Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-08-15 - بوقت: 14:28

رفیع احمد قدوائی - ایک عظیم انسان

Comments : 0
Rafi Ahmed Kidwai
انسانی عظمت بڑی عجیب حقیقت ہے۔ بارہاناواقفیت یا تعصب کی وجہ سے عظیم انسانوں کا تعارف ہی نہیں ہوپاتا۔ اور اکثربڑے عام سے آدمی عظیم انسانوں میں شمارکر لئے جاتے ہیں اور پھر لوگ اسی غلط فرہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ کسی عظیم انسان سے متعارف ہیں یا اس کا نام جانتے ہیں۔ دیکھنے میں یہ بھی آتا ہے کہ بعض لوگ صرف اس لئے عظمت کے کسی منصب کے مستحق نہیں گردانے گئے کہ وہ تاریخ کے کسی غلط موڑ پر کسی غلط انسانی گروہ میں پیدا ہوگئے تھے۔اب اس پر ان بے چاروں کا تو کوئی بس نہیں چلتا ۔ پھر بھی جتنا ان کابس چلتا تھا وہاں انہوں نے کچھ جواں مردی، کچھ دانشمندی کا مظاہرہ بھی کیا تھا؛ مگر پھر وہ کسی کی سمجھ ہی میں نہ آئے یا ناشکرے گروہوں نے انہیں یوں نظر انداز کردیا جیسے چلتی ریل کے سامنے آنے والا کوئی پہاڑی جھرنا اپنے حسن ا ور دلکشی کے باوجودیاد نہیں رہتا۔
مجھے ایک ایسا ہی بڑا آدمی آج یاد آگیا جو تاریخ کے مذاق کے قابل بھی نہیں رہ سکا تھا۔چنانچہ گزشتہ نصف صدی سے انسانی دماغوں کی بھول بھلیاں میں وہ یوں گم ہے کہ وہاں سے اسے نکالنے والے بھی ناپید ہوگئے۔
جو شخص آج مجھے یاد آیا ہے وہ ایک قدوائی تھا۔
شمالی ہندستان میں بارہ بنکی کے قریب موضع مسولی کا رہنے والا تھا۔ مگرکچھ لوگوں کی یہ رائے سننے میں آئی کہ مسولی والے قدوائی کچھ اعلی درجہ کے قدوائی نہیں ہوتے ۔ ایسی بات سنی تو مجھے حیرت ہوئی کہ قدوائیوں میں بھی کچھ ویسا ہی فرق ہوتا ہے کیا جیسابابو راجندر پرشاداور بابو جگجیون رام میں تھا۔مگر پھر یاد آیا کہ میں جس ادنیٰ درجہ کے قدوائی کی بات کررہا ہوں وہ قدوائیوں میں ہی کیا دیگر انسانوں میں بھی بہت بلند مرتبہ شخص تھا، اگرچہ جان جثہ سے وہ کچھ بہت قدآور شخصیت نہ ہو۔ ویسے میں قدوائیوں میں ادنی اور اعلی کا فرق کرنے کااہل نہیں ہوں کیونکہ اول تو میں زندگی میں ایک قدوائی سے علی گڑھ میں ، اور دوسری قدوائی سے کلکتہ میں، تھوڑی دیر کے لئے ملا تھا اور دوسرے میرے خیال میں ہر قدوائی اچھا قدوائی اور اچھا انسان ہوتا ہے۔
جس قدوائی کا تذکرہ آج مقصود ہے میں اس سے زندگی میں کبھی نہیں ملا تھا، اس لئے مجھے پتہ نہیں کہ قدوائی اگر مسولی میں پیدا ہوجائے تو اس کا سماجی درجہ کیوں گر جاتا ہے۔تاہم میرے نزدیک فیصلہ کن حقیقت مسولی نہیں، خود انسان ہوتا ہے جسے اللہ نے ہر حال میں مکرم اور عزت مندبنایا اور پیدا کیا ہے، خواہ وہ زندگی میں اپنے خالق کا باغی ہی کیوں نہ رہے۔ پھر یہ مذکورہ قدوائی تو اللہ کا باغی بھی نہیں تھا۔
تو چلو ہوگا ادنی درجہ کا قدوائی مگر سچ یہ ہے کہ وہ انسان بہت عظیم تھا۔اور جس قسم کا انسان تھا ویسے لوگ محاورتاً نہیں واقعتاً مدتوں بعد پیدا ہوتے ہیں اور اسی لئے لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں کہ ہم ادنی درجہ کے انسان ان قدوائی قسم کے انسانوں کے عادی ہی نہیں ہوتے اس لئے انہیں اپنی انسان فراموشی کی دوچھتی میں ڈال کر بھول جاتے ہیں۔پہچان بھی تو نہیں پاتے۔
انسان فراموشی کی اسی دوچھتی میں پڑا ہوا وہ یکتا انسان آدمیوں کی بستی میں رفیع احمد قدوائی کہلاتا تھا۔
میں رفیع احمد قدوائی صاحب سے کبھی نہیں مل سکا تھا۔ ابتدا ئی طالب علمی کے زمانہ میں ان کے تعلق سے میری معلومات اور رائے بھی بس اس قدر تھی کہ وہ بھی جواہرلال نہرو کی کابینہ کے ایک رکن تھے۔ اور بس۔ اب یہ تو کوئی قابل ذکر بات نہیں۔یہ تو سچ ہے کہ آدمی جب وزیر ہوتا ہے تو کچھ اُلل بچھیرے قسم کے لوگ ان کے ساتھ تصویر اتروانا باعث عزت سمجھتے ہیں، مگر کسی کابینہ میں وزارت بجائے خود عظمت کا پروانہ نہیں ہوتی۔ عام وزارت تو در کنار،وزارت عظمیٰ بھی آدمی کو عظیم نہیں بناتی۔دنیا کے بے شمار وزرائے اعظم انسانوں کی دنیا میں ویسے ہی غیر معروف ہیں جیسے آج رفیع احمد قدوائی ہوگئے ہیں۔ تو یہ بھی کس نے کہا کہ ہمارا عرفان اور اعتراف کسی انسان کی بڑائی کی دلیل ہوتا ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ جانتے ہیں کہ حمورابی، سارجون ا ور ابن عربی کون تھے؟تو کیا صرف اس وجہ سے ان لوگوں کو ادنی درجہ کے انسان قرار دے کے رد کردیا جائے گا کہ ہم تو انہیں جانتے ہی نہیں؟ آج تک تو کوئی ایسی جرأت نہیں کرسکا اگرچہ سارجون ۴۲۰۰ سال پہلے، حمورابی۳۷۰۰ سال پہلے اور ابن عربی ۸۰۰ سال پہلے اس دنیا کے باشندے تھے اور اتنی مدتیں گزرنے کے باوجود بدستورعظیم ہی مانے جاتے ہیں ۔
میں نہیں جانتا رفیع احمد قدوائی ان میں سے کس سے برتر، کس کے برابر ، کس سے کمتر تھے۔پھر بڑے آدمی ایسی مفروضہ ترجیحات سے تو بہر حال بلند ہوتے ہیں، کیونکہ وہ اولمپک جیسے نقلی تمغوں کے لئے تھوڑی دوڑنگیاں لگاتے پھرتے ہیں۔یہ لوگ تو خون جگر سے اس دنیا کی تصویر میں رنگ گل بھرتے ہیں اور اس دنیا سے اپنے خون جگر کا معاوضہ بھی نہیں مانگتے۔اب یہ تو بے غرض انسانوں کی خصوصیت ہوئی، اولمپک کا اسراف جان و مال نہیں۔
رفیع احمد قدوئی کے بارے میں میری معلومات ثانوی ذرائع سے حاصل کردہ ہیں۔ ذرائع بھی کیا، بس ایک ذریعہ تھا۔ اور وہ ذریعہ میرے لئے ثانوی تھا، مگر قدوائی صاحب کے معاملہ میں ان سے زیادہ قابل اعتماد شائد ہی کوئی اور ہو۔
احمد پھوپا ان دنوں پاکستان جانے کی تیاری کر رہے تھے۔وہ انجنئر سلیمان جیسے نابغۂ روزگار شخص کے داماد تھے۔خود بھی بڑے دولت مند خاندان کے چشم و چراغ تھے۔مزاج بڑا شاہانہ تھا۔ طبیعت میں نفاست تھی۔ پھوکے پھوکے بات کرتے تھے۔یوں لگتا تھا جیسے مرمرے کھا رہے ہوں اورانہی مرمروں سے گزر کر الفاظ نازل ہو رہے ہوں۔ان دنوں ان کا کوئی کام سرکار سے پڑگیا۔ وہ بیچارے سرکار دربارکے آدمی نہیں تھے۔ اپنی ایک چھوٹی سی دنیا تھی جو ۱۹۴۷ میں لٹ گئی تھی۔ وہ ۱۹۴۷ کے حادثات کا سبب نہیں تھے، مگر ایک نتیجہ ضرور تھے۔ان دنوں بمبئی مرارجی بھائی دیسائی کی قلمرو میں تھی جہاں انہوں نے کچھ گڑھے بھی کھود رکھے تھے تاکہ کوئی شرارت کرے تو دھم سے اس کی گاڑی کا پہیہ کسی گڑھے میں اتار دیں۔کے کھودے ہوئے ایک گڑھے میں احمد پھوپا کی گاڑی کا پہیہ اترگیا تھا۔سرکاری کھانچے میں اٹکا ہوپہیہ نکلوانے کے لئے وہ اباجان، مولانا حامد الانصاری غازی ،کے پاس آئے۔
کیوں نہیں؛ چٹکی بجاتے کام ہوجائے گا۔ اباجان نے ان کو اطمینان دلایا۔ دو ایک دن میں قدوائی صاحب ایک ذاتی دورے پر بمبئی آرہے ہیں۔ ان کے پاس آپ کو لے چلیں گے۔ بس سمجھئے کام ہوگیا۔
احمد پھوپا خاموش رہے۔ کچھ بولے نہیں۔ ان کے چہرے پر تشویش کے رنگ باقی رہے۔
قدوائی صاحب کا وہ دورہ کچھ خفیہ نوعیت کا تھا۔سوائے چند قریبی لوگوں کے کسی کو ان کی آمد و قیام کا علم نہ تھا۔ایسی حرکتیں وہ اکثر کرتے رہتے تھے۔والکیشور پر راج بھون کے بجائے شہر سے میلوں دور پوائی جھیل کے پاس جمنا لال بجاج کے تفریحی بنگلہ میں ان کا قیام تھا۔ وہیں اباجان احمد پھوپا کو لے کر پہنچے۔قدوائی صاحب کو پہلے سے اس آمد کی اطلاع دی جا چکی تھی۔ خادم نے خبر کی تووہ بجاج سیٹھ کے جھونپڑے سے باہر نکل آئے اور درختوں کی آڑ میں چھپتے ہوئے احمد پھوپا کو مخاطب کر کے بولے:
یہ کون آدمی ہے جو درختوں کے پیچھے مجھ سے چھپتا پھر رہا ہے۔ارے ،یہ تو عبدالرحیم ہے۔ اور پھر بچوں کی طرح دوڑ کر کر احمد پھوپا کو جا پکڑا۔ان کا پورا نام عبدالرحیم احمد تھا، عزیزوں میں احمد بھائی کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ہم انہیں احمد پھوپاکہتے تھے۔قدوائی صاحب کے لئے وہ عبدالرحیم تھے۔وہ دونوں بغل گیر ہوگئے۔
وہ دن بھول گئے جب ہوسٹل میں شرارتیں کرکے تو کبھی شرمندہ نہ ہوتے تھے۔ اب مجھ سے منہ چھپاتے پھر رہے ہو!
اورتم کووہ دن یاد نہیں جب میری شیروانی پہن کر شہر جایا کرتے تھے اور اس کی جیب میں پڑے ہوئے سارے پیسے جب تک ختم نہ کرلیتے لوٹنے کا نام نہیں لیتے تھے؟
اباجان حیران تھے کہ تعارف کس کا کرائیں کس سے کرائیں۔ یہ دونوں تو لڑکپن کے یار نکلے۔ یہ سارا واقعہ احمدپھوپا نے وہاں سے واپس آنے کے بعد بڑے مزے لے لے کر مجھے سنایا تھا۔
قدوائی صاحب آپ کے دوست ہیں؟
ہاں بیٹے۔ ہندستان اور پاکستان کاکون بڑا آدمی ہے جس نے علی گڑھ سے بی۔اے۔ کیاہو اور وہ میراہم جماعت یا روم پارٹنر نہ رہا ہو۔ رفیع اور میں ہوسٹل کے ایک ہی کمرہ میں رہتے تھے۔ اسے جب پیسوں کی ضرورت ہوتی میری جیب سے نکال لیا کرتا تھا اور خرچ سے بچ رہنے والی رقم جب لاکر مجھے دیتا تب مجھے معلوم ہوتا تھا کہ پیسے کہاں گئے تھے۔ پھر انہوں نے علی گڑھ کے دوستوں کے نام گنوائے۔
تو یہ اتنے سارے بڑے لوگ ایک ساتھ ہی علی گڑھ میں پڑھتے تھے؟
نہیں میاں۔ وجہ بس یہ تھی میں بی۔اے ۔میں سات سال فیل ہوا تھا! میاں، یونہی نہیں،ہر سال بہت محنت کر کے فیل ہوا کرتا تھا۔پھر احمد پھوپا نے مرمرے بھرا قہقہہ لگایا۔
اس دن یہ معلوم ہوا تھا کہ علی گڑھ میں فیل ہونے کے لئے بھی محنت کرنی پڑتی تھی۔مگر یہ سمجھ میں نہ آسکا کہ جب محنت ہی کرنی تھی تو فیل ہونے کے لئے کیوں کی جائے۔پھر سوچا شائد بڑے لوگوں سے دوستی کا یہی ایک طریقہ ہو۔
اس دن یہ بھی معلوم ہوا علی گڑھ نے اتنے بڑے لوگ اور ان کے اتنے اچھے اچھے قریبی دوست کیسے پیدا کردئے تھے۔ خیر یہ تو اس پرانے زمانے کی باتیں ہیں جب بقول والدہ مرحومہ خالص گھی روپے میں پانچ سیر آیا کرتا تھا۔اب تو پانچ روپے فقیر بھی نہیں لیتا۔مگر اس زمانے میں بھی ہر شے اتنی سستی نہیں تھی کہ ۴۰ کروڑ ہندستانیوں کا پیٹ بھر جایا کرے۔ناقابل یقین افلاس اور بھوک کو تو انسانی شکل میں تو میں نے ۱۹۷۲ میں بھی کلکتہ کے قریب ایک بن نما بستی میں دیکھا تھا۔قدوائی صاحب کے زمانے میں یہ نعمت ہندستان کے تمام شہروں میں دستیاب تھی۔ا س کا ذکر ذرا بعد میں کریں گے۔ پہلے قدوائی صاحب کی کچھ اور باتیں کریں۔
یوں تو قدوائی صاحب بہت سچے کھرے اور سادہ مزاج آدمی تھے، لیکن کہتے ہیں بطور سیاست داں بہت بے رحم تھے۔ یعنی مخالف کے سر پر وہ دھول رسید کرتے کہ عرصہ تک چندیا سہلاتا رہے۔ چنانچہ آزادی سے پہلے کے صوبجات متحدہ آگرہ و اودھ یعنی موجودہ اتر پردیش اور اتر آنچل میں گووند بلبھ پنت کی وزارت میں وہ ریاستی وزیر داخلہ ہوئے۔ وہاں ان کے سیاسی مداحوں کا گروہ خود کو رفین کہا کرتا تھا۔وہ لوگ اس ایجادی لفظ کے انگریزی ہجے (Rafians) کرتے تھے۔ اصل انگریزی میں اصل لفظ (Ruffians) ہے جس کا مطلب بتانے کی ضرورت نہیں۔ پھر جواہرلال نہرو کو ان کی ضرورت دہلی میں ہوئی۔ تو انہیں وہاں بلا لیا گیا۔ کام تو اصل میں کانگریس پارٹی کا تھا مگر دل بہلانے کے لئے انہیں ایک چھوٹی سی وزارت بھی دے دی گئی۔ یہ تھی رسل ورسائل کی وزارت۔
اب بھلاڈاک اورڈاکیوں کی وزارت میں کوئی کیا کمال دکھا دیتا۔ مگر وہ کوئی نہیں رفیع احمد قدوائی تھے۔انہوں اس وزارت میں تین یادگارکام کئے۔ ایک تو یہ کہ ہندستان کے ہر ایسے شہر میں جہاں ہوائی اڈہ تھا ڈاک پہنچانے کا انتظام ریل کے بجائے رات کو چلنے والے ہوائی جہازوں سے کردیا چنانچہ ہفتہ دس دن میں ملنے والے خطوط دوسرے یا تیسرے دن ملنے لگے۔پھر ان بڑے ہوائی شہروں سے قریبی چھوٹے شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں کی ڈاک کو مربوط کردیاگیا تو وہاں بھی خطوط کی ترسیل میں تیزی آگئی۔ دوسرا کام ہندستان میں اِن۔لینڈ نامی لفافہ قدوائی صاحب کا جاری کیا ہوا تھا۔ یہ ذاتی تجربہ کی بات تھی۔ آج کا سیاست داں زندگی سے دور رہتا ہے اس لئے اس بے چارے کو کوئی نہیں بتاتا کہ جنتاکی تکلیف کیا ہے۔ویسے بھی جب سے ہندستانی نوکریاں سعودی مملکت اور خلیجی چرواہوں کے نخلستانوں میں ملنے لگیں اور امریکی نوکریاں بھارت میں تو خیال یہی ہے کہ جنتا کو اب کوئی تکلیف نہیں رہ گئی۔ ظاہر ہے، پہلے برگراور پیٹزا کھانے کے لئے نیو یارک کا سفر کرنا پڑتا تھا، اب وہ دلی کے جن پتھ پر مل جاتا ہے۔ اسی لئے جنتا کی تکلیفوں کے تجربوں کا کچھ رواج اُس پرانے زمانہ میں تھا۔مگر اُس زمانہ میں بھی وہ بس ایسا ہی تھا جیسے کسی کو ڈاک کے ٹکٹ جمع کرنے کا شوق ہو۔ اب ہر بچہ تو ڈاک ٹکٹ جمع نہیں کرتا۔تو ہر وزیر بھی ایسا فضول شوق نہیں پالتا تھا کہ موقعہ ہو نہ ہو جنتا کی تکلیفیں یاد کر کے اپنا دل کڑھاتے رہو۔
قدوائی صاحب ڈاک ٹکٹ جمع تو نہیں کرتے تھے، مگرڈاک سے عزیزوں دوستوں کی خیر خبر لینے والی جنتا کی زندگی سے قریب تھے۔ ان کے ذاتی تجربہ کی بات یہ تھی کہ اَدَھنّے کا پوسٹ کارڈ کسی بات کی تفصیل کے لئے بہت چھوٹا ہوتا تھا اوردوصفحہ کا خط ڈیڑھ دو آنے کے لفافہ میں رکھ کر بھیجنا غریب ہندستانی کو مہنگا پڑتاتھا۔ قدوائی صاحب نے ایک درمیانی راہ نکال لی۔اب اگر میں یہ کہوں کہ ہندستان کو قدوائی صاحب کی یاد سے دلچسپی ہوتی تو کم از کم ان۔لینڈ کے بجائے اسے قدوائی لفافہ کہہ دیا جاتا تو کیا برا تھا۔ مگر پھر لوگ طعنہ دیں گے کہ مسلمانوں کو بھی بس ٹسوے بہانا اور شکایتیں کرنا ہی آتا۔ کوئی ان سے کہے ارے کم بختو، قدوائی صاحب کی طرح کام کرنا سیکھو کہ بس دیس کا کلیان کر کے دنیا سے چپ چاپ چلے جاؤ، ستائش کی تمنا اور صلہ کی پروا کئے بغیر۔اب یہی دیکھو، اگلے زمانہ میں قدوائی قسم کے لوگ مسلمانوں میں پیدا ہوجایا کرتے تھے، اب ان میں بھی نہیں ہوتے۔ بس ہم جیسے شکایت کرنے والے اور فرقہ وارانہ فساد میں گھربار،کاروبار اور روزگار تباہ ہوجائے تو دبی زبان سے احتجاج کرنے والے ہی پیدا ہوتے ہیں ۔اسی لئے تو مسلمانوں میں بھی اب قدوائی پیدا نہیں ہوتے اور شہر شہر ان کے محلوں سے غلاظت ، فضلہ اور گندگی کے ڈھیر بھی نہیں ہٹتے۔
کسی سیاسی شعبدہ باز کے سر پردھول رسید کردینے کی بات اور ہے، ویسے قدوائی صاحب نہ خود احتجاج کرتے تھے نہ کسی بات کی شکایت۔ ہاں جنتا میں سے کوئی شکایت کرتا تو یوں بے چین ہوجاتے تھے جیسے صدیوں پہلے حضرت عمرؓ ابن خطاب ہوجایا کرتے تھے۔ اسی وزارت رسل و رسائل کے زمانہ کی بات ہے کسی دل جلے آزادی کے متوالے بنگالی نے کلکتہ سے قدوائی صاحب کو شکایت کا ایک خط لکھ دیا۔کلکتہ کے جنرل پوسٹ آفس میں کوئی کسی کا پرسان حال نہ تھا۔ لوگ گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہتے اور بابو لوگ خوش گپیاں کرتے رہتے۔ اس دن بھی یہی سماں تھا۔خط بھیجنے کے لئے ڈاک کے ٹکٹ خریدنے پڑتے تھے۔ کئی کھڑکیاں تھی اور سب پر قطاریں یوں ٹھہری ہوئی تھی جیسے علی گڑھ میں سرسید نگر کے بیچوں بیچ سے گزرنے والا میلے کا نالہ برسوں سے ایک جگہ رکا ہوا ہے۔بابو لوگ ایک دوسرے سے ابھی ہنسی مذاق کررہے تھے کہ چپراسی نے چائے تقسیم کرنی شروع کردی۔ایک کھڑکی پر طویل انتظار کے بعد ایک چھوٹا سا آدمی کھڑکی پر پہنچا ہی تھا کہ چائے کا وقت ہوگیا۔ اس آدمی نے بابو سے کہا:
بھائی، ذرا میری سنو ۔۔۔
اس کے ہاتھ میں شائد کوئی نوٹ تھا جسے وہ بابو کی طرف بڑھا رہا تھا۔ مگر بابو نے جھڑک دیا۔ وہ غریب خاموش ہو کر چائے ختم ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ پانچ دس منٹ بعد چائے ختم ہوئی تو بابو اس چھوٹے آدمی کی طرف متوجہ ہوا۔ اس آدمی نے نوٹ بڑھایا جسے ہاتھ میں لے کر بابو تو بت بنا رہ گیا۔ جیسے کاٹو تو بدن میں خون نہ ہو۔ وہ کبھی نوٹ کو دیکھے کبھی اس چھوٹے آدمی کو۔ اس کی حالت دیکھ کو بازو والا بابو اٹھ کر آیا اور نوٹ دیکھ وہ بھی حواس باختہ ہوگیا۔ مگر اس نے شور مچادیا۔
وہ چھوٹا آدمی رفیع احمد قدوائی تھاہندستان کا وزیر رسل و رسائل۔ ا وروہ چھوٹا سا پرزہ اس کا تعارفی کارڈ تھا۔
جنرل پوسٹ آفس میں کہرام مچ گیا۔ پوسٹ ماسٹر جنرل کو خبر ہوئی۔ وہ گھبرایا بولایا اپنے ٹھنڈے کمرہ سے نکل کر بڑی گرم رفتاری سے صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔
صاحب آپ کو جتنے ٹکٹ درکار ہوں گھر پر پہنچا دئے جائیں گے۔ آپ میرے دفتر میں چل کربیٹھئے۔چائے، ٹھنڈا ، کھانا ۔۔۔
قدوائی صاحب اپنی جگہ سے ہلے نہ ٹلے۔ وہیں کھڑے کھڑے ڈاکخانہ کے چند نااہل اہل کاروں کو معطل کیا، سزائیں سنائیں۔ پوٹ ماسٹرجنرل کو سرزنش کی اور سارے عملہ کو تنبیہ کی کہ آئندہ کوئی شکایت ملی تو وہ پھر کان پکڑنے کے لئے اسی طرح آئیں گے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔
اور پھر وہ ڈاک خانہ سے باہر نکلے اور دلی واپس چلے گئے۔
شائد یہی وجہ ہے کہ کلکتہ میں ایک اہم سڑک قدوائی صاحب سے منسوب ہے۔ دلی میں بھی ہے۔ مگرہندستان کے ہر شہر کو یہ اعزاز بھی نصیب نہ ہوسکا۔اب ہر شہر تو خوش نصیب نہیں ہوتا نا!
ان دنوں دلی میں ایک دوسرا تماشہ ہورہا تھا۔ دیس بھر میں غذائی اجناس کا کال پڑا ہوتھا۔ نگر نگر ہاہاکار مچی ہوئی تھی۔وزیر غذا تھے کنہیا لال منشی جو انگریزی میں کے۔ایم۔ منشی بھی کہلاتے تھے، کیونکہ گجراتی میں وہ کنہیا لال مانک لال منشی جو تھے۔ بڑے پونجی پتی تھے۔ پارٹیاں اتنی سہولت سے بدل لیا کرتے تھے کہ اتنی دیر میں ان کا چپراسی دھوتی بھی نہیں بدل سکتا تھا۔بھانت بھانت کی پارٹیوں کے منچ سے دیش کلیان کی ایسی ایسی باتیں کیا کرتے تھے کہ انڈیا گیٹ سے بھارتیہ ودیا بھون تک لوگ سر دھنتے تھے ان کی باتوں پر۔ سچ پوچھو تو یہ ہندتوا کی پرمپرا انہیں کے دوار سے آرنبھ یعنی شروع ہوئی تھی۔ غذا کے وزیر کی حیثیت سے وہ اتنے مقبول ہوئے کہ لوگ انہیں وزیر قحط کہنے لگے تھے۔اناج تھا ہی کہاں کہ راشن بھی جاری ہوگیا۔جب دیس میں اناج دکانوں کی بجائے سکوں کے گوشواروں میں چُھپ جائے تو جنتا کی تکلیف دور کرنے کے لئے راشن لگانا مفید ہوتا ہے۔ اس سے جنتا کو منطقی تسلی رہتی ہے کہ اگرچہ دیس میں اناج نہیں ہے مگر اسے ان کے ٹھنڈے چولہوں تک پہنچانے کے لئے کچھ بہت بڑے لوگ بڑے جتن کررہے ہیں۔ خود ہمیں بھی یہ اطمینا ن دکانوں سے بسہولت مل جایا کرتا تھا۔مجھے خوب یاد تھا، ابھی کل تک تو میں اباجان کے ساتھ گرانٹ روڈ پر ناولٹی سنیما کے سامنے غلہ کی دکانوں سے دعوت کے لئے دہرہ دون کاباسمتی سیلا چاول سوا روپے میں سیر بھر لے کے آیا کرتا تھا۔شکرچھ آنے(۳۶ پیسے)میں ایک رطل (نصف کیلو) ملتی تھی۔ شربتی گیہوں ببھی کچھ ایسے داموں جتنا چاہے لے لو۔پھر برما کا زیری چاول بارہ آنے (۷۵ پیسے) سیر سے بڑھ کرسوا روپے سیر ہو گیا،اور آخر وہ بھی غائب ہوگیا اور جنتا کی جھولیوں میں اطمینان رہ گیا ۔
مگر یہ سب اس بھارت کی کتھائیں تھیں جن میں منشی جی نہیں تھے۔ وہ منچ پر براجے تو وہ وہ کارنامے دکھائے کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ان ترقیات نے منشی جی کی نیک نامی میں اتنا اضافہ کیا کہ نہرو جی نے انہیں اس وزارت سے علیٰحدہ کرنا مناسب سمجھا۔ مگر کابینہ کا کوئی رکن اس بھوکی وزارت کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہ کرتا تھا۔کون اپنا نام جوکھوں میں ڈالے۔ نہروجی جس سے کہیں وہ کانوں پر ہاتھ دھرتا، رام کا نام لیتا اوران کے دفتر سے نکل جاتا۔آخرنہرو نے قدوائی صاحب کو بلایا۔
وہ اس مصیبت کو جھیلنے کے لئے تیار ہوگئے۔
اب یہ بات اُس زمانے میں بھی بہت سے سوتنترتا سینانیوں یعنی آزادی کے سپاہیوں کو پتہ نہیں تھی کہ آزادی کی جنگ میں مصیبتیں جھیلنے والے کچھ لوگ وہ بھی تھے جو جنتا کی راحت کے خواب دیکھتے ہوئے یہ مصیبتیں جھیلا کرتے تھے۔ ان کی آرزو اپنے گھروں کو نوٹوں اور سکوں کے گودام بنانے کی نہیں، عوام کے دکھ دلدر دور کرنے کی تھی۔اس زمانہ میں بھی اونچے پدوں پر پہنچ جانے والے ایسے بہت لوگ نہیں ہوئے تھے۔ مگر رفیع احمد قدوائی ویسے ایک آدمی تھے۔
ہندستان کے پہلے عام انتخابات کے بعد ۱۹۵۲ میں نہرو نے وزارت غذا کی پیشکش کی تو قدوائی صاحب نے شرطیں رکھیں۔
مرکزی کابینہ میں اپنی کسی پالیسی پر کوئی سوال یا تنقیدبرداشت نہیں کروں گا۔
میں صرف وزیر اعظم کو ذاتی طور پر جواب دہ ر ہوں گا۔
پارلیمان کو میں خود سنبھال لوں گا۔
نہرو جی نے ساری شرطیں منظور کر لیں اور قدوائی صاحب قحط کے زمانہ میں آزاد ہندستان کے وزیر غذا بن گئے۔
ملک کی غذائی صورت حال کا اندازہ لگا کر انہوں نے سب سے پہلے شکر ملوں کے مالکان اور منتظمین اور تھوک تاجروں کو بلوایا اور ان سے پوچھا کہ سال بھر میں کتنی شکر ملک کو مہیا کرسکتے تھے۔ انہوں نے جوعداد و شمار دئے وہ قدوائی صاحب کے گوشواروں سے بہت کم تھے۔ انہوں مل مالکوں اور غلہ کے تاجروں کو اپنے اعداد و شمار پر نظر ثانی کرنے کہ مہلت دی۔ نتیجہ تب بھی کچھ حوصلہ افزا نہیں تھا۔ قدوائی صاحب نے تب انہیں بتایا کہ اگر ملک خود ضروری مقدار میں شکر بازار میں نہیں لا سکتا تو دوسرے ملکوں سے درآمد کرنے پر مجبور ہوگا۔ ایک بار پھر مہلت دی گئی۔ مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔
تب قدوائی صاحب نے اپنی وزارت کے سکریٹریوں کو بلوایا۔
نئی دنیا کی سیر کرنا چاہتے ہو؟
سوال بہت حیران کن تھا۔ قدوائی صاحب کا لہجہ بھی مذاق کا نہیں تھا۔انہوں نے ایک اعلی سطحی وفد تشکیل دے کر اسے ہدایت کی کہ امریکہ جاؤ، وہاں گھومو پھرو اور وہاں کے شکر سازوں سے بات چیت کرتے رہو۔ ان سے شکر خریدنے کاکوئی وعدہ نہ کرو مگر بات چیت کی خبریں روزانہ ہندستان پہنچتی رہیں۔ ان خبروں پر قدوائی صاحب کی وزارت مزید روغن چڑھا دیتی تھی۔ہفتہ بھرنہ گزرا تھا کہ مل مالکوں نے خود ملاقات کی درخواست۔ ملاقات ہوئی اور اس میں اتنی شکر پیدا کرنے کے وعدے کئے گئے جو قدوائی صاحب کے اندازوں سے قریب تھے۔وفد خاموشی سے امریکہ کی سیر سے واپس آگیا اور ملک میں اچانک شکر کھلے عام ملنے لگی۔پھر قدوائی صاحب نے اعلان کیا کہ راشن کا سسٹم ختم۔تمام غذائی اجناس کھلے بازار میں ملیں گی۔ نہرو جی کی کابینہ میں و زیروں نے بہت واویلا مچایا، غذائی نظام کے منہدم ہونے اور بھکمری پھیلنے کا ڈر پھیلایا۔ مگر نہروجی نے انہیں ڈانٹ دیا۔ راشن ختم ہوا تو لیجئے، ہر چیزملنے لگی۔یہ الگ بات ہے کہ قدوائی صاحب کے بعد راشن کی وہ نعمت ملک کو واپس دے دی گئی اور شائد اب تک اس کا رواج ہے۔اور شائد اس لئے ہے کہ راشن کارڈ نہ ہو تو پاسپورٹ نہیں بنتا، اور یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ آدمی اصلی سانولا شیامل ہندستانی ہے یا ریڈ انڈین۔
احمد پھوپا یہ واقعات مجھے سنا رہے تھے اور میں حیران تھا کہ قدوائی صاحب کس آسانی سے سنگین مسئلے حل کردیتے تھے۔ کیا اس دنیا میں ایسا ممکن تھا؟کیا اس دنیا میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مسائل پیدا کرنے کے بجائے انہیں سلجھانے میں کمال رکھتے ہیں،جن کی سیاست زندگیوں میں ٹیڑھ اور کجی پیدا نہیں کرتی، محرومی اور نامرادی کو راہ نہیں دیتی، جوانسانوں کو احمقانہ فلسفوں میں الجھانے کے بجائے صاف صاف ان کی مصیبتوں کا علاج کردیتے ہیں۔مگر ہاتھوں کا کام بھی کھوپڑیوں سے لینے والے دنیا کوچین سے نہیں جینے دیتے ۔پہلے ایک ایڈم سمتھ صاحب اس دنیامیں مونگ پھلی کی گری جتنے ایک ملک میں پیدا ہوئے ۔ پھران کے ایک حمایتی جان مل صاحب پیدا ہوگئے۔ ابھی وہ کام کر ہی رہے تھے کہ ان کا توڑ کرنے کے لئے جرمنی سے آگئے ایک کارل مارکس صاحب اوران کی ضد میں پھر ایک جان مینارڈ کینز صاحب ۔ چلئے یہ بھی اولمپک کی کسی قسم کا ایک کھیل ہوا۔ کچھ دن لوگوں نے ہر کھلاڑی کے لئے خوب تالیاں پیٹیں اور پھر بھول بھال گئے کیا ہوا تھا اور کیوں ہوا تھا، کیونکہ جو ہونا تھا وہ تو ہو رہا تھا اور اس پر کسی کا بس بھی نہیں چلتا تھا۔ دنیا تو یونہی چلتی ہے نا۔ کسی فلسفہ سے دنیا کی رفتار کہاں روکی جاتی ہے۔ فلسفے تو دنیا کی رفتار کا تجزیہ کرنے کے لئے لکھے جاتے ہیں اور یہ جاننے کے لئے انسان کتنا برباد ہوچکا ہے اور کتنی کسر باقی رہ گئی ہے۔ اس وقت بھی یہی ہورہا تھا۔ اب ان مفروضہ مفکروں کی قبروں پر یا دفتروں میں جا کر کوئی نہیں پوچھتا کہ بھائی یہ دنیا انسانوں کے لئے روز بروزبدتر کیوں ہوتی جارہی ہے؟ اس سوال کا جواب میں کیوں دوں۔کسی کے پاس میرا پتہ ہے نہیں اور کبھی کسی نے مجھ سے یہ سوال کیا نہیں۔ پھر مجھ سے کوئی پو چھے بھی کیوں۔ میں ان بہت پڑھے لکھے لوگوں کی طرح فلسفی کب ہوں۔
قدوائی صاحب خود بھی اُسی علی گڑھ کے پڑھے ہوئے تھے جہاں سر سید ایسے ہی فلسفی پیدا کرنا چاہتے تھے جوانگریزوں کی طرح سوچیں، انگریزوں کی طرح رہیں، انگریزوں کی طرح کی کتابیں لکھیں اور انگریزی بھی بولیں، خواہ اردو ہی میں بولیں۔ مگر قدوائی صاحب ایک ذہین آدمی تھے۔ انہیں پتہ تھا مسئلے اس قسم کی باتوں اور مفروضوں سے اورالجھتے ہیں۔مختصر زندگی میں ہم جیسے لوگ شاعری کرتے ہیں۔ قدوائی صاحب شاعری نہیں کرتے تھے۔ہاں شاعری میں جس دکھ درد کا بیان کبھی کبھی ہوتا ہے اسے خوب سمجھتے تھے۔اس کے لئے فقط ز بانی تحسین آفریں کی نہیں، ایک دل درد مند کی ضرورت ہوتی ہے۔ قدوائی صاحب کے پاس تحسین کرنے والی زبان کے ساتھ وہ دل دردمندبھی تھا اور اس درد کو جذبہ بنادینے کا سلیقہ بھی انہیں آتا تھا۔
ایسا جذبہ ہر دل میں نہیں سماتا۔ نہ یہ عالی شان گھروں میں بیٹھنے والوں کے دلوں کو آباد کرتا ہے۔نہ یونیورسٹیوں میں پیسہ پیسہ فیس بطور قیمت وصول کرنے کے بعدڈگریوں کے لفافوں میں رکھ کر دیاجاتا ہے۔ نہ لندن میوزیم یا لوورے میں اس کی نمائش لگائی جاتی ہے۔ نہ امریکہ سے تیل کی رائلٹی میں ملتا ہے۔یہ تو خاص انسانوں پراللہ کی خاص عنایت ہوتی ہے، خواہ کوئی اللہ کو مانے یا نہ مانے۔یہ جو ہم لوگ بیٹھ کراکثر اپنی قوم کے زوال اور نکبت اور افلاس پر اپنے قلم کے ٹسوے بہاتے رہتے ہیں، مقالے لکھتے ہیں، کتابیں ترتیب دیتے ہیں، مذاکروں کا اہتمام کرتے ہیں، جلسے کرتے ہیں،نعرے لگاتے ہیں، تو ہمیں کیا خبر قوموں کو زوال کی گھاٹیوں سے کیسے نکالاجاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں بس ایک ہم ہی یہ کام کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں مگر سچ یہ ہے کہ ہم ایسے بر خود غلط لوگ خود بھی قاعدہ سے جی ملیں تو اس دنیا پہ احسان ہو۔ مجبورانسانوں کی دستگیری تو بہت دور کی بات ہے۔
رفیع احمد قدوائی انہی مجبور انسانی گروہوں کے لئے جان نچھاور کرنے کو ہمیشہ تیار رہتے تھے۔ آج کی نسلوں کو تو پتہ بھی نہیں کہ وہ آزادی ۔۔ جس کا خیال سال میں ایک دن ترنگاجھنڈا لہرا کر اور لال قلعہ سے وزیر اعظم کی تقریر اور اس کے بعدکچھ بے ہودہ فلمی گانے سن کر ختم ہوجاتا ہے ۔۔ جب آئی تھی تو دس لاکھ مجبور انسانوں کے جیتے جیتے خون میں نہا کر اس نے پہلی انگڑائی لی تھی۔دلی کا پرانا قلعہ ۔۔ جو آج کل جنگلی جانوروں کا عجائب گھر ہے ۔۔ اُس خونی سال میں ڈارون کے اصلی جانوروں سے پٹا پڑا تھا۔ چند لوگوں کا خیال تھا وہ اصلی جانور کبھی انسان کہلاتے تھے۔ کون تھے وہ لوگ۔ ارے بھئی وہی جن کے گھربارلٹ چکے تھے۔ کاروبار برباد کئے جاچکے تھے۔ ناموس اور آبرو کو درندو ں نے نکیلے ناخونوں سے نوچ ڈالا تھا۔ تلواروں اور گنڈاسوں سے بدنوں کا قیمہ کرتے ہوئے وحشت کو لمحہ بھر کے لئے شرمندہ ہوجانے کی فرصت نہ تھی۔ اس وقت دلی میں چند آدمی درندگی کی ہتھ چھٹ فوجوں سے نہتے لڑرہے تھے۔ دلی میں اس آدمی کا نام کہیں ابوالکلام آزادتھا، کہیں حفظ الرحمٰن سیوہاروی ، کہیں سبھدرا جوشی، کہیں رفیع احمد قدوائی ۔ کانپور میں ایسے ایک آدمی کا نام گرجا شنکر ودیارتھی تھا، سہارنپور میں وہ کلکٹردیال تھا اورالہ آباد میں کہیں پنڈت سندر لال تھا، کہیں رتن لال بنسل ۔
قدوائی صاحب نے اپنے وطن میں بے وطن ہوجانے والے لاکھوں لوگوں کو ماحول کی مردنی سے نکال کر نئی زندگی کی سمت ان کی رہنمائی کی تھی۔وہ دور گزر گیا۔ اس دور سے گزرکر نئے سورج کی تلاش میں جانے والے ہی اسے بھول گئے تو اور کوئی تو بھلا کیوں یاد رکھتا۔اسے حالات کی ستم ظریفی کے سوا کیا کہا جائے گا کہ تقسیم ہند کی مخالفت کرنے والے رفیع احمد قدوائی کے کسی احسان کو پاکستان میں یاد کرنا سیاسی حماقت کے زمرے میں آتا تھا ، اور ہندستان میں اس خدمت خلق کا ذکر یوں بے معنی تھا کہ قدوائی صاحب تو مستقبل کے پاکستانیوں کی مدد کررہے تھے۔نہ جانے کون لوگ ہوتے ہیں جو انسانوں کو قوموں کے علاوہ بھی کسی اور پس منظر میں دیکھنے والی آنکھیں اپنی ناک کے دونوں طرف ر کھتے ہیں۔ بے شک سیاست داں عام طور سے اپنے چہرہ پرآنکھیں اور سینہ میں دل رکھنا پسند نہیں کرتے۔اور وہ دوسرے لوگ بھی عام طور سے قومیتوں کی تقسیم کے جال سے باہر نکلنے کی صلاحیت کم ہی رکھتے ہیں جن کے ہاتھ میں کبھی کبھی بندر کے ناریل کی طرح مؤرخ کا قلم آجاتا ہے۔ایک اچھی کتاب میں لکھا ہے کہ قبائل اور قومیں تو صرف باہمی پہچان کا ذریعہ ہیں، عزت کا وسیلہ نہیں۔مگر روزانہ وہ کتاب پڑھنے والوں کو بھی اس بین فرق کا احساس نہیں تو اوروں کا کیا ذکر مذکور۔اور یہ باقی لوگ تو اکثر بدلتی سدلتی قومیت ہی کو عزت کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ہم انسان لوگ کیسے سادہ لوگ ہوتے ہیں ۔
رفیع احمد قدوائی ان موشگافیوں سے بلند آدمی تھے۔ ایسے ہی آدمی ابوالکلام آزاد بھی تھے۔ ایسے ہی حفظ الرحمٰن سیوہاروی بھی تھے۔ ایسے ہی حامد الانصاری غازی بھی تھے۔ایسے ہی ڈاکٹر سید محمود بھی تھے۔ایسے ہی حافظ محمد ابراہیم بھی تھے۔ ایسے ہی قاضی سید غیاث الدین بھی تھے۔اور بھی بہت لوگ اس فہرست میں ہیں اور ان کی فہرست بنائی جا سکتی ہے۔مگر یہاں فہرست سازی مقصود نہیں ہے۔یہاں تو یہ دکھانا ہے کہ اس دنیا میں تہذیب و تمدن کی اصل اکائی انسان ہے اور بہیمیت کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا شکار بھی انسان ہے۔رفیع احمد قدوائی بس اسی مظلوم انسان کا درد محسوس کیا کرتے تھے اور درماں کی سعی کرتے تھے۔
یہ انسانوں کا درد کیسا ہوتا ہے؟ کبھی کسی نے اس کا تجربہ کیا ہے؟ کبھی کسی نے اسے محسوس کیا ہے؟ بہت لوگ کہیں گے کہ ہاں ان کے دل اس درد سے مملو ہیں۔ وہ رات دن اسی درد اور غم کا علاج کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ بے شک ایسے لوگ قابل تعریف ہوتے ہیں۔مگر میں جس درد کا ذکر کر رہا ہوں وہ کچھ اور ہی شے ہے اور اس کا احساس بہت مختلف کہانی ہے۔ انسانی تاریخ میں مجھے بہت لوگ ایسے نہیں ملے جن کے دلوں میں وہ دردمیں نے پایا ہو۔ اور بڑی عجیب بات ہے کہ ایسے لوگ صلہ و ستائش سے بے نیاز بھی تھے۔شائد اس درد کے احسا س کا صلہ یہی بے نیازی ہو۔
اس درد کی کہانی، اس یاد کی آخری بات میں احمد پھوپا ہی کی روائت سے بیان کردیتا ہوں۔یہ چھوٹی سی کہانی انہوں نے اپنی آخری ملاقات میں مجھے سنائی تھی۔
احمد پھوپا دلی سے سیدھے بمبئی آئے تھے۔ دو دن بعد ان کا جہاز کراچی کے لئے لنگر اٹھانے والاتھا۔اس کے بعد وہ پاکستان چلے گئے تھے۔ کبھی واپس نہ آنے کے لئے۔
میاں، یہ معمولی بات نہیں تھی۔ رفیع سے میں برسوں بعد ملا تھا۔ وہ بہت مصروف اور بہت بڑے آدمی بن چکے تھے۔ میں ایک معمولی آدمی تھا۔ میری ہمت نہیں پڑتی تھی کہ ان سے جا کر ملوں۔اگر انہوں نے نہ پہچانا تو میرا یادوں کا تاج محل منہدم ہوجائے گا۔ مگر بجاج سیٹھ کے جھونپڑے میں مجھے اپنا پرانا یار مل گیا تھا۔ مجھے آئندہ ملنے کا بھی حوصلہ ہوا۔بجاج سیٹھ کے جھونپڑے میں رفیع سے ملاقات کے دوران میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان جانے سے پہلے تم سے ملنے ضرور آؤں گا۔ رفیع نے اپنا ذاتی فون نمبر اورگھر کا پتہ مجھے دیا اور حکم دیا تھاکہ ملے بغیر ہرگز نہ جانا۔ پھر پتہ نہیں قسمت میں دوبارہ ملنا ہو نہ ہو۔ تو بس میں نے اپنے سارے کام نپٹائے اور دلی پہنچ گیا۔ رفیع کو فون کیا۔ علی گڑھ طرز کی دو چار دشنامیں اس کی سمت اچھالتے ہوئے میں نے کہا :
ارے تمہارے شہر میں آیا ہوں۔ تم سے ملنے گھر پر آؤں گا۔ کھانا کھلاؤ گے یا یونہی ٹرخا دو گے۔
تم ہوکہاں؟پہلے سے خبر کیوں نہ بھیجی؟سٹیشن سے سیدھے میرے پاس کیوں نہیں آئے؟
وقت طے ہوا اور میں ٹیکسی کرکے رفیع کے گھر پہنچ گیا۔راستہ بھر سوچتا رہا کہ ہندستان کے وزیرغذا کے گھر دعوت ہے۔ اتنے پرانے، لڑکپن کے دوست کے لئے وہ جانے کیا کیا نعمتیں تیار کروائے گا۔ لذیذ کھانوں کے تصور ہی سے میری اشتہا میں اضافہ ہورہا تھا۔ رفیع کے گھر پہنچا تو وہ خود دروازہ پر آئے۔ ملاقات کے کمرہ میں لاکر بٹھایا۔ گھر تو سرکاری تھا مگر بس سادہ سا تھا۔ عام سا فرنیچر۔ سادہ سی دیواریں۔ میں جانتا تھا کہ رفیع کو شروع ہی سے تعیشات سے دلچسپی نہیں تھی۔ وہ بہت عجیب قسم کا زمیندارجو تھا۔ علی گڑھ میں بھی اس کا لباس اور رہن سہن بڑا سادہ تھا۔ مجھے حیرت نہ ہوئی۔ اس کی عادتیں نہیں بدلی تھیں۔ ہم دونوں دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ علی گڑھ کی باتیں۔ طالب علمی کے زمانہ کی شرارتیں۔برسوں کے باہمی ہجر و فراق کے طویل وقتوں کے بے شمار دلچسپ اور سنجیدہ واقعات۔ سیاسی زندگی میں رفیع کے تجربات اور مشاہدات۔
اسی دوران ایک ملازم نے آکر اطلاع دی کہ کھانا تیار ہے۔ رفیع نے کھانے کے کمرے کی طرف میری رہنمائی کی۔درمیانہ درجہ کی میز پر جاکر بیٹھے۔ ملازم دو ہاتھوں میں دو قابیں لے کر داخل ہوا۔
ایک قاب میں چاول کا سادہ خشکہ تھا۔
دوسری قاب میں ارہر کی پتلی دال۔
میرے منہ سے دشنام نکلی۔ بڈھا ہوگیا مگر علی گڑھ والی شرارت کا مزاج اب بھی باقی ہے۔ ہندستان کا وزیرغذا اپنے پرانے یار کے ساتھ عملی مذاق کر رہا تھا۔
اچھا اب مذاق ختم۔میں بہت محظوظ ہوا۔
میں نے کہا۔
اب اصلی دعوت والا کھانا منگواؤ۔
عبدالرحیم۔ میرے دسترخوان پریہی اصلی دعوت والا کھانا ہے۔
میں اس کا منہ دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
عبدالرحیم۔میں اس ملک کا وزیر غذا ہوں جہاں کروڑوں لوگوں کو یہ چاول اور دال بھی میسر نہیں جو میرے دسترخوان پر تمہارے سامنے رکھا ہے۔ مجھے کیا حق ہے اچھا کھانا کھانے کا! جب تک میں اپنے ملک کے عوام کو دو وقت ا یسی معمولی غذا بھی مہیا نہ کردوں تو مجھے یہ دال چاول کھانے کا حق بھی کہاں ہے؟
*
احمد پھوپا کی بوڑھی آنکھوں میں دو ستارے تیر رہے تھے۔ اور لبوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔ ان کی بھیگی آنکھیں اور مسکراتے لب مجھ سے کہہ رہے تھے:
ہے کسی کا ایسا دوست جیساعظیم میرا دوست ہے!

بشکریہ: کالم "یکتا یکتا" (سیریز: 027) - رفیع احمد قدوائی (1894 ۔ 1954)
***
Tariq Ghazi
Ottawa, Canada.
tariqghazi04[@]yahoo.ca

Rafi Ahmed Kidwai, a great person. Article: Tariq Ghazi

0 comments:

Post a Comment