Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-08-22 - بوقت: 15:48

اترپردیش بہار اور مغربی بنگال میں سیلاب کی سنگین صورتحال

Comments : 0
مالدہ، سدھارتھ نگر، پٹنہ
یو این آئی
مغربی بنگال کے مالدہ میں سیلاب میں تین افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ شمالی بنگال میں سیلاب سے متاثرہ سات اضلاع میں صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ چیف منسٹر ممتا بنرجی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ ان کے دورے کے دوران وسیع پیمانے پر سر گرمیاں ضرور نظر آئیں لیکن حالات بہتر نہیں ہیںَ ریلوے نے ایک ہفتے سے زائد سے مالدہ جانے والی تمام ٹرین سرویس کو روک دیا ہے کیونکہ پانی بڑے پیمانے پر ریلوے ٹریکوں سے اوپر بہہ رہا ہے اور سیلاب کے پانی میں بہت سے پل بہہ گئے ہیں۔ اس وجہ سے ریلوے نے ٹریفک کی بحالی کی بابت ابھی تک کچھ نہیں کیا ہے ۔ اگرچہ ریلوے نے ایسے علاقوں میں ٹریفک کی بحالی کا کام شروع کردیا ہے جہاں بارش بند ہوگئی ہے اور پانی کی سطح کم ہوگئی ہے۔ مہانندا، گنگا اور فلبر دریاؤں میں طغیانی کی وجہ سے مالدہ میں سیلاب کی حالت اور شمالی اور جنوبی دیناج پور کے دو دیگر اضلاع کے حالات اب بھی مخدوش ہیں ۔ ریاستی حکومت نے پھنسے ہوئے مسافرین کو دستیاب بسوں کو استعمال کرتے ہوئے دیر راستوں سے کولکتہ اور مالدا سے شمالی بنگال کے کوچ بہار علاقوں کو پہنچانے کی کوشش کررہی ہے۔ مغربی بنگال کے رتوا علاقہ میں دریائے مہانندا کے پشتہ پر کھڑا دس افراد پشتہ کے اچانک ٹوٹ جانے سے پانی میں بہہ گئے تاہم این ڈی آر ایف کے دستوں نے تیز رفتاری سے کارروائی کرتے ہوئے سات افراد کو بچا لیا جب کہ تین افراد پانی کے ریلے میں بہہ کر لا پتہ ہوگئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے بموجب مغربی بنگال کے شمالی علاقہ میں سیلاب سے متعلق واقعات میں تقریبا ساٹھ افراد فوت ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک وسیع علاقہ پانی سے محصور ہونے سے دیگر زمینی راستوں سے کٹ گیاہے۔ مالدہ اور ہرش چندر پور سے آنے ملنے والی تازہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہ علاقہ ہنوز زمینی راستے سے کٹا ہوا ہے ، راتو ، نارائن پور ، چاچھول ، علاقہ دریا کے پانی سے گھر گئے ہیں۔ پانی نارائن پور قومی شاہراہ کے اوپر سے بہہ رہا ہے ۔ جس سے بسوں کی آمد و رفت دھیمی پڑ گئی ہے ۔ ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ راتو ا علاقہ میں اتوار کو سیلاب سے فاقہ زدہ عوام نے بی ڈی او دفتر پر ہلہ بولتے ہوئے ریلیف کی اشیاء کو لوٹ لیا۔ بھوک عوام نے دفتر پر موجود چند سرکاری عہدیداروں اور پولیس ملازمین کے ساتھ بھی ہاتھا پائی کی۔ کل رات اس علاقہ میں چیف منسٹر ممتا بنرجی آئی ہیں وہ مزید متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔ سرکاری ذرائع کے یہاں بتایا کہ سوریہ ندی خطرے کے نشان92.730کے مقام پر93.330میٹر پر خطرے کے نشان سے ساٹھ سینٹی میٹر اوپر بہہ رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ندی کا پانی اتر رہا ہے۔ ندی دو سینٹی میٹر فی گھنٹے کی رفتا ر سے نیچے اتر رہی ہے ۔ ندی کے گھٹنے کے کئی راستوں پر آمد و رفت شروع ہوگئی ہے ۔ اس سے سیلاب سے متاثر ندی کے پاس آمد و رفت کا راستہ شروع ہوگیا ہے ۔ اسی سے متاثرہ عوام کو راحت کی سانس لی لیکن ابھی بھی سیلاب سے پندرہ ہزار سے زیادہ آبادی متاثر ہے ۔ ممتا بنرجی نے نامہ نگاروں سے کہا کہ سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جارہی ہے ۔ مالدہ ضلع کے انگلش بازار علاقے میں مہا نندی خطرے کے نشان کے اوپر سے1.5میٹر زائد بہ رہا ہے ۔ صرف مالدہ ضلع میں آٹھ لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہے ۔ ریاست وزیر آبپاشی راجیب بنرجی نے کہا کہ محکمہ فائننس اور محکمہ آب پاشی ریاست میں سیلاب سے متاثر علاقے کا دورہ کرنے کے بعد نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے ۔ ایک ہفتے میں چیف منسٹر ممتا بنرجی اور چیف سکریٹری کے پاس رپورٹ جمع کی جائے گی۔ اس سے قبل چیف منسٹر ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ جنوبی بنگال میں سیلاب انسانی غلطی کا نتیجہ ہے ۔ اس کے لئے مرکزی حکومت اور دامودر ویلی کارپوریشن ذمہ دار ہے ۔ اس کے علاوہ سیلاب کی وجہ سے مالدہ جانے والی ٹرینوں کو رد کردیا گیا ہے ۔ مالدہ میں مختلف مقامات پر ریلوے ٹریک پر پانی بہہ رہا ہے مالدہ ضلع میں کیمپوں مین مقیم افراد نے کھانہ نہ ملنے سے ناراض ہوکر بی ڈی او آفس میں توڑ پھوڑ کی ہے۔ چیف منسٹر کل رات ہی یہاں پہنچ گئی تھیں ۔ چیف منسٹر شمالی بنگال کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ اتر پردیش کے ضلع سدھارتھ نگر میں دریائے راپتی کو چھوڑ کر باقی دریاؤں میں طغیانی تھمنے کے باوجود گزشتہ ہفتہ سے سیلاب نے ابھی بھی قہر برپا مچا رکھا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ دریائے راپتی ایک میٹر، بوڑھی راپتی دومیٹر، دریائے کوڑا ڈیڑھ میٹر، دریائے گھوگھی چالیس سینٹی میٹر اور جموار نالہ دو میٹر خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہے ہیں جس سے ضلع کے800سو سے زائد گاؤں سیلاب کی زد میں ہیں اور چار سو سے زائد گاؤں سیلاب کے پانی سے چاروں طرف سے گھرے ہوئے ہیں ۔ دریائے راپتی میں پانی کی سطح ابھی بھی بڑھ رہی ہے جب کہ دیگر دریاؤں میں پانی کی سطح جوں کی توں ہے ۔ ذرائع کے مطابق سیلاب سے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو خواتین سمیت پانچ افراد ہلاک ہوجانے سے ضلع میں سیلاب اور بارش سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر بارہ ہوگئی ہے ۔ سیلاب کی وجہ سے ضلع کے انٹر میڈیٹ کے سبھی اسکول کل تک کے لئے بند کردئیے ہیں۔ بہار میں روہتاس ضلع کے اندر پوری تھانے علاقے میں کل دیر شام نہر میں ڈوبنے سے ایک طالب علم کی موت ہوگئی۔ پولیس ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ ضلع کے تیلوتھوتھانہ علاقے کے تحت جمو ہار گاؤں کے رہنے والے دیوبنس ساہ کا دس سالہ بیٹا روشن کمار گاؤں کے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ اتوار کی شام نہر میں نہانے گیا تھا۔ نہاتے وقت اس کا پاؤں مٹی میں پھنس گیا اور تیز بہاؤ کی وجہ سے ڈوب گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ حادثہ کی اطلاع ملنے کے بعد موقع پر پہنچی پولیس نے مقامی غوطہ خوروں کی مدد سے دیر رات نعش کو نہر سے باہر نکال دیا۔اس سلسلہ میں اندر پوری تھانہ میں ایک معاملہ درج کرکے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔ بہار کے ویشالی ضلع کے الگ الگ تھانوں میں آج دو نو عمر وں کے ڈوبنے سے موت ہوگئی۔ پولیس نے یہاں بتایا کہ ضلع کے صدر تھانہ علاقے کا رہائشی شنکر پاسوان کا یوتا پندرہ سالہ شیو کمار جب آج صبح گنڈک نہر کے کنارے کھیل رہا تھا تبھی اچانک پاؤں پھسل جانے سے وہ اس میں گر گیا۔ اس حادثہ میں اس کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ مقامی غوطہ خوروں کی مدد سے لاش کو نکال لیا گیا ہے ۔ ایک دیگر حادثہ میں ضلع کے راجا پاکڑا تھانہ علاقے کے گور پور بریار گاؤں میں آج تالاب میں نہانے کے دوران تیرہ سالہ کرشن کمار کی ڈوبنے سے موت ہوگئی۔

Crores Affected In Floods In Bihar, Assam, Bengal

0 comments:

Post a Comment