Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-07-23 - بوقت: 23:43

ہندوستانی نشریات کا ابتدائی منظر نامہ

Comments : 0
india-broadcasting-house
ہندوستان میں نشریات کا آغاز جولائی1923ء میں ریڈیو کلب آف بمبئی کے ذریعے ہوا لیکن جولائی1927ء میں انڈین براڈ کاسٹنگ کمپنی( آئی بی سی) کو یہ اختیار ملا کہ وہ بمبئی اور کلکتہ میں 2 ریڈیو اسٹیشن سے پروگرام نشر کرسکے ۔ اس اختیار کے تحت آئی بی ایس نے3جولائی1927ء کو بمبئی سے پہلا پروگرا م نشر کیا ۔ اسی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے ہر برس23جولائی کو نیشنل براڈ کاسٹنگ ڈے یعنی قومی یوم نشریات منایاجاتا ہے ۔ ہندوستان میں نشریات کی90سالہ تاریخ میں کئی اہم موڑ آئے ہیں۔ کئی نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد آج آل انڈیا ریڈیو ایک بلند مقام پر پہنچا ہے ۔ ریڈیو کا قطرے سے گہر ہونے تک کا سفر ایک غیر معمولی سفر ہے ۔ اس پیچیدہ دلچسپ اور طویل سفر میں کئی مشکل مقام آئے ہیں، لیکن آل انڈیا ریڈیو کے دور اندیش افسران اور قابل تحسین ملازمین نے ہر مشکل گھڑی کو آسان کردیا۔
ہندوستان میں نشریات کے بکھرے ہوئے تانے بانے کو ایک لڑی میں پرونے کا کام سب سے پہلے مسٹر لیونل فیلڈن نے کیا۔ ہندوستانی نشریات کے محسنین میں مسٹر فیلڈن کا نام سر فہرست آتا ہے ۔ بی بی سی سے وابستہ مسٹر فیلڈن اگست1935میں کنٹرولر آف براڈ کاسٹنگ کی حیثیت سے ہندوستان آئے ۔ انہوں نے ہندوستان میں نشریات کی ترویج و ترقی کے لئے خاکہ تیار کیا۔ در اصل مسٹر فیلڈن کی کاوشوں سے ہی ہندوستان میں نشریات کی ترقی کا آغاز ہوا۔
1936ء میں جہاں ایک طرف ترقی پسند تحریک کی بنیاد پڑی تو دوسری طرف اسی برس دلی میں ریڈیو اسٹیشن کا قیام عمل میں آیا۔1936ء میں ہی8جون کو انڈین اسٹیٹ براڈ کاسٹنگ کا نام بدل کر آل انڈیا ریڈیو رکھا گیا۔ بمبئی ، کلکتہ اور دلی کے بعد پشاور، لاہور، ڈھاکہ، لکھنو، مدراس اور ترچنا پلی میں ریڈیو اسٹیشن کا قیام عمل میں آیا۔ اس طرح1947ء میں ملک کی آزادی کے وقت ہمارے پاس کل نو ریڈیو اسٹیشن تھے جن میں سے تین پشاور، دھاکہ اور لاہور تقسیم وطب کے سبب پاکستان کے حصے میں چلے گئے ۔1947ء میں آزاد ہندوستان نے صرف چھ ریڈیو اسٹیشن کے ساتھ نشریات کا سفر شروع کیا۔ محض چھ ریڈیو اسٹیشن سے نشریات کے سفر کا آغاز کرنے والے ملک میں آج419ریڈیو اسٹیشن سے پروگرام نشر کیے جارہے ہیں۔
وزارت اطلاعات و نشریات کی تازہ جانکاری کے مطابق ، ہندوستان کی99فیصد آبادی تک آل انڈیا ریڈیو کی آواز پہنچتی ہے ۔ شمال مشرق میں ارونا چل پردیش سے گجرات تک اور کشمیر سے کنیا کماری تک ملک کے92فیصد جغرافیائی حصے تک آل انڈیا ریڈیو 23اہم زبانوں اور146بولیوں کے ذریعے پہنچ رہا ہے ۔ معیار، تعداد اور پہنچ کے لحاظ سے آج آل انڈیا ریڈیو دنیا کا سب سے بڑا پبلک براڈ کاسٹنگ آرگنائزیشن ہے۔
ہندوستان میں ٹیلی ویژن کے فروغ سے ریڈیو کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ ماہرین کا خیال تھا کہ ٹیلی ویژن بیک وقت سمعی اور بصری میڈیم ہے ، اس لئے ٹیلی ویژن کے مقابلے ریڈیو میں لوگوں کی دلچسپی کم ہوجائے گی لیکن وقت نے ان خدشات کو غلط ثبات کردیا اور ریڈیو نے بھی خود کو تیزی سے بدلتے حالات کے مطابق ڈھالنے میں کوتاہی نہیں کی۔ اس کا ایک واضح ثبوت ایف۔ ایم ریڈیو کا آغاز تھا۔ اگرچہ1933میں ہی امریکہ میں ایف ایم تکنیک کی کھوج ہوچکی تھی لیکن خود امریکہ میں بھی1961سے پہلے ایف ایم ریڈیو کا آغاز نہیں ہوا۔
ایف ایم کا تجربہ نہایت کامیاب رہا۔ حکومت ہند کا یہ فیصلہ کہ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی نشریات کے عمل میں شامل کیاجائے ، بہت کار آمد رہا ۔ کچھ واجب شرائط کے ساتھ ایف ایم کو ملی آزادی نے نئی نسل کو ریڈیو سے جوڑنے میں بے حد اہم رول ادا کیا۔ جس طرح ایک زمانے میں وودھ بھارتی کے شائقین اپنی وارفتگی کا اظہار کرتے تھے ٹھیک اسی طرح ایف ایم کے سامعین جذباتی طور پر ریڈیو سے وابستہ ہیں۔
ایف ایم کی طرح وودھ بھارتی کا قیام بھی تفریحی پروگراموں کی مقبولیت کے سبب وجود میں آیا۔ ہندوستان کے دیہی علاقوں میں تفریحی پروگراموں کی بے پناہ مقبولیت کے سبب1957میں آل انڈیا ریڈیو نے ایک تفریحی چینل وودھ بھارتی کے نا م سے شروع کیا تھا۔ کمرشیل براڈ کاسٹنگ کا یہ تجربہ بے حد کامیاب رہا۔ آج پورے ملک میں تقریباً40وودھ بھارتی سینٹر جدید آلات سے آراستہ سامعین کے لئے تفریحی پروگرام پیش کررہے ہیں۔20کروڑ سے زیادہ مستقل سامعین وودھ بھارتی کے پروگرام سنتے ہیں۔ جس وقت وودھ بھارتی کے پچیس چینل کو ایف ایم میں تبدیل کیا گیا اس وقت اسے مزید تقویت حاصل ہوئی ۔
آل انڈیا ریڈیو نے ابتدائی زمانے سے ہی انفارمیشن ایجوکیشن اور انٹر ٹینمنٹ یعنی اطلاعات ، تعلیم اور تفریح کا ایک مرکب تیار کیا تھا۔ ریڈیو نے ایک طرف اطلاعات فراہم کرنے کا کام کیا تو دوسری جانب تعلیمی بیداری اور صحتمندتفریح کا سامان بھی فراہم کیا۔ ریڈیو پروگرام میں تعلیم تفریح اور اطلاعات کا تناسب بدلتا رہتا ہے ۔ اسی لئے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کی ریڈیو میں آج بھی دلچسپی برقرار ہے ۔
ریڈیو نے ہر فکر، ہر عمر اور ہر پسند کے لوگوں کا خیال رکھا ہے ۔ اسی سبب ریڈیو اپنی افادیت برقرار رکھنے میں کامیاب ہے ۔ بات خبروں کی ہو یا فلمی نغموں کی ، ریڈیو نے سامعین کی پسند کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے وقار اور اعتبار کا بھی خیال رکھا ہے ۔ پسند ناپسند اپنی جگہ لیکن اپنے طویل سفر میں آل انڈیا ریڈیو نے کبھی اپنے اعتبار کو مجروح نہیں ہونے دیا ، یہ بڑی بات ہے۔ ریڈیو کبھی اپنے سماجی سروکاروں سے غافل نہیں رہا۔ تمام سماجی برائیوں کو دور کرنے اور سماج میں مثبت فکر کو رواج دینے میں ریڈیو نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے ۔
خصوصی سامعین کے لئے خصوصی پروگرام یعنی اسپیسفک آڈیینس پروگرام ریڈیو کی دنیا میں بڑا انقلابی قد م تھا۔ بچوں کے لئے، نوجوانوں کے لئے ، خواتین کے لئے اور کسانوں کے لئے خصوصی پروگرام کا ایک سلسلہ آل انڈیا ریڈیو نے شروع کیا جسے بے حد پسند کیا گیا۔ یہ پروگرام خصوصی سامعین کی طرز زندگی ، ان کے فرصت کے اوقات اور ان کی اپنی پسند اور دلچسپی کو دھ یان میں رکھ کر تیار کیے جاتے ہیں۔
بال جگت، بال باڑی، یووانی، بزم خواتین اور کسان وانی جیسے نام خود ہی اپنی اہمیت کو واضح کرتے ہیں، جہاں تک اردو کا تعلق ہے تو ابتدا سے ہی آل انڈیا ریڈیو نے اردو کو اہمیت دی ۔ مسٹر لیونل فیلڈن کے بعد جو سب سے اہم نام آل انڈیا ریڈیو کی تاریخ میں رقم ہے وہ جناب ایس زیڈا ے بخاری کا ہے ۔
سید ذوالفقار علی بخاری کے ساتھ ان کے بھائی اور اردو کے صف اول کے طنزو مزاح نگار پطرس بخاری بھی آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ تھے ۔ بخاری برادران نے آل انڈیا ریڈیو سے اردو کے رشتے کو مضبوط کیا ۔ ایک زمانے میں ن۔ م۔ راشد، میرا جی، اختر الایمان، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، اسرارالحق مجاز، اوپندر ناتھ اشک جیسے اردو کے شاعر و ادیب آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے ۔
اردو مجلس اور اردو سروس کے علاوہ نیشنل چینل سے باقاعدہ اردو کے پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ اس وقت ملک میں تقریباً چالیس ریڈیو اسٹیشن سے اردو کے پروگرام نشرکیے جاتے ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو کے نیشنل چینل کا آغاز بھی ایک دانشمندانہ اقدام تھا۔18مئی1988ء کو آل انڈیا ریڈیو نے اپنا نیشنل چینل دہلی سے شروع کیا۔
نیشنل چینل سے روزانہ شام سات بجے اردو میں میگزین پروگرام منظر پیش کیاجاتا ہے ، پروگرا م منظر میں پیش کیے جانے والے انٹر ویو، مباحثے، موسیقی، تقریریں اور رپورٹ کی بے حد پذیرائی ہوئی ہے ۔ ماہ رمضان میں روزانہ صبح چار بج کر دس منت سے پانچ بجے تک خصوصی پروگرام سحر گاہی پیش کیا جاتا ہے جسے سامعین نے بے حد پسند کیا ہے ۔
نیشنل چینل سے ہندی اور انگریزی میں ہر گھنٹے خبریں نشر کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ موسیقی اور دیگر تفریحی پروگرام شب میں نشر کیے جاتے ہیں۔ وزارت اطلاعا ت و نشریات کی جانکاری کے مطابق، تقریباً76فیصد آبادی تک نیشنل چینل کے پروگرام پہنچ رہے ہیں۔ آسام جیسے دور دروازے کے صوبوں میں بھی پچاس فیصد آبادی نیشنل چینل کے پروگرام سے استفادہ کررہی ہے۔
صحیح اور بر وقت خبریں پہنچانا آل انڈیا ریڈیو کے مقاصد میں ہمیشہ شامل رہا ہے ۔ ریڈیو کے ابتدائی زمانے میں1930ء سے1936کے درمیان بمبئی، کلکتہ اور دلی اسٹیشن سے روزانہ خبروں کے دو بلیٹن نشر کیے جاتے تھے۔1949تک آل انڈیا ریڈیو سے خبریں ہندوستانی زبان میں نشر کی جاتی تھیں۔ خبروں کے لئے اردو اور ہندی کی مخلوط زبان کا استعمال اس لئے کیاجاتا تھا کہ زیادہ سے زیادہ عام لوگ سمجھ سکیں۔ نومبر1949کے بعد اردو زبان میں الگ سے خ بریں نشر کی جانے لگیں۔
1953ء میں آل انڈیا ریڈیو کے تمام اہم اسٹیشنوںپر ریجنل نیوز یونٹس کا قیام عمل میں آیا۔ اس یونٹ کے قیام سے یہ فائدہ ہوا کہ اب تمام مراکز علاقائی زبانوں میں خود بلیٹن نشر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ دوسری تمام اہم زبانوں میں بھی خبریں دلی سے نشر کی جاتی ہیں۔ چوبیس گھنٹے خبریں فراہم کرنے کے لئے دلی کے براڈ کاسٹنگ ہاؤس میں سینٹرل نیوز روم قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد تھا کہ ریڈیو کے تمام مراکز کو صحیح اور قابل اعتبار خبریں بر وقت ملتی رہیں ۔ سینٹرل نیوز روم اپنے اس مقصد میں پوری طرح کامیاب ہے ۔
آل انڈیا ریڈیو نے کئی اصناف کو جنم دیا۔ ریڈیا ئی ڈراما، ریڈیو فیچر اور ریڈیو ٹاک جیسی اصناف پوری طرح ریڈیو کی مرہون منت ہیں۔ ریڈیو نے شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں کی کئی نسلوں کی آبیاری کی ہے۔ اردو ادب پر بھی آل انڈیا ریڈیو کے بڑے احسانات ہیں ۔ بہت سی ادبی تحریریں ریڈیو کی وجہ سے عالم وجود میں آسکیں۔ بہت سی عظیم ادبی شخصیتوں کی آواز اگر آج ہم سن پاتے ہیں تو اس کا سہرا آل انڈیا ریڈیو کے سر ہے جس نے عظیم شاعروں ، ادیبوں، فنکاروں کی آوازیں آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کرلی ہیں۔
ہندوستان کے کلاسیکی فنکاروں کو جس طرح آل انڈیا ریڈیو نے اہمیت دی ، اس کی جس قدر پذرائی کی جائے وہ کم ہے۔ استاد ولایت خان، استاد کریم خان، استاد بسم اللہ ، پنڈت روی شنکر ، پنڈت بھیم سین جوشی جیسی عظیم ہستیوں کو آل انڈیا ریڈیو نے عوام تک پہنچایا ۔ ہندوستان کی کلاسیکی موسیقی کو جس قدر آل انڈیا ریڈیو نے سنبھال کے رکھا ہے ، وہ ملک و قوم کی سب سے بڑی خدمت ہے ۔
23جولائی1927سے23جولائی2017ء تک ہندوستانی نشریات نے ایک طویل سفر طے کر کے بلند و بالا مقام حاصل کیا ہے ۔ اس نے ملک و قوم کی جو خدمت کی ہے وہ ناقابل فراموش ہے ۔ ملک کے عوام کو قومی یوم نشریات بہت بہت مبارک ہو۔

بشکریہ: روزنامہ راشٹریہ سہارا ، اتوار 'امنگ' ایڈیشن

Earlier scenario of Indian broadcasting. Article: Dr. Shafi Ayub

0 comments:

Post a Comment