Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-08-15 - بوقت: 14:39

نئے ہندوستان کی تعمیر میں عوام کی شراکت داری ضروری - صدر جمہوریہ کووند

Comments : 0
نئے ہندوستان کی تعمیر میں عوام کی شراکت داری ضروری - صدر جمہوریہ کووند
71ویں یوم آزادی کے موقع پر صدر جمہوریہ رامناتھ کووند کا قوم سے پہلا خطاب
نئی دہلی
پی ٹی آئی
صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے آج2022ء تک نئے ہندوستان کی تشکیل کے لئے شہریوں اور حکومت کے درمیان شراکت داری پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمدردانہ سماج کی تشکیل کی جانی چاہئے ۔ قوم کے ڈی این اے میں انسانیت کا اٹوٹ جز شامل ہونا چاہئے ۔71ویں یوم آزادی کے موقع پر قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کووند نے آزادی کی جدوجہد میں قائدین بشمول جواہر لال نہرو کے رول کو یاد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جس گوناگ وں نسل نے ہمیں آزادی دلائی جس میں ملک کے تمام حصوں سے مرد و خواتین شامل تھے ان کی سماجی اور سیاسی فکر جداگانہ تھی ۔ مجاہدین آزادی سے تحریک پانے کی عوام کو تلقین کرتے ہوئے کووند نے کہا کہ آج قوم کی تعمیر کے لئے ایسے ہی جذبہ کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ پالیسی اور عمل میں اخلاقی اساس اتحاد اور ڈسپلن میں یقین ، سائس اور ہیرٹیج کے امتزاج ، قانون اور تعلیم کے رول کے فروغ پر زور دیا اور کہا کہ شہریوں اور حکومت کے درمیان شراکت داری میں ہی یہ مضمر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج بڑے شہروں میں ہم اپنے پڑوسیوں تک سے واقف نہیں ۔ شہروں کے مواضعات شراکت داری اور خبر گیری کے احساس کو پیدا کرنا اہم ہے ، اس سے ہمارا سماج خوشحال اور ہمدرد بنے گا اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔ کووند نے کہا کہ سماجی خدمت، ہمدردی اور رضا کارانہ جذبہ ہندوستان میں زندہ ہے ۔ غریبوں اور پچھڑے ہوئے لوگوں کے لئے خاموشی اور مستعدی سے کام کرنے والے بہت سے لوگ اور تنظیمیں ہیں ہمیں حکومت کی پالیسیاں اور فوائد سماج کے تمام طبقات تک پہنچانے کو یقینی بنانے کے مقصد سے متحد ہ طور پر کام کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کے اولین کئی اعلانات جیسے رضا کارانہ طورپر ایل پی جی سبسیڈی سے دستبرداری ، نوٹ بندی، بیٹی بچاؤ ، بیٹی پڑھاؤ، جی ایس ٹی ، سوچھ بھارت کو کامیابی سے ہمکنار کرنے شہریوں اور حکومت کی شراکت داری اہمیت کی حامل ہے ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ جی ایس ٹی سسٹم میں تبدیلی پر مجھے خوشی ہے یہ ہم تمام کے لئے فخر کا باعث ہے کہ ہم جو ٹیکس ادا کرتے ہیں غریب اور درکنار افراد کی مدد اور قومی تعمیر میں استعمال ہوتے ہیں ۔ اس سے شہری اور دیہی انفراسٹرکچر بہتر ہورہا ہے اور ہماری سرحد کے دفاع کا استحکام ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئے ہندوستان کا مطلب بعض نمایاں امور جیسے ہر خاندان کے لئے مکان، طلب پر برقی ، بہتر سڑکیں اور ٹیلی کام، جدید ریلوے نیٹ ورک، تیز رفتار شرح نمو ہے ۔
نئی دہلی سے آئی اے این ایس کی علیحدہ اطلاع کے بموجب صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے آج71ویں یوم آزادی کے موقع پر اپنے اولین خطاب کا جئے ہند اور وندے ماترم کہتے ہوئے اختتام کیا۔ کووند کے دو پیشرو صدر جمہوریہ پرنب مکرجی اور پرتیبھا پاٹل، یوم آزادی کے موقع پر اپنا خطاب جئے ہند کے الفاظ پر ختم کیاکرتے تھے ۔ ایک اور تبدیلی یہ بھی دیکھی گئی کہ صدر جمہوریہ کے ٹی وی پر نشر کئے جانے والے خطاب کے دوران پس منظر باربار تبدیل ہورہا تھا۔ ایک مرتبہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کی تصویر بھی پس منظر میں پیش کی گئی ۔
President Ram Nath Kovind: India must be compassionate and egalitarian society

بہار، اتر پردیش اور آسام میں سیلاب کی صورتحال سنگین
لاکھوں افراد متاثر ۔ ہیلی کاپٹرس سے غذائی پیاکٹس گرائے جارہے ہیں
پٹنہ
یو این آئی
نیپال اور بہار کے نشیبی علاقوں میں مسلسل بارش کی وجہ سے ریاست کی تمام اہم دریا خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہے ہیں جس کی وجہ سے بہار کے گیارہ اضلاع میں سیلاب کی صورتحال انتہائی خطرناک ہوگئی ہے ۔ صورتحال سے نمٹنے فوج کو طلب کیا گیا ہے ۔ ہندوستانی فضائی کے دو ہیلی کاپٹرس بھی فوج کی مدد کررہے ہیں اور ضلع پورنیا میں پانی سے محصور عوام میں غذائی پیاکٹس سربراہ کررہے ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ذرائع نے کہا کہ فوج کا ایک کالم دانا پور کنٹونمنٹ سے کشن گنج پہنچ چکا ہے اور سیول حکام کی مدد مین مصروف ہے۔ اس کے علاوہ فوج کے مزید تین اضافی کالم کو کٹھار ضلع میں تعینات کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ فوج سے اپیل کی گئی ہے کہ متاثرہ علاقہ میں ریلیف کے کام انجام دیں۔ پورنیا میں جگہ جگہ ریلیف کیمپ بھی بنائے گئے ہیں۔ سیلاب کی سنگین صورتحال کے پیش نظر چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے آج سب سے زیادہ متاثر ارریہ، کشن گنج ، کٹیہار اور پورنیا ضلع کا فضائی سروے کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے سیکشن اور جنرل ایڈمنسٹریشن کے سینئر حکام کے ساتھ میٹنگ کی اور انہیں ضروری ہدایات دیں۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مرکزی حکومت کی جانب سے کی گئی فوری مدد کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔ بہار کے کوسی گنڈک ، کملا بلان، باگمنی اور مہانندا ندی کے خطرے کے نشان سے اوپر ہونے کے ساتھ ہی ان ندیوں میں آئی طغیانی سے ارریہ، کشن گنج، کٹیہار، پورنیہ، کھگڑیا، سپول، سہرسہ، مدھو بنی ، دربھنگلہ، مشرقی چمپارن، مغربی چمپارن اور سیتا مڑتھی ضلع میں سیلاب کی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ ان اضلاع میں لاکھوں لوکھ سیلاب کی زد میں ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے لوگ بلند اور محفوظ مقامات پر پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ، اگرچہ گزشتہ کچھ دیر سے وقفہ وقفہ سے ہو رہی بارش سے متاثرہ اضلاع میں دریاؤں کے پانی کی سطح میں تھوڑی کمی دیکھی جارہی ہے ۔ وہیں، بارش سے بے گھر ہوئے لوگوں کے ساتھ ہی جانوروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ متاثرہ علاقوں میں سب سے بڑا مسئلہ جانوروں کے چارے کا ہے ۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے کے مقصد سے فوج کی سات کمپنیوں کے علاوہ 690جوان اور72کشتیوں کے ساتھ این ڈی آر ایف کی بائیس ٹیمیں اور440جوان اور 72کشتیوں کے ساتھ ریاستی آفات فورس( ایس ڈی آر ایف) کی تیرہ ٹیمیں لگائی گئی ہیں۔ این ڈی آر ایف کی کچھ ٹیم کو سیتا مڑھی ، مغربی چمپارن، گوپال گنج اور مظفر پور ضلع میں بھی امدادی کام میں لگایا گیا ہے ۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ڈاکٹروں کی چھٹی منسوخ کردی گئی ہے۔ اسی دوران سیلاب کی وجہ سے شمال مشرقی علاقہ مابقی ہندوستان سے ٹرین خدمات کے اعتبار سے کٹ کر رہ گیا ہے ۔ ادھر آسام میں بھی سیلاب کی صورتحال ہنوز سنگین ہے ۔ جہاں اکیس اضلاع اس سے متاثر ہیں۔ تا حال کم از کم ننانوے افراد فوت ہوچکے ہیں۔ ریاست میں راحت کاری کے لئے فوج کو طلب کرلیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے چیف منسٹر سرہانندا سونوال سے آج حالیہ دنوں میں دوسری مرتبہ بات کرتے ہوئے حالات سے واقفیت حاصل کی اور ریاست کو تمام ممکنہ امداد فراہم کرنے کا تیقن دلایا۔ انہوں نے کہا کہ آسام میں سیلاب کی صورتحال پر مرکزی حکومت قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ بالائی آسام اور وسطی ریاست میں سیلاب کی وجہ سے حمل و نقل کی سہولت مسدود ہوگئی ہے ۔ اتر پردیش کے ضلع بلیا میں گھاگھرا ندی کے کنارے آبار بارہ دیہاتوں کو سیلاب کے خطرے سے الرٹ کردیا گیا ہے ۔ ضلع مجسٹریٹ سریندروکرم سنگھ نے آج یہاں بتایا کہ نیپال کے ایلیگن باندھ سے بڑے پیمانہ پر پانی گھراگھرا ندی میںچھوڑا گیا ہے ۔ اس سے گھاگھرا ندی کی آبی سطح کبھی بھی بڑھ سکتی ہے ۔ آبی سطح بڑھنے سے دریا کے کنارے آباد گاؤں سیلاب کی زد میں آسکتے ہیں ۔

یوم آزادی تقریب کی ویڈیو گرافی کرنے یوپی کے دینی مدارس کا فیصلہ
بریلوی مسلک کے مدارس میں حکومت کے احکام پر عمل نہ کرنے علماء کا اعلان
لکھنو
پی ٹی آئی
حکومت اتر پردیش کے احکام پر عمل کرتے ہوئے ریاست کے دینی مدارس میں یوم آزادی کے موقع پر پہلی مرتبہ پرچم لہرانے اور دیگر تقاریب کی ویڈیو گرافی کی جائے گی۔ بہرحال بریولی مسلک کے علماء نے ا ن احکام کو نہ ماننے کا اعلان کرتے ہوئے آج کہا کہ اس کے زیرانتظام ایک سو پچاس مدارس ان احکام پر عمل نہیں کریں گے ۔ اس مسلک کی ایک میٹنگ بریلی کی اعلیحضرت درگاہ میں منعقد ہوئی ۔ جس میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی ترانہ گایا جائیگا اور ناہی تقریب کی ویڈیو گرافی ریاست کے ایک سو پچاس مدرسوں میں کی جائے گی۔ جماعت رضائے مصطفی کے جنرل سکریٹری مولانا شہاب الدین رضوی نے میٹنگ کی صدارت کی یہ بات کہی۔ پیلی بھیت میں قضی شہر زرتاب رضا خان نے بھی اس حکم کی مخالفت کی اور اسے شریعت کے خلاف عمل قرار دیا جس میں موسیقی آلات کے استعمال کی اجازت نہیں ہے ۔ یوم آزادی کی تقریب پورے جوش و خروش سے منائی جائے گی ، مدرسوں میں ترنگا لہرایا جائے گا، مٹھائیاں تقسیم کی جائیں گی اور ان قائدین کو خراج عقیدت پیش کیاجائے گا جنہوں نے جدو جہد آزادی میں حصہ لیا، لیکن ایسا کوئی عمل نہیں کیاجائے گاجو خلاف شریعت ہو جیسے قومی ترانہ گانا اور اس کی ویڈیو گرافی کرنا۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ حکمنامہ صرف مدرسوں کے لئے کیوں جاری کیاگیا ہے جب کہ شکشا پریشد کے اسکولس کے لئے نہیں ہے ۔ وزیر مملکت اقلیتی بہبود بلدیوالاکھ نے اس حکم کی خلاف ورزی کرنے واے اسلامی مدارس کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے ۔ دریں اثناء اتر پردیش کے وزیر اقلیتی بہبود لکمشی نارائن چودھری نے کہا کہ ویڈیو گرافی اور تصویر کشی طلبا کے لئے وجہ تحریک بنے گی اور وہ مجاہدین آزادی کے بارے میں زیادہ جان سکیں گے ۔ سابق حکومتوں کے برخلاف جو خوشامدی کی سیاست پر عمل پیرا تھیں لیکن ہماری حکومت کے رجحان قوم پرستانہ ہے ۔ ہندوستان میں پیدا ہونے والا ہر ایک شہری مختلف تہوار مناتا ہے ۔ ہولی، دیوالی ، عید اور لوہاری اس میں شامل ہے ۔ لیکن بات جب قومی تہواروں کی آتی ہے تو اسے پوری قوم کی طرف سے منایاجاتا ہے ۔ اس لئے مدرسوں کو اس طرح کے قومی تہواروں میں حصہ لینے سے خود کو خارج نہیں سمجھنا چاہئے ۔ چودھری نے کہا کہ عصری دنیا میں ٹکنالوجی کا راج ہے ، یوم آزادی کے موقع پر تیار کئے گیے ویڈیوز کو طلبہ میں پھیلایاجاسکتا ہے اور وہ تقاریب کی یادوں کا ذخیرہ کرسکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ دیگر افراد کے لئے بھی یہ وجہ تحریک بنے گا۔ اب ریاست میں لگ بھگ آٹھ ہزار مدرسے حکومت یوپی کے زیر انتظام چلائے جانے والے شکشا پریشد کے مسلمہ ہیں ۔ ان میں سے پانچ سو ساٹھ مدرسے ریاست کے مکمل امدادی ہیں۔

0 comments:

Post a Comment