Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-08-18 - بوقت: 17:43

ملک کا آئین بدلنے کی کوشش ۔ مشترکہ وراثت بچاؤ کانفرنس

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
جنتادل یونائیٹیڈ کے سینئر لیڈر شرد یادو نے آج کہا کہ ملک میں آستھا، مذہب، فرقہ اور لو جہاد کے نام پر تشدد کو ہوا دیاجارہا ہے ۔ جس سے ملک کی ثقافتی رنگا رنگی کی مخصوص شناخت خطرے میں پڑتی جارہی ہے ۔ مسٹر شرد یادو نے یہاں مشترکہ وراثت بچاؤ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ سماجی ہم آہنگی کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، جس کا سماجی ہم آہنگی چاہنے والے لوگوں کو عد م تشدد کے طریقے سے جواب دینا چاہئے ۔عدم تشدد بہادروں کا ہتھیار ہے اور مخالفت کے لئے اسی کا استعمال کیاجانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں مشترکہ وارثت کی بات کہی گئی ہے اور آئین گیتا، قرآن اور بائبل جیسے مذہبی متن کی طرح ہے ۔ مسٹر شرد یادو نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ مذہب اور آستھا کے نام پر تشدد برداشت نہیں کیاجائے گا ۔ یہ اچھی بات ہے لیکن وہ جو کہتے ہیں وہ زمین پر نظر نہیں آتی ہے ۔ جہاں جہاں ان کی پارٹی بی جے پی کی حکومتیں ہیں، وہاں بھی یہ پیغام دیاجا نا چاہئے ۔ انہوں نے گجرات میں اور سہارنپور ، نوئیڈا اورالور اور اؤنا میں گزشتہ دنوں ہونے والے پر تشدد واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ باہمی ہم آہنگی ٹوٹنے سے یقین ختم ہورہا ہیا ور بھیڑ پیٹ پیٹ کر لوگوں کو مار رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں متعدد مذہب، ذات، فرقے اور زبان کے لوگ ہیں اور یہی اس ملک کی خاصیت ہے ۔ تمام اختلافات کے باوجود لوگوں کی ثقافتی وراثت مشترک ہے اور تمام لوگ ہم آہنگی کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں لیکن اب کچھ عناصر کی وجہ سے اسے خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ دریں اثناء آر ایس ایس پر راست حملہ کرتے ہوئے کانگریس کے نائب صدر راہو، گاندھی نے آج الزام لگایا کہ ملک کے آئین کو کچھ لوگ بدلنا چاہتے ہیں۔ متحدہ جنتادل کے رہنما شرد یادو کی مشترکہ وراثت بچاؤ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے آر ایس ایس پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ ملک کے ہر ادارے میں اپنے لوگوں کو بھررہا ہے ۔ کانگریس کے نائب صدر نے کہا کہ آر ایس ایس کو اس بات کا پورا علم ہے کہ وہ اپنے نظریات کی بنیاد پر ملک میں انتخابات نہیں جیت سکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ہر ادارے میں اپنے لوگوں کو بھرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ تقریب میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ ، سینئر کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد احمد پٹیل نے بھی شرکت کی ۔ سی پی آئی ایم کے سیتا رام یچوری ، سی پی آئی کے ڈی راجہ اور جھار کھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ بابولال مرانڈ ی بھی پروگرام میں شریک ہیں۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ آر ایس ایس ملک پر اپنا نظریہ تھوپنے کی مبینہ کوشش کے تحت یہ تاثر دے رہا ہے کہ یہ ملک آر ایس ایس کا ہے اور نظریاتی اختلافات رکھنے والوں کا اس ملک سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ گجرات میں دلتوں کو پیٹا جارہا ہے اور ان سے کہاجارہا ہے کہ یہ ملک ان کا(دلتوں کا) نہیں ہے۔ کانگریس کے نائب صدر نے کہا کہ اس ملک کو دو طریقے سے دیکھاجاتا ہے ۔ ایک یہ کہ یہ ملک میرا ہے اور دوسرا یہ کہ میں اس ملک کا ہوں اور بالترتیب یہی آر ایس ایس اور ہمارے درمیان فرق ہے ۔
نئی دہلی سے پی ٹی آئی، یو این آئی کی علیحدہ اطلاع کے بموجب نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے آج کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ ہندوستان ، چین اور پاکستان کا مقابلہ کرسکتا ہے لیکن اندرون ملک ہی چند افراد ہر چیز تباہ کررہے ہیں۔ جنتادل یو کے قائد شرد یادو کی جانب سے منعقدہ، مشترکہ وارثت بچاؤ ، مہم کے دوران اپوزیشن قائدین کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس موقع پر وادی کشمیر کی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس قابل ہے کہ وہ چین اور پاکستان کا مقابلہ کرسکتا ہے لیکن آج بد قسمتی یہ ہے کہ خطرہ اندر ہے نہ کہ باہر سے آرہا ہے ۔ سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر نے کہا کہ اندر کوئی چور بیٹھا ہوا ہے جو ہمارا بیڑا غرق کررہا ہے ۔ کشمیر اور کشمیریت کے ذکر کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے مرکز پر شدید تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ چند لوگ ہماری قومیت سے متعلق سوال کررہے ہیں۔ کون ہوتے ہیں وہ ہماری قومیت پر سوال اٹھانے والے۔ ہم کشمیر یوں نے تقسیم ہند کے موقع پر پاکستان کے مقابلہ ہندوستان کا انتخاب دی تھی اور میں یہ بات فخر کے ساتھ کہوں گا کہ میں ہندوستانی مسلمان ہوں ۔ ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ جنگ آزادی میں مسلمانوں نے بھی قربانیاں دی تھیں لیکن آج منظر نامہ یہ ہے کہ جمو ں و کشمیر میں وادی کے عوام کو پاکستانی کہاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد وادی کے لوگ آسانی سے پاکستان جاسکتے تھے لیکن ہندوستان میں برابری کے حقوق کی وجہ سے ان مسلمانوں نے یہاں رہنا پسند کیا۔ وادی کے لوگ اپنے حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور حکومت ان کا حق چھیننے کی مبینہ کوشش کررہی ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہم چینی، پاکستانی یا انگریزی مسلمان نہیں ہیں۔ ہم ہندوستانی مسلمان ہیں اور اس پر ہمیں فخر ہے ۔ دہلی کی حکومت کو ہمارا درد سمجھنا چاہئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اور پاکستان، ہندوستان کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے ۔درون ملک کچھ عناصر بگاڑ پر تلے ہیں۔ آزادی کی لڑائی تو انگریزوں کے خلاف تھی، لیکن اب اپنوں سے جنگ لڑنی پڑ رہی ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ نے مزید کہا کہ آج وہ لوگ اتحاد کی بات کرتے ہیں، عوام میں اتحاد کی بات کرتے ہیں لیکن آیا وہ اتحاد کے لئے ماحول تیار کرتے ہیں۔ وہ بات بہت کرتے ہیں اس پر عمل آوری بہت کم کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے یوم آزادی کے موقع پر اپنی تقریر میں کشمیریوں سے متعلق بات کی ہے اور وادی میں مسئلہ کا پر امن حل کی خواہش کی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کو گولی اور گالی سے حل نہیں کیا جاسکتا ۔ مسئلہ کشمیر تمام کشمیریوں کو گلے لگانے سے نکل آسکتا ہے ۔ وادی کشمیر کی صورتحال پر گہرے دکھ کے ساتھ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہم وفادار ہ یں لیکن یہ تکلیف دہ بات ہے کہ ان کا دل بڑا نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کل جماعتی وفد کشمیر آکر صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ پیش کی تھی لیکن اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا گیا۔

RSS wants to change the Constitution: Rahul at Sharad Yadav's ‘Sanjhi Virasat Bachao’ event

0 comments:

Post a Comment