Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-07-18 - بوقت: 17:19

صدارتی انتخاب کے لئے 99 فیصد رائے دہی

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
ارکان پارلیمنٹ و اسمبلیوں نے ملک کا اگلا صدر جمہوریہ منتخب کرنے کے لئے آج ووٹ ڈالا۔ بر سر اقتدار بی جے ی نے اعتماد ظاہر کیاہے کہ این ڈی اے امید وار رام ناتھ کووند اچھی اکثریت سے جیت جائیں گے جبکہ اپوزیشن نے کہا ہے کہ میرا کمار نظریات کے ٹکراؤ میں بہترین انتخاب ہیں ۔ مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے پولنگ سے قبل اخباری نمائندوں سے کہا کہ کووند جی اچھی اکثریت سے جیت جائیں گے ۔ نائیڈو نے تاہم نائب صدر جمہوریہ کے الیکشن کے لئے این ڈی اے امید وار کا انتخاب کرنے بی جے پی پارلیمانی بورڈ اجلاس پر تبصرہ سے انکار کردیا اور کہا کہ پہلے صدر جمہوریہ جا چناؤ ہوجانے دیجئے ۔ایک اور مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کہا کہ کووند کی فیصلہ کن جیت ہوگی اور وہ دیانتدار صدر ثابت ہوں گے جو از روائے دستور کڑی محنت کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ کووند کے نام پر اتفاق رائے ہوجاتا لیکن کوئی بات نہیں۔ کانگریس قائد غلام نبی آزاد نے کہا کہ کووند اور میرا کمار کے درمیان مقابلہ نظریات کی لڑائی ہے ۔ انہوں نے میرا کمار کو صدر جمہوریہ کے عہدہ کے لئے بہترین انتخاب قرار دیا۔راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا کہ صدر جمہوریہ ایسی آئیڈیا لوجی والی شخصیت ہونا چاہئے جس کے تحت اس کے نزدیک سب ہی برابر ہوں ۔ جب نظریات کا ٹکراؤ ہوتا ہے تو میرے خیال میں ہماری امید وار میرا کمار بہترین ہیں۔ میرا کمار کی تائید کرتے ہوئے سی پی آئی ایم نے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ سوچ سمجھ کر دستور کے محاظ کا انتخاب کریں ۔ پارٹی جنرل سکریٹری سیتا رام یچوی نے ٹویٹر پر کہا کہ امید کرتا ہوں کہ الکٹورل کالج، دستور ہند کے محافظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرے گا۔ ہماری جمہوریہ کی دستوری اقدار کی برقراری کے لئے ووٹ دیں ۔ یچوری اور سینئر کانگریس قائد ملیکار جن کھڑکے نے تمام ارکان پارلیمنٹ و ارکان اسمبلیوں سے کہا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دیں ۔ کھڑگے نے کہا کہ ہم جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں اسی لئے ہم الیکشن لڑ رہے ہیں ۔ تمام رائے دہندوں بشمول بی جے پی والوں کو چاہئے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دیں۔ کووند اور میرا کمار دونوں کا تعلق دلت برادری سے ہے ۔ ایسے میں بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے اطمینان ظاہر کیا کہ دونوں میں جو بھی صدر جمہوریہ بنے اعلیٰ عہدہ پر ایک دلت ہی فائز ہوگا۔ مایاوتی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی کے باعث ہی این ڈی اے اور اپوزیشن کو دلت امید وار میدان میں اتارنا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ ہار جیت الگ بات ہے، چاہے جو بھی جیتے اچھی بات یہ ہے کہ درج فہرست ذات سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص صدر جمہوریہ بنے گا۔ صدارتی الیکشن کا نتیجہ20جولائی کو سامنے آئے گا۔
Presidential Election Sees Nearly 99% Voting

وینکیا نائیڈو و نائب صدر عہدہ کے لئے این ڈی اے امید وار
نئی دہلی
پی ٹی آئی
صدر بی جے پی امیت شاہ نے آج کہا کہ مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو جو بی جے پی کے کافی جانے پہچانے چہروں میں سے ایک ہیں ، نائب صدر جمہوریہ کے عہدہ کے لئے این ڈی اے کے امید وار ہوں گے ۔ وینکیا نائیڈو کا انتخاب بی جے پی پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا جس میں وزیر اعظم نریندر مودی و دیگر سینئر پارٹی قائدین نے شرکت کی۔68سالہ نائیڈو فی الوقت اطلاعات ونشریات ، امکنہ و شہری امور کے دو قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان کی نامزدگی زعفرانی جماعت کی ان کوششوں کا ایک حصہ ہے کہ جنوبی ہند میں اس کے نٹ ورک کو وسعت دی جائے جس کو امیت شاہ نے2019ء کے لوک سبھا انتخابات سے قبل فروغ کے لئے ایک اہم ترین علاقہ کے طور پر نشاندہی کی ہے۔ دو مرتبہ صدر بی جے پی رہنے والے وینکیا نائیڈو کی گوپال کرشن گاندھی کے ساتھ طاقت آزمائی ہوگی جن کو18جماعتوں کے اتحاد نے جس میں کانگریس بھی شامل ہے ، منتخب کیا ہے ۔ وینکیا نائیڈو کی امید واری کا علان کرتے ہوئے امیت شاہ نے آندھرا پردیش کے اس قائد کی بے حد ستائش کی جو اہم ترین امور پر پارٹی کے موقف کا موثر طور پر اظہار کرتے آئے ہیں اور اپوزیشن سے سختی سے نمٹتے آئے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے وینکیا نائیڈو کے حکمراں این ڈی اے امید وار کے طور پر انتخاب کے فوری بعد کہا کہ سینئر بی جے پی لیڈر نائب صدر جمہوریہ کے عہدہ کے لئے موزوں امید وار ہیں ۔ مودی نے68سالہ نائیڈو کو کسان کے بیٹے قرار دیا جن کو عوامی زندگی کا برسہا برس کا تجربہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ نائیڈو کی سخت محنت کے باعث ان کی ہمیشہ ستائش کرتے رہے ہیں ۔ انہوں نے وضاحت کی وینکیا نائیڈو جن کو کئی برس کا پارلیمانی تجربہ ہے ، صدر نشین راجیہ سبھا کا اہم رول ادا کرنے میں مدد کریں گے ۔ نائب صدر جمہوریہ راجیہ سبھا کے صدر نشین بھی ہوتے ہیں۔ وینکیا نائیڈو کو نائب صدر جمہوریہ کے عہدہ کے لئے این ڈی اے امید وار نامزد کیے جانے کے فوری بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹاملناڈو، بہار، آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے چیف منسٹرس اور دیگر سینئر قائدین بشمول شرد پوار کو فون کیا اور ان کی تائید کے لئے درخواست کی ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مودی نے چیف منسٹر بہار نتیش کمار، چیف منسٹر ٹاملناڈو ای کے پلانی سوامی، چیف منسٹر آندھر اپردیش این چندرا بابو نائیڈو، چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ ، این سی پی لیڈر شرد پوار اور جنتادل یو لیڈر شرد یادو سے خواہش کی کہ وہ وینکیا نائیڈوکی تائید کریں ۔ کئی غیر این ڈی اے جماعتوں نے این ڈی اے کے صدارتی امید وار رام ناتھ کووند کی تائید کی تھی ۔ ذرائع نے کہا کہ وزی راعظم کو امید ہے کہ نائیڈو کے تجربہ کے باعث وہ مختلف سیاسی جماعتوں کے لئے قابل قبول رہیں گے ۔ سابق چیف منسٹر ٹاملناڈو اوپنیر سیلوم کی زیر قیادت باغی اناڈی ایم کے گروپ نے آج نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب کے لئے این ڈی اے امید وار وینکیا نائیڈو کی تائید کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پنیر سیلوم کو فون کیا تھا اور ان سے تائید کے لئے درخواست کی تھی ۔ یہ گروپ جس کے بارہ ارکان پارلیمنٹ ہیں، اس کی جانب سے قبل ازیں این ڈی اے کے صدارتی امید وار رام ناتھ کووند کی حمایت کی گئی تھی ۔ چیف منسٹر ٹاملناڈو کے پلانی سوامی کی زیر قیادت گروپ نے بھی صدر جمہوریہ کے عہدہ کے لئے این ڈی اے امید وار کی تائید کی تھی۔

پاکستان کو ہندوستان کا سخت پیام ، ہاٹ لائن پر ڈی جی ایم اوز کی بات چیت
نئی دہلی
پی ٹی آئی
فوج کے ایک سخت پیام میں ہندوستان نے آج پاکستان سے کہہ دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں حقیقی خط قبضہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے کسی بھی واقعہ کے خلاف کرارا جواب دینے کا اپنا حق محفوظ رکھتا ہے ۔ ڈائرکٹر جنرل ملٹری آپریشن(ڈی جی ایم او) لیفٹننٹ جنرل اے کے بھٹ نے ٹیلی فون پر بات چیت میں اپنے پاکستانی ہم منصب سے کہہ دیاکہ ہندوستانی فوج ، حقیقی خط قبضہ پر امن قائم رکھنے میں مخلص ہے ۔ ڈی جی ایم او نے واضح کردیا کہ ہندوستانی فوج ، جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کا کرارا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے ۔ پونچھ اور راجوری میں حقیقی خط قبضہ پر پاکستانی فوج کی مارٹر گولہ باری کے تین گھنٹے بعد یہ بات چیت ہوئی ۔ پاکستانی فوج کی گولہ باری میں ایک ہندوستانی فوجی اور ایک نو سالہ لڑکی ہلاک ہوگئے ۔ فوج کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل امن آنند نے یہ بات بتائی ۔ ٹیلی فون پر بات چیت پاکستانی کمانڈر میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے شروع کی جنہوں نے مسئلہ اٹھایا کہ پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے ۔ دو فوجی کمانڈرس کی ہاٹ لائن پر تقریباً دس منٹ کی بات چیت پاکستانی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بڑھتے واقعات کے درمیان ہوئی ۔ یو این آئی کے بموجب اضلاع راجوری اور پونچھ میں حقیقی خط قبضہ پر پاکستان کی فائرنگ میں ایک جوان اور ایک پانچ سالہ لڑکی ہلاک ہوئے۔ ایک خاتون اور ایک جوان زخمی بھی ہوئے ۔ دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے پونچھ کے بھمبھر گلی سیکٹر میں صبح ساڑھے سات بجے چھوٹے اسلحہ خود کار اسلحہ کے ذریعہ اندھا دھند فائرنگ اور مارٹر گولے برسانے شروع کردیے ۔ فائرنگ کے تبادلہ میں نائک مدثر احمد شدید زخمی ہوا کیونکہ مارٹر گولے اس کے بنکر پر گرے تھے۔ اسے ایم آئی روم میں لے جایا گیا جہاں اس نے دم توڑ دیا ۔ آئی اے این ایس کے بموجب ہندوستان نے پیر کے دن کہا کہ وہ حقیقی خط قبضہ پر پاکستانی فائرنگ کا کرارا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔ جموں و کشمیر میں پاکستانی فوج کی بھاری گولہ باری میں ایک پانچ سالہ لڑکی اور ایک فوجی ہلاک ہوئے ہیں ۔ سرحد پر پاکستان کی تازہ جارحیت ایسے وقت ہوئی ہے جب کہ دونوں ممالک کے بیشتر کمانڈرس نے جموں و کشمیر میں حقیقی خط قبضہ پر دونوں ممالک کی فوج کے درمیان آئے دن فائرنگ پر بات چیت کی۔ پاکستان گولی لگنے سے مرنے والی بچی کی شناخت بال کوٹ ضلع پونچھ کی سعیدہ کی حیثیت سے ہوئی ہے۔ فوجی، ضلع راجوری کے تارکنڈی علاقہ میں ہلاک ہوا ۔ وزارت دفاع کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل منیش مہتا نے کہا کہ حقیقی خط قبضہ پر فائرنگ ہنوز جاری ہے ۔ پاکستانی فوج نے میندھر اور بال کوٹ سیکٹرس میں بلا اشتعال گولہ باری کی۔ مہتا نے کہا کہ ہندوستانی فوج نے کرارا جواب دیا۔

مرکز کی سفارتی ناکامی، بنگال شدید متاثر: ممتا بنرجی
کولکتہ
آئی اے این ایس
پڑوسی ممالک چین ، نیپال اور بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں ابتری پر مرکزی حکومت کی پالیسیوں کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے آج الزام عائد کیا کہ نریندر مودی زیر قیادت حکومت کی سفارتی ناکامیوں کی وجہ سے ان کی ریاست سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے ۔ انہوں نے یہاں میڈیا میں اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنگال بیچ میں پھنس کر رہ گیا ہے ، اسی لئے ہم بد ترین متاثرین میں شامل ہیں ۔ بنگال کی سرحدیں بھوٹان، نیپال اور بنگلہ دیش سے متصل ہیں ۔ ہم بنگلہ دیش کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں ۔اگر سکم چین میں چلاجائے تو پھر سکم اور دار جلنگ میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ وہ ایک دوسرے سے متصل ہیں۔سلیگوڑی راہداری ایک درمیانی راستہ ہے ۔ مرکزکی غلطیوں (پڑوسی ممالک کے ساتھ) تعلقات میں ابتری، سفارتی ناکامیوں کی وجہ سے مرکزی حکومت نے بنگلہ دیش ، نیپال، چین کے ساتھ ساتھ بھوٹان کے ساتھ بھی تعلقات خراب کرلئے ہیں۔ ترنمول کانگریس سربراہ نے کہا کہ وہ مرکز سرحدی ایجنسیوں کا استعمال کررہے ہیںَ ہم سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ہم حالات کے شکار ہیں ۔ بنگال، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان کا باب الداخلہ ہے۔ انہوں نے سکم سیکٹر کے ڈوکلم علاقہ میں چین کے ساتھ تعطل کے پیش نظریہ تبصرہ کیا ۔ چیف منسٹر مغربی بنگال نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ انٹلیجنس ایجنسیاں مرکزی حکومت کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے سرحدوں کو کھول رہی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر این ڈی اے ، را، این ایس اے اور انٹلیجنس کہاں ہیں ؟ سرحدوں کو کیوں کھلا رکھا گیا ہے ؟ ایس ایس بی، آئی بی، را وہاں کیا کررہی ہیں؟ جماعت کے لوگوں کو اندر داخل ہونے کی اجازت کس طرح دی جارہی ہے ؟ میں نے وزارت خارجہ سے بات کی ہے ۔ بی جے پی کی ایک اتحادی نے یہاں (وزیر اعظم بنگلہ دیش) شیخ حسینہ کا پتلہ کیوں نذر آتش کیا؟ وشوا ہندو پریشد کی درگاہ واہنی کے نام پر بندوقوں کی تربیت کیوں دی جارہی ہے ؟ میرے پاس ویڈیوز موجود ہیں، آسام، حتی کہ جموں میں بھی بندوقوں کی لڑائی کی تربیت دی جارہی ہے ؟ کیا یہ حکومت کا اقدام ہے یا پھر حکومت کوئی متوازی حکومت چلانا چاہتی ہے؟ کبھی گاؤ رکھشکوں کے نام پر تو کبھی واہنیوں کے نام پر۔ ہر ایجنسی اس کی مدد کررہی ہے ۔

محبوبہ مفتی کشمیر میں چین کے رول کی وضاحت کریں: عمر عبداللہ
سری نگر
یو این آئی
جموں و کشمیر کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاستی چیف منسٹر محبوبہ مفتی کو کشمیر کی بگڑتی ہوئی سیکوریٹی صورتحال میں چین کے ملوث ہونے کے دعوے کی وضاحت کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں چھ برس تک بحیثیت چیف منسٹر کمان سنبھالنے کے دوران عمر عبداللہ کو کبھی یہ خٖیہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں کہ چین کشمیر کے معاملات میں مداخلت کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں صرف یہ خفیہ معلومات فراہم کی جاتی تھیں کہ چین کبھی کبھار خطہ لداخ میں در اندازی کرتا ہے ۔ عمر عبداللہ نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے سلسلہ وار ٹوئیٹس میں کہا، محبوبہ مفتی کو وضاحت کرنی چاہئے کہ جموں و کشمیر بالخصوص وادی میں بگڑتی ہوئی سیکوریٹی صورتحال میں چین کے ملوث ہونے کی نوعیت کیا ہے ، انہوں نے کہا چھ برس تک بحیثیت چیف منسٹر ریاست کی کمان سبھالنے کے دوران مجھے کبھی بھی چین کے جموں و کشمیر میں ہاتھ ڈالنے کی خفیہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ہاں چین کبھی کبھار لداخ میں در اندازی کا مرتکب ہوتا تھا۔ صحافی سوشانت سنگھ کے ٹویٹ کہ محبوبہ مفتی کے بعد مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی نے بھی چین کی مداخلت کا معاملہ اٹھایا کے رد عمل میں عمر عبداللہ نے لکھا دووزرائے اعلیٰ نے چینی مداخلت کا معاملہ اٹھایا ہے ۔ پارلیمنٹ کو اس مداخلت پر بحث جبکہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خدشات کا ازالہ کرے۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے15 جولائی کو نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کرنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا، ریاستی حکومت قانون و انتظام کی لڑائی نہیں لڑ رہی ہے ۔ جو لڑائی ہورہی ہے ، اس میں باہر کی طاقتیں شامل ہیں اور اب تو چین نے بھی درمیان میں آکر ہاتھ ڈالنا شروع کردیا ہے ۔ بزرگ علیحدگی پسند لیڈر سید علی گیلانی نے چین کے کشمیر میں ہاتھ ڈالنے کے معاملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدلتے عالمی منظر نامے میں کشمیر ایک فلش پوائنٹ بنتا جارہا ہے اور اس کے حدود اربعہ میں وسعت پیدا ہوتی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ کشمیر تنازعے کے حل میں مزید تاخیر زیادہ اور خطرناک پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے اور اس مسئلے کی وجہ سے خطے کی صورتحال بڑی تیزی سے دھماکہ خیز رخ اختیار کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ گیلانی کا کہنا ہے کہ چین کی سرحدیں چونکہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ مل رہی ہیں، لہذا وہ ان کے مابین جاری کشیدگی اور مخاصمت میں زیادہ دیر تک غیر جانبدار رہ سکتا ہے اور نہ وہ اس کو نظر انداز کرنے کا متحمل ہوسکتا ہے ۔

منسوخ کرنسی نوٹس کی تبدیلی کے لئے مزید مہلت ناممکن
نوٹ بندی کا مقصد فوت ہوجائے گا۔ مرکز کا سپریم کورٹ میں حلف نامہ
نئی دہلی
پی ٹی آئی
مرکز نے آج سپریم کورٹ کو بتایا کہ پانچ سو اور ہزار روپے کے مالیت کے منسوخ شدہ کرنسی نوٹس کو جمع کرنے کی اجازت دینے کے سلسلہ میں مزید کوئی رعایتی مدت کے لئے اجازت نہیں دی جائے گی اور بتایا کہ اگر نیا ونڈو فراہم کیا گیا کرنسی امتناع اور کالے دھن کے خاتمہ سے متعلق اصل مقصد میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ ے گا ۔ مرکز چیف جسٹس جے ایس کیہر کی زیر قیادت ایک بنچ کی جانب سے4جولائی کے حکم پر اپنا رد عمل ظاہر کررہاتھا جس میں اس سے کہا گیا تھا کہ وہ ان افراد کے لئے ونڈو قائم کرنے پر غور کرے جو واجبی وجوہات کی بنا پر منسوخ شدہ کرنسی نوٹس کو نئے کرنسی نوٹس سے تبدیل نہیں کراسکے ہیں ۔ عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ مختلف افراد کو ان کی کوئی غلطی کے بغیر ان کی اپنی رقم سے محروم ہونے نہیں دیاجانا چاہئے ۔ وزارت فینانس نے اپنے حلف نامہ میں کہا اگر مختلف افرادکو جن کے پاس پانچ سو اور ہزار روپے کی مالیت کے پرانے کرنسی نوٹس ہیں مزید مہلت دینے کے لئے ونڈو کھول دیا گیا ، کرنسی امتناع اور کالے دھن کے خاتمہ سے متعلق اصل مقصدکی تکمیل میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ان افراد کو منسوخ شدہ کرنسی نوٹس کو اجازت یافتہ مدت کے اندر جو30دسمبر2016تک مقرر تھی ، جمع نہ کرانے کے سلسلہ میں وجوہات بتانے اور حیلے بہانے تلاش کرنے کے سلسلہ میں کافی وقت مل جائے گا اور وہ اس خصوص میں کافی احتیاط کے ساتھ منصوبہ تیار کرلیں گے ۔ حلف نامہ میں بتایا گیا کہ درخواست گزاروں میں سے کسی نے بھی کوئی جائز وجہ نہیں بتائی ہے اور یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ وہ آخر کس وجہ سے منسوخ شدہ کرنسی نوٹس کو ان کے مجاز کردہ تیسرے فرد کے ذریعہ جمع نہیں کراسکے تھے ۔ کوئی مزید ونڈو نہ کھولنے سے متعلق فیصلہ کو واجبی و حق بجانب قرار دیتے ہوئے حلف نامہ میں کہا گیا ۔ ہر کسی کو مصرحہ بینک نوٹس کو نئے نوٹس سے تبدیل کرانے یا ان کو جمع کرانے کے لئے اکیاون دن کا وقت دیا گیا تھا جب کہ سال1978ء کے دوران چلائی جانے والی کرنسی امتناع مہم کے وقت صرف چھ دین کا وقت دیا گیا تھا۔

0 comments:

Post a Comment