Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-08-17 - بوقت: 15:37

کیرالا لو جہاد معاملہ - این آئی اے تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کا حکم

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سپریم کورٹ نے ایک مسلم شخص کے نو مسلم خاتون سے نکاح کو کیرالا ہائی کورٹ کی جانب سے کالعدم قرار دئیے جانے کے معاملہ کی تحقیقات کرنے کی این آئی اے کو ہدایت دی اور کہا کہ اس کی نگرنی عدالت عظمی کے ایک ریٹائرڈ جج کریں گے ۔ کیرالا ہائی کورٹ نے اسے لو جہاد کا معاملہ قرار دیتے ہوئے نکاح منسوخ کردیا تھا۔ چیف جسٹس جے ایس کیہار کی قیادت میں ایک بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج آروی رویندرن کی نگرانی میں این آئی اے تحقیقات کرے گی جس کی تکمیل کے بعد ر پورٹ عدالت میں پیش کی جائے ۔ بنچ نے جس میں جسٹس ڈی وی چندر چوڑ بھی شامل تھے کہا کہ این آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کیرالا پولیس سے معلومات کا حصول اور خاتون سے بات چیت کے بعد وہ اس معاملہ پر غور کرے گی ۔ عدالت عظمیٰ نے10اگست کو کیرالا پولیس کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس سلسلہ میں کی گئی تحقیقات کی تمام معلومات این آئی اے کے حوالہ کردے۔ یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں کیرالا کے متوطن شفیع جہاں نے کیرالا ہائی کورٹ کی جانب سے ان کا نکاح منسوخ کرنے کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے رجوع کیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے نہ صرف یہ نکاح کالعدم قرار دیا بلکہ ریاستی پولیس کو ہدایت دی کہ وہ اس طرح کے معاملات کی تحقیقات کرے ۔ عدالت عظمی نے کہا کہ وہ تحقیقات کی ذمہ اری این آئی اے کے سپرد کرتی ہے کیونکہ وہ ایک غیر جانبدار ایجنسی ہے ۔ ایجنسی سے کہا گیا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کرے کہ آیا یہ مخصوص معاملہ محدود نوعیت کا ہے یا اس مسئلہ کے وسیع پہلو پائے جاتے ہیں ۔ جہان نے گزشتہ سال دسمبر میں ایک ہندو خاتون کے اسلام قبول کرلینے کے بعد اس سے نکاح کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کیرالا ہائی کورٹ کا فیصلہ ملک میں خواتین کی آزادی کی توہین کے مترادف ہے ۔ الزام ہے کہ اس خاتون کی شام میں آئی ایس کی مہم کے لئے بھرتی کی گئی تھی اور جہان محض ایک کٹھ پتلی ہے ۔ خاتون کے باپ اشوکن نے الزام لگایا کہ تبدیلی مذہب اور اسلامی انتہا پسندی سے متاثر کرنے کا ایک سوچا سمجھا باضابطہ میکانزم ہے ۔

Kerala love jihad case: Supreme Court orders NIA probe; investigation

0 comments:

Post a Comment