Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-07-04 - بوقت: 17:31

عام تاجر - عام آدمی اور جی ایس ٹی

Comments : 0
GST
15اگست1947کو ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی ملی اور نصف شب میں اس ملک کو آزاد کئے جانے کا اعلان ہوا ، اور ہندوستان ایک خود مختار جمہوری ملک بن کر دنیا کے نقشے پر اپنی عظمت کا پرچم لہرانے لگا۔ ٹھیک اسی طرح آدھی رات میں ملک کو اقتصادی بحران سے آزاد کرنے کے لئے ملک میں ایک نئے ٹیکس نظام کے نفاذ کے لئے ملک میں ایک نئے ٹیکس نظام کے نفاذ کے لئے تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ15اگست1947کی طرح 30جون کی شب میں پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال سے ملک کو خطاب کرنے کے لئے نہرو کی جگہ مودی تھے ، جن کی تقریر بڑی پر مغز اور حوصلہ افزا تھی ۔ اس موقع پر صدر جمہوریہ ، نائب صدر جمہوریہ و مرکزی وزراء کے ساتھ ملک کی جانی مانی شخصیات بھی موجو د تھیں، جن کی موجودگی میں وزیر اعظم مودی نے جی ایس ٹی کے نفاذ کا اعلان کرکے ملک میں نئے دور کا آغاز کیا اور یکم جولائی سے جی ایس ٹی پورے ملک نافذ ہوگیا۔ بلا شبہ جی ایس ٹی نظام ملک کی اقتصادی ترقی کے لئے ایک بہترین قدم کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے لیکن اسے ہندوستان کی دوسری آزادی کا نام بھی نہیں دیا جاسکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کانگریس سمیت کئی جماعتوں نے جی ایس ٹی نفاذ کے پروگرام کو ملک کی آزادی کی تقریبات سے تقابل کرنے پر اعتراض جتایا ہے ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ملک کی آزادی کی لڑائی کی ایک طویل تاریخ ہے ۔ لاکھوں لوگون کی قربانیاں ہیںِ جانے کتنے لوگوں کی زندگی قید خانے میں بسر ہوئی ، کتنے لوگ پھانسی پر چڑھائے گئے ۔ لاٹھیاں کھ ائیں، اس کے علاوہ آزادی کے بعد ہونے والے اصلاحی اقدامات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بینکوں کو قومیانے کا فیصلہ، زمینداری کا خاتمہ وغیرہ اقتصادی اصلاحات تاریخ کا اہم باب ہیں۔1991ء کے اصلاحات ملک کے تاریخی واقعات سے منصوب کئے جاتے ہیں۔ جی ایس ٹی بھی ایک اصلاحی قدم ہے لیکن اسے دوسری آزادی کا نام دیاجارہا ہے ۔ ہندوستان کی آزادی کی طرح نصب شب میں جی ایس ٹی کے نفاذ کا اعلان ہوا ہے ۔ پی ایم نے جی ایس ٹی کو لے کر ملک کی ترقی کی امیدیں جگائی ہیں ۔ حالانکہ جی ایس ٹی کی ملک میں انتہائی مخالف کی گئی ۔ خود بی جے پی نے یوپی اے دور اقتدار میں کرانہ تجارت میں ایف ڈی آئی کی تجویز کی سخت مخالفت کی تھی ۔ اس نے سڑخوں سے لے کر پارلیمنٹ تک طوفان اٹھایا تھا ، خاص کر گجرات میں بہت مخالفت کی گئی تھی، اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ مودی ہی تھے۔ شدید مخالفت کا نتیجہ یہ ہوا کہ سرکار نے اپنے ہاتھ پیچھے کرلئے،لیکن جی ایس ٹی کے17سالہ سفر کا اختتام30جون2017ء کو اس دور میں ہوا ہے، جب ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی ہیں ۔ گو کہ آج بھی ملک کا ایک حصہ جی ایس ٹی پر معترض ہے ۔ حکومت بھلے ہی جی ایس ٹی کے فوائد کا گن گان کررہی ہے، لیکن ملک کے عوام اور عام تاجر جی ایس ٹی کے سلسلے میں شش و پنج کا شکار ہیں۔ خاص کر ملک کے کروڑوں عام تاجروں کے دل و دماغ پر جی ایس ٹی کی پیچیدگیاں کا ایسا اثر ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ اب انہیں ہر ماہ حساب دینا ایک مشکل مرحلہ ہے ۔ انکم ٹیکس انسپکٹروں کا پریشر مزید بڑھے گا، رشوت خوری میں اضافہ ہوگا ۔ اکاؤنٹ کو چست درست کرنے والوں کو مزید فیس دینی پڑے گی۔ کانگریس نے جی ایس ٹی تقریب میں شرکت سے گریز کیا۔ راہول گاندھی نے کہا کہ جی ایس ٹی محض ایک تماشہ ہے ۔ سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ جی ایس ٹی سے ملک کے افراط زر میں اضافہ ہوگا ۔ ممتا بنرجی نے جی ایس ٹی کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تاجروں اور عام لوگوں کے لئے تاریک دور کا آغاز ہے ۔ اس ٹیکس سے انسپکٹر راج کو حوصلہ ملے گا ۔ ماہرین اقتصادیات بھی جی ایس ٹی کو نوٹ بندی کی طرح جلد بازی میں اٹھایا گیا قدم قرار دے رہے ہیں ۔ کہ جس طرح لوگ نوٹ بندی سے پریشان ہوئے ، اب جی ایس تی کی تلوار عام لوگوں اور عام تاجروں کے سر پر لٹک گئی ہے۔ کئی سیاسی رہنماؤں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ جی ایس ٹی بھلے ہی ایک اصلاحی قدم ہے لیکن اسے انقلابی قدم قرار نہیں دیاجاسکتا ہے ۔ ملک کی آزادی کے مقابل جی ایس ٹی کو کھرا کرنا ، نصف شب میں اسے نافذ کرنا در اصل آزادی کا مضحکہ اڑانا ہے ۔ ملک کی اقتصادی ترقی کے لئے جی ایس ٹی کا تجربہ کتنا کامیاب ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن جی ایس ٹی کے فوائد کے ساتھ شمار نقصانات نے بھی کان کھڑے کردیے ہیں، جس کا اثر دوسرے درجے کے عام تاجروں اور عام لوگوں پر پڑے گا ۔ جی ایس ٹی سے بڑے لوگوں کے وارے نیارے ہوجائیں گے، صنعتی دنیاترقی کی رفتار پکڑے گی ، ٹیکس کا دائرہ بڑھے گا لیکن سفر مہنگا ہوجائے گا۔ ظاہر ہے عام آدمی پاریشان ہوجائے گا۔ جی ایس ٹی کے تعلق سے بعض پیچیدگیاں بھی ہیںِ جن سے رشوت، خوری، مہنگائی وغیرہ بڑھنے کا امکان ہے ۔ پٹرول اور ڈیزل کو کیوں جی ایس ٹی کے زمرے سے الگ رکھا گیا ہے یہ بھی ایک بڑا سوال ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پٹرولیم جی ایس ٹی کے تحت آجائے گی تو پٹرول ڈیزل کی قیمت بہت کم ہوجائے گی۔ سفر بھی سستا ہوجائے گا، مہنگائی بھی بہت کم ہوجائے گی ، چھوٹی صنعتوں چھوٹے تاجروں اور عام لوگوں کو بہت فائدہ ہوگا ۔ لیکن پٹرولیم کو جی ایس ٹی سے مبرا رکھا گیا ۔ بہر حال یکم جولائی سے جی ایس ٹی کا ملک بھر میں نفاذ ہوچکا ہے ۔ نوٹ بندی کی طر ح ابتدائی دور میں یقینا تاجروں کو پریشانیاں لاحق ہوں گی، حساب و کتاب ہر ماہ درست رکھنا بے شک ایک پریشان کن مرحلہ ہے ، کیونکہ عام تجارتی طبقے کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایک حد تک ہی تعلیم حاصل کرتا ہے ۔ اکثرہا تو پڑھا لکھا بھی نہیں ہوتا، لہذا اب ایسے لوگوں کے لئے اکاؤنٹننٹ کی مدد لینا ایک درد سر سے کم نہیں ہے ۔ لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ بیچارہ عام تاجر ہلکان ہو لیکن ایک معمولی سطح کا اکاؤنٹنٹ یا کامرس کا طالب علم بیکار نہیں ہوگا، کان میں قلم لگائے دکان دکان آوازیں لگائے گا بہی کھاتے درست کروالو اور چارڈٹیڈاکاؤنٹنٹ حضرات کے تو بلے بلے ہیں ۔ ان کا اونگھتا ہوا کاربار دن دونی رات چوگنی پھلے پھولے گا۔ جی ایس ٹی سے ملک کی اقتصادی ترقی کا گراف کتنا اور کب بڑھے گا یہ الگ سوال لیکن جی ایس ٹی عام تاجروں عام لوگوں کے گلے کی ایک ایسی گھنٹی ہے جو کہ معمولی لغزش پر بھی ٹن ٹن کی آواز بلند کرے گی۔ وہ اپنی آمدنی بڑھانے کی جرات نہیں کرسکے گا کیونکہ تاجروں کے ذریعہ ہیرا پ ھیری کے معاملہ میں پہلے ایف آئی آر درج ہوتی تھی اب انسپکٹروں کو ہی گرفتاری کا اختیار دے دیا گیا ہے ، جس میں تاجروں کو چار سال کی سزا مل سکتی ہے ، ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی سے ملک میں انسپکٹر راج قائم ہوجائے گا۔

General trader Common Man and GST. Article: Jamshed Adil Alig

0 comments:

Post a Comment