Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-07-23 - بوقت: 15:26

غیر قانونی رقومات کی منتقلی کو مشکل بنا دیا گیا - ارون جیٹلی

Comments : 0
غیر قانونی رقومات کی منتقلی کو مشکل بنا دیا گیا - ارون جیٹلی
نئی دہلی
پی ٹی آئی
مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے باعث ملک میں رقومات کی منتقلی کو بہت زیادہ مشکل بنادے گی ۔ اس کے باعث عوام میں بڑے پیمانہ پر قوانین کی پابندی پر عمل آوری کے ساتھ ساتھ ٹیکس وصولی کے دائرہ میں اضافہ ہوگا۔ جیٹلی نے کہا کہ حکومت ایک قانون تیار کرتے ہوئے بیرونی ممالک میں محفوظ کالے دھن کے ساتھ ساتھ دیسی کالے دھن اور فرضی کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائی کرے گی۔ جیٹلی نے کہا کہ بیرونی ممالک میں جمع کالا دھن کو ہندوستان لاکر اسے سفید بنانے کے لئے روایتی طور پر فرضی کمپنیوں کا استعما ل کیاجارہا ہے ۔ اس طریقہ کار کو جس قدر جلد ہو ختم کیاجائے گا جس سے ملک کی معیشت کالے دھن سے پاک ہوگی ۔ وزیر فینانس نے کہا کہ حکومت اس صورتحال سے ملک کو معمول پر لائے گی جس میں بڑے پیمانہ پر ٹیکس ادا کرنے بچاجاتا ہیا ور محاصلی نظام کے باہر بڑے پیمانہ پر رقومات کی منتقلی عمل میں آتی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہمیشہ بے ناامیدی کے ساتھ کوششیں کی گئی تھیں۔ فینانس بل کے ذریعہ ہر سال ہم کچھ تبدیلیوں کا اعلان کرتے رہے جس کا سطحی طور پر کچھ اثر پڑا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کی تبدیلیوں کا کوئی قابل لحاظ اثر نہیں پڑا۔ اس لئے قابل لحاظ اثر ڈالنے کے لئے اقدامات کرنے پڑے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات کے طویل میعادی اثرات مرتب ہوں گے اور اس کے پیچھے اخلاقی اور معقولیت پسند حقیقت کارفرما ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے ساتھ نوٹ بندی کے اقدام کا مجموعی اثر پڑا ہے ، جس سے روپیہ بنانے بڑا مشکل ہوگیا ہے اور ان اقدامات کے باعث عوام کو ڈیجی ٹلائزیشن کی اولین علامت راست اور بالواسطہ ٹیکس کید ائرہ میں وسعت ہے جو پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہوچکی ہے ۔ وزارت فینانس کی جانب سے منعقد شدہ دہلی اکنامک کینکلیو سے خطاب کرتے ہوئے وزیر فینانس نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کے اولین قابل لحاظ علامت،جس کے باعث معاشی نظام کو متزلزل ہو اور وہ بیرونی ممالک میں جمع کالے دھن رکھنے والوں کے خلاف پیانل کا قیام تھا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی نظام میں اتھل پتھل کی آسان شکل ہمیشہ نقلی کمپنیاں ہوتی ہیں جو ہمہ سطحی طور پر قائم ہیں ۔ جیٹلی نے کہا کہ ان کمپنیوں کو چلانا ہمیشہ ایک معروف طریقہ بن گیا ہے جس نہ صرف تاجروں کی ذریعہ ان کمپنیوں کو چلایاجاتا ہے بلکہ سیاست دانوں ، سرکاری عہدیداروں کو بھی کرپشن کی رقومات پہنچانے کا طریقہ ہے ۔ نہ صرف ان کمپنیوں کی شناخت کی جائے بلکہ بے نامی جائیداد کے قانون کے ذریعہ بے نامی جائیدادوں کو حاصل کرنے کی ریاستوں کی جانب سے مزاحمت کی جارہی ہے اور محکمہ مال اس قسم کی کارروائی کو پہلے ہی شروع کرچکا ہے ۔
Arun Jaitley: Substantial ethical rationale behind note ban, GST

راہول گاندھی سے نتیش کمار کی ملاقات
بہار کے عظیم اتحاد میں بڑھتی ہوئی خلیج اور ریاست کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال
نئی دہلی
آئی اے این ایس
چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے آج دہلی میں نائب صدر کانگریس راہول گاندھی سے ملاقات کی اور ڈپٹی چیف منسٹر تیجسوی یادو کے خلاف کرپشن کے الزامات پر ریاست کے حکمراں عظیم اتحاد میں خلیج بڑھ جانے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ نتیش کمار نے جو آج دوپہر قومی دارالحکومت پہنچے ، راہول گاندھی سے شام کے وقت ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ۔ دونوں قائدین کے درمیان بند کمرہ کی بات چیت زائد از چالیس منٹ تک جاری رہی۔ کیا ہوا اس کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا لیکن کانگریس کے ذرائع نے بتایا کہ دونوں قائدین نے آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد کے خاندان کے خلاف سی بی آئی کے دھاؤں کے پیش نظر بہار کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ نتیش کمار کی راہول گاندھی سے یہ ملاقات عظیم اتحاد کو ٹوٹنے سے بچانے کی ایک کوشش کے طور پر صدر کانگریس سونیا گاندھی کی چیف منسٹر بہار اور آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد سے بات چیت کے چند ہی دن بعد ہوئی ہے ۔ یہ ملاقات اس قیاس آرائی کے دوران ہوئی ہے کہ نتیش کمار جو جنتادل یو کے صدر ہیں بی جے پی کے قریب ہوتے جارہے ہیں ۔ جنتادل یو ، کانگریس اور آڑ جے ڈی بہار کے حکمراں عظیم اتحاد کے پارٹنرس ہیں جو مبینہ بے نامی اراضی معاملت پر آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کی رہائش گاہ پر سی بی آئی کے دھاوے کے باعث سیاسی بحران کا شکار ہوگیا ہے ۔ جنتادل یو نے خود کو کرپشن سے پاک بتانے کی ایک کوشش کے طور پر تیجسوی یادو سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے جس کو آڑ جے ڈی اور کانگریس نے مسترد کردیا ہے ۔
پٹنہ سے آئی اے این ایس کی علیحدہ اطلاع کے بموجب سی بی آئی دھاؤں کے بعد آر جے ڈی سربراہ لالو پرسادیادو اور ان کی بیوی و سابق چیف منسٹر رابڑی دیوی کو ایک اور دھکا پہنچا ، اب انہیں پٹنہ ایر پورٹ پر راست رسائی کی مراعات یا وی وی آئی پی سیکوریٹی نہیں ملے گی۔ وزارت شہری ہوا بازی نے ٹارمیک تک راست رسائی ختم کردی ہے ۔ پٹنہ ایر پورٹ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ وزارت شہری ہوا بازی کی تازہ ہدایت کے مطابق لالو پرساد یادو اور رابڑٰ دی کو اب عام آدمی کی طرح قطار میں ٹھہر سیکوریٹی چیکس سے گزرنا ہوگا ۔ عہدیداروں کے بموجب لالو پرساد اور رابڑی دیوی کی گاڑی کو اب اسٹیٹ ہینگر ایریا سے گذرنے نہیں دیاجائے گا۔ آڑ جے ڈی قائدین نے اس پر سخٹ رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ انہوں نے مرکز کی بی جے پی زیر قیادت حکومت پر الزا م عائد کیا کہ وہ لالو پرساد یادو کی سیکوریٹی سے کھلواڑ کررہی ہے ۔ آڑ جے ڈی قائد بھائی ویریندر نے کہا کہ یہ لالو پرساد یادو کو مرکزی حکومت کی ہراسانی کا واضح کیس ہے ۔ آر جے ڈی ترجمان منوج بھا نے سوال اٹھایا کہ وزارت شہری ہوا بازی کے اس فیصلہ کا کیا تک ہے۔ جھا نے کہا کہ لالو پرساد ، بہار کے سابق چیف منسٹر اور سابق وزیر ریلوے ہیں۔وہ ملک کے انتہائی مقبول عام قائدین میں ایک ہیں ۔
پٹنہ سے پی ٹی آئی کی ایک اور اطلاع کے مطابق جنتادل یو نے اج ایک سینئر آر جے ڈی قائد کو نشانہ بنایا۔ جنہوں نے ڈپٹی چیف منسٹر تیجسوی یادو کے استعفیٰ کو خارج از امکان قرار دیا تھا اور بہار میں مخالف بی جے پی اتحاد قائم کرنے چیف منسٹر نتیش کمار کی کوششوں کا مذاق اڑایا تھا ۔ عظیم اتحاد حکومت کے ایک وزیر عبدالباری صدیقی نے کل اراضی برائے ، ہوٹل کیس میں سی پی آئی کی ایف آئی آر کے نتیجہ میں تیجسوی یادو کے استعفیٰ کے امکانات کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ ہمیں یہ بتائیں کہ آخر یہ قربانی کس نے دی ہے ، تاکہ ہم حاضری دیں اور اگربتی جلائیں ۔انہوں نے جنتادل یو کے ترجمان کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے اتحاد میں کشیدگی پیدا کررہے ہیں ۔ عبدالباری صدیقی نے کہا تھا کہ نتیش کمار، شرد یادو یا وشست نارائن سنگھ (بہار جنتادل یو کے صدر) نے کبھی یہ بتایا کہ گزشتہ منگل کو ان کی چیف منسٹر سے شخصی ملاقات کے دوران نتیش کمار اور تیجسوی کے درمیان کیا بات چیت ہوئی ۔ میں نہیں جانتا کہ انہیں بلند باگ دعوے کرنے کی اجازت کس نے دی ہے ۔ بہار جنتادل یو کے ترجمان اعلیٰ سنجے سنگھ نے آج صدیقی پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا شخص جسے آر جے ڈی میں ماضی میں کئی مرتبہ دو پوزیشن سے نمبر پانچ پوزیشن پر منتقل کیا گیا، در اصل اپنی مایوسی کا اظہار کررہا ہے ۔ صدیقی کو یہ بتانا چاہئے کہ کون اگربتی جلا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار نے2015ء کے اسمبلی انتخابات میں جنتادل یوکی نشستوں کی تعداد کو149سے گھٹاکر101کرتے ہوئے قربانی دی ہے ۔ جنتادل یو کے ترجمان نیرج کمار نے سابق رکن پارلیمنٹ شیوانند کماری کو نشانہ تنقید بنایا، جن کے لڑکے آر جے ڈی کے رکن اسمبلی ہیں ، جو سیاسی بحران کے وقت لالو پرساد کے ساتھ مستقل ربط میں ہیں ۔ انہوں نے چیف منسٹر پر بی جے پی کی طرف جھکاؤ کا الزام عائد کیا۔ ان کے ساتھ ترجمانوں اجئے آلوک اور نکھل منڈل نے بھی جارحانہ رخ اختیار کیا۔ آلوک نے ڈپٹی چیف منسٹر پردر پردہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قبل ازیں لوگ سیوا بھاؤ( خدمت)کے لئے سیاست میں آیا کرتے تھے ، لیکن اب وہ میوہ بھاؤ( دولت کمانے) کے لئے سیاست میں داخل ہوتے ہیں ۔ انہیں ہمارے صبر کو نہیں آزمانا چاہئے ۔

تاخیر سے چلنے والی ٹرینوں میں سوپر فاسٹ چارج کیوں؟
وزار ت ریلوے سے سی اے جی کا استفسار
نئی دہلی
یو این آئی
کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل( سی اے جی) نے سپر فاسٹ ٹرینوں میں مسافروں سے وسول کئے جانے والے چارج پر سوال اٹھاتے ہوئے ریلوے سے کہا ہے کہ اگر گاڑی وقت پر نہیں چلتی ہے تو مسافروں کو سپر فاسٹ چارج واپس کیاجانا چاہئے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کل پیش ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ریلوے میں موجودہ ضابطوں میں اے سی کوچوں می ایر کنڈیشنڈ کی سہولت نہیں ہونے پر کرائے میں شامل چارج کو واپس کرنے کا التزام ہے جس کے تحت اے سی اور غیر اے سی کرایے کے فرق کو مسافر کو واپس کیاجاتا ہے لیکن مسافروں کو سپر فاسٹ سروس فراہم نہیں کئے جانے پر سپر فاسٹ چارج واپس کرنے کا کوئی التزام نہیں ہے ۔ ریلوے کے ضابطہ کے مطابق براڈ گیج لائن پر اگر ٹرین کی اوسط رفتار55کلو میٹرفی گھنٹہ اور میٹر گیج لائن پر45کلو میٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہے تو اسے سپر فاسٹ ٹرین کا درجہ دیاجاتا ہے اور اس میں سفر کرنے پر فی مسافر پندرہ سے لے کر75روپے تک سپر فاسٹ چارج وصول کیاجاتا ہے ۔ سی اے جی نے شمال وسطی ریلوے کے چھتیس میں سے گیارہ اور جنوب وسطی ریلوے کی70میں سے دس سپر فاسٹ ٹرینوں کی جانچ کرنے پر پایا گیا کہ یہ اکیس گاڑیاں ابتدائی اسٹیشنوں سے13.48فیصد اور آخری اسٹیشن پر95.17فیصد تاخیر سے پہنچیں۔ رپورٹ میں پایا گیا کہ یہ سپر فاسٹ گاڑیاں 16804دنوں میں سے5599دن تاخیر سے چلیں جن میں3000دنوں میں ان گاڑیوں نے پچپن کلو میٹر فی گھنٹہ کی اوسط رفتار سے چلنے کے پی مانے کو پورا نہیں کیا ۔ رپورٹ کے مطابق ریلوے بورڈ کو سپر فاسٹ چارج کی اس طرح نا مناسب وصولی پر غور کرنے کے لئے خط لکھا گیا ہے لیکن ریلوے بورڈ ین ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔

فاروق عبداللہ کا مشورہ مسترد، ہند۔ پاک باہمی بات چیت پر زور: محبوبہ مفتی
سری نگر
پی ٹی آئی
چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے آج یہ تجویز خارج کردی کہ امریکہ، چین یا کسی اور ملک کو مسئلہ کشمیر میں ثالثی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کو ہی اس کی باہمی یکسوئی کرنی ہے ۔ محبوبہ مفتی نے جنوبی کشمیر کے اننت ناگ میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ امریکہ ہو یا چین انہیں اپنے معاملات کی فکر کرنی چاہئے ۔ امریکہ نے جہاں بھی مداخلت کی آپ وہاں کی صورتحال (جیسے افغانستان، شام اور عراق) دیکھ لیں ۔ چین کو تبت میں اس کا اپنا پیچیدہ مسئلہ در پیش ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کو جنگ کے بعد بھی بات چیت کرنی ہوگی۔ ہمیں آپس میں بات چیت کرنی ہے ۔ امریکہ، ترکی یا برطانیہ کا ہم سے کیا لینا دینا۔ چیف منسٹر سے پوچھا گیاتھا کہ اپوزیشن نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ فاروق عبداللہ نے مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کے لئے تیسرے فریق کی ثالثی کا مشورہ دیا ہے ۔ فاروق عبداللہ نے کل کہا تھا کہ ہندوستان کو مسئلہ حل کرنے دوستوں کی مدد لینی چاہئے ۔ محبوبہ مفتی نے فاروق عبداللہ سے سوال کیا کہ آیا وہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کی صورتحال بھی شام ، افغانستان، اور عراق جیسی ہوجائے جہاں امریکہ نے مداخلت کی ہے ۔ امریکہ نے دنیا کے بڑے مسائل میں کھیل بگاڑا ہے۔ دیکھ لیجئے اس نے شاممیں کیا کیا۔ افغانستان او ر عراق کی صورتحال دیکھ لیجئے۔ خدا نہ کرے کہ آیا فاروق عبداللہ چاہتے ہیں کہ ہمارے حالات بھی ویسے ہی ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کو دشمنی ختم کرنے دونوں ممالک کے درمیان طے پائے معاہدوں کا احترام کرنا چاہئے ۔ ہمیں شملہ اور لاہور، معاہدوں کو آگے بڑھانا چاہئے ۔ ہرروز ہمارے فوجی اور عوام سرحد پر مر رہے ہیں ۔ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہورہا ہے ۔ کوئی حل نکلنا چاہئے اور حل اسی وقت نکلے گا جب دونوں ممالک ان معاہدوں کا احترام کریں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بات چیت لازمی ہے کیونکہ دونوں ممالک کو اہم ترقیاتی مسائل کا سامنا ہے ۔ ہمیں مل بیٹھنا ہوگا اور غربت کا خاتمہ کرنا ہوگا ۔ ہمیں اپنے عوام کو برقی، پانی، اور روزگار فراہم کرنا ہوگا ۔ ہندوستان اور پاکستان کو ایک دوسرے سے بات چیت کرنی ہوگی۔
واشنگٹن سے پی ٹی آئی کی علیحدہ اطلاع کے بموجب پینٹگان نے ہندوستان اور چین کی حوصلہ افزائی کی ہے تاکہ وہ بغیر کسی دباؤ کے راست بات چیت کریں۔ محکمہ دفاع کے ترجمان کیری روز نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ہم نے ہندوستان اور چین کی حوصلہ افزائی کی تاکہ وہ کشیدگی دور کرنے کے لئے راست بات چیت کریں اور یہ بات چیت کوئی دباؤ کے بغیر کی جائے ۔

پنڈت، کشمیری سماج کا حصہ: سید علی گیلانی
سری نگر
یو این آئی
بزرگ علیحدگی پسند راہنما اور حریت کانفرنس(گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ پنڈت ہمارے سماج کا ایک حصہ ہیں اور کشمیر میں کوئی بھی فرد بشر ان کی واپسی اور باز آبادکاری کا مخالف نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں پنڈتوں نے وادی میں نامساعد حالات کے دوران میں ہجرت نہیں کی ہے اور وہ آج بھی یہاں امن و سکون کے ساتھ مقیم ہیں اور مسلمان ہمسایے ان کے دکھ سکھ اور غمی خوشی میں برابر کے شریک ہوتے ہیں اور جب کسی کی موت واقع ہوتی ہے تو اس کی آخری رسومات میں بھی شامل ہوجاتے ہیں ۔ حریت کے ایک ترجمان نے کہا کہ گیلانی نے ان باتوں کا اظہار اپنی رہائش گاہ پر کشمیری پنڈتوں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنڈتوں کے ایک وفد نے گیلانی کے ساتھ ان کی رہائش گاہ واقع حیدر پورہ پرملاقات کی اور ان کی خیر و عافیت پوچھنے کے علاوہ پنڈتوں کی وایسی کے حوالے سے تبادلہ خیالات کیا۔حریت چیئرمین نے وفد کو بتایا کہ ہمارا پلے دن سے یہ اسٹینڈررہا ہے کہ تمام مہاجر پنڈتوں کوواپس آکر مسلمانوں بھائیوں کے ساتھ اسی طرح سے رہنا بسنا چاہئے ، جس طرح وہ صدیوں سے رہتے آئے ہیں۔ کسی پنڈت بھائی نے اپنی پشتنی زمین و جائیداد اور مکان کو بیچا ہے تو حکومت اس کی بعض آباد کاری میں بھرپور مدد کرے اور اس کو نئے سرے سے بسانے میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ مسلمان ہمسایے بھی اس سلسلے میں اپنے پنڈت بھائیوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں اور وہ انہیں کسی قسم کی پریشانی لاحق نہ ہونے دیں۔گیلانی نے البتہ کہا کہ ہم پنڈت بھائیوں کو سماج سے الگ تھلگ کرانے اور کشمیریوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کرانے کے روادار نہیں ہیں، لہذا ہم ان کے لئے الگ کالونیاں تعمیر کرانے پر اعتراض اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں جو تحریک جاری ہے وہ کوئی ہندو مسلم مناقشہ نہیں ہے اور اس کا فرقہ واریت کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ کشمیری قوم حق خود ارادیت کے حصول کے لئے جدو جہد کررہی ہے اور ہم اس حق کامطالبہ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں کرتے ہیں ۔ ہمارا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر کے جو بھی پشتنی باشندے ہیں چاہے وہ ہندو ہوں یا، مسلمان ہوں، سکھ ہوں، بودھ ہوں یا عیسائی ہوں، اس سے کشمیر کے حتمی فیصلے میں رائے لینی چاہئے اور ان کی رائے کا احترام کیاجانا چاہئے ۔ حریت ترجمان کے مطابق پنڈت لیڈرنے اس موقع پر گیلانی کے ساتھ حرف بحرف اتفاق کیا اور کہا کہ کوئی بھی ذی فہم اور باشعور پنڈت بھی انہیں سماج سے الگ تھلگ کرنے کا حامی نہیں ہوسکتا ہے اور وہ صدیوں سے جاری اس بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو کوئی زک نہیں پہنچانا چاہتے، جو کشمیر کا خاصا ہے اور جس کے لیے یہ ریاست مشہور ہے ۔

0 comments:

Post a Comment