Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-08-13 - بوقت: 13:09

گوکھپور ہاسپٹل کا پرنسپل معطل - بچوں کی اموات کی تحقیقات کا حکم

Comments : 0
گوکھپور ہاسپٹل کا پرنسپل معطل - بچوں کی اموات کی تحقیقات کا حکم
گورکھپور
یو این آئی
حکومت اتر پرردیش نے آج بابا راگھو داس میڈیکل کالج ہسپتال کے پرنسپل کو معطل کردیا جہاں گزشتہ پانچ دن میں60بچوں کے مرنے کی اطلاعات ہیں ۔ اموات کی اصل وجہ پر الجھن برقرار ہے ۔ ریاستی حکومت نے معاملہ کی تحقیقات اور ایسے واقعات کا مستقبل میں اعادہ روکنے کی راہیں تجویز کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ حکومت کو اس بات سے انکار ہے کہ بی آر ڈی میڈیکل کالج ہسپتال میں بچوں کی اموات آکسیجن کی سپلائی روکنے سے ہوئی ہے۔ زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ اموات ایسے ہسپتال میں ہوئیں جس کا چیف منسٹر نے خود9اگست کو دورہ کیا تھا ۔ پرنسپل راجیو مشرا نے بھی تردید کی ہے کہ اموات آکسیجن کی کمی سے ہوئیں لیکن انہوں نے مانا کے آکسیجن سپلائی کرنے والی خانگی کمپنی کو ادائیگی میں حکومت نے تاخیر کی ۔ جمعرات کو آخری تاریخ گزر گئی تھی اور کمپنی کو چیک جمعہ کو دیا گیا ۔ پرنسپل نے اموات کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور انہوں نے میڈیا کے سامنے اعلان کیا کہ انہوں نے اخلاقی بنیاد پر مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ کاغذات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ مائع آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی اور ہسپتال انتظامیہ کے درمیان جھگڑا چل رہا تھا۔ آکسیجن سپلائی کرنے والی فرم نے میڈیکل کالج پرنسپل کو خطوط لکھے تھے جن کے جواب سے بلا شلبہ یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ سپلائیز نے بل کی عدم ادائیگی پر آکسیجن کی سپلائی روک دینے کی دھمکی دی تھی ۔ یکم اگست2017تک یہ بل65لاکھ روپے سے زائد ہوگیا تھا ۔ سوال یہ ہے کہ آیا اس اہم پہلو کی جانکاری چیف منسٹر یو پی کو ان کے دورہ گورکھپور میں دی گئی تھی یا نہیں۔ یوپی کے کابینی وزیر صحت سدھارتھ ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر کو یہ جانکاری نہیں دی گئی ۔ وزیر صحت نے کہا کہ حکومت یا چیف منسٹر کو اس تعلق سے کوئی جانکاری نہیں دی گئی۔ ضلع مجسٹریٹ نے خبر دی تھی کہ آکسیجن کی سپلائی میں کوئی خلل نہیں پڑا ۔ علاقہ میں جاریہ سیزن میں دماغی بخار سے روزانہ نو یا دس اموات تلخ حقیقت ہیں۔ تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ اس سے زیادہ کوئی مطلب نہیں نکالنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات شروع ہوچکی ہے، وزراء اور عہدیدار گورکھپور کا دورہ کرنے والے ہیں۔ بچوں کی اموات کی حقیقی وجوہات کا پتہ چلنے میں وقت لگے گا ۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے لئے یہ مزید پریشانی کی وجہ ہے کیونکہ وہ گورکھپور کے رکن پارلیمنٹ برقرار ہیں ۔ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے وہ دماغی بخار سے اموات کا مسئلہ پارلیمنٹ میں اکثر اٹھاتے رہے ہیں۔ اسی دوران گزشتہ دو دن میں مرنے والے بچوں کی تعداد35ہوگء ہے ۔ آئی اے این ایس کے بموجب گزشتہ دو دن میں تیس سے زائد بچوں کی اموات پر چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتہ کے دن اس ہدایت کے ساتھ دو کابینی وزراء کو گورکھپور بھیجنے کا فیصلہ کیا کہ کسی بھی خاطی کو بخشا نہ جائے ۔ آدتیہ ناتھ نے وزیر صحت سدھارتھ ناتھ سنگھ اور وزیر طبی تعلیم آشوتوش ٹنڈن کو ہدایت دی ہے کہ وہ سرکاری ہسپتال میں صورتحال کا جائزہ لیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں ۔ گورکھپور میڈیکل کالج ہسپتال میں شریک مریضوں کے ارکان خاندان کا کہنا ہے کہ فنڈس کے باوجود اس ہسپتال میں نہ تو ڈاکٹر ہیں، نہ تو دوائیں دستیاب ہیں اور نہ برابر علاج ہوتا ہے ۔ آکسیجن کی سپلائی بھی نہیں ہوتی۔
Gorakhpur deaths: Medical College principal suspended

ہاسپٹل میں بچوں کی اموات کا معاملہ - مایاوتی، اکھلیش یادو اور دیگر کی تنقید
لکھنو
یو این آئی
بہوجن سماج پارٹی صدر مایا وتی نے آج حکومت اتر پردیش کی مذمت کی اور گورکھپور ہاسپٹل المیہ کے لئے اسے ذمہ دار ٹھہرایا ، جس میں گذشتہ پانچ دن کے دوران ساٹھ بچے فوت ہوچکے ہیں ۔ مایاوتی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی کو اپنا قصور قبول نہ کرنے کی عادت ہے اور گورکھپور واقعہ نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ جہاں محض حکومت کی ناکامی کے سبب زائد از ساٹھ بچے فوت ہوچکے ہیں ۔ مایاوتی نے اس واقعہ کے پس پردہ سچائی کا پتہ چلانے اور انہیں رپورٹ دینے کے لئے پارٹی قائدین کی ایک سہ رکنی ٹیم بھی گورکھپور روانہ کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس دردناک واقعہ کے لئے بی جے پی سرکار کی جتنی بھی مذمت کی جائے اتنی کم ہوگی ۔ خاطی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بی ایس پی صدر نے کہ اکہ ان عہدیداروں کو بالکل نہیں بخشا جانا چاہئے ۔ جنہیں اس واقعہ کے بارے میں جانکاری تھی۔ علیحدہ اطلاع کے مطابق سماج وادی پارٹی صدر و سابق چیف منسٹر اتر پردیش اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت گورکھپور ہاسپٹل المیہ کے سلسلہ میں ذمہ دار یوں سے فرار اختیار کرنے کی کوشش کررہی ہے اور عوام کے تئیں بے حس بن چکی ہے۔ سماج وادی پارٹی قائد نے ریاستی اسمبلی میں قائد اپوزین رام گووند کی زیر قیادت ایک چھ رکنی اعلیٰ سطحی ٹیم پہلے ہی گورکھپور روانہ کردی ہے ، تاکہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کرے ۔ یا دو نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ بی جے پی حکومت محض اس بات سے دلچسپی رکھتی ہے کہ پولیس اور سرکاری مشنری کو ایس پی قائدین کے خلاف استعمال کیاجائے تاکہ پنچایتوں پر غلبہ حاصل ہوسکے ، جب کہ غریب لوگ مصائب کا سامنا کررہے ہیں اور گورکھپور واقعہ اسی کا نتیجہ ہے ۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکمرانی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے چہار شنبہ کے روز ہی بی آر ڈی ہاسپٹل کا دورہ کیا تھا ۔ لیکن انہیں آکسیجن کے لئے ادائیگی کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عہدیدار انہیں (چیف منسٹر کو) معلومات فراہم نہیں کرتے ہیں تو پھر عوام سمجھ سکتے ہیں کہ آخر وہ کس قسم کی حکومت چلارہے ہیں ۔ سماج وادی پارٹی صدر نے کہا کہ حکومت یہ کہنے کی کوشش کررہی ہے کہ آکسیجن کی کوئی قلت نہیں تھی، لیکن وہ کمپنی کی جانب سے یکم اگست کو ہاسپٹل کو روانہ کردہ مکتوب کو نہیں جھٹلا سکتے اور یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ انہوں نے اب تک رقم کی ادائیگی کیوں نہیں کی؟ آخر گزشتہ روز فیض آباد اور اطراف و اکناف کے دیگر اضلاع سے آکسیجن سلینڈرس لانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اموات کی خبر عام ہوتے ہی اس واقعہ کی پردہ پوشی کی کوشش کی گئی۔ متوفی بچوں کے ارکان خاندان کو بھی عقبی دروازہ سے ہاسپٹل سے نکال دیا گیا اور ان کے ریکارڈ پھاڑ کر پھینک دئے گئے ۔ یوگی کابینہ کے بعض وزراء کی اس اپیل پر تبصرہ کرتے ہوئے جس میں اپوزیشن کو جو کام کرنا ہے وہی کام کررہی ہے ۔ بدبختانہ بات یہ ہے کہ بی جے پی حکومت اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ ایک اور اطلاع کے مطابق صنعت کار اور سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ ووڈرا نے اتر پردیش کے ضلع گورکھپور کے ایک ہاسپٹل میں ساٹھ بچوں کی اموات پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے آج کہا کہ حکومت کو ان اموات کی وجوہات کی جڑ تک پہنچنا چاہئے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کرنے کا بھی مشورہ دیا۔ رابرٹ ووڈرا نے فیس بک پر اپنی ایک تحریر میں کہا جن خاندانوں نے اپنے بچے کھوئے ہیں ، میں ان سے دلی اظہار تعزیت کرتا ہوں ۔ مجھے امید ہے کہ حکومت اس واقعہ کی تہہ تک جائے گی۔ تاکہ ان اموات کی وجوہات کا پتہ چلا سکے ۔ ان خاندانوں کو معاوضہ بھی اداکرنا ہوگا۔
لکھنو سے آئی اے این ایس کی علیحدہ اطلاع کے بموجب گورکھپور ہسپتال میں ساٹھ سے زائد بچوں کی اموات پر یوپی کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے اپوزیشن نے ہفتہ کے دن ریاستی وزراء کے صحت و طبی تعلیم کے استعفوں کا مطالبہ کیا۔ کانگریس قائد غلام نبی آزاد نے جنہوں نے پارٹی کے ریاستی صدر راج ببر کے ساتھ بابا راگھو داس میڈیکل کالج ہسپتال کا دورہ کیا کہ کہا آدتیہ ناتھ کو شخصی طور پر معافی مانگنی چاہئے ۔ ریاست کی اصل اپوزیشن سماج وادی پارٹی نے سوال کیا کہ چیف منسٹر اپنے پارلیمانی حلقہ اور آبائی ٹاؤن میں بچوں کی اموات پر خاموش کیوں ہیں جب کہ ان اموات نے ریاست پر سکتہ طاری کردیا ہے۔ جنرل سکریٹری سماج وادی پارٹی رام گوپال یادو نے کہا کہ یہ انتہائی بد بختی کی بات ہے کہ آدتیہ ناتھ نے دل دکھانے والے ایسے المیہ پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ گورکھپور جہاں اتنے بچے مرے ہیں چیف منسٹر کا حلقہ اور آبائی ٹاؤن ہے ۔ وہ چیف منسٹر کے بعد کئی بار وہاں جا چکے ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں انہوں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ رام گوپال یادو نے ریاست کی بی جے پی حکومت پر تنقید کی کہ اس نے تا حال کوئی کارروائی نہیں کی جب کہ آدتیہ ناتھ نے دو دن قبل مہاراج گنج میں گیارہ عہدیداروں کو معطل اور سات دیگر کا تبادلہ ڈیوٹی پر لاپرواہی پر کردیا لیکن بی آر ڈی میڈیکل کالج ہسپتال معاملہ میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ سماج وادی پارٹی قائد نے الزام عائد کیا کہ گورکھپور میں کوئی بھی عہدیدار کسی کی نہیں سنتا۔ ایسا لگتا ہے کہ ایسے عہدیداروں کو چیف منسٹر کی سرپرستی حاصل ہے ۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے بھی آدتیہ ناتھ حکومت پر تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی لاپرواہی سے بچے مرے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ مایاوتی نے کہا کہ ان کی پارٹی کی سہ رکنی تحقیقاتی ٹیم ہسپتال کا دورہ کرے گی۔ بی جے پی کبھی اپنی غلطی نہیں مانتی۔ عام آدمی پارٹی نے بھی آدتیہ ناتھ کی خاموشی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ پہلے لاپرواہی اور اب شرمناک خاموشی۔ ترس آتا ہے ایسے بے حس لوگ ریاست پر حکومت کررہے ہیں۔بی جے پی نے تاہم پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن، ایسے سنگین مسئلہ پر سیاست کررہی ہے ۔ پی ٹی آئی کے بموجب کانگریس نے گورکھپور کے سرکاری ہسپتال میں تیس بچوں کی موت پر حکومت یوپی کو ذمہ دار ٹھہرایا او ر چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ اور وزیر صھت سدھارتھ ناتھ سنگھ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ۔ کانگریس ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ چیف منسٹر اور وزیر صحت کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے ۔ گزشتہ48گھنٹون میں مائع آکسیجن کی مبینہ قلت کے نتیجہ میں تیس بچوں کی موت واقع ہوئی ۔
نئی دہلی سے یو این آئی کی اطلاع کے مطابق بی جے پی زیر اقتدار ریاست اتر پردیش کے ایک سرکاری ہسپتال میں ساٹھ بچوں کی موت کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے مرکزی مملکتی وزیر صحت انوپریہ پٹیل سے کہا ہے کہ وہ فوری صورتحال کا جائزہ لیں۔ وزیر اعظم کے دفتر کے بیان میں کہا گیا کہ انوپریہ پٹیل اور مرکزی وزیر صحت سی کے مشرا گورکھپور میں صورتحال کا جائزہ لیں گے ۔

شرد یادو کو پارلیمانی پارٹی قائد کے عہدے سے ہٹا دیا گیا
نئی دہلی
پی ٹی آئی
جنتادل یو کے ارکان راجیہ سبھا نے آج شرد یادو کو جنہوں نے بہار میں بی جے پی سے اتحاد کے پارٹی کے فیصلہ کی مخالفت کی تھی ایوان میں اپنے قائد کے عہدے سے ہٹا دیا۔ ان کی جگہ آر سی پی سنگھ کو لایا گیا ہے ۔ ایک سینئر پارٹی قائد نے یہ بات بتائی ۔ ارکان پارلیمنٹ نے صدر نشین راجیہ سبھا ایم وینکیا نائیڈو سے ملاقات کی اور ایک مکتوب انہیں سونپا جس میں سنگھ کو ایوان بالا میں جنتادل یو کا قائد بنانے کی جانکاری دی گئی ۔ سنگھ ، چیف منسٹر بہار نتیش کمار پر بھروسہ مند ساتھی ہیں ۔ راجیہ سبھا میں جنتادل یو کے دس ارکان ہیں ۔ پارٹی نے کل رات اپنے رکن راجیہ سبھا علی انور انصاری کو پارلیمانی پارٹی سے معطل کردیا کیونکہ انہوں نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے طلب کردہ اپوزیشن اجلاس میں شرکت کی تھی۔ نتیش کمار کے کانگریس اور آر جے ڈی سے ناطہ توڑنے اور بی جے پی سے ناظہ جو رکو بہار میں نئی حکومت بنانے پر شرد یادو اور نتیش کمار کے درمیان اختلافات پید ا ہوگئے تھے ۔ شرد یادو نے جو بہار کے دورہ پر ہیں کہا ہے کہ وہ آج بھی خود کو مہا گٹھ بندھن کا حصہ مانتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ حقیقی جنتادل یو ان کے ساتھ ہے اور نتیش کمار کے پاس جو پارٹی ہے وہ سرکاری جنتادل یو ہے۔ اسی دوران بی جے پی صدر امیت شاہ نے آج تویٹ کیا کہ انہوں نے نتیش کمار کو برسر اقتدار این ڈی اے میں شمولیت کی دعوت دی ہے ۔ آئی اے این ایس کے بموجب سینئر جنتادل یو قائد شرد یادو نے ہفتہ کے دن جنتادل یو کے موجودہ صدر اور چیف منسٹر بہار نتیش کمار پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی کہ پارٹی صرف نتیش کمار کی نہیں بلکہ ان کی بھی ہے ۔ انہوں نے اپنی سموادیاترا کے آخری دن بہار کے ضلع مدھے پورہ میں کہا جے ڈی ، یو صرف نتیش کمار کی پارٹی نہیں ہے ، یہ میری بھی پارٹی ہے ۔ نتیش کمار، جنتادل یو کے قومی صدر ہیں اور کہاجاتا ہے کہ بہار میں پارٹی پر ان کا مکمل کنٹرول ہے ۔ شرد یادو نے کہا کہ بہار میں دو جنتادل یو ہیں ۔ ایک سرکاری ہے اور دوسری جنتا کی ہے ۔ تمام پارٹی ارکان اسمبلی اور قائدین جو نجی فائدہ کے لئے حکومت کے قریب ہیں نتیش کمار کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے پارلیمانی پارٹی قائد کے عہدہ سے ہٹائے جانے کے فیصلہ پر تبصرہ سے انکار کیا۔ رکن راجیہ سبھا شرد یادو نے کہا کہ جب وہ اندرا گاندھی سے نہیں ڈرتے تھے تو دوسروں کی کیا اوقات ہے۔ انہوں نے ایمرجنسی کے خلاف اپنی لڑائی کے حوالہ سے کہا کہ میں سچ بولنے میں کسی سے نہیں ڈرتا اور میں اپنے اصولوں پر قائم ہوں ۔

دفعہ 35 اے کے خلاف مبینہ سازش، علیحدگی پسند قائدین کا الزام
سری نگر
یو این آئی
جموں و کشمیر کو دستور ہند کے دفعہ35اے اور دفعہ370کے تحت حاصل خصوسی موقف کے خلاف مبینہ سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے علیحدگی پسندوں کی جانب سے وادی کشمیر کے دس اضلاع اور جموں کے خطہ چناب و پیر پنچال کے بعض حصوں میں آج ہڑتال کی اپیل پر عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ۔ ہڑتال کے دوران کشمیر انتظامیہ نے ریاست کے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کررکھیں تھیں۔ ہڑتال کی اپیل کشمیری علیحدگی پسند قائدین سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یسین ملک نے دی تھی جب کہ دیگر علی حدگی پسند جماعتوںِ رکن اسمبلی انجینئرشیخ عبدالرشید کی قیادت والی عوامی اتحاد پارٹی اور چند ایک تجارتی تنظیموں بالخصوص کشمیر اکنامک الائنس اور کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن نے اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ ہڑتال کے پیش نظر آج وادی بھر میں ریل خدمات بھی معطل رکھی گئیں تھیں۔ وادی کے دس اضلاع اور جموں کے خطہ چناب و پیر پنچال کے بعض حصوں سے مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ہڑتال کے دوران جہاں کاروباری سر گرمیاں ٹھپ رہیں، وہیں سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی آمد و رفت کلی طور پر معطل رہیں۔ تعلیمی ادارے بند رہے جب کہ سرکاری دفاتر میں معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا ۔ واضح رہے کہ2014ء میں وی وی سٹیزنس نامی ایک این جی او نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ درخواست داخل جس میں دفعہ 35اے کو چیلنج کیا گیا ۔ گزشتہ ہفتے درخواست پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے عدالت میں دفعہ 35اے کے موضوع کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پر وسیع بحث چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملہ میں حلف نامہ پیش نہیں کرنا چاہتے ۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے دفعہ 35اے کا معاملہ سہ رکنی بنچ کو چھ ہفتوں کے اندر نمٹانے کا حکم جاری کردیا۔ قابل ذکر ہے کہ دفعہ 35اے غیر ریاستی شہریوں کو جموں و کشمیر میں مستقل سکونت اختیار کرنے، غیر مقتولہ جائیداد خریدنے، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے ، ووٹ ڈالنے کے حق اور دیگر سرکاری مراعات سے دور رکھتی ہے۔ دفعہ 35اے دراصل دفعہ370کی ہی ایک ذیلی دفعہ ہے ۔ بتایاجارہا ہے کہ 1953ء میں جموں و کشمیر کے اس وقت کے وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیر آئینی معزولی کے بعد وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامہ کے ذریعہ آئین میں دفعہ 35اے کو بھی شامل کیا گیا، جس کی رو سے ہندوستانی وفاق میں کشمیر کو ایک علیحدہ حیثیت حاصل ہے ۔10اکتوبر 2015ء کو جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلہ یں دفعہ 370کو ناقابل تنسیخ و ترمیم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ 35اے جموں و کشمیر کے موجودہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ دفعہ 35اے کا دفاع کرنے کے لئے جہاں جموں و کشمیر میں تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں بشمول نیشنل کانفرنس اور کانگریس متحد ہوگئی ہیں، وہیں ریاستی چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے بھی مرکزی قیادت سے کہا ہے کہ دفعہ 35اے اور دفعہ370پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔ دریں اثناء پائیں شہرمیں واقع تاریخی جامع مسجد کے ارد گرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکوریٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے تھے ۔ تاہم صفا کدل اور عید گاہ کے راستے شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کو جانے والی سڑکوں کو بیماروں اور تیمار داروں کی نقل و حرکت کے لئے کھلا رکھا گیا تھا۔ سری نگر کے جن علاقوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، میں دکانیں اور تجاری مراکز بند رہے جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبوں اور تحصیل ہیڈ کوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرمیاںمفلوج رہیں ۔ شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تما م قصبوں اوردیگر تحصیل ہیڈ کوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈ کوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے، جب کہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمدو رفت معطل رہی ۔سوپور اور شمالی کشمیر میں پتھراؤ کے کسی بھی واقعہ سے نمٹنے کے لئے سیکوریٹی فورسس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی۔ وادی کشمیر کے دوسرے حصوں بشمول وسطی کشمیر کے گندر بل اور بڈگام اضلاع سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ان اضلاع میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی ۔ دریں اثناء جموں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق خطہ چناب و پیر پنچال کے مختلف حصوں بشمول کشٹواڑ، ڈوڈہ اور بانہال میں علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران وہاں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جب کہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت جزوی طور پر معطل رہی ۔ سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں بھی معمول کی سر گرمیاں جزوی طور پر متاثر رہیں۔

0 comments:

Post a Comment