ کیا تھا کہ کوئلے کی فراہمی میں حکومت نے 25,900 کروڑ روپے کی بچت کی ہے اس ٹوئیٹ کی تصویر بھی جعلی نکلی۔
چھتیس گڈھ کے P.W.D کے وزیر راجیش مونت نے ایک پل کی تصویر شیئر کی اور اپنی حکومت کی کامیابی بتائی، اس ٹوئیٹ کو دو ہزار لوگوں نے لائک بھی کیا تھا، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ تصویر چھتیس گڈھ کی نہیں ہے، بلکہ ویتنام کی ہے۔

اس طرح کی جعلی خبروں کی اشاعت و ترسیل میں آر ایس ایس نواز اور بھاجپائی لیڈر بھی کم نہیں ہیں۔ کرناٹک کے ایم پی پرتاپ سنہا نے ایک رپورٹ شیئر کی اور کہا کہ یہ خبر ٹائمس آف انڈیا میں شائع ہو چکی ہے، اس کی سرخی یہ تھی کہ " ہندو لڑکی کو مسلمان نے چاقو مار کر ہلاک کر دیا ہے "۔ دنیا کو رواداری کا درس دینے والے پرتاپ سنہا نے سچائی جاننے کی زحمت بھی نہیں کی اور کسی دوسرے اخبار نے اسے شائع بھی نہیں کیا تھا؛ بلکہ فوٹو شاپ کے ذریعہ کسی دوسری خبر پر عنوان لگا کر فرقہ وارانہ رنگ دے دیا گیا تھا اور اس کے لئے ٹائمس آف انڈیا کے نام کا استعمال بھی کیا۔ جب ہنگامہ ہوا کہ یہ فیک نیوز ہے تو ممبر پارلیمنٹ نے اسے ڈیلیٹ کر دیا اور معافی یا اظہار ندامت کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ جب کہ یہ عمل مکمل فرقہ واریت پر مبنی ہے۔
جیسا کہ میرے دوست ڈاکٹر واسو نے اس بار کے کالم میں لکھا ہے میں نے بھی سہواً ایک جعلی تصویر شیئر کی، گذشتہ ہفتہ پٹنہ میں منعقدہ "بھاجپا بھگاؤ دیش بچاؤ " ریلی کی تصویر لالو یادو نے فوٹو شاپ کے ذریعہ شیئر کی تھی، تھوڑی دیر میں دوست ششی دھر نے مطلع کیا کہ یہ تصویر جعلی اور فرضی ہے۔ میں نے فوراً اسے ڈیلیٹ کیا، اس غلطی پر معافی بھی مانگی اور فیک اور اصلی دونوں تصاویر کو ایک ساتھ ٹوئیٹ بھی کیا۔
اس سہواً خطا کے پس پردہ فرقہ واریت کے فروغ کی نیت نہیں تھی، بلکہ یہ پیغام دینا ہمارا مقصد تھا کہ:
'فاشسٹ طاقتوں کے خلاف عوام متحد ہو رہے ہیں'۔

جو لوگ فیک نیوز، جعلی تصویر وغیرہ کو ایکسپوز (بے نقاب) کر رہے ہیں یقیناً وہ مستحسن عمل میں مصروف ہیں، ان کو میرا سلام۔ میری دلی خواہش ہے کہ ان کی تعداد اور بھی زیادہ ہو تاکہ حقائق کو اجاگر کیا جا سکے۔

Gauri Lankesh's Last Editorial: "During The Days Of Fake News"

0 comments:

Post a Comment