Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-07-09 - بوقت: 22:39

اصولوں اور نظریات کے تحفظ کے لئے مقابلہ میں شمولیت - میرا کمار

Comments : 0
پٹنہ
یو این آئی
صدارتی انتخاب کے لئے17اپوزیشن جماعتوں کی امید وار اور سابق لوک سبھا اسپیکر میرا کمار نے آج کہا کہ وہ کوئی بلی کا بکرا نہیں ہیں، بلکہ دلتوں اور غریبوں کے مفادات کی حفاظت اور ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کو روکنے کے لئے انتخاب لڑ رہی ہیں۔ میرا کمار نے صدارتی انتخابات کے لئے بہار کے تین روزہ دورہ کے بعد رانچی جانے سے قبل یہاں کانگریس ہیڈ کوارٹر صداقت آشرم میں منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں نے انہیں صدر کے عہدہ کا امید وار بنایا ہے جو معمولی بات نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوئی بلی کا بکرا نہیں ہیں بلکہ دلتوں اور غریبوں کے مفادات کی حفاظت اور ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کو روکنے کے نظریے کی بنیاد پر الیکشن لڑ رہی ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ17اپوزیشن جماعتوں کا ایک ساتھ آنا بڑی بات ہے اور یہ تمام جماعتیں فرقہ پرستی کو روکنے کے لئے مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جب بھی فرقہ پرستی کی لہر پھیلی ہے تو اسے بہار میں ہی روکا گیا ہے اور انہیں امید ہے کہ یہاں کے لوگ اس طرح کا کردار آگے بھی ادا کریں گے ۔ چیف منسٹر بہار و صدر جنتادل یو نتیش کمار کے اس ریمارک پر کہ میرا کمار کو انتخاب ہارنے کے لئے امید وار بنا یا گیا ہے پر میڈیا کے استفسار کا جواب دیتے ہوئے میرا کمار نے کہا کہ کسی نے بھی مجھے قربانی کا بکرا جیسا برتاؤ نہیں کیا ہے نظریات کی جنگ لڑنا کسی کے لئے بہت مشکل ہوتا ہے ۔ میرا کمار نے کہا کہ17پارٹیوں کی جانب سے ملک کے سب سے اعلیٰ عہدہ کے لئے مجھے امید وار مقرر کرنا ہی دراصل متحدہ طور پر فرقہ پرست طاقتوں کا مقابلہ کرنا ہے ۔ بہار کی تاریخ رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ فرقہ پرستی کی لہر کو روکا ہے اور موجودہ صورتحال میں بہار کو مزید اہم کردار ادا کرنا ہے۔کانگریس قائد نے کہا کہ انہوں نے الکٹورل کالجیم میں شامل تمام ارکان کو ضمیر کی آواز پر تائید کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہ۔ انہیں امید ہے کہ اصولوں اور نظریات کی بنیاد پر وہ صدارتی انتخاب کامیاب ہوجائیں گی۔ اپنے دورہ بہار کے موقع پر آ ر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو سے ملاقات نہ کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں میرا کمار نے کہا کہ آر جے ڈی قائد نے سیکولر ازم پر مستحکم پابند عہد ہیں اور ان کے سیاسی کیرئیر میں انہوں نے ہمیشہ فرقہ پرست طاقتوں سے مقابلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ آر جے ڈی سربراہ سے ربط میں رہتی ہوں اور اس سے سلسلہ میں کوئی الجھن نہی رہنا چاہئے ۔ میرا کمار نے کہا کہ انہوں نے صدارتی انتخاب کے لئے اپنی مہم کا آغاز سابرمتی آشرم سے کیا ہے جہاں سے گاندھی جی نے آزادی کی تحریک شروع کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ میری مہم بلا لحاظ کامیابی اور ناکامی اپنے نظریات اور اصولوں کے لئے لڑائی ہے۔ اس لڑائی کے لئے فتح اور اعداد کے کھیل کی ضرورت نہیں رہتی۔
Presidential poll to protect the principles and ideologies meira kumar

جی ایس ٹی سے عام آدمی اور چھوٹے تاجرین شدید متاثر: کپل سبل
نئی دہلی
یو این آئی
عام آدمی اور چھوٹے تاجرین پر منفی اثر کے سلسلہ میں گڈس اینڈ سرویس ٹیکس پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس نے آج حکومت سے اپیل کی کہ وہ عوام کے مسائل کے تئیں حساس بنیں اور وہ جی ایس ٹی نافذ کرے جس کا ویژن سابق یوپی اے حکومت نے پیش کیا تھا۔ اے آئی سی سی کے ترجمان کپل سبل نے یہاں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی یہ حکومت ملک کے اقتصادی ڈھانچہ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتی ہے ، عام آدمی اور چھوٹے تاجرین متاثر ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں نوٹ بندی کے بعد جی ایس تی عام آدمی پر دوسرا بڑا حملہ ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سابق یو پی اے حکومت کے ویژن کے مطابق جی ایس ٹی اس حکومت کی جانب سے نافذ کیا جائے ۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ موجودہ جی ایس ٹی قانون کے تحت ٹیکس ڈھانچہ آسان اور اچھا ہونا چاہئے، کپل سبل نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کی جانب سے نافذ کردہ موجودہ نظام کے تحت اشیاء پر ٹیکس کے کئی سیلاب عائد کئے گئے ہیں۔ یو پی اے حکومت نے ایک ملک، ایک ٹیکس نظام کا تصور پیش کیا تھا۔ بہر حال اس حکومت کی جانب سے نافذ کردہ نظام میں متعدد ٹیکس ہیں۔ علاوہ ازیں ریاستی حکومتوں کو ان کے اپنے ٹیکس عائد کرنے کی آزادی بھی دے دی گئی ہے ۔ مثال کے طور پر ٹاملناڈو میں سو روپے سے کم کے ٹکٹوں پر18فیصد جی ایس ٹی عائد کیاجاتا ہے ۔ بہر حال سو روپے سے زیادہ قہمت کے ٹکٹ پر ریاستی حکومت18فیصد جی ایس ٹی کے ساتھ ساتھ مزید تیس فیصد ٹیکس عائد کرتی ہے ۔ اس کی وجہ سے عام آدمی پر ٹیکس کے بوجھ میں اضافہ ہوا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ بیس لاکھ سے کم ٹرن اوور رکھنے والے80فیصد تاجرین بے روزگار ہوگئے ہیں، کیوں کہ بڑے تاجرین ان کے ساتھ لین دین کے لئے تیار نہیں ۔ بہر حال جی ایس ٹی کے تحت اندراج کے لئے ان تاجرین کو کم از کم37فارم پر کرنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی کاروں پر28فی صد جی ایس ٹی کے نفاذ سے عام آدمی متاثر ہوا ہے ، کیوں کہ ایسی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں نے قیمتوں میں زبردست اضافہ کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کے استعمال کی اشیاء جیسے کاسمیٹک ، فٹ ویئر، باورچی خانہ کا سامان ، بسکٹ، دستی گھڑیوں اور اسٹیشنریوں پر ٹیکس میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ کپل سبل نے کہا کہ جی ایس ٹی کی وجہ سے حمل و نقل کا کا روبار تعطل کا شکار ہوگیا ہے ۔

جنید خان کو زدوکوب کیس، اصل ملزم مہاراشٹرا میں گرفتار
ڈھولے،مہاراشٹرا
آئی اے این ایس
گورنمنٹ ریلوے پولیس نے آج بتایا کہ گزشتہ ماہ ایک ٹرین میں سولہ سالہ جنید خان کو سنسنی خیز انداز میں ہلاک کردینے کے واقعہ کے اصل ملزم کو شمالی مہاراشٹرا کے علاقہ ڈھولے سے گرفتار کیا گیا ۔ جی آڑ پی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ مفرو ر ملزم اس واقعہ کے بعد سے ڈھولے میں روپوش تھا۔ ملزم نے پولیس کی جانب سے تفتیش پر جنید اور ان کے بھائیوں پر چاقو سے حملہ کرنے کا اعتراف کرلیا ۔ یہ وہ واقعہ ہے جس پر سارے ملک میں برہمی کا اظہار کیا گیا تھا۔ ملزم جس کا نام ظاہر کرنے سے جی آر پی پولیس نے انکار کردیا ہے ۔ ہریانہ کے ضلع پلوال سے تعلق رکھتا ہے جو متاثرین کے موضع بلبھ گڑھ کے قریب واقع ہے ۔ امکان ہے کہ ملزم کو اتوار9جولائی کو ٹرانزٹ ریمانڈ کے لئے ڈھولے مجسٹریٹ کے اجلاس پر پیش کیا جائے گا بعد ازاں دہلی میں پولیس کے حوالہ کردیاجائے گا۔ واضح رہے کہ جنید اور ان کے رشتہ کے بھائی ہاشم معین و شاکر معین 22جون کو عید کی شاپنگ کے بعد غازی آباد سے متھرا جانے کے لئے ٹرین میں سوار ہوئے تھے ۔ ملزم دیگر بارہ کے لگ بھگ افراد کے ساتھ اوکھلا سے ٹرین میں سوار ہوا تھا اور جنید اورن کے بھائیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ ا ن کی نشستیں انہیں دے دیں ۔ جب انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا ان کی جانب سے تینوں ی بری طرح مار پیٹ کی گئی تھی اور ان پر چاقو سے حملہ بھی کردیا گیا تھا ۔ بعد ازاں ان کو ضلع پلوال کے اساؤنی ریلوے اسٹیشن پر پھینک دیا گیا تھا ۔ ہریانہ پولیس نے اصل ملزم کا جو اس واقعہ کے بعد سے لا پتہ ہوگیا تھا ، اتہ پتہ لگانے پر پچاس ہزار روپے انعام کا اعلان کیا تھا ۔ جی آر پی نے 4جولائی کو اعلان کیا تھا کہ ملزم کی شناخت کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والے کسی بھی فرد کو دو لاکھ روپے انعام دیاجائے گا۔ بعد ازاں فرید آباد اور ممبئی سے موصولہ پی ٹی آئی کی اطلاع میں بتایا گیا کہ ساکری پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر رام داس پاٹل نے کہا کہ پولیس نے اصل ملزم کے رشتہ دار نریش اندر جیت جاٹ سے پوچھ تاچھ کی جو ملزم سے فون پررابطہ میں تھا۔ پاٹل نے بتایا کہ جاٹ کے موبائل ٹاور کے مقام کا پتہ چلایا گیا وہ دھولے میں کسی مقام پر تھا ۔ تحقیقاتی ٹیم اس کے رشتہ دار کے ساتھ آج صبح ضلع کو پہنچی۔ انہوں نے اس سے کہا کہ وہ ملزم کو فون کرے اور اسے یہ ترغیب دے کہ وہ اپنے اتہ پتہ کا انکشاف کرے ۔ انسپکٹر پولیس نے کہا اس کے بعد تحقیقاتی ٹیم موضع ساکری گئی۔ جاٹ کل سے ہی اس گاؤں میں تھا، اس کے مضافات میں واقع ایک مندر میں ٹھہرا ہوا تھا ۔ وہ ملازمت تلاش کررہا تھا ۔ جی آر پی ٹیم نے اس کو12:30بجے دن کے لگ بھگ مندر سے گرفتار کرلیا۔ جی آر پی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ ٹیم کو یہ اطلاع ملنے پر کہ بھیجا گیا کہ ملزم وہاں روپوش ہے ۔ بیان میں بتایا گیا کہ اس کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور اسے کل عدالت میں پیش کیا گیا جائے گا۔ بیان میں ملزم کا نام نہیں بتایا گیا ۔ ایس پی جی آر پی کمل جیت گوئل نے بتایا ہم نے مہاراشٹرا سے ایک فرد کو گرفتار کرلیا ۔ پولیس نے اس سے پہلے جنید کی ہلاکت کے سلسلہ میں پانچ افراد کو گرفتار کرلیا تھا جن میں دہلی کا ایک سرکاری ملازم بھی شامل ہے ۔ جنید کے بھائیوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ان کے خلاف فرقہ وارانہ فقرے کسے اور ان کو بار بار قوم دشمن اور گائے کا گوشت کھانے والے کہہ کر مخاطب کیا۔

0 comments:

Post a Comment