Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-08-17 - بوقت: 15:32

بلو وھیل گیمس پوری طرح ناقابل قبول - مرکزی وزیر روی شنکر پرساد

Comments : 0
تمام ٹیک پلیٹ فارمس، حکومت کی ہدایت کی سختی سے پابندی کریں: روی شنکر پرساد
نئی دہلی
آئی اے این ایس
blue-whale-game
بلو وھیل جیسے گیمس جو نوجوانوں کو خود کشی کے لیے اکساتے ہیں ، پوری طرح ناقابل قبول ہیں۔ مرکزی وزیر الکٹرانکس و انفارمیشن ٹکنالوجی روی شنکر پرساد نے چہار شنبہ کے دن یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام ٹیک پلیٹ فارمس کو ہدایت دے چکی ہے کہ وہ دی بلو وھیل چیلنج کا پھیلاؤ روکیں ۔ 30جولائی کو ایک چودہ سالہ اسکولی لڑکے من پریت سنگھ ساہنی نے اندھیری ایسٹ(ممبئی) کی شیر پنجاب کالونی میں اپنی عمارت کی پانچویں منزل سے مبینہ طور پر چھلانگ لگادی تھی۔ منی پور کے ایک سابق وزیر کا لڑکا دہلی میں چھت سے گر پڑا تھا ۔ شبہ ہے کہ اس کی موت بھی بلو وھیل گیم کے زیر اثر ہوئی ۔ کیرالا میں ایک کمسن لڑکے نے بلو وھیل چیلنج مبینہ طور پر مکمل کرتے ہوئے پھانسی لے لی ۔ روی شنکر پرساد نے کہاکہ ہمیں بلو وھیل گیم کے تعلق سے کئی شکایتیں ملی ہیں کہ یہ گیم کمسن لڑکوں کو خود کشی کے لئے اکسا رہا ہے ۔ تمام ٹیک پلیٹ فارمس کو واضح دے دی گئی ہے کہ وہ بلو وھیل گیم کا پھیلاؤ روکیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام ٹیک پلیٹ فارمس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ حکومت کی ہدایت کی سختی سے پابندی کریں ۔ ایسا گیم پوری طرح ناقابل قبول ہے۔ حکومت، گوگل فیس بک، مائیکرو سافٹ اور یا ہو جیسی بڑی ٹکنالوجی کمپنیوں کو ہدایت دے چکی ہے کہ وہ اس خظرناک آن لائن گیم کی طرف ڈائرکٹ کرنے والے تمام لنکس ہٹا دیں۔ وزارت الکٹرانکس و آئی ٹی کے مکتوب مورخہ11اگست میں ٹکنالوجی کمپنیوں سے کہا گیا کہ اس خطرناک گیم یا اس سے ملتے جلتے گیم کے تمام لنک فوری ہٹادئیے جائیں ۔ کہاجاتاہے کہ دی بلو وھیل گیم روس کے ایک سابق سزا یافتہ نے تیار کیا ہے۔ کہاجاتا ہے کہ یہ نفسیاتی کھیل اس کے کھیلنے والوں کو پچاس دن کے لئے خود کو اذیت دینے کے ٹاسک دیتا ہے ۔ اس کا انجام جو جیتنے کے لئے ضروری ہوتا ہے ، کھیلنے والے کی موت کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔ ہر ٹاسک کی فلم بنانی ہوتی ہے اور ثبوت کے طور پر شیئر کرنا ہوتا ہے ۔ کہاجاتا ہے کہ بلو وھیل چیلنج دنیا بھر میں تا حال130سے زائد لڑکے اور لڑکیوں خی جان لے چکا ہے ۔ ماہرین کے بموجب کمسن لڑکے لڑکیاں آسانی سے اس کا شکار اس لئے ہوجاتے ہیں کہ اس گیم کی خیالی دنیا انہیں وہ آزادی دیتی ہے جو حقیقی دنیا میں بندشوں کے تابع ہوتی ہے ۔

Blue Whale game is Totally unacceptable: Ravi Shankar Prasad

0 comments:

Post a Comment