Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-08-10 - بوقت: 15:08

مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس سرایت کرتا جا رہا ہے - حامد انصاری

Comments : 0
نئی دہلی
آئی اے این ایس
نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری، جو د س سال بعد اپنے عہدہ سے سبکدوش ہورہے ہیں، کہا کہ ملک میں عدم رواداری اور رکھشکوں کے تشدد کے پس منظر میں مسلمانوں عدم تحفظ اور بے چینی کا احساس سرایت کرتا جارہا ہے ۔ 80سالہ حامد انصاری کا جنہوں نے نائب صدر کے عہدہ پر دو میعادیں مکمل کی ہیں، یہ بھی کہنا ہے کہ ہندوستانی اقدار اور مختلف سطحوں اور مختلف مقامات پر نفاذ قانون کو یقینی بنانے میں حکام کی ناکامی دیکھی جارہی ہے ، انہو ں نے راجیہ سبھا ٹی وی پر صحافی کرن تھاپر کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر کسی بھی شہری کی ہندوستانیت پر سوال ایک ایسی حقیقت ہے جو انتہائی پریشان کن خیال ہے ۔ واضح رہے کہ حامد انصاری نے پیشرفت کرتے ہوئے راجیہ سبھا ٹی وی کے قیام کو یقینی بنایا تھا۔ اس انٹر ویو میں انہوں نے مختلف مسائل بشمول ہندوستان میں افریقوں پر حملے، راجیہ سبھا کی کارکرگی جس کی انہوں نے صدارت کی ہے اور دو صدور جمہوریہ پرتیبھا پاٹل اور پرنب مکرجی ، دو وزرائے اعظم منموہن سنگھ اور نریندر مودی کے ساتھ اپنے تعلقات پر گفتگو کی ہے ۔ ان سے بنگلورو میں اتوار کے روز نیشنل لا اسکول میں دئیے گئے لیکچر کے بارے میں سوال کیا گیا تھا ، جس میں انہوں نے عدم رواداری اور غرور کو قوم پر ستی سمجھتے ہوئے اس پر عمل کیے جانے کی بات کی تھی اور مختلف گوشوں سے اس پر یہ رد عمل ظاہر کیا گیا تھا کہ آیا چند افراد کے تبصروں کی وجہ سے مسلم براری اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کررہی ہے ۔ حامد انصاری نے کہا کہ ہاں یہ صحیح اندازہ ہے ۔ ملک کے مختلف گوشوں سے میں جو کچھ سن رہا ہوں، اس کی روشنی میں یہ ایک صحیح اندازہ ہے۔ بنگلورو میں بھی میں نے یہی بات سنی ۔ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی میں نے یہی بات سنی ہے ۔ شمالی ہند میں بھی اس کے بارے میں کافی کچھ سنتا رہا ہوں۔ بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس سرایت کرتا جارہا ہے ۔ نائب صدر جمہوریہ سے اس سوال پر کہ آیا ان لوگوں( مسلمانوں) میں یہ احساس پیدا ہورہا ہے کہ وہ مطلوب نہیں ہیں، تو انہوں نے کہا کہ میں اتنی دور نہیں جاؤں گا، لیکن یہ عدم تحفظ کا احساس ہے ۔ انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ انہیں وقت کے ساتھ چلنا ہوگا اور موقع کی ضروریات پر پورا اترنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے آپ یا ا پنے ساتھیوں کے لئے کوئی ایسی تصوراتی صورتحال پیدا نہ کریں جو صدیوں قدیم ہوں، جب کہ حالات یکسر مختلف ہیں۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آج کافی چیلنجس در پیش ہیں۔ ہمیں ترقیاتی چیلنجس کا سامنا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ ترقی کے لئے کس چیز کی ضرورت ہے ۔آپ وقت کے ساتھ ہم آہنگ رہیں اور اپنے آپ کو تعلیم یافتہ بنائیں۔

A sense of insecurity is creeping in among Muslims: Hamid Ansari

0 comments:

Post a Comment