Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-07-20 - بوقت: 17:31

جی ایس ٹی کا آسانی سے نفاذ عمل میں آ گیا - جیٹلی

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
بی جے پی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے گڈس اینڈ سرویس ٹیکس( جی ایس ٹی) کی ملک بھر میں نفاذ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں اشیاء کے ٹرانسپورٹ کا مسئلہ اب ختم ہورہا ہے ۔ سامان اور اشیاء کی منتقلی میں اب سہولت پیدا ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ٹیکس پر مزید ٹیکس عائد نہیں کیا جاسکتا اور ٹیکس کے دائرہ میں اضافہ ہورہا ہے ۔ جی ایس ٹی کو نافذ کرنے سے عام لوگوں کو ہونے والے فائدہ کے بارے میں تفصیل پیش کرتے ہوئے جیٹلی نے کہا کہ اس سے ملک میں ترقی کو رفتار ملنے کے ساتھ ہی تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودہ میں یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئی اس میٹنگ میں وزیر فینانس نے جی ایس ٹی کے نافذ ہونے سے عام لوگوں کو ہونے والے فائدے کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک میں ایک ٹیکس سسٹم نافذ ہوگیا ہے جس سے تجارت میں آسانی ہوگی اور ترقی کی رفتار تیز ہوگی ۔ پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جیٹلی نے پارلیمانی پارٹی کو جی ایس ٹی کو نافذ کئے جانے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اسے پورے ملک میں آسانی سے نافذ کیا گیا ہے ۔ ریاست میں الگ الگ سیاسی جماعتوں کی حکومت ہونے کے باوجود اس معاملے میں پورا ملک متحد رہا اور کہیں سے بھی مخالفت کی آواز سنائی نہیں دی۔ کمار نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی چلے گی اور حکومت اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے جانے والے کسی بھی موضوع پر بحث کے لئے تیار ہے ۔

جی ایس ٹی کے نفاذ کا فیصلہ عجلت میں کیا گیا: راہول گاندھی
بانسواڑہ، راجستھان
پی ٹی آئی
کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے آج این ڈی اے حکومت کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وہ کسانوں کے مسائل پر پارلیمنٹ میں مباحث نہیں چاہتی اور جی ایس ٹی نافذ کرنے کا فیصلہ عجلت میں کیا گیا۔ انہوں نے یہاں کسان آکروش ریالی میں تیر اور کمان اٹھاتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس کو نشانہ تنقید بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو غریبوں اور کمزوروں کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ راہول نے کہا کہ کانگریس آج لوک سبھا میں کسانوں کے مسائل پر تفصیلی مباحث چاہتی تھی، لیکن انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حکومت آدھی رات کو جی ایس ٹی کے نفاذ کا اعلان کرسکتی ہے لیکن پارلیمنٹ میں ایک منٹ بھی کسانوں کے مسائل پر بحث کرنا نہیں چاہتی ۔ ملک میں نئے بالواسطہ ٹیکس قانون کے نفاذ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ عجلت میں کیا گیا۔ ہم چاہتے تھے کہ حکومت مزید تین تا چار ماہ لے ، کیوں کہ مجوزہ جی ایس ٹی اصلاحات میں خامیاں ہیں اور ان کی وجہ سے چھوٹے تاجرین متاثر ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے تاجرین، کسان، مزدور، قبائلی لوگ اور دلت بھی مساوی طور پر ملک چلاتے ہیں ، لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگوں کو غریبوں اور کمزوروں کی آواز سنائی نہیں دیت۔ راہول گاندھی نے کہا کہ کانگریس کا ماننا ہے کہ کسان ، تاجر اور مزدور بھی ملک کو آگے لے جانے میں صنعت کاروں کے ساتھ مساوی اہم رول اداکرتے ہیں۔ ہم کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں اور ملک کو آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ ہندوستان نے ا پنے کسانوں، مزدوروں اور تاجرین کی وجہ سے نام کمایا ہے ، جنہوں نے اسے اپنا خون پسینہ دیا ہے ۔ بی جے پی حکومت پر کسانوں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس کے نائب صدر نے کہا کہ ملک کے صرف پچاس بڑے صنعت کاروں کو ہی تمام فوائد حاصل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کسانوں کے لئے لڑے گی اور زرعی قرض کی معافی کے لئے راجستھان میں بی جے پی حکومت پر دباؤ ڈالے گی۔ کانگریس کے دباؤ کے تحت ہی بی جے پی حکومت نے اتر پردیش میں کسانوں کے قرض معاف کیے ہیں۔ پنجاب اور کرناٹک میں کانگریس حکومتوں نے کسانوں کے قرض معاف کرتے ہوئے انہیں راحت فراہم کرنے میں کوئی وقت نہیں لگایا۔ ہم راجستھان حکومت کو اس وقت تک سونے نہیں دیں گے جب تک کسانوں کے قرض معاف نہیں کئے جاتے ۔

گائے کے نام پر مسلمانوں پر حملہ پاکستان کو خوش کرنے کے مترادف: شیو سینا
ممبئی
پی ٹی آئی، یو این آئی
شیو سینا کے صدر ادھو ٹھاکرے نے آج گاؤ رکشا کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی سخت مذمت کی ہے ۔ شیو سینا کے ترجمان اخبار سامنا کے آج کے اداریہ میں لکھا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے منع کرنے کے باوجود نام نہاد گاؤ رکشک مان نہیں رہے ہیں۔ پورے ملک میں کہیں نہ کہیں بیف کے لے جانے کا الزا م لگا کر کچھ لوگوں کی بھیڑ کسی خاص فرقے کے شخص کو نشانہ بناتی ہیا ور اسے پیٹ پیٹ کر مار ڈالتی ہے جو کسی بھی طرح سے درست نہیں ہے ۔ اگر ہندو گاؤ رکشا کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنائیں گے تو یہ ایک طرح سے پاکستان کو خوش کرنے جیسا ہوگا ، کیونکہ پاکستان یہی چاہتا ہے کہ ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات ہوں ۔ انہوں نے کہا کیا وجہ ہے کہ وزیر اعظم کے سخت انتباہ کے باوجود گاؤ رکشا کے نام پر حملے بند نہیں ہورہے ہیں۔ یہ مکمل طور پر غیر انسانی فعل ہے جس کی کوئی بھی حمایت نہیں کرسکتا ۔ گاؤ رکشا کے نام پر ہندو مسلمان کے درمیان فسادات ہوں یہی تو پاکستان چاہتا ہے ۔ لہذا ملک میں امن برقرار رکھنے کے لئے قانون کو اپنا کام کرنے دیں۔ اداریہ میں آگے لکھا ہے کہ ہندوستان میں بھلے ہی ہندو نظریات کی حکومت ہے لیکن طالبان کی حکومت نہیں ہے یہ بات سب کو سمجھنا چاہئے۔ گورکشک جس طرح کے کام کررہے ہیں یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ شیو سینا نے نام نہاد گاؤ رکشکوں سے استفسار کیا کہ جب امرناتھ یاتریوں پر دہشت گرد حملہ کررہے تھے اس وقت وہ کہاں تھے۔ اداریہ میں کہا گیا کہ بیف لے جانے کے شبہ میں ملک بھر میں مسلمانوں پر حملہ کیاجارہا ہے ۔ یہ حملے ایک ایسے وقت ہورہے ہیں جب کہ سرحد پر تناؤ جاری ہے۔ اندرونی خلفشار ملک کی یکجہتی کے لئے تباہ کن ہے ۔ اداریہ میں کہا گیا کہ مودی کی آبائی ریاست گجرات میں بھی گاؤ رکشکوں نے گائے کی حفاظت کے نا م پر انسانوں کا قتل کررہے ہیں ۔ گجرات کے امرناتھ یاتریوں کو جب دہشت گرد ہلاک کررہے تھے اس وقت یہ گاؤ رکھشک کہاں تھے؟ آیا ان گاؤ رکھشکوں کو کوئی مسئلہ ہے کہ وہ ہتھیار اٹھائیں اور کشمیر میں بدلہ لینے کے لئے جائیں۔ زعفرانی اتحاد کی جماعت نے کہا کہ گاؤ رکھشکوں کو ہر سمت میں اپنی بہادری دکھانی چاہئے ۔ اگر مذہب کے نام پر گائے کی حفاظت کی جاسکتی ہے تو مذہب کے نام پر ملک کی بھی حفاظت اس سے زیادہ اہم ہے ۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ گاؤ رکھشک مودی کے راستہ میں کانٹے بچھا رہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے ان کارکنوں پر اختیار کھوچکے ہیں اور وارننگ کے بعد بھی گاؤ رکھشک حملوں سے نہیں رک رہے ہیں ۔ شیو سینا نے کہا کہ بہت ہی بد بختی کی بات ہے کہ جب چالیس تا پچاس افراد کا ایک گروپ ایک تنہا شخص کو زدوکوب کرتا ہے ، اس وقت قانون خاموش تماشائی بن جاتا ہے ۔ شیو سینا نے کہا کہ یہ بہت ہی مضحکہ خیز بات ہے کہ ملک میں جانور کی زندگی، ایک انسان کی زندگی سے زیادہ قیمتی بن گئی ہے ۔ گزشتہ تین برسوں میں گائے کے گوشت کے برآمد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جس سے ملک کے خزانے میں قابل لحاظ اضافہ ہورہا ہے ۔ آیا یہ گاؤ رکھشکوں کو یقین ہے کہ بیف کی برآمد سے ہونے والی آمدنی ترقیاتی مقاصد کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے ۔ شیو سینا نے کہا کہ گاؤ رکھشکوں کو یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے حملوں میں کئی مسلم پولیس ملازمین ہلاک ہوئے ہیں اور امر ناتھ یاتریوں کو بچانے والے بھی مسلمان تھے ۔

پاکستان دہشت گردی کے سرپرست ممالک میں شامل۔ امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ
واشنگٹن
پی ٹی آئی
امریکہ نے آج پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا جو دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں اور کہا کہ لشکر طیبہ جیش محمد جیسے دہشت گرد گروپس اب بھی پاکستان میں پیسہ جمع کرتے ہیں، تربیت حاصل کرتے ہیں، منظم ہوتے ہیں اور سر گرم ہیں ۔ دہشت گردی کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ اور امریکہ میں نامزد دہشت گرد حافظ سعید بڑی بڑی ریالیوں سے خطاب کرتا رہا حالانکہ فروری2017ء میں اس کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کی دفعات کے تحت کارروائی شروع کی گئی تھی ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ پاکستان مین لشکر طیبہ پر پابندی ہے لیکن لشکر کی ذیلی تنظیمیں جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کھلے عام فنڈس جمع کرتے ہیں۔ لشکر طیبہ کا سربراہ حافظ سعید بڑی ریالیوں سے خطاب کرتا ہے حالانکہ اس کی نقل و حرکت کو محدود کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ2015میں حافظ سعید جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے میڈیا کوریج پر پابندی لگائی گئی اور بالعموم ٹی وی چیانلس اور اخبارات اس پر عمل کررہے ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان کو دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہوں میں سے ایک قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ حقانی نٹ ورک، لشکر طیبہ اور جیش محمد کے بشمول کئی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کی سر زمین سے سرگرم ہیں۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ پاکستان نے افغان، طالبان یا حقانی نٹ ورک کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کی ہے اور ان کی صلاحیتوں میں کمی نہیں کی ہے جن سے افغانستان میں امریکی مفادات کو خطرہ ہے حالانکہ پاکستان نے دونوں گروپوں کو افغان امن مساعی میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے2016میں لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیموں کے خلاف ٹھوس کارورائی نہیں کی ۔ حقانی نٹ ورک نے افغانستان میں امریکی مفادات کے خلاف کئے حملے کئے اور اغوا کی کئی وارداتیں انجام دیں۔ اس گروپ کو افغانستان میں ہندوستان کی مفادات کے خلاف کئی حملوں کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا گیا جن میں کابل میں2008میں ہندوستانی سفارت خانہ پر بم حملہ بھی شامل ہے جس سے 58افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ اب بھی وہ پاکستان سے سر گرم دہشت گردوں اور ماؤ شورش پسندوں کے بشمول کئی گوشوں سے کئے جانے والے حملوں سے نمٹ رہا ہے ۔ ہندوستانی عہدیدار جموں و کشمیر میں سرحد پر حملوں کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ہندوستان اور امریکہ نے مل کر جیش محمد لیڈر مسعود ازہر کو اقوام متحدہ کی کمیٹی نے عالمی دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی تھی ۔ اس رپورٹ میں جن دوسرے مقامات کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں قرار دیا گیا ہے ان میں افغانستان ، صومالیہ، جنوبی فلپائن ، مصر، عراق، لبنان، لیبیا ، یمن ، کولمبیا ،اور وینز ویلا شامل ہے ۔ اس دوران ہندوستان نے اس رپورٹ کو اپنے اس دیرینہ موقف کی توثیق قرار دیا کہ خطہ میں دہشت گرد سر گرمیوں کی لعنت پائی جاتی ہے ۔ ذرائع نے رپورٹ سامنے آنے کے بعد یہ بات کہی۔ امریکہ نے کہا ہے کہ ایران اب بھی سوڈان اور شام کے ساتھ دہشت گردی کا بڑا سرکاری سرپرستی کرنے والا یہ تینوں ملک کئی دہوں سے امریکہ کی فہرست میں شامل ہے ۔ ایران1984اور سوڈان1993میں دہشت گردی کا سرپرست کرنے والا ملک قرار دیا گیا تھا ۔ شام کو1979میں دہشت گردی کا سرپرست قرار دیا گیا تھا۔

0 comments:

Post a Comment