Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-08-08 - بوقت: 13:18

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا اقلیتی کردار - مرکزی حکومت کا نیا فیصلہ

Comments : 0
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار پر لٹکی تلوار
مودی حکومت کا اقلیتی کردار پر عدالت میں دیے گئے اپنے سابقہ بیان کو واپس لینے کا فیصلہ
دہلی
ایجنسیاں
مرکز کی مودی حکومت نے جامعہ ملیہ اسلامیہ( جے ایم آئی) کے اقلیتی کردار پر عدالت میں دیے گئے اپنے پہلے بیان کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جلد ہی مرکز کی مودی حکومت کورٹ میں حلف نامہ دے گی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک اقلیتی ادارہ نہیں ہے ۔ انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت دہلی ہائی کورٹ کے پاس زیر التوا درخواستوں میں ایک نیا حلف نامہ درج کرے گی۔22فروری2011ء کو قومی اقلیتی تعلیمی کمیشن( این سی ایم آئی) کے حکم کی حمایت کی گئی تھی ۔ اس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ایک مذہبی اقلیتی ادارہ قرار دیا تھا۔ یہ اپنی قانونی سمجھ میں ایک غلطی تھی ۔ فروغ انسانی وسائل و ترقیات کی وزارت کورٹ کو یہ بھی بتائے گی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا مقصد کبھی بھی اقلیتی ادارے کا نہیں تھا، کیونکہ اسے پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعہ قائم کیا گیا تھا اور اسے مرکزی حکومت کی طرف سے مالی امداد دی گئی ہے ۔ گزشتہ سال جب اسمرتی ایرانی ایچ آر ڈی منسٹر تھیں ، تب اٹارنی جنرل نے عدالت میں اپنا موقف تبدیل کرنے کی صلاح دی تھی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک اقلیتی ادارہ نہیں ہے ۔ تب اٹارنی جنرل مکل روہتگی تھے، انہوں نے کہا تھا کہ حکومت1968کے عزیز باشا بنام یونین آف انڈیا معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر انحصار کرتی ہے تاکہ وہ اپنے موقف میں تبدیلی کی حمایت کرسکیں ۔ عزیز باشا معاملے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اے ایم یو ایک اقلیتی ادارہ نہیں ہے، کیونکہ یہ برطانوی مقننہ کی طرف سے قائم کیا گیا تھا ، اسے مسلم فرقہ نے قائم نہیں کیا تھا ۔ جب اسمرتی ایرانی انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر تھیں ، تب اٹارنی جنرل کے مشورے کو قبول کرلیا گیا ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ پر درخواستوں کی سماعت کی تاریخ ابھی نہیں آئی ہے ۔ جب عرضیوں کی سماعت ہوگی تب مرکزی حکومت ایک نیاحلف نامہ داخل کرے گی۔

Centre To Withdraw Its Earlier Support For Jamia Millia Islamia's minority status

0 comments:

Post a Comment