Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-07-16 - بوقت: 13:04

تاجرین بعجلت ممکنہ جی ایس ٹی رجسٹریشن کروا لیں - وزارت فینانس

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی، یو این آئی
مرکزی حکومت نے آج تاجروں سے کہا کہ وہ اپنے آپ کو اشیاء اور خدمات محاصل، جی ایس ٹی کے تحت30جولائی تک رجسٹرڈ کروالیں۔ وزارت فینانس نے کہا کہ جی ایس ٹی کی شقوں کے تحت تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کے ایسے تاجرین جو اسی مقام پر اشیاء کی پیداوار کرتے ہیں، جن کی سالانہ تجارت20لاکھ سے زیادہ ہو اور خصوصی درجہ کے ریاستوں میں دس لاکھ روپے ہوانہیں جی ایس ٹی کے تحت رجسٹریشن کروانا لازمی ہوگا۔ تاجرینwww.gst.gov.inویب سائٹ پر اپنے آپ کو آن لائن رجسٹرکرواسکتے ہیں ۔ رجسٹریشن کے لئے کارکرد پیان کارڈ نمبر، ای میل آئی ڈی اور موبائل فون کا نمبر درج کرنا لازمی ہوگا۔ جب یہ تینوں درکار چیزون کی تنقیح ہوجائے گی، تاجر کو اپنی تجارتی سر گرمیوں کی تفصیلات کو داخل کرنا ہوگا ۔ تاہم ایسے تاجرین جن کی سالانہ تجارت بیس لاکھ سے کم ہو یا ایس تاجرین جو نئے محاصلی نظام، جی ایس ٹی میں استثنائی حیثیت حاصل ہے انہیں جی ایس ٹی کے تحت رجسٹریشن کروانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جی ایس ٹی قانون کے تحت تاجرین کو 30جولائی سے قبل رجسٹریشن کروانے کی ضرورت ہے ۔ وزارت فینانس نے اپنے اعلامیہ میں تمام تاجرین سے استدعا کی ہے کہ آخری تاریخ کا انتظار کئے بغیر جی ایس ٹی میں رجسٹریشن کروالیں۔ وزارت فینانس نے کہا کہ تاجرین کی جانب سے داخل کردہ اعداد و شمار کو انتظامی امور کے تجزیہ کے لئے روانہ کیا گیا ہے ۔ اور قابل ادائی ٹیکس سرکاری خزانہ میں جمع کیاجائے گا۔ اس لئے تاجرین سے استدعا ہے کہ وہ جی ایس ٹی کے تحت بغیر وقت ضائع کئے فوری رجسٹریشن کروالیں۔جی ایس ٹی کے تحت رجسٹرکروانے والی تاجرین ہی جی ایس ٹی کے ثمرات سے استفادہ کے لائق ہوں گے ۔ جو تاجر بیس لاکھ روپے سے زیادہ تجارت کرتے ہیں اگر وہ اپنے آپ کو رجسٹرڈ نہ کرواتے ہوں تو انہیں جرمانہ عائد کیاجائے گا۔ اگر جی ایس ٹی کے تحت رجسٹرڈ کرواے والے تاجرین ہی اپنی تجارت کو وسعت دے سکتے ہیں۔ فائدہ مند خریدار بن سکتے ہیں ۔ ایسے تاجرین جو اپنے آپ کو رجسٹرڈ کرواتے ہیں اور مناسب ٹیکس مشمولات داخل کرتے ہوئے حکومت کو ٹیکس ادا کرتے ہیں انہیں ملک کی تعمیر کا حصہ دار سمجھا جائے گا ۔ اس لئے تاجرین سے استدعا ہے کہ وہ ضائع کئے بغیر اپنے آپ کو جی ایس ٹی کے تحت رجسٹرڈ کروالیں۔
Govt asks businesses to register under GST by July 30

چین کے ساتھ تعطل کی جلد یکسوئی متوقع
نئی دہلی
آئی اے این ایس
حکومت نے آج گیارہ سیاسی جماعتوں کو ڈوکلم سیکٹر میں چین کے ساتھ تعطل و نیز یاتریوں کی بس پر حالیہ انتہا پسند انہ حملہ کے پیش نظر امر ناتھ یاترا کی سیکوریٹی سے واقف کروایا ۔ یاتریوں کی بس پر یہ حملہ جاریہ ہفتہ کے اوائل میں کیا گیا تھا جس میں سات یاتری ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے تھے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے کہا کہ چین کے ساتھ تعطل کو جلد از جلد دور کیاجائے اور اس مقصد کے لئے سفارتی ذرائع اور بات چیت سے استفادہ کیاجائے ۔ انہوں نے امرناتھ یاتریوں پر دہشت گردانہ حملہ کی متفقہ طور پر مذمت کی ۔ یہ وزیر خارجہ سشما سوراج کی جانب سے ایک ساتھ منعقد کیاجانے والا دوسرا اجلاس تھا ۔ وزیر دفاع ارون جیٹلی بھی شریک اجلاس تھے ۔ حکومت نے چودہ سیاسی جماعتوں کو دونوں مسائل سے جمعہ کے دن بھی واقف کروایا تھا۔ سکریٹری خارجہ ایس جئے شنکر نے آج قائدین کو ڈوکلم کی صورت حال سے واقف کرایا اور انہیں یہ بتایا کہ چین کی سر گرمیوں سے ہندوستان کے جنگی نوعیت کے مفادات کس طرح کی متاثر ہورہے ہیں ۔ جہاں تک چین کے ساتھ تعطل کا تعلق ہے جماعتوں نے اس متفقہ رائے کا اظہار کیا کہ حکومت ہند کو حکومت چین سے بات چیت کرنی چاہئے ۔ اور تعطل دور کرنے کے لئے تمام سفارتی وسائل کا استعمال کیاجانا چاہئے ۔ سی پی آئی لیڈر ڈی راجہ نے اخباری نمائندوں کو بتایا تمام جماعتوں کی یہ متفقہ رائے ہے کہ بات چیت ہی واحد متبادل ہے اور اس تعطل کو جلد از جلد دور کرلینا چاہئے ۔ راجہ نے وضاحت کی جہاں تک امر ناتھ یاتریوں پر دہشت گردانہ حملہ کا تعلق ہے جماعتوں نے کہا کہ انٹلیجنس ناکام نہیں ہوئی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا اس لئے ہوا کیونکہ اننت ناگ جنوبی کشمیر کا ایک حصہ ہے جو مسائل کا شکار رہنے والا علاقہ ہے ۔ سی پی آئی لیڈر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوںنے حکومت کو بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ سب متحد ہیں لیکن حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ اجلاس میں سکریٹری داخلہ راجیو گوبا نے قائدین کو امر ناتھ یاترا سے واقف کروایا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال یاترا کے لئے مرکزی مسلح پولیس فورس کی دوسو سے زائد کمپنیوں اور آرمی کے تین زائد بٹالینوں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں نے حملہ کی مذمت کی ۔

پاکستان کے بعد چین کی بھی کشمیر میں در اندازی
نئی د ہلی
پی ٹی آئی
چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے آج مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی تاکہ ریاست میں نظم و نسق کی صورتحال اور امر ناتھ یاتریوں کی سیکوریٹی پر تبادلہ خیال کیا جاسکے ۔ نصف گھنٹہ تک جاری رہنے والی اس میٹنگ کے دوران چیف منسٹر نے وادی کشمیر میں امن و ضبط کی بر قراری کے لئے کئے گئے اقدامات سے وزیر داخلہ کو واقف کرایا۔عہدیداروں نے بتایا کہ امرناتھ یاتریوں کی سیکوریٹی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔جموں و کشمیر میںا نسداد دہشت گردی کارروائیوں میں مصروف سیکوریٹی ایجنسیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پوری طاقت کے ساتھ سیکوریٹی منصوبے رو بعمل لائیں۔ تا حال1.86لاکھ یاتریوں نے اس ہمالیائی غار کا دورہ کیا ہے۔ یاتریوں کی سیکوریٹی کے لئے ریاستی پولیس فورس کے علاوہ اکیس ہزار نیم فوجی جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے ۔ جاریہ سال تعینات کئے جانے والے نیم فوجی عملہ کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلہ کہیں زیادہ ہے ۔ ایجنسیز کی اطلاع کے مطابق محبوبہ مفتی نے آج چین پر الزام عائد کیا کہ وہ ریاست کی سیکوریٹی صورتحال میں دخل اندازی کررہا ہے ۔ امرناتھ یاتریوں پر حملہ کے بعد راج ناتھ سنگھ سے ا پنی پہلی ملاقات کے بعد محبوبہ نے میڈیا کو بتایا کہ اس لڑائی میں بیرونی طاقتیں بھی شامل ہیں ۔ در اندازی ہورہی ہے، دہشت گرد آرہے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں ماحول کو خراب کیاجائے ۔ بدبختانہ طور پر اب چین نے بھی دخل اندازی شروع کردی ہے ۔ پہلے صرف پاکستان تھا لیکن اب اطلاعات کے مطابق چین بھی کشمیر کے امور میں مداخلت کررہا ہے ۔ محبوبہ مفتی نے آج راج ناتھ سنگھ اور ملک کے عوام سے اظہار تشکر کیا کہ انہوں نے وادی میں بحران کے وقت ان کی تائید کی ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں نظم و ضبط کی لڑائی نہیں ہے بلکہ بیرونی طاقتیں بھی اس جنگ میں شامل ہیں جن کا مقصد ریاست میں امن و امان کو درہم برہم کرنا ہے ۔

قربانی کے جانوروں کو منتقل کرنے والوں کی حفاظت ضروری
شاہی امام جامع مسجد دہلی احمد بخاری کا مکتوب
نئی دہلی
پی ٹی آئی
دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام احمد بخاری نے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو مکتوب تحریر کیا ہیا ور ان پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عید الاضحٰی کے موقع پر قربانی کے لئے بھینسوں اور بکریوں کو منتقل کرنے والے افرا دپر حملہ نہ کیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ گاؤ رکھشا کے نا م پر ان دنوں تشدد کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں اور مختلف افراد کو ہلاک کیاجارہا ہے جس کی وجہ سے صورت حال سنگین ہوگئی ہے اور ملک میں پیدا ہونے والی اس صورت حال کے باعث یہ اندیشہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ بازارات کو جانور لے جانے والے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایاجائے گا۔ بخاری نے اپنے مکتوب میں کہا ہم گائیوں کی قربانی دینے کے حامی نہیں ہیں ۔ گائے سے ایک مخصوص مذہبی طبقے کے جذبات وابستہ ہیں ۔ ہم ان کے مذہبی جذبات کا مناسب احترام کرتے ہیں لیکن اگر بھینسوں اور بکریوں کو لے جانے والے فراد پر جانوروں کے تحفظ کے نام پر حملہ کردیا گیا تب ملک میں امن متاثر ہوجائے گا۔ انہوںنے مزید کہا کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی مسلم عقائد کا ایک حصہ ہے اس عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے لہٰذا وہ حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ پولیس اور نظم و نسق کو یہ ہدایات جاری کرے کہ وہ جانوروں کی منتقلی کے کاروبار سے وابستہ مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے ساتھ ہی ساتھ ان افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کاروائی کرنے کے لئے زور دیا جو جانوروں کو منتقل کرنے والے ان افراد کو پریشان کرتے ہیں یا ان پر حملہ کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا مسلمانوں کو ان کے مذہبی جذبات و ذمہ داریوں کے سلسلہ میں مکمل آزادی ہونی چاہئے پر ہم دوسروں کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں، ہم امید رکھتے ہیں کہ دوسرے بھی ہمارے مذہبی جذبات کا احترام کریں گے ۔

0 comments:

Post a Comment