Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-07-01 - بوقت: 23:01

ایک قوم ایک ٹیکس - سارے ہندوستان میں جی ایس ٹی کا نفاذ

Comments : 0
30/جون
نئی دہلی
یو این آئی
ایک ملک ایک ٹیکس نظام آج نصف شب سے لاگو ہوجائے گا۔ اس طرح پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں صدر جمہوریہ پرنب مکرجی، وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر ممتاز شخصیتوں کی موجودگی میں عظیم الشان تقریب کی تاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ حکومت نے آج نصف شب پارلیمنٹ کا مشترکہ خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔ امیتابھ بچن، لتا منگیشکر اور رتن ٹاٹا کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ کا خطاب ہوگا۔ سب سے بڑے ٹیکس اصلاحات اقدام جی ایس ٹی سے توقع ہے کہ تجارت کی کایا پلٹ جائے گی۔ عام آدمی پر بوجھ گھٹ جائے گا ۔ یہ ملک کو مشترکہ مارکٹ بنادے گا، جو یورپین یونین سے بڑی ہوگی ۔ریاسی سرحدوں پر کئی ٹیکسس اور رکاوٹوں کو دور کردینے سے توقع ہے کہ معاشی ترقی تیز ہوگی۔ اس سے کمپنیوں اور فرمس کو الکٹرانک اکاؤنٹس رکھنے میں مدد ملے گی۔ جی ایس ٹی سے یکساں بالواسطہ ٹیکس نظام وجود میں آجائے گا، مہنگائی گھٹے گی اور مستقبل میں معاشی ترقی بڑھے گی۔ جی ایس ٹی جامع ٹیکس نظام ہے ۔ اس سے دہرے ٹیکس سے چھٹکارا ملے گا۔ اشیا مسابقتی ہوجائیں گی۔ جی ایس ٹی میں کھلا پن ہوگا ۔ جی ایس ٹی کا نفاذ حکومتوں کے لئے کبھی بھی آسان نہیں رہا ۔ 6مئی 2015کو لوک سبھا نے دیرینہ دستوری ترمیمی بل منظور کیا تھا تاکہ جی ایس ٹی متعارف ہو ۔ اس وقت کانگریس نے بطور احتجاج واک آؤٹ کیا تھا۔سال2000میں اٹل بہاری واجپائی کی این ڈی اے حکومت نے گڈس اینڈ سرویس ٹیکس پر بحث شروع کی تھی۔ اس نے ایک با اختیار کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے سربراہ اسیم داس گپتا تھے جو اس وقت حکومت مغربی بنگال کے وزیر فینانس تھے ۔ کمیٹی کو جی ایس ٹی ماڈل کی ڈٰزائننگ کا ذمہ دیا گیا تھا۔ بل کا تصور بارہ سال قبل ہی کیا جا چکا تھا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اسے دو تہائی اکثریت سے منظور کیا۔ ریاستی اسمبلیوں نے اس کی توثیق کردی سوائے جموں و کشمیر کے۔ سال2006میں اس وقت کے وزیر فینانس پی چدمبرم نے اپنے بجٹ میں جی ایس ٹی کی پہل کی تھی۔ وہ اسے یکم اپریل 2010ء سے لاگو کرنا چاہتے تھے ۔

نئی دہلی
ایجنسیاں
جی ایس ٹی کونسل نے تاریخ ساز ٹیکس اصلاح سے چند ہی گھنٹے قبل آج یہ طے کیا کہ کھادوں پر جی ایس ٹی کی شرح کو پانچ فیصد کردیاجائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایاجائے کہ ان کی قیمتیں نہ بڑھیں اور کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیاجاسکے ۔ کونسل نے قبل ازیں یہ فیصلہ کیا تھا کہ فرٹیلائزرس پر بار ہ فیصد ٹیکس عائد کیاجائے ۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا یہ محسوس کیا گیا تھا کہ فرٹیلائزرس پر بارہ فیصد جی ایس ٹی سے کسانوں پر بوجھ میں اضافہ ہوسکتا ہے لہذا کونسل میں اتفاق رائے کے ذریعہ ٹیکس کی شرح کر گھٹا کر پانچ فیصد کردیا گیا ۔ اس وقت ساری ریاستوں میں کھادوں پر صفر تا چھ فیصد ٹیکس کو عائد کیاجارہا ہے ۔
صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے کہا کہ جی ایس ٹی اضافی قدر ٹیکس کی طرح ہے اور ابتدائی طور پر کچھ اندیشے ظاہر کئے گئے ہیں اور مسائل پیدا ہورہے ہیں لیکن ہمیں ان پر قابو پانا ہوگا ۔ صدر جمہوریہ نے ایک بیان میں کہا کہ جی ایس ٹی ریاستوں اور مرکز کے درمیان رشتہ میں پختگی کی ایک مثال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے بارے میں اندیشے ظاہر کئے جارہے ہیں لیکن کونسل نے یہ کام کردکھایا ہے۔، جی ایس ٹی چودہ سالہ سفر کا اختتام ہے جو2002کے دوران کیلکر کمیٹی کی رپورٹ کی پیشکشی کے ساتھ شروع ہوا تھا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ جی ایس ٹی نہ صرف گڈس اینڈ سرویس ٹیکس بلکہ گڈس اینڈ سمپل ٹیکس ہے۔ وزیر اعظم نے ایک بیان میں بتایا کہ جی ایس ٹی ایک نظام ہے جس کے ذریعہ ریاستوں اور مرکز کو نئے ہندوستان کی تعمیر کے لئے مل جل کر کام کرنے کا موقع فراہم ہوا ہیا ور جی ایس ٹی نئے ہندوستان کا ایک اہم پہلو ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جی ایس ٹی سادہ اور شفافیت پر مبنی ہے اور اس سے کرپشن اور کالے دھن کا خاتمہ عمل میں آئے گا ۔ مودی نے کہا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے ملک کو متحد کیا تھا، جی ایس ٹی سے ہندوستان میں معاشی اتحاد آئے گا۔

جی ایس ٹی سے کیا مہنگا۔ کیا سستا

سستی ہونے والی اشیا
***
غذائی اشیاء:
دودھ پاؤڈر، دہی، بٹر ملک، بغیر برانڈ کا شہد ، مصالحے، چائے، گیہوںِ چاول، بغیر برانڈ کا آٹا، پھلی کا تیل، پام آئیل، سن فلاور آئیل، ناریل تیل، رائی کا تیل، شکر ، گڑ، پاستہ، نوڈلس، ترکاریاں، اور پھل، اچار، مربہ، چٹنی، کیچ اپ، ساس، منرل واٹر، برف ، بسکٹ، کاجو۔
روز مرہ استعمال کی اشیاء:
صابن، بالوں کا تیل، ڈٹرجنٹ پاؤڈر، ٹشو پیپر، نیپکن، ماچس، موم بتی، کوئلہ، کیروسین، ایل پی جی گھریلو، اگر بتی، ٹوٹھ پیسٹ پاؤڈر، کاجل، ایل پی جی اسٹو، پلاسٹک تارپولین
اسٹیشنری:
نوٹ بکس، پین، تمام اقسام کے پیپر، گراف پیپر، اسکول بیگ، ایکسر سائز بکس ، ڈرائنگ بکس، کاربن پیپر، پرنٹرس۔
ہیلتھ کیر۔
انسولین، طبی استعمال کے لئے ایکسرے فلمس، ڈائیکو سٹک کٹس، چشموں کے شیشے ، ذیابیظس اور کینسر کی ادویات،
ملبوسات:
سلک اولن، کھادی کے کپڑے، گاندھی ٹوپی، پانچ سو روپے سے کم کے چپل، اور ایک ہزار روپے سے کم کے ریڈی میڈ ملبوسات
دیگر اشیاء:
پندرہ ایچ پی سے کم پاور کے ڈیزل انجن، ٹریکٹر کے عقبی ٹائرس اور ٹیوبس ، وزن کرنے والی مشنری، یوپی ایس ، الکٹرک ٹرانسفارمرس، وائینڈنگ وائر، ہلمٹ، پٹاخے، لوبر یکٹنس پتنگیں۔

مہنگی ہونے والی اشیا
***
پنیر، کارن فلیکس، کافی مصالحۃ پاؤڈڑ، گھی، چیونگم، آئس کریم، چاکلیٹس، آیوردیک اور دیگر ادویات ، سونا، ایسے ہوٹل جن کے کمروں کا کرایہ7500سے زیادہ ہے ۔ ایر کنڈیشن ہوٹلوں میں کھانا، سو روپے سے زیادہ کے فلم ٹکٹ، کنسرٹس، آئی پی ایل کے میا چس، ایک ہزار روپے سے زیادہ کے ملبوسات، شیمپو پرفیوم، اے سی اور فرسٹ کلاس کاریل ٹکٹ ، بزنس کلاس کا فضائی سفر، ٹی وی، فریج، ایر کنڈیشنر، واشنگ مشین، کوریر سروس، موبائل سرویس ، انشورنس بیکنگ، براڈ بیاڈ سرویس، چھوٹی اور متوسط سائز کی کاریں، اسپورٹس وہیکلس ، مچھلی کے جال، اسمارٹ فونس، لیاپ ٹاپس کمپیوٹرس، فٹنس کے آلات، سافٹ ڈرنکس ، سگریٹ، تمباکو، شراب، اور دیگر لکژری اشیا۔

GST implemented in India: One Nation One Tax

0 comments:

Post a Comment