Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-08-24 - بوقت: 16:07

بصیر احمد خاں - علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا ایک خودشکن طالب علم

Comments : 0
AMU
بصیر دو بڑی خوبیوں کے آدمی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ میرے بہت عزیز دوست ہیں۔اور دوسرے یہ کہ انہیں خود شکنی میں کمال حاصل ہے۔
بیسویں صدی کی ساتویں دہائی کے آغاز میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے متعلم بصیر احمد خان کی شخصیت میں اکیسویں صدی کے پہلے عشرہ کا سب سے بڑاہندستانی مسلم رہنما ہونے کے تمام امکانات اور سارے جراثیم موجود تھے۔مگر بصیر نے نہایت دلسوزی کے ساتھ ان امکانات کو مسدود کیا اور ان جراثیم کو ایسی ایسی کرم کش دواؤں سے ختم کیاکہ آج وہ اپنی ہی سیاست کا ایک ہیولیٰ رہ گئے ہیں۔ اے کاش انہوں نے یہ سب نہ کیا ہوتا۔ مگر پھر تقدیر کا لکھا یہی تھا۔اب جب بھی بصیر کا خیال آتا ہے تو میں سوچتا ہوں کہ مسئلہ صرف بصیر کی خود شکنی کی عادت کا نہیں، مسلمانان ہند کی تقدیر کا تھا جنہیں مسلسل امتحانوں سے ابھی تک فراغ نہیں ہے۔ان کی منزل ابھی دور ہے۔ان کا وہ سفر ابھی ناتمام ہے جس کا آغاز ۱۸۵۷ کی ناکام جہد آزادی کے ساتھ ہوا تھا، یا شائد اس سے بھی سو ڈیڑھ سو سال پہلے شاہ ولی اللہ کی حجۃ اللہ البالغہ کی تصنیف کے ساتھ جب اس سفر کا پہلا قدم مسلمانوں کے جادۂ فکر پر اٹھا تھا۔
پرانی سی بات ہے۔بابری مسجد کی شہادت کے بعد جب ہندستان بھر کے 135 شہروں اور قصبوں میں خاصے منصوبہ بند فسادات کا بہائمی طوفان اٹھا تھا تو جدہ میں بڑا ذہنی ہیجان پایا جاتا تھا۔جہاں دو چار لوگ جمع ہوتے ہندستان کے مسلمانوں کا مستقبل زیر بحث ضرور آتا تھا۔ احباب کی ایسی ہی کسی ملاقات کے دوران میں نے کہا تھا کہ ۱۸۵۷ میں بر صغیرکے مسلمانوں کاقافلہ اپنی نئی منزل کی تلاش میں راہ پیما ہواتھا۔ نوے سال بعد اس قافلہ کی ایک ٹکڑی نے ایک پڑاؤ کو منزل قرار دیا اوروہ ٹکڑی وہاں ٹھہر گئی۔ اس کے کچھ کم 25 سال بعدا س ٹکڑی کے ایک ذیلی گروہ نے درمیان راہ ایک اورموڑکو منزل سمجھ لیا اور وہ بہت بولتا ہواگروہ بھی اصل قافلہ تو در کنارخود اس کٹی ہوئی ٹکڑی سے بھی کٹ گیا۔ مگر اس ساری مدت میں ہندستان کہلانے والے منطقہ کے مسلمانوں کا تلاش منزل کاسفرجاری رہا اوریہ سفر جاری رہے گا تاوقتیکہ اس قافلہ کو منطقی منزل نہ مل جائے۔اس قافلہ کی داستان المناک بھی ہے اور طربناک بھی، حوصلہ شکن بھی اور ہمت افزا بھی۔اس کی منزل نظروں کے سامنے بھی ہے اور نگاہوں سے اوجھل بھی۔اس کا سفر گمرہی کا مقدر بھی ہے اور راہ یابی کا منتر بھی۔
مگر اس گروہ کی تقدیر کا انحصار قافلہ بنے رہنے یا بکھر جانے پر ہے۔ یہ قافلہ اگر انبوہ اور ہجوم بن گیا تو ہمیشہ کے لئے منزل کھو بیٹھے گا۔مجھے اسی کا ڈر ہے۔
ساتویں دہائی کے پہلے اور دوسرے سال کے دوران جب بصیر سے میری دوستی استوار ہوئی تھی، یہ متذکرہ بالا تجزیہ اورتبصرہ ابھی میرے طالبعلمانہ ذہن میں نہیں تھا۔ مگر اس وقت میں نے مستقبل کی بہت سی امیدیں بصیر سے وابستہ کر لی تھیں۔
وہ ۱۹۵۹ کے ستمبر کی ایک شام تھی۔ مجھ سے کسی سینئرنے کہا کہ سٹوڈنٹس یونئن میں اگلے ہفتہ اردومباحثہ ہے، تم ٹھہرے خاندانی مقرر تو اس میں شرکت کرو۔ اس زمانے میں سٹوڈنٹس یونین بھی علی گڑھ کی ایک تربیت گاہ تھی۔ آج کی طرح اساتذہ اور منتظمین کے درپردہ ہاتھوں میں کھیلنے والے ان طلبہ کی بے نگاہ سیاست کا اکھاڑہ نہیں تھی جو اس ادارہ کو اپنی اور ادارہ کی تخریب کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس کے لئے استعمال ہوجاتے ہیں۔ بہر حال۱۹۵۹ کی یونئن کے اس مباحثہ کا موضوع کیرا لا میں ہندستان کی پہلی کمیونسٹ جمہوری حکومت کا آئینی مگر غیر جمہوری خاتمہ تھا۔ وزیر اعظم جواہر لال نہرو کہنے کو تو سوشلسٹ تھے مگراپنی ناک کے آگے سوشلزم کو بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ سیاست کی بات تھی۔ نہرو کے سوشلسٹ ہندستان میں ڈانگے اور گوپالن ہوں یا جے پرکاش اور لوہیا، ان کا چراغ ماسکو میں بھی نہیں جلتا تھا، وہاں سے روشنی لانا تو دور کی بات تھی۔ اور وہ روشنی بھی روبلوں کی شکل میں لاکر نہرو جی خود کبھی بھیلائی میں لگادیتے تھے اور کبھی کھیتوں میں بودیتے تھے۔تو جہاں ڈانگے اور گوپالن کے دیپوں میں تیل تھا نہ باتی وہاں کیرالا کے نمبودری پاد کی کیا حیثیت تھی۔ سو ان کی حکومت ختم کرکے کیرالا میں صدر راج نافذ کردیا گیا۔آزاد ہندستان کی تاریخ میں غالبا وہ دوسرا صدر راج تھا۔ اس سے پہلے نہرو جی نے پیپسو کہلانے والے پنجاب کے ایک عارضی ذیلی صوبہ میں صدر راج نافذ کیا تھا۔یہ پیپسو مخفف تھا پٹیالہ، ایسٹ پنجاب سٹیٹس یونئن کا جو پنجاب کے رجواڑوں کو یکجا کر کے بنایا گیا تھا۔بعد میں اسے پنجاب میں ضم کردیا گیا تھاجو تقسیم ہند کے بعد ہندو پنجاب اورپہاڑی پنجاب میں مزید تقسیم ہوکر اب ہریانہ اورہماچل پردیش بھی کہلانے لگا۔
علی گڑھ یونین کے اردو مباحثہ میں جج تھے شعبہ اردو کے نسیم قریشی صاحب۔یونئن کے قائم مقام صدر صغیر احمد (بھوپالی) اور دیگر ذمہ داروں نے مقررین کے دو گروہ بنا دئے تھے۔ جونئر گروپ میں بصیر، میں اور ایک اور کوئی تھے جن کا نام حافظہ سے محو ہوگیا۔ جونئر گروپ کا پہلا انعام بصیر نے لیا۔ مجھے کوئی انعام نہ ملا کیونکہ میں نے اپنی تقریر کے آغاز میں صدر محترم کے علاوہ تمام سامعین نیزمحترم المقام جناب عالی جج صاحب کا نام نامی لے کرسب کو مخاطب کر لیا تھا۔ بمبئی کے ہاشمیہ ہائی سکول میں تقریر تو میں ہمیشہ کرتا تھا مگر وہاں بھی انعام کبھی نہیں ملا تھا کیونکہ میرے سکول کے جو طلبہ میرے والد صاحب سے تقریر لکھوا کرلے جاتے ان کی تقریروں کے سامنے میری کیا مجال تھی کہ انعام لے لیتا۔ پھر سکول میں کسی نے عوامی تقریر اور پارلیمانی مباحثہ کی تقریر کا فرق بھی کبھی نہیں بتایا تھا۔یہ فرق علی گڑ ھ میں یونئن کے اس مباحثہ میں ناکامی کے بعد چند مباحثوں میں بلا تقریر شرکت کر کے میں نے خودجانا تھا۔
یونئن کے مباحثوں میں بصیر اور قاضی جھنجھٹ عرف قاضی محی الدین وغیرہ سے تعلق پیدا ہوا۔ قاضی جی تو ایس۔ ایم ۔ایسٹ میں دو کمرہ چھوڑ کر ہی رہتے تھے۔ ان کے کمرہ پر بھی بصیر سے ملاقات ہوجاتی تھی۔سال گذر گیا۔ نئے سال میں بصیر یونئن کے سکریٹری کا انتخاب لڑنے کے لئے میدان میں اترے۔ کچھ بزرگ دوستوں نے مجھے کیبنیٹ کے میدان میں اتار دیا۔ وہ الگ داستان ہے۔ مگربصیر سے بہت گہری دوستی اس کا حاصل تھی۔اب روز کی ملاقات تھی۔ یونئن میں بھی اور یونئن کے باہر بھی۔ وہیں میں نے بصیر کی سیاسی صلاحیتوں کا اندازہ کیا تھا۔ اور ان کی خودشکنی کی سیاست کا ذاتی تجربہ بھی۔
بصیرکی سیاست خود پر مرکوز تھی۔ خود پر مرکوز نہ ہو تو سیاست نہیں ہوتی، کسی خانقاہ کی برادری ہوتی ہے۔ مگر اپنے سیاسی وجود، اپنی سیاسی تعمیر، اپنی سیاسی پہچان کے لئے جنگ آزما سپاہی کودائیں بائیں بھی تو لڑاکے درکار ہوتے ہیں۔بصیر نے اس حقیقت کا سبق حضرت عبدالرحمٰن ابن عوفؓ کے اس بیان سے بھی نہیں لیا تھا جو انہوں غزوہ بدر مین ابوجہل کے خاتمہ کے واقعہ کی تفصیل میں دیا تھا۔ اس وقت میں وہ بیان حفیظ جالندھری کے شاہنامہ اسلام میں پہلے امی مرحومہ سے سن چکا تھا اور پھر خود بھی پڑھ چکاتھا، مجھے پتہ نہیں بصیر نے وہاں بھی وہ بیان پڑھا تھا یا نہیں۔
علی گڑھ میںیونئن کی روائت گروہ بازی تھی جس کا شکار اکثر علی گڑھ والے علی گڑھ چھوڑنے کے بعد بھی یوں رہتے ہیں جیسے بس وہی سر سید کی اصلی میراث ہو۔ہماری کیبنیٹ میں بھی ایک گروہ صدر قاضی جمال الدین احمد کا تھا اور دوسرا سکریٹری بصیر احمد خان کا، تیسرا نائب صدر تصور علی خاں کا۔ بصیر کا گروہ سب سے بڑا تھا اور اس کا نفس ناطقہ پتہ نہیں میں کیوں بن گیا تھا۔ شائد اس لئے کہ قاضی جھنجھٹ سے کچھ دور پرے کی قرابت داری بھی تھی، ہوسٹل کا ساتھ بھی تھا۔ اس پر مستزاد بصیر سے راست دوستی بھی اور قاضی جھنجھٹ کے توسط سے بھی معاملہ بندی تھی۔ مزید یہ کہ سرخ طلبہ کی انجمن کے مقابلہ میں بصیر اور میں دونوں ہی ’’اسلام پسند‘‘ قسم کی روایت کے پاسدار تھے۔ قاضی جمال اور تصور علی خاں سے میرا تعلق کیبینٹ کے توسط سے ہوا تھا تو ان سے دوستی تو ہوگئی تھی، کوئی نسبت قائم نہیں ہوئی تھی۔
پھرسیاست شروع ہوئی۔وہ سیاست آج کی یونئن کی سیاست سے بہت مختلف تھی ۔ اس کا ایک نمونہ بصیر اور قاضی جمال کی سیاست میں موجود تھا۔گزشتہ ستمبر میں یونئن کے الیکشن کے بعد علی گڑھ میں فسادپھوٹا تھاجس نے تقریبا سارے مغربی اتر پردیش کو لپیٹ میں لے لیاتھا۔ بریلی، چندوسی، مرادآباد، میرٹھ، خورجہ، بلند شہر،مظفر نگر تک آگ لگ گئی تھی۔یونیورسٹی 22 روز بند رہی۔ کھلنے کے بعد دسمبر کا مہینہ آیا تو یونی ورسٹی کی انتظامیہ نے دس روزہ سرمائی تعطیل کو اس دلیل کے ساتھ منسوخ کردیا کہ اکتوبر کی دس روزہ تعطیل خزاں 22 روز طویل ہوگئی تھی اور تعلیم کے 180 دن پورے کرنے ضروری تھے۔ اس بات پر یونئن کی مجلس عامہ نے کیبینٹ کو ہڑتال کرنے کا حکم دیا۔
مجلس عامہ کا ایک پر شور اجلاس جاری تھا۔ قاضی جمال بھی ہڑتال کے حق میں نہیں تھے مگر مجلس عامہ کا شدید دباؤ تھا۔ کیبنیٹ میں اور سینئر طالب علم رہنماؤں کو کسی نئے فسادکا اندیشہ بھی تھا جو کسی کے لئے بھی پسندیدہ نہیں تھا۔ ۔مجلس عامہ کے ایک اجلاس میںآنکھیں میچ میچ کر بولنے والے کسی پر جوش طالب علم کی ایک دھواں دھار تقریر کے بعد بصیر نے جوابی تقریر میں ایک جملہ کہا تھاجو مجھے آج بھی یاد ہے۔
’’آگ لگا دینا بہت آسان ہے۔مگر آگ لگ جائے تو اس کا بجھانا بہت مشکل اور نقصان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یونئن طلبہ کو آگ بھڑکانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔‘‘

بصیر کا نقطۂ نظر تھا کہ جمہوری روایت کے مطابق کابینہ مجلس عامہ کی بات تو سن سکتی تھی مگرفیصلہ کرنے کا اختیار مجلس عامہ کو نہیں، جمہوری طریقہ سے منتخب کابینہ اور اس میں بیٹھے ہوئے بارہ پندرہ طالبعلم رہنماؤں کو تھا اورکسی جبر کے آگے کابینہ اپنا یہ اختیارترک نہیں کرے گی۔ یہ درست نقطۂ نظر تھا جس سے بعد کی نسلوں کے بیشتر علیگیرئن پتہ نہیں کیوں ناواقف رہ گئے۔
اس مرحلہ پر قاضی جمال ، بصیر اور تصور کے کابینائی گروہوں میں مثالی ہم آہنگی پیدا ہوگئی تھی۔ وہاں باہمی سیاست کا شائبہ بھی باقی نہیں رہا تھا۔ یونیورسٹی اور اس کے طلبہ کا تحفظ سب کو مطلوب تھا۔ انتظامیہ سے جھگڑا تھا مگر آج کی طرح انتظامیہ کے ذمہ دار اساتذہ اور وائس چانسلر طلبہ کے عناد و نفرت کا نشانہ نہیں تھے۔چنانچہ ہڑتا ل ہوئی، کامیاب ہوئی، اور نہایت پرامن اور بے حد منظم رہی۔ اس امن پسند سیاست اور اس تنظیمی کامرانی کا سہرا بلا شبہ بصیر اور قاضی جمال کی قیادت کے سر بندھتا تھا۔ ہڑتال کے روزمیں نے بصیر کی معاملہ فہمی اور ہنگامی قوت فیصلہ کا راست مشاہدہ کیاتھا۔ بصیر کے ساتھ میں اور مرحوم طارق حسن سائنس فیکلٹی میں ہڑتا ل کی نگرانی کر رہے تھے۔کئی موقعوں پر مختلف شعبوں کے اساتذہ اور صدر شعبہ سے محاذ آرائی کی صورت بھی پیش آئی تھی۔مگر کسی موقعہ پر بھی اساتذہ یا ذمہ داروں سے جھڑپ، بد کلامی، بدتمیزی کا سوال بھی نہ تھا۔وہ ہمیں نہ پڑھاتے ہوں مگر تھے ہم سب کے بزرگ اور استاد۔ ان سب کا احترام واجب تھا۔
بصیر کی خود شکنی کا پہلا تجربہ اس ہڑتال کے چند ہفتہ بعد ہوا۔ کچھ سال پہلے برادر بزرگ عابداللہ غازی صاحب کی کوشش سے ملک بھر کے یونیورسٹی طلبہ کی ایک کل ہند تنظیم قائم ہوئی تھی۔ اس کا نام تھانیشنل کونسل آف یونیورسٹی سٹوڈنٹس آف انڈیا (NCUSI)۔ اس کا سالانہ اجلاس ملک کی کسی ایک یونیورسٹی میں ہوا کرتا تھا۔ اُس سال احمد آباد یونیورسٹی میزبان تھی۔ ہر یونیورسٹی کی یونئن اجلاس میں چار رکنی وفد بھیجتی تھی: دو ڈیلیگیٹ اور دو آلٹرنیٹ ڈیلیگیٹ۔ ہماری یونئن نے صدر قاضی جمال اور سکریٹری بصیر کو مندوب رسمی اورمتوازی مندوب کے طور پرسینئر کیبنیٹ محمد اسلم کو اورمجھے منتخب کیاتھا۔ ہم خوش تھے کہ چلو اس بہانہ ہندستان بھرکے طالب علم رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوں گی، ملک کے طلبہ کے مسائل پر تبادلہ خیال ہوگا اور احمد آباد کی سیر بھی ہوجائے گی۔ مگر عین موقعہ پر بجٹ دینے سے انکار کردیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ صرف مندوبین جائیں گے۔ میں نے بصیر سے بات کی کہ پورے وفد کا بجٹ منظور کرواؤ جیسا کہ گزشتہ برسوں کی روایت تھی۔ پروفیسر عبدالبصیر مرحوم یونئن کے خزانچی تھے۔ وہ علی گڑھ میں بصیر کے والد کے ہم جماعت رہ چکے تھے ، یعنی بصیر سے ان کا قریبی تعلق بھی تھا۔پھر بھی بصیر نے صاف انکار کردیا۔قاضی جمال بھی ہموار نہ ہوئے۔ ان دونوں کے لئے تو بجٹ تھا۔ انہیں کوئی غم بھی نہ تھا۔ تو میں نے کابینہ میں دونوں کے خلاف بغاوت کروادی۔ کابینہ کے ایک رسمی اجلاس سے تصور علی خان، ان کے واحد ساتھی طارق سعید چھتاری نیز قاضی جمال کے گروپ کے محمد اسلم اور بصیر کو چھوڑ کرسارے اراکین کابینہ نے میرے ساتھ واک آؤٹ کردیا۔
خیر وہ تو بچپنے کا غصہ تھا۔ یا لڑکپن کی سیاست تھی۔ مگر میرا تاثر یہ تھا کی بصیر نے سال بھرکی رفاقت کا لحاظ بھی نہ کیا اورنہ پہلے سے مجھے اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ باقی ماندہ دنوں میں کابینہ کے اندربصیر کا گروپ کمزور اور بلا پتوار کی کشتی بن گیا۔ بصیر نے بعد کے دنوں میں اس حادثہ یا تجربہ سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔
مگر اس سیاسی حادثہ کے بعد بھی بصیر سے میری دوستی متاثر نہ ہوئی۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ بصیر نے مجھ سے اپنی دوستی کو متأثر یا مجروح نہ ہونے دیا۔ اُس واقعہ کے لئے میں تازیست ان کا ممنون رہوں گا۔ وہ رات میں کبھی نہیں بھول سکتا۔
امتحانات قریب آگئے تھے۔ہمارا خاندان ان دنوں معراج قلندری پر تھا۔ سال ختم ہورہا تھا اور میں یونیورسٹی کا تقریبا چار سو روپے کا مقروض تھا۔یونیورسٹی مسلم بھی تھی اور ہمارے زعم اور خوش گمانی کے مطابق مسلمانوں کی بھی تھی۔مگر تھی ایک دکان ہی۔ جیب سے ٹکے نکالو اور تعلیم خرید لو۔ اپنی جیب میں نہیں تو لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرو۔ اہل خیر کی وہاں کمی نہ تھی۔میں دن بھر اس رقم کی فراہمی کے لئے سرگرداں رہتا۔ بطورطالب علم کبھی کوئی نمایاں کام نہیں کیا تھا۔ پاس ہونے جگتا پڑھ لیاکرتے تھے۔ہر مضمون میں اعلی نمبر لانے والے کسی اور دنیا کے لوگ ہوتے تھے۔اور ان کی دنیا میں اہل خیر سے خیرات بھی بن ما نگے مل جاتی تھی۔ہم جیسے لوگوں کی کہانی مختلف تھی۔ دن کا تھکا ماندہ تومیں رات میں بھی امتحان کے لئے نہ پڑھ پاتا تھا۔ ایک رات تکان کا مارا کمرہ پر بیٹھا تھا کہ بصیر اور قاضی محی الدین وارد ہوئے اور کمرہ سے باہرچلنے کے لئے کہا۔ ہم تینوں ایس۔ ایم۔ ایسٹ کے سامنے ٹینس کورٹ کے سبزہ پر ملگجی روشنی میں ٹہلنے لگے۔
آپ اتنے دن سے کہاں غائب ہیں؟ قاضی جی نے سوال کیا۔دن کو پتہ ہے نہ رات کو؟
میں نے بات ٹالنے کی کوشش کی تو دونوں کی جھاڑ پڑی ۔ ان دونوں کو کچھ اندازہ اور بات کا کچھ علم ہوچکا تھا۔
ارے بتانا تو چاہئے تھا نا۔
بصیر نے شدید نارضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
امتحان میں دوچار دن رہ گئے۔ پہلے کہتے تو میں گھر سے پیسے منگوا کے تمہارے ڈیوز ادا کرتا۔ اب تو ٹی ایم او بھی نہیںآسکتا۔
پھر وہ قاضی جی سے مخاطب ہوئے۔ کچھ تو کرنا پڑے گا۔
وہ دونوں سر بگریباں ہوگئے۔
آخر بصیرکی بصیرت نے جواب مہیا کردیا۔
قاضی، اپنی گھڑی اتارو۔
قاضی محی الدین نے گھڑی کلائی سے اتار کربصیر کو دیتے ہوئے پوچھا: اس کا کیا کروکے۔ پرانی ہے۔ اس کے کتنے پیسے ملیں گے؟
پیسے نہیں چاہئیں۔تمہاری گھڑی۔ میری گھڑی۔ طارق تم بھی اپنی گھڑی اتارو۔ تسنیم کی گھڑی۔ کتنی ہوئیں یہ؟
چار۔ قاضی جھنجٹ نے جواب دیا۔
میں اپنے روم پارٹنر ا فضال اور انوار کی گھڑیاں بھی لے لوں گا۔ چھ ہوگئیں۔ مگر ان گھڑیوں کا ہوگا کیا؟
بصیر نے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے دو ایک کے نام اور لئے۔
آٹھ گھڑیاں ۔ کل یہ آٹھ گھڑیاں لے کر ہم سب وی سی (کرنل بشیر حسین زیدی مرحوم) کے دفتر پر جائیں گے اور کہیں گے کہ ان گھڑیوں کو اپنے پاس رکھئے، طارق کا ہال ٹکٹ جاری کیجئے۔ اگر آئندہ سال طارق پر واجب الاد رقم ادا نہ ہوئی اور اس سے یونیورسٹی کو ناقابل تلافی خسارہ کا اندیشہ پیدا ہوجائے تو ان گھڑیوں کو بیچ کر یونیورسٹی کے خزانہ میں جمع کردیجئے گا۔ رقم میں کمی پڑی تو مزید کچھ گھڑیاں مہیا کردی جائیں گی۔
خیر اس کی نوبت تو نہ آئی۔ اگلی صبح شعبہ سیاسیات میں میرے قدیم محسن، سید ناصر علی مرحوم نے بہ یک جنبش قلم ساری کمی پوری کردی۔اپنی نرم مسکراہٹ کے ساتھ مجھے یہ اطلاع دیتے ہوئے کہ ایک تنخوہ وہ مجھ جیسے نا اہل طلبہ پر نچھاور کر چکے تھے اور میرے لئے لکھے جانے والے شیورٹی نوٹ کے ساتھ ’’دوسری تنخواہ شروع ہوگئی ہے‘‘۔میں دن رات ان کے لئے دعا کرتارہتاہوں کہ قیامت کے دن انہیں رسولؐ اللہ کا شیورٹی نوٹ مل جائے کہ پھرانہیں بھی کسی اور شے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
مگر بات بصیر کی تھی۔ بصیر کی اس قائدانہ صلاحیت کی تھی جو مسائل کا فی الفور حل ڈھونڈ لیتی تھی۔ ہم تینوں جب یونئن میں تھے تب بھی اور جب اس سے باہر ہوگئے تھے تب بھی طلبہ کے گوناں گوں مسائل پر بات کیا کرتے تھے۔ہماری کچی عقلوں میں جو کچھ آتا تھا اس کی بنیاد پرکچے منصوبے بناتے تھے۔درحقیقت وہی ریت کے گھروندے ہماری طالب علمانہ قیادت اور سیاست کا محور اور مقصد تھے۔ اس وقت وہی خواب اکثر پھیل کر ساری ملت اور سارے ملک کا احاطہ کرلیتے تھے۔جب یہ صورت ہوتی تو بصیر کی آواز میں سنجیدگی بولنے لگتی تھی، مستقبل کی روشنی ان کی آنکھوں میں دئے جلانے لگتی تھی۔
علی گڑھ میں وہ میرا آخری سال تھا۔علی گڑھ چھوڑا توپھر برسوں بصیر سے ملاقات تو کجا ربط بھی نہ رہا۔بعد میں وہ سٹوڈنٹس یونئن کے صدر بھی ہوئے۔ لالہ بھرت رام کی نظر عنایت سے نیوزیلینڈ وغیر کے تعلیمی دورہ پر بھی گئے۔ ایم اے بھی کیا۔ ڈاکٹریٹ بھی۔ پروفیسر بھی ہوگئے۔ اور سیاست کے کوچے میں بھی تانک جھانک کرتے رہے۔حیرت ہے کہ یہ دونوں کام وہ ایک ساتھ کرتے رہے۔
دسمبر ۱۹۷۲ میں بمبئی میں مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے سلسلہ میں حکیم لاسلام حضرت مولاناقاری محمد طیب رحمۃ اللہ علیہ، مہتمم دارالعلوم دیوبند، کی دعوت پرپہلا کل ہند اجتماع منعقد ہوا۔ کلکتہ سے روزنامہ عصر جدیدمیں اس کی ر ودادکے لئے میں وہاں پہنچا ہوا تھا۔ ایک اجلاس کے دوران بصیر نظر پڑے۔ برسوں بعد ملے تھے۔ ہم جلسہ گاہ میں پیچھے جاکر بیٹھ گئے۔کسی قرار داد پر رسمی مذاکرہ چل رہا تھا۔ہم دونوں مسلم پرسنل لا اور اس کنوینشن کی اہمیت پر تبادلہ خیال کرتے رہے۔میرا خیال تھا کہ جہاں اس کنوینشن سے مسلم پرسنل لا کے سلسلہ میں قومی سیاست دانوں کو راست پیغام ملے گا وہاں عام مسلمانوں کی ذہن سازی اور قیادت سازی کے امکانات بھی روشن ہونے چاہیءں ،مگرمیرے نزدیک اس کی شرط یہ تھی کہ اس کے مجوزہ بورڈکی قیادت جدید فکر، سیاسی بصیرت اور تاریخی شعورکے حامل کسی عالم دین کے ہاتھ میں رہے۔
اس مرحلہ پربصیر نے اچانک مجھ سے پوچھا:
آپ کے خیال میں اس کنوینشن کا سیاسی فائدہ کون اٹھا سکتا ہے اور کون اٹھائے گا؟
کیا مسلمانوں کی حالت زار اجازت د یتی ہے کہ کسی ہمہ جہت ملی اقدام کا جماعتی سیاسی فائدہ اٹھانے پر بات کی جائے؟
یہ تو ہونا ہے!
آپ کے خیال میں وہ کون ہے جو ایسی بات سوچ رہا ہے؟
بصیر نے اپنی عادت کے مطابق ٹھڈی پر اپنی ڈاڑھی کو کھجاتے ہوئے کہا:
جماعت اسلامی چاہے گی، مگر سیاسی فائدہ نہیں اٹھا سکے گی۔ اس کنوینشن کا سیاسی فائدہ مسلم لیگ اٹھائے گی۔
ان دنوں بصیر کا تعلق انڈین یونئن مسلم لیگ سے تھا۔ ان کی رائے ایک سیاست داں کے طور پر شائد غلط نہ تھی۔ مگر میں نے ایک بار پھراس جملہ میں بصیر کی خود شکنی کے سائے دیکھے تھے۔ میں نے ان سے اختلاف کیا۔ مگر بصیر اپنے تجزئے سے دست بردار نہ ہوئے۔افسوس ان کا تجزیہ جزوی طور پر درست تھا۔مسلم لیگ فقط کیرالا میں محدود تھی۔ اس کے پاس کل ہند قیادت تھی نہ دائرہ اثرکہ وہ بصیر کی پیشگوئی کے مطابق اس کنوینشن سے سیاسی فائدہ اٹھا سکتی۔البتہ جماعت اسلامی کی ذیلیات نے اس نظام اور اس کے مثبت ملی امکانات کو دھندلانے میں ایک کردار ادا کیا، جس کی قیادت ابتدائی دنوں میں بہت تگ ودو کر کے مولانا منت اللہ رحمانی نے حاصل کرلی تھی۔اس بات نے بھی اس ادارہ کو غیر مؤثر بنانے میں خاصا مؤثرکردار ادا کیا تھا۔بوہرہ فرقہ کے سیاسی مندوب عام، ڈاکٹر یوسف نجم الدین، نے مولانا منت اللہ رحمانی کی ان جاہ پسندانہ کوششوں پر سخت ناگواری کا اظہار بھی کیا تھا جس کے نتیجہ میں بوہرہ فرقہ اس تحریک سے خاصا دور ہوگیا ۔طرفہ ستم یہ ہوا کہ مولانا حامد الانصاری غازی نے ۱۹۵۶ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ۱۴۰۰ ویں یوم ولادت کے جشن کے پس منظر میں برسوں کی محنت اور ریاضت کے بعد وحدت کلمہ کی بنیاد پر جو ہمہ فرقہ ملی اتحادقائم کیا تھا وہ بھی مولانا منت ا للہ رحمانی کی کم نگاہ سیاست کی نذر ہوگیا۔ڈاکٹر یوسف نجم الدین ایک اقلیت میں ایک اقلیت کے نمائندہ تھے جن کی سیاسی سوجھ بوجھ تاثیر سے توخالی نہ تھی مگر تنفیذ سے محروم تھی۔نتیجتاً وہ کنوینشن جسے ایک تاریخی موڑ بننا تھا، جوڑ توڑ کا اکھاڑہ بن گیا۔ہندستان کے مسلمان آزادی کے بعد ایسے کتنے ہی موڑوں سے گزرے اور یوں گزر گئے جیسے چمن میں پھولوں کے تختوں پر سے الھڑ ہوا گزر جاتی کہ لمحہ بھر کو خوشبو کا احساس پیدا ہوتا ہے اور پھروہی پت جھڑ کی سی زرد اداسی لوٹ آتی ہے۔
میں نے مسلم لیگ کے چند رہنماؤں سے بصیر کے اس تجزیہ کا ذکر کیا تو انہوں نے اسے ناپسند کیا۔ ان کی رائے تھی کہ مسلم پرسنل لا کنوینشن ایک ملی تحریک تھی جسے جماعتی سیاست سے تباہ نہیں کیا جانا چاہئے۔ مسلم لیگ کی دوسری صف کے رہنماؤں کو اپنے حلقہ اثر کی حدوں کا اندازہ تھا۔ مگر ان کی یہ رائے بھی غیرمؤثر رہی۔
یہاں سے بصیر کی خود شکنی کی روایت مکمل ہو گئی۔
بصیر ابھی طالب علم رہنما تھے کہ ڈاکٹر سید محمود کی قائم کردہ مسلم مجلس مشاورت کی صفوں سے ایک شعلہ جوالہ بلند ہوا اور ذرا کی ذرا میں خیرگی پیدا کر کے اتنا ہی اچانک ہندستان کی عصری ملی تاریخ کے دھندلکوں میں روپوش ہوگیا۔ لکھنؤ کے ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کو بہت عجلت تھی۔ برسوں بعد بصیر نے بمبئی میں مسلم پرسنل لا کنوینشن کے دوران جو تجزیہ پیش کیا تھا اس کی چنگاری انہوں نے ڈاکٹر فریدی کے دبستان فکر اخذ کی تھی۔ ڈاکٹر فریدی مسلم مجلس مشاورت سے وہ تمام سیاسی فائدے یکلخت حاصل کرلینا چاہتے تھے جن کو تاریخی شعور سے روشن فکری ریاضت اوربرسوں کی کاوش درکار تھی۔ڈاکٹر فریدی نے لکھنؤ میں مشاورت سے ٹوٹ کر مسلم مجلس کے نام سے ایک ایسی سیاسی جماعت قائم کی تھی جس کا کوئی مستقبل نہیں تھا۔بے شک وہ بہت مخلص آدمی تھے، مگر ان کی شدت خلوص نے جن مسلم نوجوانوں کو قافلہ سے کاٹ ڈالا تھا ان میں بصیراحمد خان بہت نمایاں تھے۔
نوجوان بصیر احمد خاں کے لئے ڈاکٹر فریدی کے مخلصانہ مگر معصومانہ جوش و جذبہ میں بڑی کشش تھی۔ ان کی اس فکر کی کچھ آبیاری ان کے والد کے دوست اور خود ان کے مربی ڈاکٹر عبدالبصیر خان نے بھی کی تھی جب وہ ایک بے حقیقت سیاسی جماعت کے چبوترے سے سیاسی اکھاڑے میں اترے تھے ۔ بصیر کے پاس جوش و جذبہ کی فراوانی تھی۔ مگر وہ کم عمر رہنما جس نے چند سال پہلے علی گڑھ کے پر جوش طلبہ کو شعور کی بلندی سے انتباہ دیا تھا کہ بھڑک اٹھے تو آگ کو بجھانا مشکل ہوتا ہے، سوچے سمجھے بغیرہنگامی سیاست کی اس بھڑکتی آگ میں خودکود پڑا جہاں گلزار ابرہیم نہیں ہوا کرتا۔
اتفاق سے بصیر کو کوئی ایسا مربی نہ ملا جو بتاتا کہ انہیں کس قسم کی سیاست میں آنا چاہئے تھا۔شائد قاضی محی الدین نے بھی نہیں، جو کچھ روز کے لئے چودھری چرن سنگھ کی پارٹی کی ریاستی حکومت کے ذریعہ اتر پردیش میں کچھ کرنے کے نام پر جنگلات میں شائدتھوڑے بہت جھاڑ جھنکاڑ کاٹ سکے ہوں۔ آج مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ میں علی گڑھ سے جب ۱۹۶۳ میں بمبئی پہنچا تو رام منوہر لوہیا کی پرجا سوشلسٹ پارٹی کے دو کارکن ۔ ایک بمبئی میونسپل کارپوریشن کے رکن تھے ۔ والد صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ میں ان کی پارٹی کے ٹکٹ پر اپنے علاقہ سے میونسپل کارپوریشن کا الیکشن لڑوں۔ والد صاحب نے ان سے کہا کہ وہ خود مجھ بات کریں۔ مجھے کچھ پتہ نہ تھا۔ ایک دن میں بھینڈی بازار میں دفتر جمعیۃ علما میں بیٹھا تھا کہ وہ دونوں اپنی تجویز لے کر آئے۔ میں نے ان کی بات قبول نہ کی۔ انہوں نے وجہ پوچھی تو میں کہا کہ آدمی زندگی کے کسی میدان میں اترے تو اس کی نظر انتہائی بلندی پر ہونی چاہئے۔ میں عملی سیاست میں صرف ایسی جماعت کے ذریعہ داخل ہونا پسند کروں گا جہاں پچیس سال بعد میں ہندستان کا وزیر اعظم بن سکوں۔ انہوں نے کہا یہ ان کی پارٹی کے ذریعہ بھی ہوسکتا ہے۔ میں نے اتفاق نہ کیا:میں نے کہا ان کی پارٹی میں یہ منصب لوہیاجی نہ حاصل کر سکے،تو مجھے کیا حاصل ہوگا۔ان دونوں کو بڑی شکایت ہوئی جس کا اظہار انہوں نے والد صاحب سے کیا۔
یہاں اس واقعہ کا ذکر یوں کیا کہ بصیر جب سیاست میں اترے تھے تو انہوں نے نگاہ بلندی پر نہ رکھی۔ انہوں نے وہ شخص بننا پسند کیا جو کسی حادثاتی مریض کو ہنگامی طبی مدد بہم پہنچا دے، ملت کا معالج بننے کا خیال انہیں نہ آیا ،حالانکہ یہ صلاحیت توان میں تھی۔
پھر بصیر سیاست کے جنگل میں گم رہے۔ مسلم مجلس ختم ہوئی تو وہ مسلم لیگ میں آگئے۔ وہاں پارٹی کی دو شخصی قیادت ۔ ابراہیم سلیمان سیٹھ اور غلام محمود بنات والا ۔ کے ساتھ اس سیماب آسا نوجوان کا نباہ نہ ہوا۔ کیرا لاکی سیاست میں پیوست انڈین یونئن مسلم لیگ سیاسی طور پر طاقت ورکیرالا کے مسلمانوں اور کچھ میمنوں کی جماعت تھی۔ اس میں بصیر جیسے نوجوانوں کی کھپت نہیں تھی۔ بصیر کا تعلق اس اتر پردیش سے تھا جہاں ۱۹۳۸ سے ۱۹۴۷ تک مسلم لیگ نے دشمن سازی کا اتنا کام کیا تھا کہ وہاں اس نوعیت کی کسی جماعت کی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی۔ ڈکٹر فریدی سے بھی تجزیہ کی یہی غلطی ہوئی تھی۔ان کے شاگرد نے اس غلطی کومن و عن دہرادیا۔
بصیر نے اپنے شہر میرٹھ میں جنرل شاہنواز کے مقابلہ پر پارلیمانی الیکشن ہارنے کو بھی ترجیح دی۔ وہ چاہتے تو جنرل شاہ نواز کو اپنا مربی دوست بنا لیتے۔ اگرچہ جنرل شاہنواز کی سیاسی ارادت مندی ان کو بہت زیادہ فائدہ تو نہ پہنچا سکتی تھی مگر ان کے مستقبل کے راستہ سے کچھ کا نٹے ضرورصاف کرسکتی تھی۔مسلم لیگ کے بصیر نے بقول خود نیشنل لیگ قائم کی جو بعد میں ابراہیم سلیمان سیٹھ کی قیادت میں بھی کاغذ کی تحریر سے زیادہ کچھ ثابت نہ ہوئی۔ پھربصیر نے اتر پردیش میں مسلم لیگ کے احیا ء کی کوشش کی جسے بہرحال بے نتیجہ رہنا تھا۔
خود شکنی کی اس داستان کا ایک باب بصیر کا دوکشتیوں میں سفر کرنا ہے۔ انہیں زندگی بھی گزارنی تھی۔ ان کی سیاست ان چند مسلمانوں کی سیاست سے مختلف تھی جو پارلیمنٹ کے راستہ سے لکھ پتی اور کروڑ پتی بن گئے ۔ بصیر کو یونیورسٹیوں میں پڑھانا بھی پڑا تاکہ زندگی کی گاڑی بھی چلتی رہے اور گاہے گاہے جب ملت کے حال زبوں پر نظر جاتی تو انہیں دشت سیاست بھی آوازیں دینے لگتا۔ وہ کبھی یہ فیصلہ نہ کرسکے کہ ان کا راستہ کونسا ہے۔
ایک مدت مدید کے بعد پھر دو ایک بار جدہ میں میری ان سے بڑی طویل ملاقاتیں رہیں۔ہندستان کے مسلمانوں کے حالات پر میں نے ان کے دو ایک لیکچرز کا اہتمام بھی کیا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ دوسرے بھی ان کے تجربات سنیں اور ان کی نظر سے اپنے ملک اور اپنی ملت کامشاہدہ کریں۔ وہ دھیمے لہجے میں سہج سہج بات کرتے رہے۔ اب وہاں وہ جوشیلا مقرربصیر احمد خان نہیں تھا جو ایک ہڑتال سے پہلے علی گڑھ کے پر جوش مدہوش طلبہ کو فکری اور عملی رہنمائی دینے کا حوصلہ رکھتا تھا۔ اب وہاں ایک پروفیسر بول رہا تھا، جس کے پاس نظریاتی اصول کی فلسفیانہ تفصیل تھی ، عملی قوتوں کو رو بہ عمل لانے کا منصوبہ تھا ،مگر سر ہتھیلی پر رکھ کرعملی میدان میں اترنے کا وقت گزر چکا تھا۔جدہ میں اس لیکچر کے دوران وہ بہت سوچ سوچ کر بول رہے تھے۔ ایک فعال سیاسی قائد پرپروفیسر غالب آچکا تھا ، جس کی فکربہت بالیدہ تھی مگر جس کی زندگی وہ تجربہ گاہ نہ بن سکی تھی جہاں سے عملی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
یہ ہماری اس نسل کی تقدیر تھی جس کے سوچنے والے دماغوں کو برصغیر کی ہیبت ناک آزادی نے بھسم کردیا تھا۔مجھے بصیر سے کوئی شکایت نہیں۔ شائد اچھا ہی ہوا وہ کامیاب سیاسی رہنما نہ بن سکے۔ اسی نسل کے سید شہاب الدین بھی سب کچھ تیاگ کرکیا کرسکے۔اپنی اسی قسم کی سیاست کے راستہ سے بصیر بھی اس سے زیادہ کیا ثابت ہوتے۔ طلبہ کی ہڑتال کے موقعہ پرجہاں بصیراحمد خاں جواں سال فراست کا نمائندہ تھا وہاں علی گڑھ کے طلبہ اس خروش کی علامت تھے جو جذباتی قیادت کے سوا اور کچھ کو قبول کرنے سے عاری ہوتا ہے، جس کے شکار وہ اور سیدشہاب الدین دونوں ہوئے۔میں نے جدہ میں سید شہاب الدین سے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ وہ اپنے رسالہ مسلم انڈیا کے اداریوں کی جذباتیت کو کم کریں۔ انہوں نے کہا تھا، یہی تو میری سیاست کا چبوترہ ہے۔آج وہ اسی جذباتیت کا شکار ہوکر گزرے دنوں محرومیوں کا گوشوارہ اپنے سامنے دیکھتے ہیں۔
اور بصیر بھی اسی کا شکار ہوئے۔ رہی ملت تو وہ ابھی تک تو اس جال سے نہیں نکل سکی۔ جب تعلیمی اداروں سے باہر سیاست کے خارزار میں بصیر اپنی شخصیت شکنی میں مشغول تھے تو ملت کا یہ خروش سارے ملک میں بلکہ دنیا بھر میں قریہ قریہ بکھرتا چلا گیا۔ ہندستان ہو کہ ہندستان سے کٹا ہوا پاکستان اور بنگلہ دیش یا باقی دنیا ، مسلم سیاسی قیادت تو خیر کہیں بھی نظر نہیںآتی، فکری رہنمائی کو تسلیم کرنے والی صلاحیت کا بھی فقدان ہے۔سید شہاب الدین نے ان دونوں دریاؤں کا سنگم بننے کی کوشش کی تھی۔ مگر ان تک آتے تے تو دریا خشک ہوچکے تھے ۔ یہی عالمی زوال و انحطاط کا بحران ہے۔ اس کی زد سے کوئی قوم بچی ہوئی ہے نہ ملک، نہ خطہ۔ اس دور زوال میں عروج ایسا ہی غیر اختیاری ہے جیسے متموج سمندر کی ایک موج کا ابھار جوہوا کی فقط ایک اٹکھیلی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پھر جیسا کہ زوال و انحطاط کے ہر زمانہ میں ہوتا ہے بے چارے سقراطوں کو اگر زہر کا پیالہ پینے پر مجبور نہ بھی کیا جائے تو انہیں بات بات پر زہر کے گھونٹ ضرور پینے پڑتے ہیں۔
میں جب تاریخ پڑھتا ہوں، جب عصری مسائل پر نگاہ ڈالتا ہوں تو اپنے چاروں طرف بہت سے بصیر احمدخان دکھائی دیتے ہیں:وہ لوگ جن کو منزل ملی کی خبر تو تھی، اس کا پتہ نہ تھا۔ تو میں دیکھتا ہوں کہ یہی سب شاہ ولی اللہ کے ساتھ ہوا۔یہی سید احمد شہید کے ساتھ ہوا۔یہی شیخ الہند کے ساتھ ہوا۔یہی محمد میاں منصور انصاری کے ساتھ ہوا۔ یہی شیخ احمدسنوسی کے ساتھ ہوا۔ یہی شکیب ارسلان کے ساتھ ہوایہی امیر عبدالقاد ر الجزائری کے ساتھ ہوا۔یہی حسین احمد مدنی کے ساتھ ہوا۔ یہی شبیر احمد عثمانی کے ساتھ ہوا۔یہی حمید اللہ کے ساتھ ہوا۔یہی حامد الانصاری غازی کے ساتھ ہوا۔ یہی اور نہ جانے کتنے جوہروں کے ساتھ ہو ا کہ ان میں بہت سے تو نسیان کے بے رونق طاقچوں کی کجلائی ہوئی تنہائی میں اپنے پارکھوں کا انتظار کرتے کرتے نہ جہاں کہاں کھو گئے۔
اداسی کی ان لہروں کے فرازوں پر چمکتی ہوئی امید کی لکیروں میں جو پیغام پڑھا جا سکا ہے وہ یہ کہ بصیر احمد خان کو بھی کھو دینے والا ہندستانی مسلمان ابھی شاہ ولی اللہ کے دور سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ یہ بات عام ہندستانی کی سمجھ میں شائد نہ آئے، اور شائد اس لئے نہ آئے کہ آج کا ہندستانی ، اور آج کا مسلم ہندستانی اپنے ماضی سے کٹ گیا ہے اور اپنے مستقبل سے بے خبر حال کے نعروں کا شکار ہے۔ لیکن جس کی سمجھ میں آجائے وہ یہ تو غور کرسکتا ہے کہ اگلا قدم کیسے بڑھا یا جائے۔
تو بس یہی کام تو ہم کرتے آرہے ہیں۔ اور کیا پتہ مختلف یونیورسٹیوں میں اپنی کلاسوں میں طلبہ کو زندگی رموز بتاتے ہوئے خود سے گم شدہ بصیر بھی یہی کام کرتے ہوں۔ کبھی ملیں تو ان سے یہ سوال ضرورپوچھا جاسکتا ہے۔
شکستہ آوازوں میں بھی کبھی کبھی طبل کی گمک سنائی دے جاتی ہے۔

بشکریہ: کالم "یکتا یکتا" (سیریز: 028) - بصیر احمد خاں
***
Tariq Ghazi
Ottawa, Canada.
tariqghazi04[@]yahoo.ca

Basir Ahmed Khan, a generous student from AMU. Article: Tariq Ghazi

0 comments:

Post a Comment